کیا کپتان زرداری کی ٹکر کا کھلاڑی ہے؟


بصد احترام، زرداری صاحب کو میں حقیقت پسند سیاست کا گیری کاسپاروف سمجھتا ہوں۔ وہ جب سیاسی داؤ کھیلتے ہیں تو مخالف کو لگتا ہے ابھی سوچ رہے ہیں اور جب سوچتے ہیں تو مخالف کو پتہ نہیں لگتا کہ وہ کون سا داؤ کھیلنے والے ہیں۔ اگرچہ وہ کھیلنے اور سوچنے کا کام کبھی ایک ساتھ نہیں کرتے، کیونکہ وہ کھیلنا شروع کریں تو پھر سوچتے نہیں، جیسے حال ہی میں سینیٹ کی واحد نشست جیت کر ایک صفحے کی حکومت کی ناپائیداری سب پر عیاں کر دی۔

جو حکومت سینیٹ الیکشن سے پہلے ’نہیں چھوڑوں گا نہیں چھوڑوں گا‘ کی قوالی کرتی نہیں تھکتی تھی، سینیٹ الیکشن کے بعد حزب اختلاف کی گلیوں میں راگ درباری گانے کی لاحاصل کوشش کرتی ہوئی خوار ہو رہی ہے۔

زرداری صاحب کی اصل شناخت یہ نہیں کہ وہ قومی لیول کے سیاست دان حاکم علی زرداری کے بیٹے ہیں، نہ یہ کہ وہ سندھ کے ایک بڑے زمیندار ہیں، نہ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ عشروں پر مبنی قید و بند انہیں توڑ نہ سکی، بلکہ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے شوہر ہیں۔ میری نظر میں، یہی زرداری صاحب کی سب سے بڑی کوالیفیکش ہے، جو انہیں ہم عصر سارے پاکستانی سیاستدانوں سے الگ اور ممتاز کرتی ہے۔

بے نظیر بھٹو کے والد پھانسی چڑھائے گئے، بھائی فرانس میں قتل کیا گیا، ایجنسیوں کے کارندے شکاری کتوں کی ان کے طرح چاروں طرف منڈلا رہے تھے، جو بی بی کے قریب تھا، یا قریب آتا، اسے خریدا جاتا، ڈرایا جاتا، بھگایا جاتا، بھرتی کیا جاتا، بصورت دیگر بی بی کی نظروں سے گرایا جاتا۔ بوڑھے انکلوں نے پارٹی ہائی جیک کی تو ”جانباز کارکن“ نے جہاز اغواء کیا، جس کی بناء پر ڈائی ہارڈ کارکنان ملک سے باہر بھیج دیے گئے۔ ستر کلفٹن اور مرتضیٰ ہاؤس کے کتنے ملازم ضیاء کے جاسوس ثابت ہو کر نکالے گئے؟ جب اپنے سائے کے بغیر اس کا کوئی ساتھ نہیں تھا اور وہی سایہ بھی مشکوک لگ رہا تھا، تو زرداری صاحب نے بینظیر بھٹو کو کیسے اپنے خلوص کا یقین دلا کر شادی کرنے پر رضامند کیا ہو گا؟ میری نظر میں یہی سب سے بڑی کوالیفیکش ہے اور یہی زرداری صاحب کی سیاسی مذاکرات کاری کی سب سے بڑی ٹرافی ہے۔ بقول میر

اس آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

دوسری طرف سیاسی میدان کا ایک نووارد ہے، جو اپنا سفر دو عشروں پر محیط بتاتا ہے، اگرچہ ان عشروں کے دوران، کبھی چاہ کنعان میں قید ہوا ہے نہ بازار مصر میں برادران خورد نے کبھی بیچا ہے، نہ سالخوردہ یعقوب کی طرح اپنے چشم و چراغ اور نہ چشمان سیاہ کو انتظار یوسف میں ہار چکا ہے۔ نہ موسیٰ کی طرح قوم کو دریا پار لے جانے کی سکت رکھتا ہے نہ یوسف کی طرح قوم کو بھوک سے بچانے کے گر جانتا ہے، جس کے پاس ایک خالی خولی محدود حکومتی اختیار کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

سیاسی تجربہ ہے نہ سرمایہ، ٹیم نہ قابل کابینہ، مخلص اور کمیٹڈ ساتھی نہ قابل حصول مقاصد، بس ایک جنج ہے جو بارات انجوائے کرنے اور ولیمہ کھانے تک اس کے ساتھ ساتھ ہے، جن میں کئی ایک تو باقاعدہ شہ بالا بننے کے امیدوار اور شدید حسد کے شکار ہیں۔ جس کے اردگرد برفاب موسم کے بھوکے بھیڑیوں کا غول ہے جس کا ہر بھیڑیا دوسرے بھیڑیے کا اسے نیند آنے تک دوست ہے۔

جبکہ دوسری طرف بے پناہ سیاسی تجربہ، نہ ختم ہونے والا سرمایہ، ایک سے بڑھ کر ایک گرگ باراں دیدہ سیاست دان، صرف شکار پر مرتکز بھیڑیوں کا ایک تربیت یافتہ غول، کسی ایمرجنسی کی صورت میں متبادل لیڈر شپ، مستقل سیاسی انتخابی حلقے، عشروں پر پھیلی ہوئی سیاسی دوستیاں اور احسانات، دور دور تک موجود سیاسی اور حقیقی رشتہ داریاں، عقیدت اور معرفت کی اینٹوں کے بنائے گئے ذاتی اور خاندانی تعلقات، لسانی اور قومی عزیمت کی سیاست پر مبنی اور ہر امتحان پر پورے اترے ہوئے بیشمار دفعہ آزمائے ہوئے کارکن، قربانیوں اور قید و بند پر مبنی ایک شاندار تاریخ، لیکن ایک کمی۔

ایک طرف عمران خان کے پاس خالی خولی محدود حق حکمرانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں بس میڈیا مینیجرز کی ایک فوج ہے، جس کو بظاہر وہ خود لیڈ کرتا ہے ( مجھے اس پر شدید تحفظات ہیں کہ وہ اکیلے ایسا کرتا ہے اور اس کے پیچھے کوئی ہائی ریسورس فل اور ہنر مند تھنک ٹینک نہیں) ۔

اور دوسری طرف سب کچھ ہے بس کوئی سپیشلسٹ میڈیا مینیجرز نہیں، کوئی اپنے کام میں طاق ریسورس فل تھنک ٹینک نہیں۔

وزیراعظم صاحب کو وزیراعظم، جس نے بھی بنایا ہو، ان کو وزیراعظم کی سیٹ پر برقرار ان کی میڈیا مینیجرز کی ٹیم نے رکھا ہے، اس لئے تو وہ ہفتہ وار میٹنگز کابینہ کے ساتھ کم اور میڈیا مینیجرز کے ساتھ زیادہ کرتے ہیں، کابینہ ہر میٹنگ مہنگائی بڑھانے کے لئے کرتی ہے اور اسی مہنگائی کو عوام میں قابل قبول بنانے اور حزب اختلاف کو کی گئی مہنگائی کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لئے، میڈیا مینیجرز دن رات لگے ہوئے ہوتے ہیں۔

وزیراعظم صاحب کوئی خاندانی جاگیردار ہیں نہ صنعت کار، ان کو خرید و فروخت کے لئے سرمایہ جمع کرنا پڑتا ہے اس لئے عبدالقادر اور ابڑو سے وصولی نہیں کریں گے تو آگے والوں کو کہاں سے دیں گے، جیسے اب سینیٹ کے لئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرنے کا معرکہ درپیش ہے۔ کیا عبدالقادر اور ابڑو بغیر وصولی کے ووٹ دے دیں گے؟ کیونکہ جو خریدتے ہیں وہ بیچتے بھی ہیں۔

کل تک میں زرداری صاحب کو پاور پالیٹکس کا واحد گرو مانتا تھا، اگرچہ وہ محسن کش، احسان فراموش یا ابن الوقت نہیں بلکہ یاروں کے یار مشہور ہیں، لیکن پھر بھی، اس دفعہ انہیں برابر کا بندہ ٹکرا گیا ہے، بقایا سیاست دان ان جیسا جوڑ توڑ سیکھنے تک زرداری کو پیر مانیں ورنہ ایک ایک الگ الگ پٹے گا، لگتا ہے کپتان دیر تک چلے گا۔ لیکن اب وزیراعظم صاحب بھی ایک حقیقی پولیٹیکل پاور پلئیر کی صورت میں ظاہر ہو گئے ہیں۔ وہ تسبیح ہاتھ میں پکڑے شب و روز ”سیاست میں سب جائز ہے“ کا ورد کرتے ہیں، ضرورت پڑے تو جانور کو رشتہ دار بنا دیں اور ضرورت پوری ہو جائے تو ماں کے نام کا ہسپتال بنا کر باپ کا نام تک نہ لیں۔

وہ بیس ممبران نکالنے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں اور سترہ سے اعتماد کا ووٹ لے کر ساتھ رکھنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں، پختونخوا میں حکومت ملی تھی تو ملک اور پختونوں کا سب سے بڑا دشمن ولی باغ کو بتایا کرتے تھے، اور اب ضرورت پڑی ہے تو اسی گھر کے نمک بھرے کباب ڈکار گئے، کل تک بدترین استہزاء کا نشانہ بنا کر مولانا صاحب کو ڈیزل بتایا کرتے تھے آج ضرورت ہے تو اسے اپنا اتحادی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنانے پر تیار ہیں۔

کل کوئی کہہ رہا تھا سپر مارکیٹ اسلام آباد میں ایک وزیر مسٹر بکس سے وزیراعظم صاحب کے لئے اٹالیئن جینئس میکاولی کی لکھی ہوئی پاور پالیٹکس کی بائبل، ’دی پرنس‘ کی نئی کاپی خرید رہا تھا، کیونکہ پرانی شیرو چبا کر خراب کر چکا ہے، گویا کپتان کا کتا بھی سیاست دان ہے، ’دی پرنس‘ چباتا ہے۔

آدرش، خواب، بلند مقاصد، ستھری سیاست، کرپشن فری پاکستان، میرٹ، قانون کی عمل داری اور ایسے نعروں کے پیچھے لگے ہوئے سیاسی جنونی اپنے جنون کے علاوہ جو دوسری چیز پائیں گے، وہ ان کے اپیےگریبانوں کے چھتیڑے ہوں گے۔ کیونکہ وزیراعظم صاحب اس ملک کے قرض لگتا ہے یوں اتار رہے ہیں، جس طرح کوئی قرض خواہ اپنے مقروض کے کپڑے سر بازار اتارتا ہے۔

اب ایک طرف میڈیا کے زور پر دن کو رات اور رات کو دن ثابت والا جادوگر ہے تو دوسری طرف سیاست کی حقیقی دنیا کا گیری کاسپاروف، اور تیسری طرف، وہی ہیں، جنہوں نے ان دو ٹیموں کے درمیان میچ کا انتظام کیا ہے۔ منتظمین طرفین سے زیادہ سے زیادہ مراعات اور مفادات کے لئے دن رات مختلف ذرائع اور لیول پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ایک لمحے لگتا ہے کھیل اصولوں کے تحت ہے اور امپائرز نیوٹرل ہیں اور دوسرے لمحے لگتا ہے یہ کھیل ہے نہ ہی اسے کھیلنے کے کوئی اصول ہیں، کیونکہ اصولوں کے مطابق یہ کھیل ہوتا تو پرویز رشید، جیسے کھلاڑی کو کھیلنے نہ دینا اور عثمان کاکڑ اور فرحت اللہ بابر جیسے کھلاڑیوں کو ٹیم میں سیلیکٹ نہ کرانا کافی سمجھا جاتا۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani