میری کزِٹ آف پسنی ، بلوچستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


22 مئی 1844 کو پنسلونیا کے الگنی نام کے شہر میں میری کزٹ نام کی ایک لڑکی نے آنکھ کھولی، جسے جلد یہ معلوم ہونا تھا کہ وہ وقت سے پہلے جنمی گئی ہیں، اور وہ بھی ایک پدرسری سماج میں۔

کزٹ عورتوں میں تاثراتی مصوری کا سب سے پہلا اور بلند نام ہیں۔ کزٹ نے والد کی ان کے ڈاکٹر بننے کی خواہش کو پس پشت ڈال کر رنگوں کو گلے لگا کر مصوری کے رنگ میں خود کو رنگ دیا۔ امیر خاندان نے اس کے پاؤں میں رسوم و قیود کی بیڑیاں ڈالنے کی کوشش کی تو اس نے مخالفت کے بعد گھر ہی چھوڑ دیا اور پنسلونیا اکیڈمی آف فائن آرٹس میں داخلہ لیا اور ہاسٹلوں میں زندگی گزارنی شروع کر دی۔ لیکن جلد استادوں کی کمزوری کو بھانپ کر اس نے فرانس کا رخ کیا اور پھر ساری زندگی وہی کی ہو رہیں۔

ایمپریشنسٹ مصوری کی ملکہ کا ذکر دراصل اسی ملکہ سے متاثر ساحل بلوچستان کے شہر پسنی کی بیٹی شبینہ محمد سلیم کی اس سے مماثلت کی وجہ سے کر رہا ہوں۔

پدرسری سماج میں رہ کر شبینہ محمد سلیم نے بھی ڈاکٹر اور انجینیئر نہ بن کر کزٹ بننے کی ٹھانی۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہاں پر اس کے دل کے فیصلے میں اس کے والد کی احترام و محبت سے بھرپور ”ہاں“ بھی شامل تھی۔

شبینہ محمد سلیم کو بچپن سے ہی رنگوں سے کھیلنے، مصوری کرنے کا شوق تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”جب سکول کے استادوں سے ناکافی تربیت پا کر میں نے مصوری شروع کی تو اپنے بگڑے اور خراب آرٹ کو دیکھ کر وہ گھنٹوں روتیں اور سارا دن اداس رہتیں بلکہ میں ایک استاد کی تلاش میں تھی ، جب ایک استاد ہاتھ آیا تو وہاں پر بھی پدرسری سماج کے ریت روایت کی ڈر سے استاد اسے اکیلے پڑھانے کو راضی نہ ہوا۔ اپنی لگن اور جنون کو یوں بکھرتے دیکھ کر اس دن بھی وہ خوب روئی“ ۔

شبینہ محمد سلیم کی مصوری میں حقیقی مصوری کی جھلک ہے۔ تصویروں کو کینوس پر یوں اتارتی ہیں کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ آرٹ میں نفاست اور خوبصورتی دونوں اپنے جوبن پہ ہوتی ہیں۔ اس لیے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پہ ان کے بنائے گئے فن پاروں نے ہزاروں لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا۔

2015 میں جماعت ہشتم سے مصوری کے سفر کا آغاز کرنے والی شبینہ محمد سلیم نے اب تک بہت سے اعزازات حاصل کیے ہیں اور کئی نمائشوں میں اپنے فن پاروں کے ساتھ شرکت کر چکی ہیں۔ جن میں نیب کی طرف سے گزشتہ سال رکھا گیا پروگرام بھی شامل ہے۔ شبینہ آرٹ کمپیٹیشن آف ورلڈ دوڈ ڈے، آویرنیس رائزنگ تھری آورز اور اس جیسے متعدد قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔

دو کتابوں کے سرورق بھی بنا چکی ہیں ، جن میں سے ایک حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی سالم رحیم کی تصنیف ”زندگی کا سفر“ ہے۔

شبینہ کہتی ہیں کہ انھوں نے مصور بننے کا فیصلہ اپنے دل سے کیا اور ”میں چاہتی ہوں ہر لڑکی اپنے دل ہی کی آواز سنے، تبھی وہ کچھ بن سکتی ہے“ وہ کہتی ہے کہ ”جب ہم پروں سے اڑ سکتے ہیں تو پیروں سے کیوں چلیں۔“

شبینہ مستقبل میں اپنی مصوری سے سماج میں ہونے والی نا انصافیوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہے اور مصوری ہی سے اپنے شہر اور علاقے کے نام کو قومی سطح پہ بلند دیکھنے کی خواہش مند ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *