مونا لیزا کی مسکراہٹ والی اداکارہ دیبا


” آپ نے ماشاء اللہ سب ہی ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ذرا یہ بتائیے کہ ان میں کس کے ساتھ کام کرنا مشکل لگا؟“۔

” سب سے مشکل تو حسن طارق صاحب تھے۔ ویسے تو وہ کچھ بھی نہیں کہتے تھے۔ ان کے ساتھ مشکل یہ ہوتی تھی کہ ہم نے سین یا شاٹ ختم کیا اور انہوں نے صرف آہستہ سے ’او کے‘ کہہ دیا۔ ان کا کوئی رد عمل ہی نہیں ملتا تھا۔ ہم سب پریشان رہتے تھے کہ شاٹ بہت اچھا ہوا، بس ٹھیک ہوا یا غلط؟ کم از کم میں تو پریشان ہی رہتی تھی! لیکن حیرت انگیز طور پر پھر وہ بعد میں فون کر کے کہتے کہ دیبا بہت خوبصورت ہوا۔ مزہ آیا۔ مجھے یاد آیا کہ ایک فلم میں تو انہوں نے مجھے توقع سے کہیں بڑھ کر داد دی تھی۔

فلم ”سیتا مریم مارگریٹ“ ( 1978 ) کا شو دیکھنے کے بعد انہوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ دیبا اس فلم کے تمام آرٹسٹوں میں تمہارا قد اونچا ہے۔ یہ تو میرے لئے ایک اعزاز تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ طارق صاحب! آپ سیٹ پر تو بالکل ہی گھاس نہیں ڈالتے؟ ہمیں اپنے کام کا پتا ہی نہیں چلتا کہ کیسا کر رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ وہاں پہ کیا کہنا؟ اچھا ہی کرتے ہو تو ہوتا ہے ”۔

اسی بات کو بڑھاتے ہوئے دیبا نے ہدایت کار نذر الاسلام کے بارے میں بتایا: ”بہت دھیمے لہجے میں کام کرتے تھے۔ اگر شاٹ غلط بھی ہو تو انہیں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ غلط ہوا۔ پاس آ کر کہتے کہ بہت اچھا ہوا ہے میڈم! لیکن اگر ایک مرتبہ اور کر لیں تو! اس سے آرٹسٹوں کا حوصلہ بڑھ جاتا تھا۔ یہ ان کا انداز تھا۔ بہت آرام و اطمینان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ایسا ہی کام ماشاء اللہ سید نور کرتے ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ فلم“ ہوائیں ”( 1996 ) وغیرہ کیں۔ ان کے بھی سمجھانے کا بڑا اچھا طریقہ ہے۔ شریف نیر صاحب بہت اچھے ڈائریکٹر تھے۔ پھر اقبال کاشمیری صاحب، منشی دل صاحب، ایس سلیمان صاحب، انور کمال پاشا صاحب، ایس اے بخاری صاحب، شوکت حسین رضوی صاحب۔ اب کس کس کا نام لوں۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے“۔

فلم ”دوشیزہ“ ( 1962 ) کے فلمساز نے اپنی فلم کے لئے مجھے سائن کیا اور کراچی سے براہ راست فلم بندی کے لئے مری بلوا لیا۔ مجھے کہا گیا کہ میں مذکورہ فلم کے مصنف ریاض شاہد اور ہدایتکار خلیل قیصر سے ملوں۔ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ وہ کتنے بڑے لوگ ہیں۔ ایک جگہ کیمپ آفس قسم کا دفتر تھا۔ ریاض شاہد صاحب کچھ لکھ رہے تھے اور خلیل قیصر صاحب فلم کے کسی منظر سے متعلق بات کر رہے تھے۔ میں پہنچی تو ابتدائی بات چیت کے بعد وہ مجھے غور سے دیکھنے لگے۔

میں بڑی حیران ہوئی کہ یہ مجھے اس طرح سے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ پھر ان دونوں نے مجھے اس فلم کے کردار کے لئے ناموزوں قرار دے دیا۔ فلمساز نے بتایا کہ مجھے تو مسترد کر دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں! مجھے بھجوا دیں۔ میڈم نورجہاں اور اعجاز صاحب برابر ہی کے کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں ان سے ملنے چلی گئی اور کہا کہ واپس جا رہی ہوں۔ میڈم نے پوچھا کیوں جا رہی ہو؟ میں نے کہا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ تم تو آرٹسٹ ہی نہیں لگتی۔

کہنے لگیں کہ میں جا کر دیکھتی ہوں۔ ماشاء اللہ بڑی پیار کرنے والی شخصیت تھیں۔ خلیل قیصر کو مخاطب کر کے کہا کہ بچی آئی ہوئی ہے کیوں اس کا مستقبل خراب کر رہے ہو؟ مجھے اس وقت ریاض شاہد صاحب بہت برے لگے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ انہوں نے مجھے اس کردار کے لئے صحیح ناموزوں قرار دیا تھا۔ خیر مجھے اس کردار کے لئے رکھ لیا گیا۔ جب مجھے شاٹ کے بارے میں سمجھایا جاتا تو میں کہتی کہ ریاض صاحب آپ نہ سمجھائیں۔ وہ بہت ہنستے تھے کہ یہ لڑکی کمال ہے۔ مجھے اس وقت پتا ہی نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا شخص ہے! ”۔

” جب پہلے دن“ دوشیزہ ”کے سیٹ پر گئی تو مجھے رتھ پر تیر کمان لے کر بیٹھنا تھا۔ میں مغرور شہزادی بنی ہوئی تھی۔ نیلو بیگم، علا الدین صاحب، آغا طالش صاحب، اعجاز صاحب، دیگر کاسٹ اور سیٹ پر موجود مختلف شعبوں کے ہنرمند موجود تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ رتھ پر بیٹھ کر تم تیر چلاؤ گی جو اسلم پرویز صاحب کو لگنا ہے۔ اب ایکشن کہا گیا اور رتھ چلنا شروع ہوئی۔ جس مقام پر آ کر میں نے تیر چلانا تھا وہاں میں نے تیر اور کمان دونوں ہی پھینک دیں۔

مجھے کہا گیا کہ اتنا اچھا شاٹ ہو رہا تھا تم نے کیا کر دیا؟ میں نے روتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے ڈانٹ کر جو ایکشن کہا تھا۔ میں نے کہا کہ میں یہ شاٹ نہیں کر سکتی۔ پھر طالش صاحب نے مجھے سمجھایا کہ یوں تیر کمان پکڑنا ہے یوں مکالمہ بولنا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ مجھے پتا لگا کہ اب تو کام سیکھ لو! تو یہ دو ناقابل فراموش واقعات ہیں جو میں ابھی تک نہیں بھولی ہوں۔ بعد میں مدتوں ریاض شاہد صاحب جب بھی ملتے یہی کہتے کہ تم نے جو تیر کمان پھینکا تھا وہ کمال تھا ”۔

” شوٹنگ کے دوران کوئی خطرناک صورت حال پیش آئی؟“۔

” ایک دفعہ میں“ چراغ جلتا رہا ”کی شوٹنگ کر رہی تھی۔ منظر یہ تھا کہ جنگل میں ہم پڑاؤ ڈالتے ہیں اور میرے اوپر سانپ آ جاتا ہے۔ اس سانپ کو میرے جسم کے اوپر چلنا تھا۔ ہم شاٹ لینے لگے۔ سانپ جوں ہی میری جانب بڑھا اور میرے پیروں کے قریب پہنچا تو تو کیمرہ مین کیمرہ چھوڑ کر میرے قریب آیا اور سانپ کو میرے پیروں کے قریب سے ہٹا دیا۔ اسے عین وقت پر پتا چلا تھا کہ اس سانپ کا زہر نہیں نکالا گیا تھا۔ سانپ مجھے ڈس لیتا تو معاملہ گڑ بڑ ہو جاتا۔ سپیرا پیسوں کی لالچ میں زہر سمیت ہی سانپ لے آیا“۔

” دوسرا واقعہ فلم“ دو راہا ”( 1967 ) کی بیرونی فلم بندی کے دوران پیش آیا۔ مجھے پل پر سے جھولے میں بیٹھنا تھا۔ نیچے دریائے نیلم بہہ رہا تھا۔ جس میں بے شمار بڑے بڑے پتھر تھے۔ جھولے سے نکلی تو توازن بگڑا یا میں لڑکھڑائی اور نیچے پتھروں والے دریا میں تقریباً گر ہی گئی تھی۔ بھلا ہو بدر منیر صاحب کا جو اس وقت ریفلیکٹر پکڑے کھڑے تھے۔ انہوں نے فوراً حاضر دماغی کا مظاہرہ کر کے مجھے گرنے سے پہلے ہی تھام لیا ورنہ۔ مجھے دریا میں گر جانا تھا۔ بے ساختہ کیمرے کی جانب سے ایک آواز آئی اب تو تم آرٹسٹ بن گئے“۔

” یہ کس نے کہا کہ اب تو تم آرٹسٹ بن گئے!“۔ میں نے سوال کیا۔

” وہاں پر موجود ہدایتکار پرویز ملک صاحب نے بدر منیر کے لئے یہ جملہ کہا کہ اب تو تم آرٹسٹ بن گئے! دیکھیں کتنا مبارک لمحہ تھا کہ بات پوری ہوئی اور وہ کتنے بڑے فنکار بنے“۔

” فلم“ دوراہا ”کی عکس بندی میں مسرورؔ بھائی بھی کافی متحرک رہے تھے۔ کچھ ان سے متعلق بتائیے“۔

” مسرورؔ انور صاحب کی کیا بات تھی۔ بہت ہی خوش اخلاق، خوبصورت شاعر اور بہترین انسان۔ مجھے ان کی کمی بے حد محسوس ہوتی ہے“۔

” علی سفیان آفاقیؔ صاحب کے ساتھ بھی آپ نے کام کیا ہو گا؟“۔

” آفاقیؔ صاحب کے ساتھ میں نے تین فلمیں کی تھیں۔“ آگ اور آنسو ”( 1976 ) ،“ اجنبی ”( 1975 ) اور“ جاگیر ”( 1975 )۔ ہمارا اکثر سیٹ پر آمنا سامنا ہوتا۔ مجھے آفاقیؔ صاحب کے ساتھ بڑا مزہ آتا تھا۔ ان کے ساتھ بھی بڑے لطیفے ہیں۔ کسی منظر میں رضائی میں ڈورے ڈالنا تھے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ دیبا دیکھو جب شاٹ شروع ہو تو کہنا مجھے ’چوئی سب گئی‘۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کیا بول رہے ہیں کہ ’چوئی سب گئی‘۔ کیا آپ نے نئی طرز کے مکالمے لکھنے شروع کر دیے ہیں؟ اب وہ لوگ کہاں۔ اب تو اسٹوڈیو میں جائیں تو دل ہی نہیں لگتا۔ اب آفاقیؔ صاحب جیسی شخصیت کہاں!“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4