قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر
قرآن میں طلاق کے قانون کے کئی مدارج ہیں۔ یک دم رشتہ ختم کرنے کا حکم قرآن کے مزاج کے خلاف جاتا، جو ہر معاملے میں تدریج، سوچ بچار اور مشاورت سے چلنے کا درس دیتا ہے۔ اور اگرچہ ظہار کا قانون ختم کیا گیا جو آن کی آن میں عورت کی بنی بنائی دنیا چھین لیتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانوں میں طلاق کا اطلاق بھی کم و بیش ظہار کی طرح کر دیا گیا جو قبائلی مزاج اور رواج کے زیادہ قریب تھا۔ جہاں تین درجوں کو ایک ہی وقت میں نافذ کر دیا گیا۔ قرآن کا حکم سامنے ہوتے ہوئے بھی کبھی کسی ایک واقعہ اور کبھی لایعنی تاویلات کا انبار لگا کر یکلخت رشتے کو توڑنے کا عمل مقبول عام کیا گیا، اور اس قانون نے کیا بربادی ڈھائی اور ڈھا رہی ہے یہ کسی سے چھپی نہیں۔
چونکہ ہم نے مرد اور عورت کے اختلاط میں discipline سے زیادہ avoidance اور negation کو ترجیح دی ہے، اس لئے مہذب اصولوں اور تہذیب کی کمی اس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ سورۃ القصص میں موسیٰ علیہ السلام کی ہونے والی بیوی اس دور کی ایک ورکنگ وومن تھیں، انھوں نے موسیٰ علیہ سلام کو خود پسند کیا، باپ نے پسندیدگی کو بھانپ لیا۔ پھر ایک بہت چھوٹی سی تفصیل جو میری نظر میں بہت اہم ہے مگر شاید مرد مفسرین نے اسے بہت زیادہ توجہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔
وہ یہ کہ پھر ان کے والد نے دو کے بجائے اسی ایک لڑکی کو بھیجا کہ موسیٰ علیہ السلام کو بلا کر لائے۔ یعنی پہلے بکریاں چرانے دو گئیں مگر موسیٰ علیہ السلام کو بلانے ایک۔ جوان لڑکی کو تنہا بھیجنا ایک جوان اجنبی کو بلانے۔ کیا یہ تفصیل دینی ضروری تھی۔ اس کے بغیر بھی قصہ بیان ہو سکتا تھا۔ مگر کہیں بھی پڑھ لیں مفسرین کی توجہ کا مرکز صرف دو الفاظ ہیں، کہ وہ شرماتی اور لجاتی آئی، شاید سر سے پیر تک پردے میں ملبوس۔
اور پھر اس سب واقعہ کو ایک خاص رنگ دینے کے لئے عجیب و غریب تاویلیں۔ کیا یہ موقع نہیں تھا کہ ہم بتاتے کہ ایک مرد اور عورت کی ملاقات کے لئے مہذب اور حیاء کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی قانون وضع کیے جا سکتے ہیں، ہم یہ بتاتے کہ جب ماں باپ صحیح تربیت کریں تو اولاد پر اعتماد کر سکتے ہیں جیسے یہاں بی بی صفوراً کے والد (جو خیال کیا جاتا ہے کہ شعیب علیہ السلام تھے ) نے کیا۔ ان کی پسند کو اہمیت دیں جیسے شعیب علیہ السلام نے کیا، غیرت کے نام پر اندھے ہو کر قتل و غارت پر نہ اتر آئیں۔
اگر وہ ملنا چاہیں تو انہیں مہذب اور باحیاء طریقے سے ملنے کے اصول بتائیں۔ میرا تجربہ ہے جب آپ اولاد پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ آپ کو مایوس نہیں کرتے اور آپ کے اصولوں کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ مگر ہم نے سب کو بے لگام جانور سمجھ رکھا ہے۔ قرآنی واقعات کو پس پشت ڈال کر رسول اللہ ﷺ کے بعد کی تاریخ (جس کے جھوٹ، سچ ہونے کی کوئی سند نہیں ) پر معاشرتی اصول بنا ڈالے۔ ایک سڑک پر گاڑی، سائیکل، ٹرک، پیدل، گھوڑا گاڑی سب ٹکراؤ سے بچتے ہوئے محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچ سکتے ہیں اگر منزل اور اصول واضح ہوں، یعنی اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنا، ٹکراؤ سے بچنا، فاصلہ رکھنا، سب کا سڑک پر سے گزرنے کے مساوی حق کو تسلیم کرنا۔
