عورت مارچ اور سستی شہرت کےرسیا لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عجیب سا جملہ ہے۔ اپنے اندر بے شمار ذومعنی مطالب لیے یہ جملہ یوم خواتین کو منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کا سلوگن ہے۔ اس کی حمایت میں مارچ میں شامل خواتین کے پاس بہت سارے دلائل ہیں۔ جن میں کچھ تو واقعی کافی حد تک صحیح ہیں لیکن کچھ میں شکوک وشبہات ہیں۔

ایک خاتون نے کہا کہ یہ نعرہ مرد وعورت دونوں کے لئے ہے۔ کافی حد تک صحیح کہا۔

تیزاب گردی ایک گھناؤنا کام ہے۔ پچھلے دنوں کراچی میں ایک نفسیاتی مرد بچوں کو اغواء کرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا اور پھر تیزاب کے ڈرم میں ان بچوں کی لاش ڈبو دیتا تھا۔

شرمین عبید تیزاب گردی کا شکار خاتون پہ فلم بنا کر آسکر ایوارڑ جیت چکی ہیں۔

معاشرے میں بے تحاشا خواتین ایسی ہیں جو تیزاب گردی کا شکار ہوئیں اور اس اذیت کے بعد وہ مزید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوئیں۔ ایسی خواتین کے لئے ہمارے ملک کی کئی خواتین کام کر رہی ہیں جن میں ایک نام ڈپلکس پارلر کی مالکہ مسرت مصباح کا بھی ہے۔

اس مرتبہ آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں امن رہا،  کہیں کوئی پتھراؤ نہیں ہوا بلکہ اس مرتبہ خواتین مارچ میں ناچتی بھی نظر آئیں۔ کہیں بھنکڑا ڈالا گیا، کہیں لڈی ڈالی گئی۔ غرض جس نے جیسے چاہا خوشی منائی۔

اس مارچ میں کون کیا کیوں کر رہا ہے؟ اس کی مخالفت میں کئی طرح کی باتیں سنیں جیسا کہ اسلام کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ عورت کو تمام حقوق دیے گئے ہیں۔  بے شک اس میں تو کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ مذہب اسلام ایک مکمل مذہب ہے اور حقوق العباد کے معاملے میں رب سختی فرماتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حقوق کو ادا بھی کیا اور کروایا جائے۔

مذہب اسلام ہمیں تہمت لگانے سے بھی منع فرماتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہر سال ٹی وی چینلز ایسی خواتین کو اپنے ٹی وی شوز پہ بلا لیتے ہیں جو انتہائی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’میرا جسم میری مرضی‘ کا مطلب یہ فرماتی ہیں کہ ہم جب چاہیں کسی کا بھی بچہ پیدا کر لیں اور اسے جب چاہیں گرا دیں۔ ایسے بیانات ٹی وی چینلز پہ بیٹھ کر دیے جا رہے ہیں اور اس طرح کے پروگرامز کو ریٹینگ بھی خوب مل رہی ہے۔ اور اس معاشرے کا مرد جہاں اس عورت مارچ کے خلاف ہے وہیں دوسری طرف اس بے باکی پر جھوم جھوم کر نہال ہوئے جا رہا ہے۔

کیا اس طرح تہمت لگانا درست عمل ہے؟ کیا کسی کی بہن بیٹی پہ ایسے الزام کہ باپ خود کہے کہ چلو میں تمہارا ابارشن کروا کر لاتا ہوں، جائز ہیں؟

میڈیا میں مشہور ہونے کے شوق میں ہمارے معاشرے کی خواتین بے باکی کی تمام حدود پار کر چکی ہیں۔ ایک دن کے عورت مارچ کا رونا رونے والے پورے سال اس طرح کی گندگی اپنے گھر والوں کو ٹی وی پہ دیکھنے سے روک بھی نہیں سکتے کیونکہ ایسے پروگرام عموماً مارننگ شوز کے نام سے صبح میں آتے ہیں جب گھر کے مرد کمانے کے لئے گھر سے باہر ہوتا ہے۔

اگر ذو معنی نعرے غلط ہیں تو تنقید کرتے وقت کسی ماں بہن کی عزت کی دھجیاں اڑانا اس سے بھی زیادہ غلط فعل ہے۔
لہٰذا سستی شہرت کے چکر میں اپنی اقدار اور اسلام کی تعلیمات کو مت بھولیے۔

Latest posts by سعدیہ معظم (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments