سینٹ الیکشن کے بعد ایک کالم پیپلز پارٹی کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو لوگ ملک کے آئین کو پاؤں تلے روندتے ہیں ان سے قانونی جنگ نہیں لڑی جا سکتی، ان سے جمہوریت کی اقدار پر بات نہیں کی جا سکتی، ان سے ووٹ کی حرمت کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا، ان سے مسائل کے قانونی پہلو زیر بحث نہیں لائے جا سکتے۔ جمہوریت کی جنگ میں غیر جمہوری قوتوں کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں ہو سکتا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، یہ بحث ان سے نہیں ہو سکتی جو سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت بہترین انتظام ہے۔

سینٹ کے الیکشن میں کچھ نیا نہیں ہوا بلکہ پرانی کہانی دھرائی گئی، پرانے زخم ادھیڑے گئے۔ یہ وہی کہانی ہے جس کا دیباچہ بلوچستان اسمبلی میں لکھا گیا، جس کا پیش لفظ اس ملک کی عدالتوں میں تحریر ہوا، جس کا متن دو ہزار اٹھارہ میں عوام کے سامنے آیا، جس کی تلخیص ڈسکہ میں سنائی گئی اور جس کا عنوان سینٹ کے الیکشن میں پوری قوم نے پڑھا۔ ابھی ہم نے دریدہ دہنی سے چند اسباق پڑھے ہیں، ابھی بہت سے صفحات اور بہت سی کتاب باقی ہے، بہت سے درس سیکھنے ہیں۔ دس سال کا یہ سیلبس یوں لگتا ہے اختیاری نہیں لازمی ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کو ہر قیمت پر ضرور پاس ہونا ہے اور کچھ لوگوں کو ممتحن نے جان بوجھ کر فیل کرنا ہے۔

پی ڈی ایم ان جابر قوتوں کے خلاف ایک طاقت ور پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا۔ مزاحمت کی سیاست کا آغاز ہوا، کردار بدل گئے، نئے کردار سامنے آئے۔ مریم نواز، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے جس بات کی توقع بھی نہیں تھی، وہ کام انھوں نے کر دکھایا۔ ہر مرحلے پر غیرجمہوری قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جہاں نام لینے تھا وہاں با آواز بلند نام لیے، جہاں نعرہ لگانا تھا وہاں فلک شگاف نعرہ لگایا، جہاں تاریخ کا درست رخ دکھانا تھا وہاں نئی تاریخ رقم کی۔ ایسا نہ کبھی نون لیگ کے ماضی میں ہوا ہے نہ مولانا کے ہاں ایسی روایت موجود تھی۔

ایک زمانے میں پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی مزاحمتی جماعت تھی۔ اب اس کا رویہ مزاحمت کا نہیں مصالحت کا ہو چکا ہے۔ اب انھیں سندھ کی حکومت اتنی عزیز ہے کہ انھیں اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا گوارا نہیں ہے۔ جس طرح نون لیگ ایسی نہیں تھی جو اب ہو گئی ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی ایسی نہیں تھی جو اب ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکر جیالے تھے، متوالے تھے، طلبہ یونین سے لے کر ٹریڈ یونین تک ہر سطح پر مزاحمت کرتے تھے، اپنے حقوق کے لیے لڑتے بھڑتے تھے، انسانی حقوق کے علم بردار تھے، جمہوریت کے چیمپئن تھے، ووٹ کی تقدیس کبھی ان کا نعرہ تھا، پارلیمان کی سپرمیسی کبھی ان کا عزم تھا۔ ہر چیز جس پر عوام کا نام ہوتا تھا وہ پیپلز پارٹی کی وراثت تصور کی جاتی تھی۔ اگر کبھی موقع ملے تو ایک بین الاقوامی مورخ کی کتاب ضرور پڑھیے گا۔

The Pakistan People’s Party : rise to power / Philip E. Jones

جس میں لکھا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جگہ بیان کیا کہ میں عوام کا لیڈر صرف خوش قسمتی سے نہیں بنا بلکہ میں نے اس ملک کے ایک ایک گاؤں اور گوٹھ میں لوگوں سے رابطہ بنایا اور جب میں کسی گاؤں کا دورہ کرتا تھا تو تب تک وہاں سے واپس نہیں آتا تھا جب تک کہ وہاں کے گوشے گوشے سے ”جیو بھٹو“ کی آواز نہ آنے لگے۔

لیکن اب وہ پیپلز پارٹی کسی دھند میں گم ہو چکی ہے۔ بلاول بھٹو میں بے پناہ اہلیت ہے مگر ان کی سوچ اور عمل میں تضاد قائم ہے۔ آصف زرداری بے پناہ شاطر ہیں مگر مصلحت کوش ہو گئے ہیں۔

دیکھا جائے تو سینٹ الیکشن میں جو ہوا، بہت اچھا ہو کہ پیپلز پارٹی کو وہ سبق ملا جو نون لیگ پہلے ہی سیکھ چکی تھی۔ ان ہاؤس تبدیلی کا خواب بھی مسمار ہو گیا۔ مولانا اور نواز شریف پہلے ہی اس منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کی رائے کو اہمیت دی گئی، ان کی تجویز کو تسلیم کیا گیا۔ جس کا نتیجہ ہم سب سینٹ الیکشن میں مسترد شدہ ووٹوں کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ اب پیپلز پارٹی کے سامنے میدان کھلا ہے۔ ان کے پاس پی ڈی ایم سے اختلاف کی کوئی صورت دستیاب نہیں۔ اب انھیں ادراک ہو جانا چاہیے کہ اس سسٹم کو راہ راست پر لانے کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پیپلز پارٹی کا ورکر بنیادی طور پر مزاحمت کے خمیر سے بنا ہے، اس کو بھٹو کے علاوہ جاؔلب بھی پسند ہیں اور فیؔض کو بھی اس نے پڑھ رکھا ہے، وہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری سوچ سے بھی واقف ہے، وہ ڈاکٹر مبشر حسن، لال خان، رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کی جہد جہد اور فکر و فلسفے سے واقفیت رکھتا ہے، اس کی سوچ جمہوری بھی ہے اور پارلیمانی بھی۔ لیکن یہ ووٹر اپنی قیادت کے فیصلوں سے مایوس ہے، اس کی مزاحمتی سوچ پر جب مفاہمت کی قدغن لگ جاتی ہے تو وہ ووٹر نون لیگ کی طرف دیکھنے لگتا ہے اور وہ مولانا فضل الرحمن کا قائل ہونے لگتا ہے۔

چھبیس مارچ کو ہونے والا مارچ اس ملک کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ اس مارچ کی منزل اگر غیر جمہوری قوتوں کی دہلیز ہوئی تو یہ مارچ ایک انہونا تاریخی واقعہ بن سکتا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جہاں پیپلز پارٹی کو گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا، مصلوب سندھ حکومت کی محبت کو دل سے نکالنا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کو نیوٹرل کے نعرے لگانا چھوڑ دینے ہوں گے۔ کھل کر بات کرنی ہو گی، ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ ایسا نہ ہوا تو پیپلز پارٹی کی ایک صوبے کی جماعت بھی نہیں رہے گی۔ یہ ایک نئی طرز کی ق لیگ بن جائے گی جو اس ملک کے لیے اور اس کی جمہوری روایات کے لیے ایک سانحے سے کم نہ ہو گا۔ اگلے چند دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کیا پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کے چیئر مین سینٹ بننے کے لالچ میں رہنا ہے یا پھر جمہوریت کے لیے علم بغاوت بلند کرنا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں چند لمحات بہت فیصلہ کن ہوتے ہیں، انہی لمحات میں ان جماعتوں کی بقا اور فنا کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی سے ہر سیاسی جماعت کی طرح بہت غلطیاں ہو چکی ہیں۔ لانگ مارچ ایک ایسا موقع ہے جب سب دکھ دھل سکتے ہیں، سب دلدر دور ہو سکتے ہیں، سب شکوے مٹ سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر پیپلز پارٹی کو فیضؔ کے مصرع میں تحریف کر لینی چاہیے کہ ”جب راج کرے گی خلق خدا کو“ آئندہ ”کب راج کرے گی خلق خدا؟“ پڑھنا چاہیے اور یہ سوال کسی اور سے نہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 216 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *