مونا لیزا کی مسکراہٹ والی اداکارہ دیبا


یہ بھی ایک حسن اتفاق ہے کہ دیبا کی جہاں اردو فلمیں کامیاب ہوئیں وہیں اس کی اولین پنجابی فلم ”سجناں دور دیا“ ( 1970 ) نہ صرف کامیاب رہی بلکہ اس فلم میں ان کو اداکاری میں خصوصی نگار ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔ اس فلم کے بارے میں انہوں نے بتایا: ”میں یہ فلم نہیں کرنا چاہ رہی تھی کیوں کہ پنجابی میری زبان نہیں۔ اس کا بولنا ہی میرے لئے مسئلہ تھا لیکن فلمساز، ہدایتکار اور سینیئر ترین ڈی او پی ریاض بخاری بضد تھے کہ آپ یہ فلم ضرور کریں۔ پھر میں نے حامی بھر لی۔ اللہ نے عزت دی اور وہ بے انتہا کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ میری اس فلم کے بعد ہی پھر اردو فلموں کے اداکاروں نے پنجابی فلم میں کام کیا۔ وحید مراد صاحب نے“ مستانہ ماہی ”( 1971 ) بنائی۔ ندیم صاحب نے“ مکھڑا ”( 1988 ) اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا“۔

رقص کی اہمیت ہماری فلموں میں ہمیشہ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ان سے سوال پوچھا : ”جب اول اول آپ کو رقص کرنا پڑا تو کیسا لگا؟“۔

” اوہ ہو! یوں سمجھیں کہ کسی کو تیرنا نہ آتا ہو اور اسے پانی میں دھکا دے دیا جائے۔ اسی طرح میں تو ہاتھ پاؤں مار کر نکل جاتی تھی۔ میں نے نہ ڈانس سیکھا اور نہ ہی کبھی سیکھ سکتی تھی۔ ایک فلم میں بڑی مشکل پڑی جب ایس سلیمان صاحب نے“ آگ اور زندگی ”( 1978 ) میں مجھے طوائف کا کردار ادا کرنے کو کہا۔ میں سیٹ پر بڑی تیار ہو کر پہنچی تو سلیمان صاحب نے مجھے کہا کہ تین توڑے والا میوزک سن لو اس پر تمہیں کلاسیکی رقص کرنا ہے۔

میں نے ہنس کر کہا کہ مجھے کیا پتا کہ تین توڑے کیا ہیں اور دو توڑے کیا! جو ڈانس ڈائریکٹر کہیں گے وہ کر دوں گی۔ وہ رقص اتنا مشکل تھا اف اللہ! گھنٹوں لگ گئے۔ بالآخر وہ کسی نہ کسی طرح ہو ہی گیا۔ میں نے پھر سلیمان صاحب سے کہا کہ آپ نے تو میرا پہلا ہی روزہ اور پہلا ہی فاقہ کروا دیا۔ لیکن مجھے ڈانس کبھی بھی نہیں آیا ”۔

” رقص کے شعبے میں ہمارے ہاں بڑے بڑے نام ہیں جیسے رانی بیگم!“۔ میں نے کہا۔

” اف! رانی بیگم کا تو جواب نہیں ہے۔ بہت خوبصورت ڈانسر تھیں۔ عالیہ بیگم بہت زبردست ڈانسر ہیں۔ پھر پنا بیگم ہیں۔ میری بد قسمتی یہ کہ پنا بیگم کے ساتھ رقص کا ایک گانا آ گیا۔ میں نے کہا کہ پنا بھابھی مجھے تو معاف کر دیں۔ بہرحال ’کٹ ٹو کٹ‘ شاٹ سے کام چل گیا۔

کامیڈی کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا: ”میں نے سب ہی کے ساتھ کامیڈی کردار ادا کیے۔ رنگیلا کے ساتھ بھی کام کیا حالاں کہ ان کے ساتھ کام کرنا خاصا مشکل تھا۔ اس وقت ’ٹائمنگ‘ سیٹ تھی۔ کامیڈی خود بخود ہو جاتی تھی۔ ہیروئن کے پاس ویسے بھی کامیڈی کرنے کی گنجائش تو ہوتی ہی ہے“۔

” آپ کو ایک خطاب دیا گیا تھا ’مونا لیزا کی مسکراہٹ والی‘ اس کی کیا کہانی ہے؟“۔

” ہمارے صحافی تھے اسد جعفری صاحب جو آرٹسٹ بھی بہت اچھے تھے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے میرے بارے میں کوئی مضمون لکھا تھا جس میں مجھے یہ خطاب دیا۔ بس تب سے یہ مونا لیزا ہی ہو گیا“۔ ایک تو کوئی ایسے ہی کہہ دیتا ہے لیکن نہیں! اسد جعفری صاحب کا دیا ہوا مونا لیزا کا یہ خطاب دیبا پر کچھ ایسا جما کہ ان کی شخصیت کا حصہ ہی بن گیا۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ دیبا کی آنکھیں شرارت سے بھرپور ہیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا: ”میں بہت زیادہ شرارتی تو تھی ہی۔ سیٹ پر بھی بڑی شرارتیں کرتی تھی۔ لیکن خطرناک قسم کی شرارتیں کبھی نہیں کیں کہ کسی کو کوئی نقصان پہنچتا“۔

” کس اداکار کے ساتھ آپ کو گانوں کی شوٹنگ اچھی لگی؟“۔

” گانے فلم بند کروانے میں وحید مراد سے بہتر کوئی تھے ہی نہیں! گانے کے معاملے میں اس کی جو کیمسٹری تھی اس سے سامنے والا بھی مطمئن ہو جاتا تھا۔ کیوں کہ کئی ایک جگہ وہ ہماری خامیاں چھپا لیتے تھے۔ اور گانوں ہی کی عکس بندی میں سب سے زیادہ علی بھائی کو مشکل ہوتی تھی۔ خود ہی تنگ ہوتے تھے۔ لیکن پھر کہتے کہ آؤ کوشش کرتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ رومانوی گانا : ’ٹھہرا ہے سماں ہم تم ہیں جہاں۔‘ میں نے ان ہی کے ساتھ فلم“ امبر ”( 1978 ) کے لئے فلم بند کروایا“۔

اداکارہ شمیم آراء سے متعلق دیبا نے بتایا: ”شمیم آراء کے ساتھ مل کر ہم بہت اودھم کرتے تھے حالاں کہ میں نے فلم میں ان کا بچپنا کیا تھا لیکن اداکارہ بننے کے بعد میری سب سے زیادہ دوستی بھی شمیم آراء سے تھی۔ گھروں میں آنا جانا، عید ساتھ منانا، بازاروں میں گھومنا، سیر کرنا، چوڑیاں پہننا۔ اس قسم کے تمام کام شمیم آراء کے ساتھ تھے۔ ہاں اس اودھم میں اکثر بابرہ بھی شریک ہوتی تھی۔ شمیم آراء کے ساتھ میرا بہترین وقت گزرا۔ اب تو ملنے جلنے والے اتنے لوگ ہی نہیں ہیں۔ کبھی کبھار زیبا سے ملاقات ہو جاتی ہے“۔

” ملک سے باہر سب سے پہلے کس فلم کی عکس بندی کے لئے گئیں؟ کیسا محسوس ہوا؟ وہاں کا کوئی خاص واقعہ؟“۔

” سب سے پہلے میں فلمساز و اداکار حبیب صاحب کی فلم“ پردیس ”( 1972 ) کے لئے انگلینڈ گئی تھی۔ مجھے ویسے بھی سفر کا بڑا شوق ہے لہٰذا ملک سے باہر جانا بڑا اچھا لگا۔ وہاں کا سب سے خاص واقعہ یہ ہے اسی فلم کے دوران میں نے کیمرہ مین نعیم رضوی صاحب کے ساتھ شادی کا فیصلہ کیا اور واپس آ کر ہم نے شادی کر لی“۔

” آپ نے سب ہی موسیقاروں کے بنائے ہوئے گیتوں پر اداکاری کی۔ کس موسیقار کے گانوں کو فلم بند کرتے ہوئے مزہ آتا تھا؟“۔

” مجھے اہم اشرف صاحب کے گانوں کو پکچرائز کرانے میں مزہ آتا تھا۔ جیسے فلم“ درد ”( 1969 )۔ اس فلم کے تمام ہی گانے مقبول ہوئے۔ پھر مجھے روبن گھوش صاحب کے گانوں کو پکچرائز کرانا اچھا لگا۔ جیسے فلم“ امبر ”( 1978 ) کا ’ٹھہرا ہے سماں ہم تم ہیں جہاں‘۔ پھر نثار بزمی صاحب کی موسیقی میں فلم“ اجنبی ”( 1975 ) کا یہ گانا ’وہ آ تو جائے مگر انتظار ہی کم ہے‘۔ ناشاد صاحب کے ساتھ فلم“ محبت مر نہیں سکتی ”( 1977 ) کا یہ گیت ’تو میری زندگی ہے تو میری ہر خوشی ہے‘ آج بھی عوام میں مقبول ہے“۔

” کیا شاعری کا بھی شوق رہا؟“۔
” اچھے شاعروں کے اشعار پڑھتی اور پسند کرتی ہوں لیکن شعر کہا نہیں!“۔

” اس زمانے میں ایک بڑی تعداد ڈائریوں میں اپنے پسندیدہ شعر لکھتی تھی۔ کیا آپ نے بھی ڈائری میں شعر لکھے؟“۔

” میرے پاس ویسے ہی شعر و شاعری کا ذخیرہ موجود تھا۔ جیسے گلزار صاحب کے اشعار، منیرؔ نیازی صاحب، فیض احمد فیضؔ اور بہت سے دوسرے شعراء کا کلام“۔

اسٹیج اور تھیٹر کے بارے میں انہوں نے بتایا: ”جی ہاں میں نے تھیٹر کیا ہے۔ ایک تھیٹر میں نے معین اختر صاحب کے ساتھ دس دن کراچی میں کیا تھا۔ اس ڈرامے کا نام یاد نہیں۔ ایک اسٹیج ڈرامہ“ جنم جنم کی میلی چادر ”میں نے لاہور میں افضال احمد کے تماثیل تھیٹر میں کیا۔ یہ اسی تھیٹر میں مسلسل ساڑھے تین سال چلا۔ یہی ڈرامہ میں نے راولپنڈی میں بھی مسلسل آٹھ ماہ کیا تھا“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4