ذیابیطس کے بارے میں چند غلط فہمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا نام ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ہے اور میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ (Endocrinologist) اور ذیابیطس اسپیشلسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجی ہارمون (Hormones) سے متعلق بیماریوں کی تعلیم کو کہتے ہیں۔ ہارمون ایسے کیمیائی اجزاء ہیں جو ایک عضو سے پیدا ہونے کے بعد خون میں سفر کر کے دوسرے اعضاء پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ ذیابیطس چونکہ انسولین کے نظام میں خرابی کے باعث ہو جاتی ہے اور دنیا میں اس کے لاکھوں مریض موجود ہیں یہ ہماری پریکٹس کا ایک بڑا حصہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) کے اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً 500 ملین افراد ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ 2019 میں برٹش میڈیکل جرنل (British medical journal) میں چھپنے والے آرٹیکل [1] کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کی شرح اس ملک میں 11 فیصد ہے۔ انڈیا، بنگلہ دیش اور چین میں بھی جیسے جیسے زندگی آسان ہوتی گئی، ذیابیطس کی شرح بڑھی ہے۔ ذیابیطس کی بیماری کئی پیچیدگیوں کا سبب ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی صحت اور خوشگوار زندگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔

یہ مضمون ایک حالیہ وڈیو کے جواب میں لکھا گیا ہے جو کہ مجھے سائنس کی دنیا کے ایڈمنسٹریٹر قدیر قریشی، میرے کزن مرزا نعیم بیگ اور ہماری مارچ کے مہینے کی اسٹوڈنٹ ڈاکٹر زہرا سہیل نے بھیجی۔ اس وڈیو کا لنک اس مضمون کے آخر میں دیا گیا ہے۔ اس وڈیو کو بنانے والے صاحب نے خود کو سرجن بتایا ہے۔ اس سے زیادہ ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ وڈیو کے کچھ متن کے نیچے جوابات لکھے گئے ہیں۔ ان جوابات کو اینڈوکرنالوجی کلینک میں مارچ کے مہینے میں روٹیشن کرنے والے اسٹوڈنٹ ڈاکٹرز، ڈاکٹر سائے روہت ریڈی، ڈاکٹر منعم سمیع، ڈاکٹر ویرا بومو، ڈاکٹر زہرا سہیل اور ڈاکٹر فریال مرتضیٰ کی مدد کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

ویڈیو: “اسلام علیکم آج کی ویڈیو بہت اہم ہے۔ مجھے اس کو سمجھنے میں تیار کرنے میں تقریباً ایک سال لگ گیا ہے۔ پچھلے سال ”لیکچر فورٹین“ میں میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا لیکن کسی کو میری بات سمجھ ہی نہیں آئی۔ دوبارہ میں نے اس کو سمجھا اس پر غور کیا۔ میں نے سوچا کہ آپ کو بتا دوں۔ ہمارے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بہت اچھی خبر ہے۔ ”

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم : اس پیراگراف کی انالسس سب سے آخر میں کی جائے گی۔ پہلے ہم اس معلومات کا جائزہ لیں گے جن کی بنیاد پر یہ اچھی خبر کا نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

ویڈیو: ”امریکن کالج آف فزیشن ایک ادارہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ڈاکٹرز فزیشنز اس کے ممبر ہیں۔ 145 ملکوں میں اس کی برانچیں ہیں۔ اور اس کے ایک لاکھ باون ہزار ممبرز ہیں۔ یہ بہت بڑا ادارہ ہے اور اس کی بہت ویلیو ہے۔ انہوں نے 2018 میں تجویز پیش کی کہ شوگر ویلیوز کی کلاسیفیکیشن تبدیل کر دی جائے۔ یہ نئی رکمنڈیشنز ایچ اے بی ون سی ہیں۔ وہ کیا ہیں وہ میں بعد میں بتاتا ہوں۔ پہلے میں آپ کو بتاؤں کہ اس کی ہسٹری کیا ہے۔ یہ نیشنل ڈیابیٹیز ڈرگز کا گروپ تھا 1979 سنہ میں امریکہ میں اس ادارے نے یہ ریکمنڈیشنز دی تھی کہ اگر کسی کی 200 ملی گرام سے نیچے ہے تو آپ ڈیبیٹک نہیں یعنی آپ شوگر کے مریض نہیں ہیں۔ موجودہ ادارے مثلاً امریکن ڈیبیٹک ایسوسی ایشن بعد میں بنے ہیں۔ اس کے بعد 1997 میں امریکن ڈیبیٹک ایسوسی ایشن بنی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں 126 سے اوپر جس کی بلڈ شوگر ہو گی فاسٹنگ میں وہ ڈابیٹیز کیریئر ہو گا۔“

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم : امریکن کالج آف فزیشن واقعی ایک بڑا ادارہ ہے اور میڈیسن کی دنیا میں ایک باعزت ادارہ ہے جس کے ہزاروں ممبران ہیں۔ اسپیشلسٹ بننے سے پہلے میں خود بھی اس کی ممبر ہوتی تھی۔ پھر ہر کسی کی اپنی اسپیشلٹی میں ہی کئی ادارے ہیں۔ امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن، امریکن ایسوسی ایشن آف کلینکل اینڈو کرنالوجسٹ، اینڈوکرائن سوسائٹی، امریکن تھائرائڈ ایسوسی ایشن وغیرہ۔ جتنے بھی اداروں کے ممبر بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔ سب کی فیس دینی ہو گی۔

اے سی پی نے 2018 میں یہ تجاویز ضرور پیش کیں کہ چنے ہوئے افراد میں اے ون سی کا ہدف بڑھا کر 7 سے 8 تک کر دیا جائے۔ یہ ہدایت ان لوگوں کو دی جاتی ہے جن کی عمر زیادہ ہو، ان کو پہلے سے ذیابیطس کی کئی پیچیدگیاں لاحق ہوں اور ان میں شوگر نہایت کم ہو جانے کا خطرہ ہو۔ کوئی بھی ایک ہدایت تمام آبادی پر سو فیصد لا گو نہیں کی جا سکتی۔ تمام انسان مختلف ہیں اور ان کی صورت حال بھی مختلف ہے۔ گائڈ لائن سمت دکھانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ ان پر لکیر کے فقیر کی طرح چلنے سے فائدے سے زیادہ نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اور گائڈ لائنز وقت کے ساتھ ہماری معلومات میں اضافے کے ساتھ بدلتی بھی رہتی ہیں۔

یہ رجحان عام ہے کہ جب تک لوگ سخت بیمار نہ پڑ جائیں ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ آپ نے یہ کہاوت سنی ہو گی کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ پرہیز کے لئے بھی ڈاکٹر کو سال میں ایک آدھ مرتبہ دکھا لینا چاہیے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کن چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں بالکل اسی طرح ذیابیطس کے تمام مریض ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں دل کے دورے، فالج، اندھا پن، گردوں کا فیل ہو جانا، نسوں کی بیماری، پیروں میں ناسور جو اکثر پیر کٹنے کا باعث بنتے ہیں شامل ہیں۔

ویڈیو: ”ڈبلیو ایچ او نے 1999 میں اس کو سٹیمپ کر دیا کہ یہ ٹھیک ہے۔ پھر اے ڈی اے نے دوبارہ اس کو ریوائز کیا 2003 میں اور کہا کہ فاسٹنگ شوگر 100 سے نیچے ہونی چاہیے۔ اس کا افیکٹ میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ جب 200 سے 100 پہ آئی ہے تو ایک دن میں 42 کروڑ نئے مریض بن گئے۔ یہ سارا گیم ان کی ہوتی ہے جو مارکیٹ میں کیمپین چلاتے ہیں۔“

ڈاکٹر لبنیٰ اور ٹیم: ذیابیطس کی تشخیص کے لیے شوگر کا ہدف اس لیے کم ہوتا گیا کیونکہ ہم اس کو ابتدائی سطوحات میں پہچاننے اور ناپنے کے لائق ہوئے۔ ابتدائی سطوحات میں ذیابیطس کی کوئی علامات موجود نہیں ہوتیں لیکن وہ ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کرچکی ہوتی ہے۔ اس کے بعد یو کے پی ڈی ایس کی طرح کی بڑی تحقیق سے یہ بھی سمجھ میں آیا کہ کس طرح شوگر کے لیول کا ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے تعلق ہے۔ اسی لیے یہ نمبر بدلتے گئے۔

ذیابیطس کوئی نئی بیماری نہیں ہے بلکہ دنیا میں صدیوں سے موجود ہے۔ انڈیا اور چین کی ہزاروں سال پرانی کتابوں میں ذیابیطس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ذیابیطس کا پرانا ترین کیس مصر میں ملتا ہے۔ 1552 بی سی میں مصری ڈاکٹر ہیسی را نے ایک مریض کا لکھا ہوا ریکارڈ چھوڑا جس میں مریض کو بار بار پیشاب آنے کا ذکر ہے۔ سسروتا نے جن کو انڈیا میں طب کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے، 600 قبل  مسیح میں ایک بیماری تشخیص کی جس کو بعد میں ذیابیطس کہا گیا۔ قدیم ہندوستانی طبیب چرکا نے مدھو میہا یا شہد والا پیشاب آنے والی بیماری کا ذکر کیا۔ اس زمانے میں طبیب چیونٹیاں یا کیڑے بھی ذیابیطس کی بیماری کو تشخیص کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے کیونکہ اس وقت خون کے ٹیسٹ موجود نہیں تھے۔ میٹھا پیشاب چیونٹیوں اور کیڑیوں کو اپنی طرف راغب کرتا تھا اور اس طرح ذیابیطس کی تشخیص کی جاتی تھی۔

سسروتا اور چرکا پہلے طبیب تھے جنہوں نے پہلی اور دوسری قسم کی ذیابیطس میں فرق پہچانا۔ انہوں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریض کم عمر اور دبلے ہوتے تھے اور دوسری قسم کے مریض وزن میں زیادہ ہوتے تھے اور نسبتاً زیادہ عرصے تک زندہ رہتے تھے۔ اس زمانے میں گلوکومیٹر یا خون کے ٹیسٹ وغیرہ اس طرح دستیاب نہیں تھے جیسا کہ اب ہیں۔

کوئی سو سال پہلے ذیابیطس کے مریضوں کا پیشاب چکھ کر ذیابیطس تشخیص کرتے تھے۔ پھر ٹیسٹ اسٹرپ ایجاد ہوئیں جن کو پیشاب میں ڈالیں تو وہ شوگر کی موجودگی میں رنگ بدل لیتی ہیں۔ اس کے بعد گلوکومیٹر ایجاد ہوئے جس سے لوگ اپنے گھر میں خود ہی شوگر کا ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ آج 2021 میں ایسے آلات موجود ہیں جو ہر منٹ شوگر کا لیول بتاتے ہیں۔ اور یہ بھی پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ کس سمت میں جا رہی ہے۔ جیسے جیسے ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور ہمارے پاس مناسب آلات ہوتے ہیں تو اسی لحاظ سے تشخیص اور علاج بھی بدلتے جاتے ہیں۔

ویڈیو: ”یہ یوٹیوب پر ہمارے پاکستان کے بہت بڑے انڈسٹریل ہیں بابر صاحب یہ پیکیجز انڈسٹری کے مالک ہیں۔ ان کا انٹرویو یوٹیوب پر موجود ہے۔ ان کی باجی جگنو محسن نے کیا ہے۔ دو تین قسطوں میں موجود ہے آپ جا کر پڑھ سکتے ہیں وہ کہتے ہیں 70 میں جب میں امریکہ گیا پیکیجنگ انڈسٹری کے لیے دودھ کی ٹیٹرا پیکیجنگ کے لیے تو انہوں نے مجھے کہا کہ جب تک میں اپنے ملک میں ایم بی اے مارکیٹنگ نہیں کرتا میں یہ دودھ نہیں بیچ سکتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں نے آ کر لمز یونی ورسٹی بنائی۔ آپ اندازہ کریں کہ ان کا کام کیا ہے مٹی کو سونا بناتے رہنا ایک رات رات میں وہ نئی ویلیو ریکمنڈ کرتے ہیں اور کروڑوں مریض مل جاتے ہیں جن کے تھرو کروڑوں گولیاں بیچتے ہیں۔ اس کے بعد 2010 میں دوبارہ امریکن ڈیبیٹک سوسائٹی نے نئی گائیڈ لائن دی ابھی تک سب اسی پر چل رہے تھے کہ اگر کھانے کے دو گھنٹے بعد شوگر زیادہ ہے تو آپ کو ڈائیبیٹیز ہے۔ فاسٹنگ 100 سے نیچے ہونی چاہیے اور ایچ بی اے ون سی فائیو پوائنٹ سکس سے سکس پوائنٹ فور پر ہو۔ اس سے اوپر ہوگی سکس پوائنٹ سکس تو آپ کو شوگر ہوگی۔ یہ گیم آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی۔“

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ دنیا کی بڑی فارما کمپنیاں پیسے کمانے کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈتی رہتی ہیں اور انہوں نے ایسے سائنسی پیپر میڈیکل جرنلوں میں چھاپے جن کے مطابق ان کی دوا اچھا کام کرتی تھی۔ مزید تفتیش سے یہ سامنے آیا کہ ان میں کچھ لکھاری ”گھوسٹ رائٹرز“ تھے اور یہ بنائی ہوئی باتیں تھیں۔ سائنس کے مطابق کسی بھی بات کو اسی وقت سچ سمجھا جاتا ہے جب وہ تجربات دہرانے کے بعد ثابت کی جاسکے۔ پچھلے سو سال میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ڈرگ کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے پر کافی کام کیا ہے۔ ہمارے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ ہم ایک مناسب دوا میں اور ایک دھوکے میں فرق سمجھ سکیں۔

ویڈیو: ”اس دوران ایک سائنٹسٹ تھے ڈاکٹر جیراڈ جن کو جیری جیری کہتے تھے۔ یہ 60 سے شروع سے اپنا ایک نظریہ پیش کر رہے تھے کہ ٹائپ ون ڈائیبیٹیز میں انسولین کم ہوتی ہے۔ اور ٹائپ 2 میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے آپ انسولین بنانے والی دوائیاں نا دیں۔ انسولین بھی نا دیں ٹائپ 2 کے مریضوں کو لیکن کوئی بات مان نہیں رہا تھا۔ آخر انہوں نے 1999 میں انسولین ریزسٹنس کی بڑی سٹڈی پیش کی۔ اس سے سارا کچھ ہل گیا۔ تھوڑا سا لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہو گئے کہ انہوں نے کتنے ہزار مریضوں کا فاسٹنگ انسولین لیول چیک کرایا۔ بڑی اسان سی بات تھی۔ آپ کہہ رہے تھے کہ انسولین دینی ہے کم ہے یہ کہہ رہے تھے کہ نہیں اس میں زیادہ ہوتی ہے۔ تو سمپل تھا کہ آپ جا کہ مریض کا فاسٹنگ لیول چیک کر اؤ۔ تو وہ زیادہ آیا انہوں نے بتایا انسولین زیادہ ہے ٹائپ ٹو میں، میری بات یاد رکھیں کہ ٹائپ ون میں تو کم ہوتی ہے۔ اس لیے نہ دیں ٹائپ ٹو یہ انسولین رزسٹنس ہوتی ہے۔ اس لیے نہ دیں کہ یہ کام نہیں کرے گی۔“

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: کسی بھی بیماری کو سمجھنے کے لئے پہلے نارمل نظام کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ تبھی ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کس خرابی کی وجہ سے بیماری کا آغاز ہوا اور اس کو کس طرح سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹھیک نہ بھی کر سکتے ہوں تو یہ سیکھ سکتے ہیں کہ اس کو کس طرح قابو میں رکھنا ہے۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو نشا ستے ٹوٹ کر اپنی سادہ ترین شکل میں آنتوں سے جذب ہو کر خون میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ سادہ ترین کاربوہائڈریٹس (Carbohydrates) گلوکوز (Glucose) کہلاتے ہیں۔ گلوکوز خون میں سفر کر کے تمام خلیات تک پہنچتی ہے جس سے جسم کے تمام خلیوں میں توانائی پیدا کی جائے جس پر زندگی کا دار و مدار ہے۔

خلیات کے اندر داخل ہونے کے لئے گلوکوز (Glucose) کو انسولین (Insulin) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ انسولین ایک چابی ہے جو گلوکوز کے لئے خلیے کا دروازہ کھولتی ہے۔ خلیے کے اندر پہنچ کر گلوکوز توانائی بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر گلوکوز ضرورت سے زیادہ موجود ہو تو یہ گلوکوز ہمارے جسم میں جگر (Liver) اور مسلز (Muscles) یعنی کہ پٹھوں میں (Glycogen) کی صورت میں جمع ہو جاتی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر استعمال کی جا سکے۔

انسولین ایک ہارمون (Hormone) ہے جو لبلبے (Pancreas) میں بنتی ہے۔ جسم میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہو جیسا کہ کھانا کھانے کے بعد تو لبلبے سے انسولین کا اخراج ہوتا ہے تاکہ اس گلوکوز کو خلیوں میں داخل کیا جا سکے۔ اگر انسولین بالکل موجود نہ ہو یا درست طریقے سے کام نہ کرے تو خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھتی چلی جاتی ہے۔ خون میں گلوکوز کے زیادہ ہو جانے سے جسم کے اہم اعضا ء پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اگر خون میں گلوکوز کے لیول کو نارمل نہ کریں تو ذیابیطس اور اس بیماری کی مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خون میں موجود گلوکوز کی سطح نارمل سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انسولین کی کمی واقع ہو یا پھر یہ انسولین صحیح طریقے سے کام نہ کر سکے۔

ذیابیطس کی اقسام

ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں لیکن عموماً یہ دو طرح کی ہوتی ہے۔

1- پہلی قسم کی ذیابیطس (Type 1 diabetes)

2- دوسری قسم کی ذیابیطس (Type 2 diabetes)

پہلی قسم کی ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بالکل بند کر دیتا ہے۔ اس کی وجوہات میں وائرس سے پیدا ہو جانے والی انفیکشن  (Infection) یا پھر جسم کے مدافعتی نظام (Defense mechanism) میں خرابی پیدا ہو جانے سے لبلبے کے خلیوں کا تباہ ہو جانا شامل ہیں۔ ان مریضوں کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس میں جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کو انسولین ریزسٹنس (Insulin resistance) کہتے ہیں۔

ابتدائی سطح میں لبلبہ اس مزاحمت پر قابو پانے کے لیے انسولین کی مقدار میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اگر انسولین کے خلاف مزاحمت میں کمی واقع نہ ہو تو لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیے آہستہ آہستہ تباہ ہونے لگتے ہیں۔ جب تک دوسری قسم کی ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے تب تک لبلبے کے پچاس سے اسی فیصد بیٹا سیل (Beta cells) جو انسولین پیدا کرتے ہیں تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس سطح پر پہنچنے کے بعد اگر دوسری قسم کی ذیابیطس کا علاج شروع کر بھی دیا جائے تو بقایا بیٹا سیل بچائے نہیں جا سکتے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب ذیابیطس کا علاج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ذیابیطس کا علاج جلد سے جلد شروع کرنے سے اس کی طویل عرصے میں ہو جانے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بیماری کی ابتدائی سطوحات میں منہ سے لی جانے والی گولیوں سے علاج ممکن ہے لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ذیابیطس کا کنٹرول کیسا ہے۔ تمام بیٹا سیل ختم ہو جانے کے بعد ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو بھی انسولین سے علاج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسولین کے بغیر انسان زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ بات سمجھنا نہایت اہم ہے کہ دوائیاں نہ کھانے سے نہ صرف یہ کہ بیماری بڑھتی جائے گی بلکہ خون میں گلوکوز کے طویل عرصے تک بڑھے رہنے سے ذیابیطس کی پیچیدگیاں لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

حالانکہ ذیابیطس کے بارے میں انسان ہزاروں سالوں سے جانتے تھے لیکن اس کا کوئی ٹھوس علاج موجود نہیں تھا۔ 2021 انسولین کی دریافت کی سوویں سالگرہ ہے۔ انسولین نے بہت سی جانیں بچائی ہیں۔ انسولین سے علاج سے پہلے ٹائپ ون ذیابیطس کے مریض تشخیص کے 12 مہینے کے اندر چل بستے تھے۔ اس لیے عوام میں یہ خبر پھیلانا کہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا تعلق شوگر کے لیول سے نہیں بلکہ انسولین سے ہے تو یہ درست نہیں ہے۔

ویڈیو: ”دوسرا کیا ہوا ہوا کہ دس کلو ویٹ بڑھ گیا جیسا کہ ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں آپ کو کہ ویٹ بڑھنے سے سارا مسئلہ ہوتا ہے۔ پھر سارے فزیشن سر جوڑ کر بیٹھ گئے چھ سال تک ریویو کرتے رہے 2018 میں انہوں نے یہ گائیڈ لائن دی کہ پچاس ساٹھ سال سے اوپر مریضوں کو دوائی نہ دیں اگر شوگر 250 سے نیچے ہو تو۔ اور ایچ بی اے ای سی 7 سے 8 کے درمیان رکھیں اس کا مطلب 222 ملی گرام شوگر کوئی دوائی نہ دیں صرف لائف اسٹائل چینج کریں۔ یہ رکمنڈیشنز تھی کہ 250 سے نیچے جس کی شوگر ہے اسے ڈیبیٹیز نہیں ہے۔ اس سے عام آدمی کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے۔ اس سے % 70 مریض جنہیں آپ شوگر کا مریض کہہ رہے تھے وہ شوگر کے مریض تھے ہی نہیں راتوں رات وہ نکل گئے لسٹ سے۔ تو دوائیوں کی کمپنی کی سیل % 70 کم ہو جانی تھی۔ اس لیے کسی نے اس کو نہیں مانا۔“

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: ذیابیطس ایک گوشت گھلانے والی بیماری ہے۔ ذیابیطس کے مریض چونکہ انسولین کی غیر موجودگی میں گلوکوز استعمال نہیں کر سکتے، ان کا جسم پٹھے اور چربی گھلا کر توانائی کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ انسولین ایک وزن بڑھانے والا ہارمون ہے۔ اس لیے جب ٹائپ ون ذیابیطس کے مریض انسولین استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کا وزن بھی انسولین استعمال کرنے سے کچھ بڑھتا ہے۔ اسی لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا اور کھانے پینے میں احتیاط کرنا لازمی ہیں۔ دوا شروع کرنا اسی وقت مناسب ہوتا ہے جب زندگی کے طور طریقے بدلنے کے بعد بھی بیماری ٹھیک نہ ہو۔ لیکن انسولین لینا بند کر کے وزن کم کرنا درست نہیں ہوگا۔ ایک درمیانہ راستہ چننا ہوگا جس میں ذیابیطس کا کنٹرول مناسب رہے اور وزن بھی زیادہ نہ بڑھے۔

ویڈیو: ”اگر شوگر 200۔ 250 تک اگر ہے تو کچھ نہیں ہوگا آپ انسولین دے رہے ہیں یا جو دوائیاں دے رہے ہیں وہ ٹاکسک ہیں وہ ڈیمج کر رہی ہیں وہ اندھا پن کاز کر رہی ہیں کارڈیو ویسکولر ڈزیز کر رہی ہیں گردے فیل کر رہی ہیں یہ اب اسٹڈی دیکھیں۔ آپ یہ دیکھیں کہ 1994۔ 97 تک بالکل اتنا نہیں بڑھا اس کے بعد ایک دم آپ دیکھیں یہ شوگر کے مریض نقصان کمپلیکیشنز دلی کی بیماریاں کیسے اوپر گئی ہیں؟ ایک اور اسٹڈی دیکھیں کے ہر 36 سیکنڈز بعد ایک شوگر کا مریض دل کی تکلیف کی وجہ سے مر جاتا ہے ٹوٹل 655000 امریکن ہر سال مر رہے ہیں یعنی ہر چار میں سے ایک مریض یہ 2020 کا ڈیٹا ہے۔ سب سے ٹاپ کلر اس کی دل کی تکلیف ہے امریکا میں دوسرے نمبر پر کینسر ہے۔ اس میں دیکھیں آپ 1997 تک اس کے بعد آپ دیکھیں جونہی انہونے دوائیاں زیادہ شروع کیں 200 سے 100 پر لے کر آئے سب دیکھیں آپ گراف کتنا اوپر جا رہا ہے۔ اس کے بعد اندھا پن سو سال پہلے 1000 میں ایک بندا ہوتا تھا ابھی ہر 3 میں سے ایک بندہ آنکھوں کا مریض ہے اندھا پن آ رہا ہے اس سے آپ اندازہ لگائیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ سب یہ ہی۔ یہ دو اسٹڈیز دیکھیں ہارٹ ڈزیز آپ اس میں دیکھیں امریکا میں ہر تیسرا شخص دل کا مریض ہے۔ کینسر ڈیتھ۔ ہر تیسرا مریض کینسر کا مریض ہے۔“

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: یہ بات مکمل طور پر غلط ہے کہ شوگر کا لیول بڑھنے سے کچھ نقصان نہیں ہوگا یا ذیابیطس کی دوائیں زہریلی ہیں، وہ لوگوں کو اندھا کر رہی ہیں، کارڈیو ویسکولر یعنی کہ دل اور شریانوں کی بیماریاں پیدا کر رہی ہیں یا گردے ناکارہ کر رہی ہیں۔ بلکہ حقیقت اس کے قطعاً برعکس ہے۔ ذیابیطس کے مناسب علاج سے ان سنجیدہ پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ذیابیطس کے علاج کے لیے جو نئی کلاسیں ایجاد ہوئی ہیں جیسا کہ جی ایل پی ریسیپٹر اگونسٹ یا ایس جی ایل ٹی ٹو انہبیٹر۔ ان سے دل اور گردوں کی بیماریوں سے بچاؤ دیکھا گیا ہے۔

ویڈیو: ”سب سے پہلے ویجٹبل آئل۔ جتنے ویجٹبل آئل ہیں کنولا ہے سویا ہے۔ کارن ہے سن فلور ہے وغیرہ وغیرہ یہ سارے ٹاکسک ہیں یہ چھوڑ دیں۔ دوسرا چینی ہے تیسرا میدہ اور بیکری آئٹمز یہ تین ان ساری بیماریوں کی وجہ ہیں۔ یہ ٹی کیمبل ایک بہت بڑے نیوٹریشن سائنٹسٹ ہیں ان کے 300 سے زیادہ پیپرز ہیں یہ بلکیٹن کی جو پانچ سرجریوں کے بعد علاج انہونے کیا تھا ڈائٹ سے۔ یہ کہتے ہیں کہ فوڈ کو میڈیسن بناؤ اور یہ ہی بات میں پچھلے ایک سال سے بول رہا ہوں کیٹو ڈائٹ۔ ”

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: ذیابیطس کا علاج نہایت اہم ہے کیونکہ خون میں گلوکوز کو نارمل رکھنے سے ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ صحت مند غذاؤں سے ذیابیطس کا کنٹرول بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ذیابیطس پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی کئی اہم وجوہات ہیں۔ ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انسان کے زندگی گزارنے کے طور طریقے تبدیل ہو رہے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان پھل جمع کر کے، جانوروں کا شکار کر کے، اور پھر وقت کے ساتھ کاشت کاری کر کے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتا تھا۔ جدید دور کے انسان کے پاس رزق کی فراوانی اور جسمانی مشقت سے بچانے والی مشینوں اور سواریوں کے موجود ہونے سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ذیابیطس اور مٹاپا ان مسائل میں شامل ہیں۔ جدید دور میں پاکستان [2]، بنگلہ دیش [3]، انڈیا [4] اور چین [5] ان ممالک میں شامل ہیں جن میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے قابل قدر اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی ریسرچ کے مطابق برصغیر پاک و ہند کے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ دیگر ایشیائی افراد سے زیادہ ہے۔

حالیہ معلومات کے لحاظ سے ذیابیطس کی تشخیص کئی طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ مندرجہ ذیل ہیں۔

ایک۔ اگر آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار ایک سو چھبیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ( 126 mg/dl) دو مختلف موقعوں پر پائی جائے جو کہ نہار منہ ناشتے سے پہلے چیک کی گئی ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس ہو چکی ہے۔

دو۔ اگر کسی میں ذیابیطس کی علامات موجود ہوں اور ان کے خون میں موجود گلوکوز کی مقدار کسی بھی وقت دو سو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ( 200 mg/dl ) یا اس سے زیادہ ہو تو اس سے بھی ذیابیطس کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

تین۔ ہیموگلوبن اے ون سی (Hemoglobin A 1 c) ٹیسٹ کا نتیجہ اگر ( 5.6 %) یا اس سے زیادہ ہو تو بھی ذیابیطس موجود ہے۔ اے ون سی ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خون میں موجود گلوکوز کی پچھلے تین مہینے میں اوسط مقدار کتنی تھی۔ خون کے سرخ جرثومے گلوکوز کو جذب کر لیتے ہیں اور اے ون سی ٹیسٹ سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ذیابیطس کا کنٹرول کس سمت میں جا رہا ہے اور علاج کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اے ون سی ٹیسٹ ہر تین مہینے میں ایک مرتبہ ضرور کروانا چاہیے اور ہر مریض کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا اے ون سی لیول کتنا ہے۔ اے ون سی کا ٹارگٹ زیادہ تر بالغ مریضوں میں چھ اعشاریہ پانچ سے سات فیصد ( 6.5۔ 7 %) تک ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں اور بوڑھوں میں یہ ہدف آٹھ فیصد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے بچوں اور بوڑھے افراد میں خون میں گلوکوز کی مقدار نہایت کم ہو جائے تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: ہم سب انسان تعصب رکھتے ہیں۔ ہمارے پہلے سے کچھ دماغ میں بیٹھے اعتقادات اور خیالات ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنے عقائد کو ثابت کرنے والی تحقیق کو چن کر اپنا نقطۂ نظر درست دکھانے کی کوشش کریں تو اس کو کانفرمیشن بائس کہتے ہیں۔ ایک کانفرنس میں میں نے ایک مزاحیہ بات سنی تھی جو کہ یوں تھی۔ ”میڈیکل لٹریچر بائبل کی طرح ہے، جو بھی آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ آپ کو مل جائے گا۔“

”I know that I know nothing!“ Socrates

اسلام علیکم آج کی ویڈیو بہت اہم ہے۔ مجھے اس کو سمجھنے میں تیار کرنے میں تقریباً ایک سال لگ گیا ہے۔ پچھلے سال لیکچر فورٹین میں میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا لیکن کسی کو میری بات سمجھ ہینہیں آئی۔ دوبارہ میں نے اس کو سمجھا اس پر غور کیا۔ میں نے سوچا کہ آپ کو بتا دوں۔ ہمارے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بہت اچھی خبر ہے۔ ”

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ٹیم: ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے اور جب مریضوں کو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ذیابیطس ہے تو وہ سخت پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مریض اپنی بیماری کا مقابلہ کرنے کے بجائے ہمت ہار دیتے ہیں۔ یہ لوگ ڈاکٹر کو دکھانے بھی نہیں جاتے کہ معلوم نہیں کیا بری خبر سننے کو ملے گی؟ حالانکہ طوفان آ رہا ہو تو وہ آنکھیں بند کر لینے سے نہیں ٹل جاتا۔ ذیابیطس جب ایک بار ہو تو تمام زندگی کے لیے ہو جاتی ہے اور اس کا ہر روز علاج ضروری ہے۔ آپ سمجھ سکتی ہیں کہ اس سے زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ مریض کی ذہنی اور جذباتی حالت کو نظر انداز نہ کریں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ اپنے ڈاکٹر کے کلینک جانے سے اس لیے گھبراتے تھے کہ ان سے سوالات پوچھے جائیں گے کہ خون میں شوگر کتنی مرتبہ چیک کی؟ اس کا ریکارڈ کدھر ہے؟ خون میں شوگر نہایت زیادہ یا نہایت کم کیسے ہو گئی؟ اور انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ان کے ڈاکٹر اور نرس ان کو مجرم اور ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ مریض کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ صحت فراہم کرنے والے افراد یہ سب سوالات اس لیے پوچھتے ہیں تاکہ ہر مریض کے لیے ایک انفرادی پلان ترتیب کیا جا سکے۔

ذیابیطس کی تشخیص مریض اور ان کے خاندان کے لیے ایک صدمے کا لمحہ ہوتی ہے۔ اکثر افراد یہ سننے کے بعد کہ ان کو ذیابیطس ہے، کچھ بھی آگے سننے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں اس لیے ان کو دوبارہ بلا کر پھر سے یہ بات بتانی ہوگی۔ ذیابیطس کے ہر نئے مریض کو ذیابیطس کی تعلیم کے سینٹر بھیجنا ہمارے کلینک کا بنیادی طریقہ کار ہے۔ ذیابیطس ہوجانے کے بعد مریض کو اپنے کھانے پینے اور زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں تبدیلیاں لانے کے علاوہ اس پیچیدہ بیماری سے ہونے والی اور بیماریوں سے بھی نبٹنا پڑتا ہے۔ ذیابیطس صرف ایک بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا مجموعہ ہے۔

اگر مریضوں کی زندگی میں اور مسائل موجود ہوں تو بھی وہ ذیابیطس اور اس کے علاج پر توجہ نہیں دے پاتے۔ اگر مریضوں کے خاندان میں اور کسی کو ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیاں جیسا کہ دل کے دورے، گردوں کا فیل ہونا، نیوروپیتھی (Neuropathy) ہوجانا، اندھا پن، ہسپتال میں داخلے وغیرہ ہوچکے ہوں تو ذیابیطس تشخیص ہوتے ہی ان کے ذہن میں وہ پرانی باتیں گردش کرتی ہیں اور وہ بے حد پریشان ہو جاتے ہیں حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ذیابیطس کا علاج بہت ترقی کرچکا ہے۔ پہلے زمانے میں سوئیاں بھی بڑی تھیں جن سے تکلیف زیادہ ہوتی تھی۔ انسولین کی ابتدائی اقسام کے سائڈ افیکٹ بھی ہوتے تھے۔ ان باتوں کو دل میں دبا کر علاج نہ کروانے سے بہتر ہے کہ اپنے خوف کو الفاظ میں کہہ دیا جائے تاکہ درست اور بروقت انفارمیشن حاصل کی جاسکے۔ کبھی کبھار مریضوں کے آنسو نکل آتے ہیں اور وہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں تو میں ہمیشہ ان کو ٹشو پیپر دے کر یہی کہتی ہوں کہ بیماری میں میرے بھی آنسو نکل آتے ہیں۔ یہ سن کر وہ کچھ بہتر محسوس کرتے ہیں۔

ذیابیطس کی تشخیص کے بعد مریضوں میں اداسی، بے چینی، بیماری ہوجانے کو تسلیم نہ کر سکنا اور خود کو مجرم محسوس کرنا شامل ہیں۔ اس وقت مریضوں کو اس بات پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے کہ اب آگے کیا کیا جائے۔ ذیابیطس کا موثر علاج کرنے کے لیے اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کبھی کبھار مریض کے فیملی ممبر یا دوست مدد کرنے کی کوشش میں ایک دائرے سے گزر جاتے ہیں۔ وہ اشاروں کنایوں میں ان کے کھانے پینے، وزن یا زندگی گزارنے کے طریقوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اگر کچھ میٹھا کھاتے پیتے دیکھ لیں تو شرمندہ بھی کرتے ہیں۔ کچھ کھلم کھلا ہی سب کے سامنے مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو ذیابیطس کے بالغ مریض کی روک ٹوک سے اجتناب کرنا چاہیے اور جتنا ہو سکے ذیابیطس کے بارے میں خود بھی سیکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ میری امی کے فیس بک پیج پر ایک مٹھائی کے ڈبے کی تصویر لگی ہوئی ہے اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ان میں ایک چننا کتنا مشکل کام ہے؟ یہ دیکھ کر ایک لمحہ کو مجھے شرارت سوجھی کہ میں اپنے بیچ پر فیس پام ایموجی (Facepalm emoji) کے ساتھ لگاؤں جس پر لکھا ہو کہ میری امی کی دیوار سے جن کو ذیابیطس ہے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے۔

آخر میں اینڈوکرنالوجی ٹیم کے خیال میں ذیابیطس کے مریضوں کو مزید تعلیم دینا اور ان کے سوالات اور خدشات کا جواب دینا تمام ڈاکٹرز کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسی طرح ہم ان مریضوں کا بہتر خیال رکھنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔

شکریہ
________________________________

[1] Diabetes Prevalence Survey of Pakistan (DPS-PAK) : prevalence of type 2 diabetes mellitus and prediabetes using HbA1c: a population-based survey from Pakistan

BMJ Open 2019;9:e025300. doi: 10.1136/bmjopen-2018-025300

[2] Wild, S et al, Global Prevalence of Diabetes; Estimates for the year 2000 and projections for 2030 Diabetes Care May 2004 27:1047-1053

[3] Saeed M et al, Diabetes and Impaired Fasting Glycemia in a Rural Population of Bangladesh Diabetes Care April 2003 26:1034-1039

[4] Ramachandran A et al, High Prevalence of Diabetes and Cardiovascular Risk Factors Associated With Urbanization in India Diabetes Care May 2008 31:893-898

[5] Xiuying Qi et al, Prevalence and Correlates of Latent Autoimmune Diabetes in Adults in Tianjin, China: A population-based cross-sectional study Diabetes Care January 2011 34:66-70

[6] Science Ki Dunya Facebook Group

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply