کیا آپ سیاہ فام موسیقار شاڈے کے روشن خیال نغموں سے واقف ہیں؟


میری ایک فنکارہ دوست نے پچھلے ہفتے جب مجھ سے پوچھا کہ آپ کی آنکھیں آخری بار کب پرنم ہوئی تھیں تو میں نے کہا پچھلے مہینے کی اس شام جب میں نے سیاہ فام موسیقار SADE کے روشن خیال نغمے سنے تھے۔ میں جذباتی انسان نہیں ہوں لیکن یوٹیوب پر ان کا نغمہ PEARLS سنتے اور وڈیو دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک افریقی عورت کے غم کی شدت سے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ اس نغمے کا ترجمہ کرنا تو مشکل ہے لیکن مفہوم کچھ یوں ہے:

کیا آپ جانتے ہیں کہ
صومالیہ میں ایک ایسی عورت رہتی ہے
جو سڑکوں سے اناج کے دانے جمع کرتی ہے
اس کی قوت ارادی فطرت سے زیادہ مضبوط ہے
کاش میں بھی اس کی طرح دلیر ہوتی
سب پوچھتے ہیں وہ کیسے زندہ رہتی ہے
وہ نہیں جانتے وہ زندہ رہنے کے لیے ہر روز مرتی ہے
پتہ نہیں وہ کس مٹی سے بنی ہے
کاش میں اس کی طرح بہادر ہوتی
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر دعائیں مانگتی ہے
وہ ایسی زندگی گزارتی ہے
جو اس نے نہیں چنی
اس کی زندگی نئے جوتوں کی طرح چبھتی ہے اذیت دیتی ہے
ایسی عورت کو دیکھ کر ہم کیوں بے حس ہو جاتے ہیں
ہمارے دل پتھر کے کیوں ہو جاتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں
صومالیہ میں ایک ایسی عورت رہتی ہے
سورج کی تپش
جس کی ہڈیوں تک کو جلا دیتی ہے
شام کو سورج کا سایہ
اس کے گھر کے راستے کی طرح لمبا ہو جاتا ہے
وہ راستے میں اناج کے دانے جمع کرتی ہے
وہ دانے جو اس کی بیٹی کے لیے موتیوں جیسے ہیں
ایسی عورت کو دیکھ کر ہم بے حس کیوں ہو جاتے ہیں
کیا ہمارے دل پتھر کے ہو گئے ہیں؟

جب میں نے شاڈے کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہا تو پتہ چلا کہ وہ 1959 میں نائجیریا میں پیدا ہوئی تھیں لیکن ابھی چار سال کی ہی تھیں جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ انگلستان چلی آئیں اور انہوں نے ایسکس میں پرورش پائی۔

SADE

انہیں بچپن سے موسیقی ، فیشن اور ماڈلنگ کا بہت شوق تھا۔

1980 کی دہائی میں شاڈے نے نغمے لکھنے اور گانے شروع کیے۔ وہ اپنے پہلے گانے SMOOTH OPERATOR سے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگیں۔ جب انہوں نے اپنا پہلا شو انگلستان کے کلب HEAVEN میں پیش کیا تو انہیں سننے اتنے زیادہ لوگ آئے کہ ایک ہزار لوگوں کو واپس جانا پڑا۔

شاڈے نے اپنے بینڈ کے ساتھ مل کر چھ ہفتوں میں اپنا پہلا البم DIAMOND LIFE ریکارڈ کروایا۔ وہ البم 1984 میں عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنا۔ اس البم کی ساری دنیا میں چالیس لاکھ کاپیاں بکیں اور وہ انگلستان کی 1980 کی دہائی کی مقبول ترین موسیقار بن گئیں۔

شاڈے اور ان کے بینڈ کو اتنی شہرت ملی کہ 1985 میں ان کا دوسرا البم PROMISE مارکٹ میں آیا اور مقبول ہوا۔ اس البم کی وجہ سے شاڈے کے بینڈ کو 1986 کا گرامی ایوارڈ ملا۔

اپنی بین الاقوامی مقبولیت کے باوجود شاڈے 1990 کی دہائی میں موسیقی کی دنیا سے آٹھ سال کے لیے روپوش ہو گئیں اور اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر گئیں۔

جب شاڈے 2000 میں لوٹیں تو اپنے ساتھ ایک اور البم LOVERS ROCK لے کر آئیں۔

اس البم کے بعد شاڈے ایک دفعہ پھر دس برس کے لیے موسیقی کی دنیا سے غائب ہو گئیں اور فن موسیقی کے رازوں کی تلاش میں بہت دور تک نکل گئیں۔

وہ 2010 میں لوٹیں تو اپنے مداحوں اور پرستاروں کے لیے ایک اور البم SOLDIER OF LOVE کا تحفہ لے کر آئیں۔

2011 میں شاڈے نے موسیقی کا ایک اور بین الاقوامی ٹور کیا جو بہت کامیاب رہا۔

شاڈے اپنی زندگی میں نہ صرف تخلیقی حوالے سے بلکہ معاشی حوالے سے بھی کامیاب رہیں۔ 2015 میں ان کے اثاثہ 50 ملین پونڈ تھے۔

شاڈے نے 1989 میں رابرٹ ہسپانوی فلم ڈائرکٹر کارلوس پلیگو سے شادی کی۔ وہ شادی صرف چھ سال رہی اور 1995 میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ان کی ملاقات ایک جیمیکا کے موسیقی کے پروڈیوسر بوب مارگن سے ہوئی ، وہ مارگن کے عشق میں گرفتار ہو گئیں۔ اس محبت سے 1996 میں ان کی ایک بیٹی میکائلہ پیدا ہوئی۔ اس بیٹی نے 2016 میں اعلان کیا کہ وہ ٹرانس جنڈر ہے اور سوشل میڈیا میں اپنی ماں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میکائلہ کی جنسی شناخت کی تبدیلی پر اعتراض کرنے کی بجائے ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی۔

شاڈے متمول اور مشہور ہونے کے باوجود دولت اور شہرت سے بے نیاز فنکارہ ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی محبت کے لیے کئی سال موسیقی کی محبت کو پس پشت ڈال دیا تھا۔

شاڈے کا کہنا ہے کہ آپ میرے بارے میں جو کچھ جاننا چاہتے ہیں وہ سب کچھ میرے نغموں میں چھپا ہوا ہے آپ اسے وہیں تلاش کریں۔ اسی لیے وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور اخباروں اور رسالوں کو انٹرویو نہیں دیتیں۔

شاڈے نے رنگ اور نسل زبان اورمذہب سے بالاتر ہو کر عالمی امن کے لیے ایک گانا لکھا اور بین الاقوامی کنسرٹ میں پیش کیا جس کے چند الفاظ حاضر خدمت ہیں:

EVERY BODY WANTS TO LIVE TOGETHER
WHY CAN ’T WE BE TOGETHER
NO MATER NO MATER WHAT COLOR
YOU ARE STILL MY BROTHER

شاڈے اپنے نغموں کی وجہ سے انگلستان کی عورتوں اور خاص طور پر ساری دنیا کے سیاہ فام انسانوں کے لیے ایک مستند اور معتبر نام بن گئی ہیں۔ ان کی موسیقی سے پچھلی چند دہائیوں کے بہت سے موسیقاروں نے انسپریشن حاصل کی ہے۔

اگر آپ نے شاڈے کے نغمے نہیں سنے تو میرے مشورے سے ایک نغمہ PEARLS سن لیں آپ خود ہی میری طرح ان کے فن اور شخصیت کے گرویدہ ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail