سیمیں درانی کے افسانے: آنول نال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کتاب محترمہ سیمیں درانی کے 15 افسانوں اور ایک مضمون پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام قدرے چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن مصنفہ کا یہ دعوی کہ مرد حضرات آنول نال کو جانتے تک نہیں اور اس کے ذکر پر اپنی ناف کھجانے لگتے ہیں، حقیقت نہیں۔ مزید وہ کہتی ہیں کہ مرد آنول نال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ مرد جانتے بھی نہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ جس جنسی استحصال، آبرو ریزی، اولاد نرینہ کی چاہ وغیرہ کا ذکر کتاب کے پیش لفظ میں کیا گیا ہے اس کا آنول نال سے براہ راست تعلق تو کہیں نظر نہیں آتا۔ پھر یہ بھی فرماتی ہیں کہ مرد اپنی مردانگی کے بل بوتے پر دندناتا پھرتا ہے۔ آنول نال کا محتاج ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ اس پدر سری معاشرے میں جو مرد جنسی بے راہ روی یا ریپ سوچ کا شکار ہورے ہیں ان کے سامنے نہ تو آنول نال کی سوچ ہوتی ہے نہ ضرورت۔

کتاب کے شروع میں جناب سلیم صدیقی نے تقریباً 8 صٖفحوں پر محیط دیباچہ تحریر کیا ہے۔ اس کا آغاز تو محترمہ سیمیں درانی کی اردو نظموں پر دیباچہ نگار کا انگریزی میں جائزے سے ہوتا ہے جس کے مطابق سیمیں کی نظمیں ایک ننگی حقیقت ہیں۔ موصوف نے افسانوں پر بے تحاشا لکھا ہے، شاید قاری کو افسانے پڑھنے سے پہلے علمیت سے مرعوب کرنا درکار تھا۔ عام طور پر دیباچے میں افسانوں کا مختصر سا جائزہ ہوتا ہے اور باقی قاری پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ مطالعے کے بعد اپنی رائے تعمیر کر سکے۔ اتنا بھرپور دیباچہ کسی طور بھی مصنف کے حق میں نہیں جاتا۔

بقول دیباچہ نگار، سیمیں درانی بیک وقت بانو قدسیہ اور قراہ العین حیدر سے متاثر ہیں۔ دونوں خواتین مختلف نقطہ ہائے فکر کی حامل تھیں۔ بانو کی تحریریں تو اشفاق احمد کے جبر کا شکار رہیں۔ ویسے بھی وہ اشفاق احمد جیسے جنتر منتر درویش اور قدرت اللہ شہابی سوچ کے تحت رہیں۔ عینی البتہ ایک با لکل ہی الگ فکر کی حامل تھیں۔ تو یہ ہر دو خواتین سے متاثر ہونا بھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ آگے چل کر سلیم صدیقی صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ قاریئن کی اکثریت سیمیں صاحبہ کو منٹو کا جانشین قرار دیتی ہیں۔

منٹو بھی ہمارے ہاں ایک کلیشے بن چکا ہے۔ منٹو نے جو لکھا وہ اس وقت کی ضرورت تھا اور اس میں کوئی جنسی تلذذ یا انگیخت شامل نہیں تھی۔ ان کی کہانیاں تو معاشرے میں رستے ناسوروں کی داستانیں تھیں۔ منٹو آج زندہ ہوتے تو شاید وہ کچھ اور قسم کی کہانیاں لکھتے۔ ہمارے ہاں یہ قبیح رواج ہو گیا ہے کہ جہاں کسی نے ذرا سا واضح لکھا، اسے بولڈ رائٹر کے خطاب سے نوازتے نوازتے منٹو ثانی کہا جانے لگا۔ سیمیں درانی کے علاوہ بھی بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

میرے خیال میں اس دیباچے نے محترمہ کے افسانوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ دیباچے میں لکھا ہے کہ ”ان افسانوں میں سیمیں نے ایک ساتھ لا تعداد، وسیع اور مشکل موضوعات کو ایک بڑے کینوس بلکہ مورال پر اتارا ہے“ ۔ ادب کے ایک ادنی ظالب علم کی حیثیت سے مجھے ان 15 افسانوں میں کہیں کوئی تنوع یا مختلف موضوع نظر نہیں آیا۔ یہ سب کہانیاں ایک جیسی ہیں اور کسی کہانی کا کوئی بھی عنوان رکھا جا سکتا ہے۔ دیباچے میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ان افسانوں میں منٹو جیسی ننگی حقیقت اور جنسیت کے رنگوں کے ساتھ قرآنی استعارے اور سایئنس فکشن بھی شامل ہیں۔ حیرت ہے۔ منصور، انا الحق اور وظائف و اوراد کا ذکر کرنے سے کیا قرآنی استعارے بن جاتے ہیں۔ اور کیا آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کا ذکر کر دینے سے کہانی سائنس فکشن ہو جاتی ہے۔

میں نے کوشش کی کہ ان 15 افسانوں میں سے ہر ایک کا نہیں تو کچھ کا تو فردا فردا تجزیہ پیش کر سکوں لیکن بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ سب افسانے ایک ہی کہانی لئے ہوئے ہیں۔ پہلے افسانے میں بانڈڈ لیبر، سرمائے کے بل بوتے پر غریب کا استحصال اور پیڈو سوسائٹیز کو آپس میں گڈ مد کر دیا گیا ہے اور افسانہ کوئی مجموعی تاثر قائم نہیں کر پایا۔ آئٹم گرل، ادھورے لمس کی ملکہ، وجود، چندہ، ولی، پگڑی۔ کسی بھی کہانی میں کوئی الگ یا چونکا دینے والی بات نہیں۔

ایک ہی تھان سے اترے کپڑے لگتے ہیں۔ ٹریٹمنٹ ہی مختلف ہوتا تب بھی کچھ بات بنتی۔ کوئی ایسی کہانی بھی نہیں ملی جس کو پڑھ کرقاری، افسانہ نگار کے باطن کی سوچ یا لہجے کا کوئی تاثر قائم کر سکے۔ جنسیت، پدر سری معاشرے میں مرد کا جبر ہر کہانی میں موجود ہے اور یہ آج کل ہر روز کے اخبار میں بھی ملتا ہے۔ ہاں کسی کسی کہانی میں رومانوی فضا کا شائبہ ضرور ملتا ہے۔

یہاں میں مصنفہ کی کہی بات، جو ہمیں دیباچہ نگار نے بتائی ہے کہ، ”مجھے خود نہیں معلوم کہ لا شعوری طور پر میں اپنی تخلیقات میں کس سمت میں چل پڑی ہوں اور میری منزل کہاں نکلے گی۔“ سے متفق ہوں کہ کوئی ایک کہانی بھی ایسی نہیں جو انفرادی طور پر کوئی ایسا تاثر دے کہ افسانہ نگار کی سمت کیا ہے۔ کہانی بننے کے لیے مطالعے سے زیادہ مشاہدہ کام آتا ہے لیکن ان افسانوں میں مشاہدے سے زیادہ مطالعہ نظر آتا ہے۔

” بلا عنوان“ چونکہ ذاتی واردات ہے اس لیے اس مجموعے کی سب سے اہم تخلیق ہے کیونکہ اسے صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے ہوئے محترمہ سیمیں درانی کی کوئی شعوری کوشش نظر نہیں آتی۔ جس طرح سے انہوں نے اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں لکھتے ہوئے منصور، انا الحق اور دیگر اوراد و وظائف کا ذکر کیا ہے وہ ہمارے وراثتی جبر کی وجہ سے اب کلچر کا حصہ ہیں۔ کسی عزیزکی پیدائش یا موت پر ہم ایسا ہی اظہار کرتے ہیں۔ بہت سے تخلیق کار، ارد گرد کے مشاہدے اور مطالعے کے بعد معاشرے یا اپنی ذاتی وارداتوں کو ادبی پیرائے میں ڈھالتے ہیں۔

محترمہ سیمیں درانی نے اپنے افسانوں کی تشریح خود ہی کر دی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ”میرے قلم نے جنم بھی تب لیا جب مجھے جننے والی کو زمین نے اپنی کوکھ میں سمیٹ لیا۔ تب ہی سے میرے قلم سے خون رسنا شروع ہوا اور ارد گرد کے حالات و واقعات نے اس کو نشتر کا روپ دیا۔“ گویا اس حادثے سے پہلے راوی سب چین ہی چین لکھتا تھا۔

مجموعے میں شامل ایک افسانے ”فیمینسٹ“ کے بارے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ فیمینزم کی عمومی تشریحات سیاسی نوعیت کی ہیں کیونکہ یہ بطور فکر طاقت کی مادی اور اور نظریاتی ساخت کو چیلنج کرتا ہے۔ سماج کو دیکھنے پرکھنے اور سمجھنے کی مختلف توجیحات کی بنا پر اس میں مختلف تشریحات موجود ہیں۔ لبرل فیمینزم جو کہ سب سے مشہور تشریح ہے قومی ریاست کے جدید تصور میں مساوی حقوق پہ یقین رکھتی ہے۔ ہرچند کہ اس مکتب فکر میں بھی مختلف آرا موجود ہیں لیکن اس کا بنیادی مقصد خواتین اور مردوں کے درمیان قانونی اور سیاسی حقوق کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔

اس کے علاوہ مشہور مکاتب فکر میں مارکسسٹ فیمینزم (جوکہ فرییڈرک اینگلز سے ماخوذ ہے ) ، ریڈیکل فیمینزم سکول جو کہ مارکسسٹ اور لبرل سکول کے برعکس جو اپنی تشریح میں عوامی ہیں، یہ سکول اپنی فکر میں ذاتی یا نجی نوعیت کی فیمینسٹ اپروچ کا داعی کا ہے۔ یہ سکول بنیادی طور پر پدر سری نظام کے مخالف ہے۔ اس کے علاوہ ایک سوشلسٹ سکول ہے جو کہ ریڈیکل اور مارکسسٹ فکر کا مجموعہ ہے اور یہ اپنی اصل میں سماجی و معاشی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت پہ یقین رکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک پدرسری نظام کی نا انصافی ریاست کی جانب سے قائم کیے گئے اداروں کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔

مغرب میں ان تمام مکاتب فکر کی نظریاتی بنیادیں موجود ہیں لیکن برصغیر کے تناظر میں یہاں کی تشریحات کی ایک اپنی تاریخ اور ثقافت ہے۔ پاکستان میں فیمینزم کے مختلف مکاتب فکر موجود ہیں جن سے وابستگی کی وجوہات شعوری بھی ہیں اور غیر شعوری بھی، یہاں پر کوئی کسی ایک مکتب فکر سے نظریاتی وابستگی کا حامل ہو، مشکل ہے۔ یہاں فیمینزم کی فکر سے وابستہ افراد حالات اور ضرورت کے تحت مختلف افکار سے متاثر ہوئے ہیں۔

ویسے بھی ہمارے ہاں اب یہ فیشن بن گیا ہے کہ جس کسی مرد و زن نے پدر سری معاشرے میں عورت پر ہونے والے جبر و استحصال کا موضوع بنایا اسے فیمنسٹ رائٹر کے خطاب سے نواز دیا گیا خواہ اس کی تخلیق کا یہ مقصود ہی نہ ہو۔

کتاب کے بیک کور پر محترمہ سیمیں درانی کی جو نظم درج ہے وہ کہانیوں کے اس مجموعے پر بھاری ہے۔ مجھ ناچیز کی رائے میں محترمہ کو نثری نظموں کی طرف زیادہ توجہ مذکور کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *