لتا منگیشکر اور استاد سلامت علی خان کی داستان محبت: بات آخر شادی تک کیوں نہ پہنچ سکی؟

طاہر سرور میر - صحافی، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلزار نے کہا کہ لتاجی کی آواز ہمارے عہد کا ثقافتی عجوبہ اورمظہر ہے۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ہم کم از کم ایک بار ان کی آواز نہ سنتے ہوں۔

جاوید اختر نے کہا کہ اس کرہ ارض پر صرف ایک سورج، ایک چاند اور ایک لتا ہے۔ نرگس نے کہا کہ مجھے ان جذباتی گیتوں کو گاتے ہوئے جو لتا منگیشکر کی آواز میں ہوتے ہیں، آنکھوں میں گلیسرین ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہودی مینوہن نے لتا منگیشکر کے بارے میں کہا کہ میں اپنی وائلن پر آپ کی حیرت انگیز گائیکی کو بارِدگر تخلیق کرنے کی صرف کوشش ہی کر سکتا ہوں۔

ایک زمانہ لتا کا مداح تھا اور وہ استاد سلامت علی خاں کی دیوانی تھیں۔ استاد سلامت کو اپنے عہد کا تان سین مانا گیا۔ یہ عشق کے اساطیری جہان کی عظیم داستان ہے کہ سرسوتی دیوی نے سُروں اور تال کے دیوتا سے عشق کیا تھا۔

جی ہاں۔۔۔ لتا منگیشکر نے استاد سلامت علی خاں سے ٹوٹ کر محبت کی اور انھیں شادی کی پیشکش بھی کی تھی لیکن ہر لازوال محبت کی طرح اس کا انجام بھی ناکامی ٹھہرا تھا۔

اس محبت کا آغاز 50 کی دہائی میں ہوا جب لتا منگیشکر اور استاد سلامت علی خاں کے شباب کی ابتدا تھی لیکن وہ دونوں موسیقی کی دنیا میں برگزیدہ اور عجائبات مان لیے گئے تھے۔ لتا منگیشکر کا شعبہ فلم کی پس پردہ موسیقی اور استاد سلامت کا میدان خیال گائیکی، ٹھمری اور کافی کے ساتھ لے کاری تھا۔

دونوں کسب کمال کے لحاظ سے معیار اور معراج کے سنگھاسن پر براجمان تھے۔ شاید اس منزل پر جہاں جمالیاتی تخلیات کے پرندوں اور ہماؤں کے پَر جلتے ہیں۔ حفظ مراتب اور ترتیب کے لحاظ سے شاستریہ سنگیت (کلاسیکی موسیقی) اور فلمی میوزک میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جس طرح مندر کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے والے ایک عام پروہت اور برہمن میں ہوتا ہے۔

لتا منگشیکر مرہٹہ اور برہمن ہونے کے ساتھ انمول گائیکہ ہیں اس لیے اس فرق کو اچھی طرح سمجھتی تھیں۔ انھیں یہ امتیاز اور اعزاز حاصل ہوا کہ وہ پس پردہ گائیکی جیسے کمرشل میوزک میں ’ایکسیلینس‘ کہلائیں اور سرسوتی دیوی مان لی گئیں۔ موسیقی کی اعلیٰ صنف کی رعنائیاں، باریکیاں اور سچائیاں دونوں فنکاروں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئیں۔

استاد سلامت علی خاں اور لتا منگیشکر ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے، دونوں شادی کرنے کے بارے میں فیصلہ بھی کر چکے تھے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

دیوی اور دیوتا کے اس ناکام عشق کو اگر راگ داری اور سنگیت کے ہجوں اور عبارت میں بیان کیا جائے تو خیال گائیکی کی منزل، راستے، سائبان، الاپ، آبوگ، استھائی اور انترہ سب اداس پائے۔

الاپ اور آبوگ راگ کا آغاز اور شکل واضح کرنے کے مراحل ہیں جبکہ استھائی اور انترہ کو مقطع اور مطلع کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب استاد سلامت علی خاں اور استاد نزاکت علی خاں کی جوڑی لاہور سے کلکتہ اور ممبئی پہنچی تھی اور پورے انڈیا میں ان کے یادگار کنسرٹ ہو رہے تھے۔

لتا منگیشکر استاد سلامت کے پہلو میں نظریں جھکائے بیٹھیں ہیں
لتا منگیشکر استاد سلامت کے پہلو میں نظریں جھکائے بیٹھیں ہیں

جب پرتھوی راج کپور نے استاد سلامت اور استاد نزاکت کو سجدہ کیا

دو عظیم فنکاروں کی یہ محبت پچاس کی دہائی میں پروان چڑھی جب انڈین فلم انڈسٹری ابھی بولی وڈ نہیں بنی تھی، اس لیے اس پر کلاسیکی اساتذہ کے ساتھ ساتھ میچور اور مستند فنکاروں کا راج تھا۔

کمرشل ازم کی ضرورت سٹائل اور گلیمر ہوتے ہیں جبکہ کلاسیکی فنکاروں کا امیج دیومالائی اور جادوئی ہوتا ہے۔

پرتھوی راج کپور کو اس وقت انڈین فلم انڈسٹری اور برصغیر کا سب سے قد آور فنکار تسلیم کیا جاتا تھا جنھوں نے اپنے ہاں محفل موسیقی کے اختتام پر استاد سلامت اور استاد نزاکت کی جادوئی پرفارمنس پر انھیں سجدہ کیا تھا۔

دلیپ کمار، راج کپور، بلراج ساہنی، دیو آنند، گرودت، نرگس، مینا کماری، مدھوبالا، موسیقار اعظم نوشاد، ایس ڈی برمن، سلیل چوہدری، مدن موہن، شنکر جے کشن، لکشمی کانت پیارے لال، آر ڈی برمن، ستارہ دیوی، اودھے شنکر، کشور کمار، محمد رفیع، آشا بھوسلے اور لتا منگیشکر سمیت سنگیت اور کتھک سمراٹوں کے سامنے پرتھوی راج کپور نے استاد سلامت استاد نزاکت کی جوڑی کو یہ عزت و احترام دیا تھا۔

پرتھوی راج کپور کے ہاں لتا منگیشکر استاد سلامت علی خاں اور نزاکت علی خاں کو سن رہی ہیں
پرتھوی راج کپور کے ہاں لتا منگیشکر استاد سلامت علی خاں اور نزاکت علی خاں کو سن رہی ہیں

ابتدا اور انجام تک کیا ہوا؟

کلاسکس کے کلاسیکل رومانس کی ابتدا سے لے کر انجام تک کیا ہوا؟ کس طرح ان دو محبت کرنے والے عظیم فنکاروں کی خواہشات کو انڈیا اور پاکستان کے بنتے بگڑتے معاملات کی بھینٹ چڑھایا گیا اور کس طرح استاد سلامت اور لتا کی محبت کو انڈیا اور پاکستان میں رائج روایتی نفرت کی اس دیوار میں چنوا دیا گیا۔

برصغیر کے عظیم فنکاروں کی ناکام محبت کی کہانی سے جڑے عزیز و اقارب،رشتہ داروں اور مشترکہ دوستوں سے بات چیت کی گئی تاکہ ماضی کا یہ گوشہ سامنے لایا جا سکے۔

استاد سلامت کے پوتے گلوکار شجاعت علی خاں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چند سال پہلے جب وہ ممبئی میں تھے تو ان کی ملاقات لتا جی اور آشا بھوسلے سے ہوئی، دونوں مجھے اتنے پیار سے ملیں یوں لگا جیسے میں ان کا بھی پوتا ہوں۔‘

1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے ایک بیان دیا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ لتا منگیشکر لاہور میں کنسرٹ کریں اور اہلیان ِلاہور ان کی ُسریلی آواز سے لطف اندوز ہوں۔‘

اس کے جواب میں لتا منگیشکر نے پاکستانی میڈیا سے کہا تھا کہ ’میرا دل چاہتا ہے میں اُڑ کر لاہور چلی جاؤں۔‘ اپنے اس انٹرویو میں ہی لتاجی نے انکشاف کیا تھا کہ ’استاد سلامت علی خاں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے لاہور لے جائیں گے لیکن انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔‘

استاد سلامت علی خان
استاد سلامت علی خان

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہونہ ہو!