کیا ہم اپنی اولاد کو صنفی امتیاز کے بغیر زندگی کی اس سڑک پر باقی لوگوں کے ساتھ چلنے کے آداب نہیں دے سکتے، انہیں خطرے کی علامات سے آگاہ نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے حدود کا تعین اور اس کی پاسداری یقینی نہیں بنا سکتے یا ہمارا خیال کہ ان کو ڈربے میں بند کر کے ہی محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور یہی ایک کارگر ذریعہ ہے۔ اور یہ ڈربہ صرف شادی کے دن ہی کھولا جا سکتا ہے۔ تو یہی طریقہ کار تو جانوروں کو بھی ایک دوسرے کی ایذا سے محفوظ رکھنے کے لئے چڑیا گھر میں بھی استعمال ہوتا ہے تو ہم میں اور ان میں کیا فرق رہ گیا۔
کیا ہر وقت مغرب کے ماڈل سے مقابلہ بازی اور اس کو لعن طعن کر کے خود کو خالی خولی احساس برتری میں مبتلا رکھنے کے بجائے کیا ہم مغرب کو ایک باحیاء اور مہذب ماڈل نہیں دکھا سکتے۔ جہاں اختلاط تہذیب کے دائرے میں بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے اپنے دین اور معاشرے سے بدظن ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ انہیں مغرب کے مقابلے میں کوئی قابل عمل (practical) ماڈل نہیں دیا گیا۔
بات احساس اور انصاف کی ہے، مہذب اقوام سب کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کمزور، معذور، ذہنی پسماندہ، بچے سب کو زندگی کی سڑک پر چلنے کی جگہ دیتی ہیں، کہیں ان کے لئے علیحدہ راستے بنا کر، کہیں محفوظ راستے دے کر، اور کہیں چلنے والے اپنی رفتار آہستہ کر کے دوسروں کے گزرنے کا انتظارکرتے ہیں، نہ کہ جن کو خطرہ ہے، جو کمزور ہیں انہیں گھروں میں قید کر دیں۔ ہمارے بے حسی، نا انصافی اور انسانیت سے عاری ماڈل سے تو ہم خود خوش نہیں ہیں تو کوئی اور قوم اس کو پیروی کے قابل کیسے سمجھے۔
ہماری اسی غیر متوازن مذہبی فکر نے ہمارے مزاج میں تدریجی ترقی اورشخصیت کی تعمیر و تربیت کے لیے ارتقائی منازل طے کرنے کا شعور پیدا کرنے کے بجائے معجزاتی طور پر فوری نتائج اور کامیابی حاصل کرنے کے مائنڈ سیٹ کو زیادہ مقبول عام کیا ہے کیونکہ اس سوچ میں کامیابی کا انحصارعمل سے زیادہ وظائف اور چلوں پر ہے۔
انقلاب چند افراد شروع کرتے ہیں مگر اس کو نتیجہ خیز کرنے کے لئے سب کو حصہ ڈالنا پڑتا۔ تاریخ اقوام نے عورت کو تعلیم سے دور کر کے خود آج کے دور کی ترقی میں تاخیر کی۔ اب عورت تعلیم یافتہ ہو رہی ہے، ظاہر ہے سوچنے سمجھنے والے دماغ دوگنے ہو گئے ہیں تو ترقی کی رفتار بھی تیز ہے۔ پہلے ایک آدھ مادام کیوری ہوتی تھی، اب لاتعداد ہیں۔
دین کے معاملے میں بھی ایک متوازن سوچ کو پروان چڑھانے میں عورت کی تشریح کو بھی اہمیت دینی ہو گی جو اس کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے نہ کہ اسے محض خاموشی اور صبر سے ہر نا انصافی سہنے کا درس دے۔ مرد کی تشریح پر مبنی عورت کے کردار کو خواتین کم و بیش نبھاتی آئی ہیں، اصول مردوں نے وضع تو کیے پر خود ان پر عمل نہیں کیا۔ اب خواتین کے دین کو خود سمجھنے سے نئی تشریحات پیدا ہو رہی ہیں۔ اب مرد کی باری ہے کہ وہ اپنا کردار نبھائے اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرے اور نگاہ کو قابو میں رکھے۔
اب عورت کو دین کی تعلیم بہشتی زیور سے نہیں مل رہی خود قرآن کے مطالعے سے مل رہی ہے اور وہ اس اسلامی معاشرے کے لئے آواز اٹھاتی رہے گی، جہاں صرف اس کی invisibility اور گمنامی کی زندگی کو جنت کا ٹکٹ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اس دارالعمل میں visible ہو کر وقار اورعزت سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ انسان کی حیثیت سے جینے دیا جائے، جہاں اس کی تمام تر کوششوں کا محور محض ملعونین کے ستانے اور ایذا رسانی سے بچنا نہ ہو بلکہ اپنی شخصیت کی تعمیر و ترقی ہو۔ جہاں وہ بے خوف ہو کر خطرے کے بغیر گھر کے باہر قدم رکھ سکے۔ ایسے ’مسلمان‘ معاشرے کا مطالبہ کرتے رہنا اس کا حق ہے۔

