قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر
اگر ملعونین کی معاشرت کے غیر اخلاقی ماحول کو ہی دوام دینا تھا جہاں عورت کو ہراساں کرنا اور گھر سے باہر ستائے جانے کا خطرہ رہے تو مسلم معاشرے کا کیا فخر، کیا جواز اور کیسی برتری؟ ظاہر ہے یہاں اشارہ مشرک و کفار کے منافق مرد کی طرف ہے اورامہات المومنین کو بھی گھروں میں ٹکنے کا، حجاب کے پیچھے سے بات کی ہدایت اسی ایذا رساں گروپ سے بچنے کے لئے دی جا رہی ہے، تاوقتیکہ اللہ کا قانون نافذ ہو جائے جہاں ہر انسان کی جان، مال، آبرو کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی۔
اس لئے اگر یہاں کفار سے خطرہ ہے تو مومن مرد سے بالکل خطرہ نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ مشرک کلام اللہ نہیں سنتے، ان پر مسلم اخلاقی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مگر ایک مومن مرد جو کلام اللہ سنتا ہے۔ خدا کا خوف رکھتا ہو گا، باپردہ یا بے پردہ کو ہراساں کرنے کے تصور سے ہی کانپ اٹھے گا۔ مگر ہم نے گھر سے نکلنے والی، باپردہ یا بے پردہ کو تنگ کرنا نہ صرف جائز ٹھہرا دیا بلکہ خاموشی سے اسے معاشرتی اصول کا درجہ بھی دے دیا، صرف یہ باور کروا کر، کبھی واضح طور پہ اور کبھی اشارتاً کہ خود خدا کی کتاب نعوذ باللہ کہتی ہے کہ پردے کے بغیر ستایا جانا لازم اور ملزوم ہے۔
اور یوں وہ جن کے دلوں میں بیماری تھی، جن کو گھر کے اندر اور باہر کی دنیا پر حاکمیت جتانے کا جنون تھا، انہوں نے مسلم مرد کے لئے ہراسانی اور اذیت کو ایک بے پردہ عورت کے لیے خاموش یا کھلی رضامندی کے ذریعہ ایک جائز آلہ بنا دیا کہ وہ عورت کو ہراساں کرے تاکہ وہ گھر لوٹ جائے یا پردے میں لپٹ جائے۔ اور یہ ’مصلحون‘ اس اذیت کو اللہ کا حکم نافذ کرنا کہتے ہیں۔ ہونا تو چاہے تھا کہ پردہ نہ کرنے پر قرآن میں عورتوں کو سخت وعید دی جاتی کہ آخر اسی سے معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے مگر عورت کو کہا گیا کہ اللہ غفور و رحیم ہے، جانتا ہے پردہ عورت کے کسی قصور کی بناء پر نہیں بلکہ اصل میں منافق مرد کی کمزوری پر پردہ ہے۔
تو بھول چوک پر تمھیں معافی ہے ہاں مگر ستانے والوں کے لیے اگلی ہی آیات میں سخت وعید ہے کہ وہ معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ درہم برہم کرتے ہیں۔ مگر وہاں تک کوئی جاتا ہی نہیں کیونکہ پھر تو سارا پدرسری معاشرہ ہی ’ملعونین‘ کی زد میں آنے کا خطرہ ہے تو فوکس اس ایک آیت کے چند الفاظ پر رکھا جاتا ہے۔ اور اسی غیر متوازن اپروچ سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایک طرف تربیت اور پابندیوں کا انبار اور دوسری طرف ہراسانی پر مرد کو بے قصوراور معصوم کہہ کر کھلی معافی کا اعلان ہے۔
وہ جس کی بھول چوک پر خدا غفور و رحیم ہے، اس پر معاشرہ سخت ہے مگر جس کی ایذا رسانی پر خدا کی لعنت ہے اسے معاشرے کی آشیرباد حاصل ہے۔ اسی ضمن میں چند سال پہلے کا واقعہ یاد آ گیا۔ ایک صبح اکیلے ویسٹریج راولپنڈی کے ایک اندرون بازار جانے کی ضرورت پیش آئی، اندرون میں چونکہ ایک خاص مذہبی فکر کا طبقہ ہوتا ہے اور ’ستائے‘ جانے کا ذرا زیادہ خطرہ ہوتا ہے تو عبایہ کے ساتھ نقاب بھی پہن لیا۔ گلی میں داخل ہوئی تو دور کاندھے پر سعودی شماغ ڈالے، ٹخنوں سے اونچے پائنچے رکھے، مہندی سے رنگے باریش ایک صاحب مسواک کرتے دکھائی دیے۔ ان کی نگاہیں دور سے ہی جائزہ لیتی محسوس ہوئیں، میرے پاس سے گزرنے تک وہ گردن موڑتے گھورنے کے اس عمل میں مصروف رہے تو میں نے اخلاقاً یاد دلایا ’مولوی صاحب نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے‘ ، تو بغیر ندامت اور شرمندگی سے بڑی بے نیازی سے مسواک تھوکتے ہوئے جھٹ بولے تمھارا پردہ بھی تو ٹھیک نہیں۔
میرے انتہائی حیرت زدہ استفسار پر فرمایا ’تمہاری آنکھیں صاف نظر آ رہی ہیں ان پر بھی پٹی لگاؤ۔‘ اس کے بعد ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ جو میں نے انہیں مختصراور جامع درس دیا وہ تو یاد نہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر فرمانے لگے کہ جاؤ بی بی اپنا کام کرو۔ اس واقعے میں تدبر کے باقی پہلوؤں کو طوالت کے پیش نظر پڑھنے والوں پر چھوڑتی ہوں۔
قرآن میں ’یقنت‘ کا لفظ بھی بہت بار استعمال ہوا ہے۔ اور یہ جب ہی آیا ہے اس سے مراد اللہ کی مکمل فرمانبرداری ہے۔ ظاہر ہے جو اللہ کا فرماں بردار ہے، وہ انصاف بھی کرتا ہے اور تمام رشتوں کو ان کا حق دینے کی بھی کوشش کرتا ہے لہٰذا اسے انسان کی فرمانبرداری سے جوڑنا بہت غیر مناسب ہے۔ رسول اللہﷺ کے لئے بھی اطاعت کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں choice کا option موجود ہے۔ مگر سورۂ نساء میں ہمارے مفسرین نے اسے بھی شوہر کی مکمل فرمانبرداری سے جوڑ دیا ہے۔
جبکہ یہی لفظ سیدہ مریم کے لئے بھی سورہ تحریم کی آخری آیت میں استعمال ہوا ہے جن کا کوئی شوہر نہیں تھا۔ جہاں یہود میں اور بہت سی اخلاقی بیماریاں تھیں وہاں ایک فرعونی حد تک مردانہ برتری کا زعم بھی تھا (یہودیوں کے ایک کٹر طبقے میں اب بھی اس مردانہ احساس برتری میں کوئی خاص کمی نہیں آئی، اور کچھ محققین کا مسلمانوں میں کئی پدر سری اور misogynistic خیالات کا ماخذ بھی ایران اور عراق میں مسلمانوں اور یہود کا اختلاط مانا جاتا ہے ) عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کرنے کا معجزہ اس مردانگی کے زعم پر بھی ایک بہت بڑی زک تھا۔
آدم علیہ سلام کی پیدائش بغیر باپ کے تو بتائی گئی مگر یہ معجزہ یہود نے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر اپنی انا پرستی کی وجہ سے یہود نے اس سب کو اور خود عیسیٰ علیہ سلام کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حسرت ہی رہی کہ کوئی مسلم مفسر یا مبلغ اس طرف بھی توجہ دلائے کہ دیکھو عورت کی عزت کرو، اللہ چاہتا تو صرف عورتوں سے ہی دنیا آباد کر سکتا تھا، دنیا کو آباد تو وہ قادر عورت کے بغیر بھی کر سکتا تھا مگر بہرحال خدا کی حکمت کہ انسانوں کو معجزہ دکھانے کے لئے اس نے مرد کو ہی exclude کرنے کا انتخاب کیا۔ بچہ جننے کے انتہائی تکلیف دہ عمل میں بھی سیدہ مریم تنہا ہوتی ہیں، نہ کوئی قوام مرد ہے نہ ہی کوئی مدد گارعورت جو دلاسا دے۔
اللہ نے اگر عورت کو مرد کا ساتھ دیا ہے تو اس کا مقصد اس کے لئے یہ تخلیق اور تربیت کے مشکل مراحل آسان کرنا ہے، اس پر حکومت کرنا نہیں، عورت کو تخلیق کا مشکل کام دیا گیا ہے اور گو کہ انتہائی مشکل ہی سہی عورت تنہا بچہ پیدا بھی کر سکتی ہے اور پال بھی سکتی ہے۔ اگر آپ سنت رسول کی پیروی کرتے ہوئے اس کے کام میں اس کے لئے آسانی پیدا کریں گے اور اس کے مددگار ہوں گے تو یہ قوام، یعنی ذمہ دار مرد کا فرض ہے۔ قوام کا ترجمہ بھی حاکم یا نگران کیا گیا جو چوکیداری اور حاکمیت کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے نہ کہ احساس ذمہ داری کو۔ قرآن نے میاں بیوی کو لباس کہا ہے، اس رشتے کے لئے اس سے خوبصورت اور کیا استعارہ ہو سکتا ہے، میاں بیوی کے درمیان یہ مودت اس کی رحمت ہے، اور ایک حاکمیت اور برتری رکھنے والا مائنڈ سیٹ چاہے عورت کا ہو یا مرد کا اس خوبصورت رشتے کی خوشبو اور شیرینی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
پھر سورۃ المجادلہ پڑھی تو امید تھی کہ ہاں کسی نے تو لکھا ہو گا کہ مسلمان عورتو دیکھو کس طرح ایک عورت ایک معاشرتی غلط قانون پر آواز اٹھا رہی ہے۔ اگر ہزاروں عورتوں کی طرح یہ ایک عورت بھی معاشرے کے وضع کردہ قانون کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی تو کیا ہو جاتا، یا طلاق کے قانون کے ساتھ ظہار کو بھی ختم کرنے کا حکم دے دیا جا سکتا تھا مگر اس قبیح رسم کو ایک واقعے سے جہاں عورت کو نا انصافی پر آواز اٹھانے کا موقع دیا جاتا ہے، سے منسوب کر کے ختم کرنے میں تدبر کرنے والوں کے لئے حکمت پوشیدہ ہے۔
آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابیہؓ مطالبہ کرتی رہیں جب تک سنی نہ گئیں۔ کسی مفسر نے کہیں نہیں لکھا کہ عورت اپنے جائز حق کے لئے آواز اٹھائے، خاموشی سے ناحق اور ناجائز ظلم سہنا کوئی ثواب اور صبر کے زمرے میں نہیں آتا۔ مگر زیادہ تر تفاسیر میں تمام تر توجہ ظہار کا قانون سمجھانے میں لگائی گئی ہے۔ کوئی سبق اخذ کر کے نہیں دکھایا گیا کہ دیکھو کس طرح سیدہ خولہ بنت ثعلبہؓ اپنے حق کے لئے اٹھیں اور اس بہادری کے عوض سیدنا عمرؓ کے سامنے بھی قابل عزت کہلائیں کہ اللہ نے خود ان کی داد رسی کی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

