قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر
جب رسول اللہ کی زندگی کا دور پڑھا تو معاشرتی سطح پر گھر سے باہر خواتین کی ایک واضح موجودگی نظر آئی۔ نماز پنجگانہ اور عید کی نمازوں کی ادائیگی کے لے مردوں کے ہمراہ مسجد کے ایک ہی احاطے میں نماز ادا کرتی خواتین، دین خدا کو سمجھنے کے لیے مردوں کے ساتھ پیغمبر خدا ﷺ سے سوال جواب کرتی خواتین، جنگوں میں نرسنگ کرتی اور لڑتی خواتین، اپنے حق کے لے مجادلہ کرتی خواتین۔ رسول اللہ ﷺ کے دور کی تاریخ پڑھنے کے بعد کچھ ایسا ہی خاکہ ابھرا جس میں نامساعد حالات میں بھی مرد و زن کے مہذب میل جول سے پروان چڑھتے ایک معاشرے کی تصویر نظر آئی۔ جہاں مرد و زن کے لئے علیحدہ، علیحدہ قید خانے اور غیر انسانی پابندیاں نہیں بلکہ میل جول کے مہذب اصول وضع کیے گئے۔ اپنے نفس کو تابع رکھنے کے لے سخت احکام دیے گئے تاکہ انسانی اور جنگلی معاشرے میں تفریق کی جا سکے۔
پھر بعد کی تاریخ پڑھی تو ایسا لگا کہ جیسے رسول خدا ﷺ کے رخصت ہونے کے بعد خواتین کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوا جیسا ماں یا باپ کے رخصت ہونے کے بعد یتیموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ذہنوں کو سلانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ ماں باپ کی دور والی زندگی کو اپنا انسانی حق سمجھ کر اس کامطالبہ نہ کریں۔ وجود کو زندہ رکھا جاتا ہے، اس کا پیٹ بھرا جاتا ہے، تن ڈھانکا جاتا ہے۔ مقصد صرف اسے زندہ رکھنا ہوتا ہے نہ کہ ان کی نشوونما اور ذہنی پرورش کرنا تاکہ زمانے کی نظر میں پالنے والا ظالم نہ کہلائے۔
اور پھر اسی طرح خواتین کو صرف زندہ رکھنے کا دور شروع ہوا، اور اسی پر شکرگزاراور اکتفا کرنے کا درس گھول کر پلایا گیا۔ آہستہ آہستہ مسجد، کتاب، منبر، قلم سب پر مرد حضرات قابض ہوتے گئے اور خواتین کو کبھی کے پردے کے حکم کی آڑ میں اور کبھی فتنے کے خوف سے گھروں تک محدود رکھنے کا رواج پکڑنا شروع ہوا۔ پردے کو invisibility سے موسوم کر دیا گیا نہ کہ وقار اور حیاء سے۔ رسول خدا کے دور کی سب آزادیاں سلب کر لی گئیں۔ ہر آزادی یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ یہ پردے سے پہلے کی تھیں۔ جیسے پردے سے پہلے کے سب کام غلط اور ممنوع تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہؓ کے بعد کسی خاتون کو قابل قبول معلمہ کے عہدے کے لیے نہ تیار کیا گیا اور نہ ہی قبول کیا گیا۔
اور پھر اس کا فائدہ یہ ہوا کہ دین کا علم مرد کی وساطت سے عورت تک پہنچنا شروع ہوا۔
اور پھر تفاسیر اور تراجم میں بھی اسی کو زیادہ پرزور طریقہ سے پیش کیا گیا جو مرد کی حاکمیت کے بیانیے کو تقویت دے۔ یہاں تک کہ بعد کے خلفاءؓ کی قائم کردہ معاشرت کو رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ معاشرت پر ترجیح دی گئی کیونکہ وہ قبائلی معاشرت کے لئے زیادہ زود ہضم تھی۔
اب آتے ہیں اس طرز فکر کی طرف جس کا استعمال قرآنی تفاسیر اور ترجمہ میں جانے یا انجانے میں شامل کیا گیا۔ شاید بیان کرنے والے کا مقصد کچھ اور ہو مگر پڑھنے والے نے کچھ اور لیا ہو۔ تمام احتمال موجود ہیں۔ سو مقصد ان کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ اس فوکس اور غیر متوازن emphasis کی طرف توجہ دلانا ہے جو ان مختلف تفاسیر اور تراجم سے پیدا ہوئی۔ اور ایسے بہت سے مقامات ہیں مگر طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں صرف چند کا ذکر کروں گی۔
ایسا لگتا ہے کہ جب کوئی آیت عورت کے بارے میں ہوتی ہے، وہاں کسی ایک لفظ یا چیز پر اتنا فوکس کیا جاتا ہے کہ باقی آیت نظرانداز ہوتی نظر آتی ہے، یا کبھی آیت کو تفصیلی طور پر واضح کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، کوئی ضعیف حدیث اس کی نفی میں لگا دی جاتی ہے یا پردے کی تاویلیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر تاریخ میں کہیں علماء اپنا کردار دیانت داری سے نبھاتے نظر آتے ہیں تو درس سننے والے بہرحال مرد ہی ہیں جو گھر وہی پیغام لے کر جاتے ہیں جو ان کے فائدے کا ہو۔
اور یوں اس جانبدارانہ زاویۂ نظر کی بدولت دنیا میں خداداد اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے ماحول صرف مرد کے لئے سازگار پایا گیا اور ایک مسلمان عورت کی کامیابی محض اپنے جسم کی حفاظت قرار پائی۔ پھر اس بیانیے کی ترویج کے لئے عورت کے لئے گھر سے باہر کی دنیا انتہائی غیرمحفوظ نہ صرف دکھائی گئی بلکہ رکھی بھی گئی، تاکہ وہ باہر نکلنے کے تصور سے ہی گھبرائے۔ حالانکہ ایک سچے مسلمان مرد سے یا ایک مسلم معاشرے میں تو عورت کو اتنا محفوظ ہونا چاہیے کہ وہ غیر مسلم معاشرے کا سوچ کر ہی گھبرائے۔
سورۂ احزاب کی وہ آیات جو خواتین کے پردے کے حکم سے تعبیر کی جاتی ہیں، اصل میں ایک ہدایت بھی ہیں اور ایسے غیر اخلاقی ماحول میں سے گزرنے کی تدبیر بھی ہیں، کوئی معاشرتی اصول نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اب تا ابد ماسک اورمسجد کی صفوں میں فاصلہ مرد و عورت کے لیے لازم کر دیا جائے کہ بہرحال خطرہ تو ہمیشہ رہے گا۔ یہاں ہرگز پردے کی اہمیت سے انکار نہیں بلکہ مقصد اس پرتشدد سوچ اور جبر کے رویے کو اجاگر کرنا ہے جہاں ایک صنف دوسری صنف پر اپنی وضع کردہ تشریحات اور بے جا پابندیوں کو حق اور جائز قرار دیتی ہے۔ قرآن کا اعجاز ہے کہ جہاں معاشرتی اصول کی بات ہو وہاں مرد اور خاتون دونوں مخاطب ہیں جیسے سورۂ نور یا سورۃ النساء میں۔ مگر احزاب کی آن آیات میں تو مرد خود ایذاء رساں گروپ کا حصہ ہیں، تو یہ آیات معاشرتی اصول کیسے بنیں۔ اس کے لیے کچھ تفصیل میں جانا پڑے گا۔
سورۂ احزاب کی آیت نمبر 57، 58 اور 59 میں ا، ذ، ی (کے مادے یعنی اذیت دینا) سے بننے والے الفاظ ہیں یؤذون اور یؤذین۔ آیت 57 میں یہ لفظ اللہ اور رسول کو اذیت دینے والوں کے لیے ہے، آیت 58 میں مومن مرد اور خواتین دونوں کو اذیت دینے والوں کے لئے اور 59 میں صرف خواتین کو اذیت دینے والوں کے لیے۔ ( یہی لفظ اذی حیض کی اذیت اور تکلیف کے لئے بھی استعمال ہوا ہے کہ بے شک درد کسی بھی تخلیقی عمل کا ناگزیر حصہ ہے، مگر ہمارے مترجم حضرات نے لفظ ناپاکی کو استعمال کرنا زیادہ مناسب سمجھا، جو عورت کی تکلیف سے توجہ ہٹا کر اسے کراہت کی طرف لے جاتا ہے۔ )
بہرحال مذکورہ آیات میں یہ ایک ہی گروہ ہے جو ان تمام کے لیے آزار کا باعث ہے، صرف راہ چلتی مسلم مہذب خواتین کے لیے نہیں۔ ان آیات میں ا، ذ، ی سے بننے والے الفاظ اللہ، رسولﷺ، مومن مرد اور خواتین سب کو connect کرتے ہیں بالمقابل اس گروپ کے جو منافق اور شرپسند ہیں اور اپنی لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے یا تو رسول اللہ ﷺ اور مومن مرد اور عورتوں کو ناحق ذہنی اور جسمانی ایذا دیتے ہیں یا اللہ کے ساتھ شرک کرتے اور غلط گمان رکھتے ہیں اور جن کو ملعونین کہا گیا ہے۔
آیت 59 کی تفسیر کچھ یوں کی جاتی ہے کہ سارا emphasis عورت کے پردے پر ڈالا جاتا ہے۔ آیت نمبر 57 اور 58 کو تو تاریخی پس منظر میں بیان کیا جاتا ہے مگر اس آیت 59 کو یک دم ایک عمومی معاشرتی اصول بنا دیا جاتا ہے۔ اور اگلی آیت 60 کو پھر تاریخ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہاں سے ایک غیرمتوازن سوچ پروان چڑھتی نظر آتی ہے۔ جب ہر طرف اخلاقی پستی کی دلدل ہو اور بہتان تراشی اور کردار کشی کا طوفان ہو تو ڈھکنے اور چھپنے کا ہی مشورہ دیا جا سکتا ہے جب تک کہ طوفان اور خطرہ ٹل نہ جانے۔
مگر صد افسوس کہ مسلم معاشرے کے قیام کے بعد بھی ہم نے نہ اس بد اخلاقی کی دلدل کو پاٹا اور نہ ہی باہر نکلنے والی عورت کی کردار کشی اور بہتان تراشی کے طوفان کو کسی صورت ٹلنے دیا۔ اور آج بھی مسلم کے بجائے فخریہ طور پر ملعونین کی معاشرت زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہماری شریعت میں عورت کی کردار کشی کبیرہ گناہ ہے۔ میں نے بہت عالم فاضل مرد اور خواتین کے دروس اور تفاسیر سنی اور پڑھیں، دو، تین گھنٹوں کے خطاب میں بات جلباب کے سائز اور یدنین (جلباب لپیٹنے کے طریقے ) سے آگے نہیں بڑھتی۔
کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ’یؤذین‘ سے مراد کون ہیں۔ آخر کس سے ستائی جانے کا خطرہ ہے۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ تمام مرد برادری کی فطرت میں لباس کی بنیاد پہ عورت کو اذیت دینا ہے اور عورت کا لباس ہی مرد کو یہ تعین کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کسے اذیت دی جائے اور کسے بخش دیا جائے۔ سو عورت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ صرف لباس کے انتخاب کے ذریعہ سے ہی بچ کے رہے۔ یا پھر اگر اکثریت نہیں کچھ چند مرد ایسے ہیں جو راہ چلتی عورت کو ایذا دیتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں زیادہ تعداد والے مومن مرد ان چند ملعونین کو لگام نہیں ڈال سکتے، اور کیا یہ انصاف ہے کہ ان چند ملعونین کو روکنے کے بجائے تمام عورت برادری کو ہمیشہ کے لئے ایک ہی مخصوص لباس کا پابند کر دیا جائے یا گھروں میں مقید رکھا جائے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


