فون کال پر پوزیشن تبدیل کرنے والا بیان چینی وزیر خارجہ کا ہے یا ایرانی آفیشل کا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل مڈل ایسٹ آئی اور رائٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسیوں اور سٹیٹ میڈیا کے حوالے سے یہ ایران اور چین کے 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی خبر دی تو اس میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے منسوب یہ جملہ قابلِ غور تھا: ”ایران دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں آزادانہ طور پر فیصلہ کرتا ہے اور کچھ ممالک کی طرح نہیں ہے جو ایک فون کال سے اپنی پوزیشن تبدیل کرتے ہیں۔“

چینی خاموش سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دوست ممالک سے کسی اختلاف کو وہ میڈیا پر نہیں لاتے۔ سفارت کاری میں ایک بات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر کھڑے ہو کر کسی تیسرے ملک کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بیان بہت اہم تھا جبکہ سی پیک پر امریکی دباؤ اور کام پر جمود کی وجہ سے پہلے ہی باتیں ہو  رہی تھیں۔

اہم سوالات اٹھ کھڑے ہوئے کہ کیا یہ بیان پاکستان کے بارے میں ہے اور چین غیر معمولی طور پر پاکستان کے خلاف میڈیا میں بیان دے رہا ہے؟ حالیہ تاریخ میں پاکستان کی افغانستان کے بارے میں ایک فون کال پر پالیسی تبدیل کرنے کا واقعہ مشہور ہے جب جنرل مشرف نے رات گئے موصول ہونے والی امریکی فون کال پر اپنی دو دہائیوں سے جاری پالیسی یکلخت تبدیل کر لی تھی۔ اس لیے یہی گمان کیا گیا کہ یہ بیان پاکستان کے بارے میں ہے۔

ایران میں صرف ایک سرکاری ادارے اسلامی ریپبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ کو ریڈیو اور ٹی وی نشریات کی اجازت حاصل ہے۔ اس کا ایک ذیلی چینل پریس ٹی وی ہے جو انگریزی میں خبریں نشر کرتا ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس وقت (29 مارچ 2021 دوپہر ڈیڑھ بجے) بھی یہ جملے موجود ہیں۔

Wang said China’s relations with Iran will be “permanent and strategic” and will not be affected by the current situation.

“Iran decides independently on its relations with other countries and is not like some countries that change their position with one phone call,” he said in his meeting with Ali Larijani, an advisor to Leader of the Islamic Revolution Ayatollah Seyyed Ali Khamenei.

یہی جملے رائٹرز اور دیگر عالمی اداروں نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے نقل کیے۔

دوسری طرف ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے اس فقرے کے کچھ حصے کو ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر اور ایران کے چین کے متعلق خصوصی نمائندے علی لاریجانی سے منسوب کرتے ہوئے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دوسرے ممالک سے تعلقات کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرتا ہے۔

Larijani, for his part, said Islamic Republic of Iran decides independently about its relations with other countries.

تہران ٹائمز نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ لاریجانی نے کہا “اسلامی جمہوریہ ایران دوسرے ممالک سے تعلقات کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرتا ہے اور بعض دوسرے ممالک کے برخلاف ایک فون کال پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرتا۔

Pointing to Iran’s foreign policy approach, Larijani said, “The Islamic Republic of Iran decides independently about its relationship with countries and it is not like certain countries to change its position with a telephone call” by a foreign country.

فارسی میڈیا میں بھی یہ بیان علی لاریجانی سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک سرکاری پریس ٹی وی پر اسے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ہی منسوب کیا جا رہا ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا گیا۔

بعض مبصرین کی رائے میں یہ بیان علی لاریجانی کا ہی ہے اور انہوں نے فون کال پر پالیسی تبدیل کرنے والے ملک کے طور پر انڈیا کو نشانہ بنایا ہے جس نے ایران کے ساتھ معاہدوں کے باوجود امریکی دباؤ پر چابہار کی بندرگاہ کے پراجیکٹ کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا تھا۔

اسی بارے میں: ایران کچھ ممالک کی طرح ایک فون کال پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرتا: چینی وزیر خارجہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply