ڈاؤن سنڈروم کا عالمی دن: 21 مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ڈاؤن سنڈروم کیا ہے؟

یہ کوئی مرض نہں بلکہ ایک جینیاتی کیفیت ہے۔ ہمارے جسم کے ہر خلیے کے مرکز میں ننھے ننھے جینیاتی بنڈل ہوتے ہیں جنہیں کروموسوم کہتے ہیں۔ عام طور پر ہر فرد میں کروموسوم کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جن کی تشکیل رحم مادر میں حیات کی ابتدا کے ساتھ ہی ہوجاتی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم میں جنین اکیسویں کروموسوم کی ایک اضافی کاپی کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔ یہ اضافی کروموسوم بچے کے جسم اور ذہنی نشوونما پر اثر انداز ہو کر بہت سی ساختی تبدیلیوں کا موجب بنتا ہے۔ جبھی ڈاؤن سنڈروم کو ٹرائی سومی 21 یا مختصراً ٹی 21 بھی کہتے ہیں۔

ڈاؤن سنڈروم کب دریافت ہوا؟

یہ جینیاتی تنوع کتنا قدیم ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے سانتا روزا جزیرے پر سات ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچوں میں اس کے آثار ملے ہیں جبکہ اتنے ہی سال پرانی مٹی کی مورتیاں جو یونان میں دریافت ہوئیں دیکھنے میں ڈاؤن سنڈروم کی مجسم عکاسی لگتی ہیں۔

انیسویں صدی تک کسی بھی طرح کی دماغی کمزوری کے متعلق کوئی سائنسی سوچ نہیں پائی جاتی تھی۔ ہر ذہنی و نفسیاتی کیفیت میں مبتلا بدقسمت افراد کا ٹھکانہ جیل نما پاگل خانے ہوا کرتے تھے جہاں بند افراد پر جسمانی و نفسیاتی ایذا رسانی معمول سمجھا جاتا تھا۔ 1858 میں ایک سند یافتہ برطانوی ڈاکٹر جان لینگڈن ڈاؤن کو کاؤنٹی سرے میں واقع ایسے ہی ایک مرکز ارلس وڈ اسائلم کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بنا کر بھیجا گیا۔ جہاں کام کرتے ہوئے انہوں نے 1866 میں وہ تاریخ ساز مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا : احمقوں کی نسلی درجہ بندی کا مشاہدہ۔

یہ وہ وقت تھا جب سائنس اور سائنسدانوں پر بھی نسل پرستی کا گہرا سایہ تھا۔ کچھ نسلوں بالخصوص یورپی سفید فام نسل کو ذہین اور کامل سمجھا جاتا جبکہ ایشیائی اور افریقی اقوام کو فطری طور پر کند ذہن اور ناقص تصور کیا جاتا۔ ایسے میں ڈاکٹر ڈاؤن نے اپنے مرکز میں ایسے بچوں کا ذکر کیا جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور نسلی فرق کے باوجود ایک والدین کی اولاد معلوم ہوتے تھے۔ مقالے میں ان بچوں کے خد و خال کی مناسبت سے انہیں منگولیائی احمق کا خطاب دیا گیا۔

جون لینگڈن ڈاؤن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ان جسمانی اور ظاہری خصوصیات کو بہت تفصیل سے بیان کیا جو ڈاؤن سنڈروم کے افراد میں مشترک ہوتی ہیں۔ 1930 اور 1960 کے دوران جینیات میں ہونے والی تحقیق و دریافت نے اس سنڈروم کا جینیاتی تعلق منکشف کر دیا۔

ایک طویل عرصے تک منگولوائڈ، منگولیائی احمق اور منگولزم کہلائے جانے کے بعد 60 کی دہائی کی ابتدا میں موقر طبی مجلہ لینسیٹ کی تجویز اور منگولیا کی حکومت کے مسلسل احتجاج پر عالمی ادارۂ صحت نے بین الاقوامی سطح پر اس کیفیت کو ڈاکٹر ڈاؤن کے نام سے موسوم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر بھی کئی عشروں تک اخبارات و جرائد اور عام گفتگو میں منگولوائڈ کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا۔

اس کیفیت کے اسباب

اب تک ہمیں یہ آگہی نہیں ہو سکی کہ یہ جینیاتی تنوع کیونکر واقع ہوتا ہے البتہ حمل کے وقت ماں کی عمر سے اس کا تعلق ضرور ثابت ہو چکا ہے۔ 30 سال سے کم عمر ماؤں میں ڈاؤن سنڈروم بچے پیدا ہونے کی شرح ایک ہزار میں سے ایک ہوتی ہے۔ لیکن یہ تناسب عمر کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ 35 سال کی عمر میں 400 میں سے ایک جبکہ 49 سال کی عمر میں ماں بننے والی خواتین میں ہر بارہ ولادتوں میں سے ایک ٹرائی سومی 21 ہو سکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ 1900 ء تک عورتوں کی اوسط عمر محض 35 سال تھی۔ ڈاؤن سنڈروم اولاد جنم دینے میں کسی قوم، نسل، مالی حیثیت یا مذہب میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

کیا قبل از ولادت ڈاؤن سنڈروم کی تشخیص کی جا سکتی ہے؟

دوران حمل دو قسم کے ٹیسٹ سے ٹرائی سومی 21 کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ پہلے نمبر پر سکریننگ ٹیسٹ ہیں جن میں ماں کے خون کی جانچ پڑتال اور الٹراساونڈ شامل ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر تشخیصی ٹیسٹ جن میں آنول نال کی جھلی سے مادہ نکال کر اس پر تحقیق، جنین کے گرد موجود ایمنیوٹک مائع کی جانچ اور نال میں موجود خون کے نمونے حاصل کرنا شامل ہیں۔

برطانیہ میں تمام متوقع والدین کو ان ٹیسٹس کے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہے لیکن ماں یا جوڑے پر ٹیسٹ لازماً کرانے کے لئے دباؤ ڈالنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ جہاں جنین میں جینیاتی خلل کی نشاندہی ہوتی ہے وہاں ایک ممکنہ مدت سے قبل اسقاط حمل کے بارے میں بھی آگہی فراہم کی جاتی ہے۔ حمل کے اگلے ہفتوں میں اگر الٹراساونڈ سے ایسے عضوی نقائص کی شناخت ہو جائے جن سے زندگی برقرار نہ رہ سکے تو پہلے سے اس کا علم ہونا والدین کو بہت بڑے اچانک صدمے سے بچائے رکھتا ہے۔

ڈاؤن سنڈروم کے طبی مسائل کیا ہوتے ہیں؟
ذہنی استعداد کی کمی
سیکھنے میں مشکلات
سوتے ہوئے سانس رکنا
سماعت کی کمزوری
کانوں کے بار بار انفیکشن
بصارت کے مسائل جن کی وجہ سے متعدد آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سست رفتار نشو و نما
دل کے امراض بالخصوص قلبی والو کی بیماریاں
خون کے سرطان
تھایئرائیڈ گلینڈ کے مسائل
قبل از وقت الزائمر یعنی بھولنے کا مرض

ڈاؤن سنڈروم کے افراد کیسی زندگی گزارتے ہیں؟

جیسے جیسے اس کیفیت سے متعلق عوام میں شعور بیدار ہوتا گیا ہے ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہونے والے افراد کی زندگی کا دورانیہ اور معیار دونوں بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ 1910 میں اس طرح کے بچے بمشکل نو سال کی عمر تک جی پاتے تھے۔ 1983 میں یہ اوسط عمر 25 سال تک پہنچی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں یہ عرصۂ حیات بڑھ کر 60 سال تک ہو چکا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد تقریباً معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ڈاکٹر ڈاؤن سے اب تک دماغی مسائل کو دیکھنے کا انداز بدل چکا ہے۔ احمق، باؤلا، مجنون جو کبھی طبی اصطلاحات تھیں متروکہ ہو گئی ہیں۔ کسی کو ذہنی معذور، ریٹارڈڈ یا ڈس ایبل کہنا گالی دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

ڈاؤن سنڈروم افراد کی طویل اور بہتر زندگی میں اس کیفیت سے متعلق بڑھتا ہوا عوامی شعور، معاشرے کا بدلتا رویہ، انسانی حقوق کے جدید تصورات، بہتر نظام صحت اور تعلیم اور تربیت کی عمدہ سہولیات شامل ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ٹرائی سومی 21 کے بچے خصوصی اسکولوں کی نسبت عام اسکولوں میں بھیجے جانے سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ڈاؤن سنڈروم کے بچے کسی بھی گھر میں ولادت پا سکتے ہیں ان کو ایک آزاد، خودمختار، امتیاز سے پاک، خوش باش، بامقصد اور بھرپور زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔

مرے آنگن کے تم شمشاد چندا
فرشتے ہو یا آدم زاد چندا
ہو جاں سے پیاری تم، اولاد چندا
نہیں ہو بوجھ یا افتاد چندا
کروموسوم ہیں تم میں زیادہ
ہیں کم اپنے ہی کچھ اعداد چندا
تمہارا ظاہر و باطن ہے یکساں
نہیں مجموعۂ اضداد چندا
کسی سے کم نہیں ہے بس الگ ہے
تمہاری ذہنی استعداد چندا
شہر کے باسیوں پہ فرض ہے کہ
لیں دلچسپی، سنیں روداد چندا
ہو کہنے کو بہت نازک بظاہر
مگر ہے عزم بس فولاد چندا
توجہ، پیار، ہمت، خود کفالت
ملے نہ تم کو تو برباد چندا
تمہیں سکھلائیں ہم یا تم سے سیکھیں
تمہی تو اپنے ہو استاد چندا
سمجھنے چاہئیں سب کو مسائل
یہی درکار ہے امداد چندا
رہو خوش باش ہر دم مسکراتے
نا ہو اک لمحہ بھی نا شاد چندا
ہے کل دنیا میں اک یکساں تناسب
ہو وہ لندن یا ہو بغداد چندا
زمانے بھر کا غم دل میں بسا کر
جئے جاتے ہو، زندہ باد چندا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *