ڈاکٹر محمد ضیا الحق صوفی اور ڈاکٹر خورشید رضوی


محمد ضیاء الحق صوفی اور خورشید رضوی کی استادی شاگردی کی حکایت دل پذیر اس وقت بیان کرنے کا محل یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہم نے ساہیوال جانے سے پہلے خورشید رضوی صاحب سے گفتگو کی تو انھوں نے کہا کہ ہو سکے تو اس گھر کا ایک فوٹو بنا لانا جہاں انھوں نے صوفی صاحب سے عربی کی تحصیل کی۔ اسی مقام پر قسمت خورشید تبدیل ہوئی۔ اس گھر کے چپے چپے سے ان کی یادیں وابستہ ہیں۔ ساٹھ برس گزرنے پر بھی اس مکان اور اس کے مکین کی یاد ذہن سے اتری نہیں۔

محمد ضیاء الحق صوفی وائس پرنسپل ہونے کے ساتھ ساتھ وارڈن بھی تھے، ان کی رہائش وارڈن ہاؤس میں تھی جو کالج کی مرکزی عمارت سے قریب برلب سڑک واقع ہے۔ شعبۂ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر محمد افتخار شفیع نے متعلقہ جگہ کا پتا سمجھا دیا لیکن پھر اس خیال سے کہ کہیں ہم گمراہ نہ ہوجائیں اپنے ڈیپارٹمنٹ سے ایک صاحب کو ہمارے ساتھ کر دیا۔ راستے میں سردیوں کی چمکتی دھوپ میں کھلے میدان میں طالب علموں کو ہنستے کھیلتے، چہلیں کرتے اور ایک جگہ استاد کو علم کا نور بانٹتے دیکھنے کا منظر بہت اچھا لگا۔ پانچ سات منٹ میں ہم منزل پر پہنچ گئے۔ موبائل کیمرے سے متعلقہ مکان اور لان کی تصاویر بنائیں اور فوراً رضوی صاحب کو واٹس ایپ پر بھیج دیں۔ ان کا مختصر جواب آیا:

زندہ باد۔ سلامت رہیں۔
اس جلوہ بام کے علاوہ
آیا نہیں فرق بام و در میں

تھوڑی دیر میں خورشید صاحب سے فون پر بات ہوئی تو بتایا کہ گھر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، بس سیڑھیوں پر ایک Slope بن گیا ہے اور ایک اضافی دیوار اٹھا دی گئی ہے۔ بتایا کہ مقتدرہ قومی زبان، اساتذہ کے بارے میں کتاب ’روشنی کے سفیر‘ کی دوسری جلد تیار کر رہا ہے، جس کے لیے انھیں صوفی صاحب پر مضمون لکھنا ہے تو اب ان تصاویر سے اس مکان سے جڑی یادیں تازہ کرنے میں مدد ملے گی۔ خورشید صاحب نے پنتیس چالیس سال بعد جب اس گھر کو وزٹ کیا تو صاحب خانہ کی اجازت سے اس کمرے میں وقت بھی گزارا جہاں انھوں نے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ اس کمرے میں جاکر ان کی عجیب و غریب حالت ہوئی۔ کسی اور ہی دنیا میں چلے گئے۔ ذہن کی لوح پر یہاں بیتے لمحات کی ریل سی چلنے لگی۔ یہ سب رضوی صاحب نے بتایا تو سوچا کہ ممکن ہے ان کے ذہن میں وہی سوال آیا ہو جسے احمد مشتاق نے اپنے اس شعر میں اٹھایا ہے :

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
اقبال نے اپنے استاد مولوی میر حسن کے بارے میں کہا تھا:
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
صوفی صاحب کی اس سابقہ رہائش گاہ کا خورشید رضوی کی نظروں میں یہی مقام ہے۔
خورشید رضوی نے ڈاکٹریٹ کا مقالہ ان کے نام کچھ یوں معنون کیا:
” استاد مکرم ڈاکٹر محمد ضیاء الحق صوفی مرحوم کی یاد میں جنھوں نے عربی کی راہ پر میرے قدم ہموار کیے“

فواد سیزگین کے خطبات کے اردو ترجمے کا انتساب بھی انھی کا نام ہے جس کے ساتھ علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کیا:

اگر سیاہ دلم، داغ لالہ زار تو ام
وگر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام
ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنے استاد کے بارے میں لکھا :
”آج میں جو کچھ بھی ہوں انھی کی فیض نگاہ اور تربیت کے سبب سے ہوں۔“

اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ گورنمنٹ کالج ساہیوال سے خورشید رضوی کی جڑی یادوں کا مرکز ثقل صوفی صاحب کی ذات گرامی اور ان کا مسکن ہے۔ ان کے بقول ”گورنمنٹ کالج ساہیوال میرے لیے دراصل انھی کی ذات سے عبارت تھا۔“ لیکن اس کے علاوہ بھی ’چمن میں ہر طرف بکھری ہے داستاں میری‘ ، کہ آخر اسی تعلیمی ادارے کے بارے میں انھوں نے کہا:

ہیں تجھ میں دفن میری جوانی کے چار سال

اس کالج میں اپنے محبوب شاعر مجید امجد کی نظم ’کنواں‘ ان کے مخصوص انداز میں سننے کا منظر ذہن پر نقش ہے۔ پہلی غزل کالج کے رسالے ’ساہیوال‘ میں شائع ہوئی جس میں شامل اس شعر پر اساتذہ سے بھی داد ملی۔

قفس کی تیلیاں کیا کم ہیں تنکوں سے نشیمن کے
قفس میں رہ کے پھر ہم کو تلاش آشیاں کیوں ہو

شاعر کے علم میں تھا کہ غزل کالج میگزین میں شائع ہوگی لیکن اسے رسالے میں دیکھنے کی بے قراری بہت تھی جس کے بارے میں لکھتے ہیں :

” یہ غزل اساتذہ کی نظر میں اس طرح آئی کہ یہ کالج کے مجلہ ’ساہیوال‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اور یہ میری پہلی چیز تھی جو کہیں شائع ہوئی تھی۔ مجھے وہ بے تابی یاد ہے جب ’ساہیوال‘ کے پلندے تازہ تازہ چھپ کر آئے اور ستلیوں میں جکڑے ہوئے لائبریری کے کاؤنٹر کے ساتھ ڈھیر کر دیے گئے۔ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میری غزل چھپ گئی ہے۔ الٰہی یہ کون سی گھڑی ہوگی کہ یہ پلندے کھلیں گے اور رسالہ تقسیم ہوگا۔ ظاہر ہے لائبریرین صاحب کو اس سلسلے میں کوئی جلدی نہ تھی۔ آخر میں نے اسی جکڑے ہوئے پلندے کے صفحات کو انگلیاں مضبوطی سے جما جما کر تھوڑا سرکایا اور رسالے کے اندر جھانکنا شروع کیا اور جب ایک بے ڈھب زاویے سے“ کیوں ہو ”کی ردیف عمدہ سفید کاغذ پر ٹائپ کے حروف میں چھپی ہوئی دکھائی دے گئی تو ایک ایسی سرشاری کی کیفیت پیدا ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔“

گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بیتے دنوں کو یاد کرتے ہوئے خورشید رضوی پرنسپل میاں اصغر علی کو کبھی نہیں بھولتے جن کے دور میں کالج کا معیار تعلیم ہی اوپر نہیں گیا، اس کی ظاہری خوبصورتی میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ بقول خورشید رضوی ”انھوں نے اس کالج کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔“

میاں اصغر علی سخت گیر منتظم تھے لیکن طالب علموں کی بہبود کا انھیں بہت خیال رہتا۔ تھرڈ ائر میں رضوی صاحب بیمار ہو گئے۔ پیٹ میں زور کا درد اٹھا۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا بیماری ہے۔ ستم بالائے ستم پروموشن ٹیسٹ سر پر آن پہنچا۔ ایسے میں ان کے قدم پرنسپل ہاؤس کی طرف اٹھے، اس جرات رندانہ پر انھیں آج تک حیرت ہوتی ہے۔ پرنسپل ہاؤس کی گھنٹی بجائی تو میاں اصغر علی باہر آئے۔ طالب علم نے مدعا بیان کیا تو پرنسپل نے سول ہسپتال میں ڈاکٹر سے بات کی۔ تانگہ منگا کر انھیں ہسپتال روانہ کیا جہاں دو ڈاکٹر ان کے منتظر تھے۔ ہسپتال میں چیک اپ کے بعد وہ پرنسپل کے پاس پہنچے تو ڈاکٹر فون پر انھیں رپورٹ دے چکے تھے جس کے مطابق ان کے گردے میں پتھری تھی۔ خورشید رضوی نے امتحان کا ذکر کیا تو اصغر علی صاحب نے کہا کہ فی الحال اسے بھول جائیں۔

ان کی بیماری کے دنوں میں وہ برابر ان کی خیریت دریافت کرتے رہے :
” رول نمبر فور، ہاؤ آر یو فیلنگ ناؤ؟“
” سر آئی ایم بیٹر ناؤ“
”ٹیک کیئر، ٹیک کئیر“

پھر ایک دن کلاس کے دوران انھیں پیغام ملا کہ پرنسپل صاحب نے یاد کیا ہے۔ حاضر ہوئے تو ان کی صحت کے بارے میں پوچھا اور جب انھوں نے بتایا کہ اب وہ ٹھیک ہیں تو کہا کہ پھر ری ٹیسٹ کے لیے تیار ہوجائیں۔ خورشید رضوی کے بقول ”دوبارہ امتحان ہوا، جو جو طلبہ کسی مجبوری سے امتحان نہیں دے سکے تھے سب شریک ہوئے اور ہمارا نتیجہ بھی سب کے ساتھ یوں شامل ہو گیا جیسے ہم امتحان سے غیر حاضر ہوئے ہی نہیں تھے۔“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3