لتا منگیشکر کا یہ انٹرویو پڑھ کر استاد سلامت بہت دن تک اداس رہے۔ شجاعت نے دکھی آواز میں کہا کہ میرے دادا استاد سلامت، لتا جی کا گایا یہ گیت ’لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ ہو‘ گنگناتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔

ایک صحافی نے ان سے پوچھا ’خاں صاحب! آپ نے لتا منگیشکر کا انٹرویو پڑھا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ استاد سلامت انھیں لاہور لے کر نہیں گئے اور انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔‘

استاد سلامت نے کہا کہ ’لتا جی نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ وہ اُڑ کر لاہور پہنچ جائیں۔ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم اُڑ کر ممبئی پہنچیں، کلکتہ پہنچیں اور شام چوراسی بھی پہنچیں، اپنے آبائی گھر دیکھیں اور اس آنگن کو دوبارہ دیکھیں جہاں پیدا ہوئے تھے، کھیلے کودیں لیکن دونوں ملکوں کے بارڈر پر ہر وقت جنگی ماحول بنا رہتا ہے، زمینی راستے بند ہوتے ہیں اور ہوائی راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کھلتے ہیں زیادہ عرصہ بند ہی رہتے ہیں۔ یا بند رہیں تو ہم وہاں جائیں ہی نا، کبھی کبھار چلے جاتے ہیں تو دوستیاں ہو جاتی ہیں، رشتے بن جاتے ہیں، پھر راستے بند ہوتے ہیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔‘

شجاعت نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسووں کو چھپانا چاہا۔ شجاعت نے کہا کہ یوں لگتا تھا جیسے استاد سلامت راگ سوھنی کی ایک اداس تصویر بن گئے تھے۔

راگ سوھنی جس کے اداس صوتی پیراہن سے نوشاد نے پردہ سیمیں پر اداسی کی تاریخ لکھ دی تھی۔

فلم ’مغل اعظم‘ کا وہ سین جس میں کنیز انار کلی (مدھوبالا) اپنا آپ شہزادے سلیم (دلیپ کمار) کو سونپے ہوئے ہے، پھولوں کے بستر پر خوشبو مانند انار کلی شہزادے کی آغوش میں ہے لیکن بچھڑ جانے کے اندیشے سے دونوں اداس ہیں، ماحول اداس ہے اور فضا اداس ہے۔

موسیقار نوشاد نے اس جز وقتی اور ساعتی رومان میں اداسی بھرنے کے لیے راگ سوھنی کا پرچار کیا ہے۔ اپنے عہد کی سریلی، مستند اور محترم آواز استاد بڑے غلام علی خاں نے راگ سوھنی کے الاپ کر کے ان رومانوی مناظر پر دائمی اداسی کا رنگ چڑھا دیا تھا۔

استاد سلامت نے لتا منگیشکر سے شادی سے انکار کیوں کیا؟

اس سوال کے جواب میں استاد سلامت نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ لتا بائی کوئی عام فنکارہ نہیں ہیں۔

’انھیں ہندو سماج میں ایک دیوی مانا جاتا ہے، ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ہندو لتا منگیشکر کو اوتار سمجھتے ہیں۔ اس لیے لتا سے میری شادی ہونا آسان معاملہ نہیں تھا۔ اس وقت مجھے یوں لگا اگر میں نے لتا سے شادی کر لی تو کم از کم یہ ہو سکتا ہے کہ مجھے اور لتا کو ختم کر دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ یہ بھی ممکن تھا کہ پاکستان اور انڈیا میں جنگ ہو جاتی، ایسا ممکن تھا کیونکہ دونوں کے مابین مسائل بھی ہیں اور یہ لڑنے کے بہانے بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔‘

استاد سلامت نے بتایا تھا کہ ’1953 کے بعد ہم دونوں بھائی کئی مرتبہ انڈیا کے دوروں پر جاتے رہے۔ ممبئی میں ہمارا معمول ہوتا کہ ہم اکثر لتا بائی کے مہمان بنتے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم نے لتا منگیشکر کے ہاں قیام کر رکھا تھا۔ لتا بائی نے اپنی تمام تر مصروفیات کینسل کر دی تھیں۔ درجنوں پروڈیوسر اور میوزک ڈائریکٹر اپنی فلموں کے گانوں کے لیے ڈیٹس لینے ان کے گھر آتے لیکن وہ کسی سے مل نہیں رہی تھیں۔‘

استاد سلامت نے کہا کہ ’بڑے بھائی استاد نزاکت جو دنیاوی طور پر مجھ سے زیادہ سمجھدار تھے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے بادل چوہدری کے ہاں شفٹ ہو گئے۔ بادل چوہدری انڈیا میں ہمارے پروموٹر تھے۔ ہم جب انڈیا جاتے تھے تو کلکتہ اور ممبئی میں ان کے گھر میں رہتے تھے۔ ممبئی میں بادل چوہدری کا گھر لتا بائی کے پاس ہی تھا۔ اب یہ ہوا کہ لتا جی صبح اٹھ کر بادل چوہدری کے گھر آ جاتیں اور پھر رات تک میرے ساتھ رہتیں۔ وہ گھر سے نکلتے ہوئے گھونگھٹ اوڑھ لیتی تھیں تاکہ کوئی انھیں پہچان نہ سکے۔‘

لتا
لتا

انڈر ورلڈ اور راج کپور کا کردار

استاد سلامت علی خاں کا کہنا تھا کہ ’دوسری طرف فلموں کا کام رک گیا تھا۔ فلم انڈسٹری کا یہ مسئلہ اس وقت کے انڈر ورلڈ سے بیان ہوا جنھوں نے بادل چوہدری کو پیغام دیا کہ اگر تم اور تمہارے استادوں نے کل تک ممبئی نہ چھوڑا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

بادل چوہدری نے یہ بات بھائی صاحب استاد نزاکت کو بتائی جنھوں نے انڈین فلم انڈسٹری کی سرکردہ شخصیت راج کپور سے یہ معاملہ بیان کیا۔ راج کپور اور ان کے والد محترم پرتھوی راج کپور ہم دونوں بھائیوں کے مداح ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے خیر خواہ بھی تھے۔

راج کپور نے انڈر ورلڈ سے کہا کہ دو روز بعد آر کے سٹوڈیو (راج کپورسٹوڈیو) میں ہماری آخری پرفارمنس ہے اس کے بعد یہ پاکستانی بھائی ممبئی چھوڑ دیں گے۔ لہذا ایسا ہی ہوا آر کے سٹوڈیو میں یاد گار گانا بجانا ہوا اور اگلے روز ہم کلکتہ سے ہوتے ہوئے لاہور واپس آ گئے۔

استاد سلامت علی خاں اور راج کپور
استاد سلامت علی خاں اور راج کپور

بادل چوہدری نے ایک ایک بات بتائی

ان دو عظیم فنکاروں کے رومانس کا ایک اہم کردار بادل چوہدری ہیں جن کا پورا نام بالدھر چوہدری ہے اور وہ کلکتہ میں رہتے ہیں۔ بادل دا کی عمر اس وقت 85 برس سے زائد ہے اور ان کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی یادداشت بھی قابل رشک ہے۔

بادل چوہدری گزشتہ 60 سال کے زائد عرصہ سے ایونٹ مینجمنٹ کے بزنس سے وابستہ ہیں جنھوں نے استاد بڑے غلام علی خاں، استاد سلامت، استاد نزاکت، لتا منگیشکر، محمد رفیع، کشور کمار، پروین سلطانہ، مہدی حسن، جگجیت اور غلام علی سمیت برصغیر کے نامور فنکاروں کے سینکڑوں کامیاب ایونٹ کرائے ہیں۔

بادل چوہدری 15سال تک استاد سلامت کا سایہ بن کر ان کے ساتھ رہے اور استاد نزاکت اور استاد سلامت کے پروموٹر بھی تھے۔ ان کے لتا منگیشکر فیملی سے بھی گہرے مراسم ہیں۔ لگ بھگ آدھی صدی پہلے کی اس ناکام عشقیہ داستان سے متعلق کئے گئے سوال کا جواب بادل چوہدری نے یوں دیا جیسے وہ ’بریکنگ نیوز‘ دے رہے ہوں۔

ٹیلی فون کال پر وہ فر فر یہ ساری کہانی بیان کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ ’استاد سلامت بھگوان کا روپ لے کر دنیا میں آئے تھے۔ ایک تو وہ گوئیے ایسے تھے کہ کوئی ان جیسا دوسرا نہیں تھا۔ صرف آٹھ نو سال کی عمر میں انھوں نے ہروبلب کے میلے میں راگ بسنت بہار گایا تو انھیں پورے برصغیر نے انھیں گویا مان لیا تھا۔‘

’جوانی میں انڈیا آئے تو انھوں نے پہلے سے رائج شاستریہ سنگیت ’ڈیلیٹ‘ کر کے اپنا سنگیت رائج کر دیا۔ کن رسیا تو ایک طرف کلاسیکل میوزک سے وابستہ کلاکار کانوں کو ہاتھ لگانے لگے تھے اور کچھ وہ تھے جو بھائیوں کی اس جوڑی پر فدا ہو گئے تھے اور لتا جی فدا ہونے والوں میں شامل تھیں۔ لتا جی پر تو استاد سلامت کے سنگیت نے ایسا اثر چھوڑا کہ وہ ان کے عشق میں اپنے میگا سٹارڈم کو بھول گئیں تھیں۔‘

لتا جی نے استاد سلامت کو کیا پیشکش کی تھی؟

بادل چوہدری نے بتایا کہ لتا جی نے استاد سلامت سے یہاں تک کہا تھا کہ آپ چھ مہینے پاکستان میں اپنے بیوی بچوں کے پاس رہیں اور چھ ماہ ممبئی میں میرے ساتھ رہیں۔ وہ سارا دن استاد سلامت کا سنگیت سنتی رہتی تھیں، فلمی میوزک سے ان کا دل اٹھ گیا تھا۔

’استاد سلامت شریف انسان تھے اگر ان کے دل میں رتی برابر لالچ بھی ہوتا تو وہ ان سے فوراً شادی کر لیتے۔ لتا جی اور استاد سلامت ممبئی میں میرے گھر میں ملتے تھے جہاں لتا گھنٹوں خاں صاحب کو سنتی تھیں۔ لتا بھی نمبر ون تھیں اور استاد سلامت بھی نمبر ون تھے، دراصل یہ عشق معیار اور کسب ِکمال کا بھی عشق تھا۔‘

استاد سلامت علی خاں اور نزاکت علی خاں یورپی ٹوور پر
استاد سلامت علی خاں اور نزاکت علی خاں یورپی ٹوور پر

ٹیلی گرام میں کیااطلاع دی گئی تھی؟

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ گوئیے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم استاد سلامت کے مداحوں میں شامل تھے لیکن وہ درویش فنکار ہمیں اپنا یار بیلی بھی کہتے تھے۔‘

ان بزرگ کے مطابق استاد سلامت نے بتایا تھا کہ ایک مرتبہ ہم دونوں بھائی (نزاکت اور سلامت) لتا کے ہاں قیام کئے ہوئے تھے، میرا اور لتا کا عشق زوروں پر تھا۔

’اس دن لتا بڑی خوش تھیں انھوں نے اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے کھانے بنائے تھے۔ لتا کی چھوٹی بہن نے انھیں ایک ٹیلی گرام دیا جو میرے لیے تھا اور لاہور سے موصول ہوا تھا۔ لتا نے وہ ٹیلی گرام پڑھا تو اس میں اطلاع تھی کہ میرے ہاں پہلا بیٹا (شرافت علی خاں) پیدا ہوا ہے۔ لتا نے مجھے مبارکباد دی لیکن انھیں اس لمحے یہ احساس بھی ہوا کہ جسے وہ اپنا سمجھ رہی ہیں دراصل وہ کسی اور کا ہے۔‘

استاد سلامت کی اہلیہ رضیہ بیگم، لتا منگیشکر کے بارے میں کیا کہتی تھیں؟

استاد حسین بخش گلو رشتے میں استاد سلامت کے برادرِ نسبتی ہیں اور بذات خود بھی شاندار گوئیے ہیں۔ 80 کی دہائی میں یش چوپڑا کے ہاں ساری انڈسٹری کے ساتھ لتا منگیشکر نے بھی کئی گھنٹے تک مسلسل انھیں سنا تھا۔

استاد گلو نے اس عشق کے متعلق بتایا کہ ’میری بہن رضیہ بیگم جن کا (لقب) جیا تھا اور استاد سلامت نے اس مناسبت سے خیال گائیکی میں اپنا تخلص ’جیارنگ‘ رکھا تھا۔ یہ کلاسیکی موسیقی کی روایت ہے اساتذہ اپنا تخلص بھی رکھتے ہیں جیسے استاد بڑے غلام علی خاں کا تخلص ’سب رنگ‘ تھا۔

’وہ ہمارے خاندان میں میری بہن رضیہ بیگم کے بھی علم میں تھا کہ لتا نے خاں صاحب کو شادی کی پیشکش کی لیکن انھوں نے اپنے گھر اور بچوں کے لیے انکار کر دیا۔ دنیا کی ہر عورت کی طرح میری بہن بھی لتا منگیشکر کی ڈائی ہارڈ فین تھی لیکن لتا اسے بطور سوتن قبول نہیں تھی۔‘

استاد گلو خاں نے کہا کہ ’جب استاد سلامت نے لتا سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تو وہ خاں صاحب سے ناراض ہو گئی تھیں۔ انہی دنوں میرا انڈیا جانا ہوا تو میں نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی شعوری کوشش بھی کی تھی۔‘

ستارہ دیوی
ستارہ دیوی

ہسپتال کا تمام بل لتا منگیشکر نے ادا کیا

دنیائے موسیقی کے نامور استاد اللہ رکھا خاں کے داماد اور ورلڈ فیم طبلہ نواز استاد ذاکر خاں کے بہنوئی ایوب اولیا گزشتہ 50 سال سے لندن میں مقیم ہیں۔ ایوب اولیا شاعر، میوزک میکر اور ایونٹ آرگنائزر ہونے کے ساتھ لتا منگیشکر اور استاد سلامت کے مشترکہ دوستوں میں سے ہیں۔

ایوب اولیا نے کہا کہ ’یہاں ہم نے لندن میں دیکھا کہ استاد سلامت لندن آتے تو لتا جی انھیں ڈھونڈتی رہتی تھیں۔ انھوں نے خاں صاحب کو شادی کی پیشکش بھی کی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’1978 میں میری بیٹی کی سالگرہ کے موقعے پر استاد سلامت نغمہ سرا تھے کہ ان پر فالج کاحملہ ہو گیا۔ اس محفل میں استاد اللہ رکھا خاں، ذاکر خاں، پنڈت روی شنکر سمیت دوسرے لوگ بھی انھیں سن رہے تھے۔ ‘

استاد سلامت کے ایک عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فالج کے بعد بہت دن تک استاد سلامت لندن کے ہسپتال میں زیر علاج رہے جس کے تمام تر اخراجات لتا منگیشکر نے ادا کیے تھے۔‘

’اگر لتا سے میرے والد شادی کرتے تو فخر بھی ہوتا اور دکھ بھی‘

گلوکارہ رفعت سلامت استاد سلامت کی بیٹی ہیں اور سان فرانسسکو میں مقیم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’میری والدہ رضیہ بیگم اور ہم سب بہن بھائی لتا منگیشکر کے مداح تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔‘

رفعت نے کہا کہ ’اگر میرے والد استاد سلامت علی خاں لتا جی سے شادی کرتے تو مجھے تو شاید فخر ہوتا لیکن وہ میری ماں کی سوتن ہوتیں جس کا مجھے دکھ بھی ہوتا۔ اس لیے یہ ایک عجیب احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے مگر بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

رفعت سلامت نے بتایا کہ ’میں اپنے والد اور والدہ کے ساتھ لتا جی سے ملنے ان کے ہاں ممبئی گئی تھی۔ وہاں کیا ہوا؟ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے اسے میں میڈیا میں شیئر نہیں کرنا چاہتی۔‘

لتا جی استاد سلامت کا گانا سن کر خاموش ہوجاتی

نامور گلوکار اور استاد نزاکت علی خاں کے بیٹے اور استاد سلامت علی خاں کے بھتیجے رفاقت علی خاں نے بتایا کہ ’میرے چچا استاد سلامت علی خاں ایک اوتار تھے، یہ ممکن نہیں کہ کوئی انسان صرف ایک جنم میں ریاض اور محنت کے بل بوتے پر اس قدر سنگیت سیکھ لے۔ لتا منگیشکر بھی چونکہ اوتار ہیں اور اعلیٰ پائے کی فنکارہ ہیں اس لیے انھیں یہ ادراک بھی ہے کہ استاد سلامت نے اپنی مختصر زندگی میں موسیقی کے جہان میں کیا معجزے کر دکھائے؟ اس لیے وہ استاد سلامت کے سنگیت کی تاب نہ لاسکیں اور ان کے عشق میں گرفتار ہو گئیں۔‘

رفاقت خاں نے بتایا کہ ’استاد سلامت میرے گرو بھی تھے اور دوست بھی، انھوں نے اپنے اور لتا جی کے بارے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں اور میں خود بھی اس عظیم محبت کے بارے میں ان سے سوال کرتا رہتا تھا۔ کچھ سوالوں کے وہ جواب دے دیتے تھے اور بعض ان سنے کر دیتے تھے۔ استاد سلامت کہتے تھے لتا بائی دنیا کے ہر گوئیے کے ساتھ گانا شروع کر دیتی تھیں لیکن میرا گانا سن کر خاموش ہو جاتی تھیں جو موسیقی کی دنیا کا ایک کرشمہ تھا۔‘

یہ لتا منگیشکر کا نہیں ہمارا نقصان ہے

سخاوت سلامت علی خاں، استاد سلامت کے بیٹے ہیں اور امریکہ کے شہر سیکریمنٹو میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے والد استاد سلامت اور لتا منگیشکر کے رشتے کے بارے میں بتایا کہ ’یہ باہمی احترام اور محبت کا رشتہ تھا، دونوں دنیائے سنگیت کی ایسی ہستیاں اور روحیں ہیں جنھیں اس وقت تک یاد رکھا جائے گا جب تک میلوڈی اور سر تال سے محبت کرنے والے موجود رہیں گے۔‘

سخاوت علی خان نے کہا ’مجھے دکھ ہے کہ استاد سلامت نے لتا جی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انھیں لاہور لے جائیں گے، پاکستان لے جائیں گے لیکن خاں صاحب اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے۔ کاش! لتا جی لاہور آتیں اور زندہ دلان براہ راست انھیں سن پاتے کہ پوتر سنگیت (پاک موسیقی) کی تاثیر کیا ہوتی ہے؟ کاش ایسا ہوتا لتا منگیشکر لاہور کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوسرے شہروں میں آتی جاتی رہتیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’استاد سلامت تو لتا جی سے اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے لیکن ہمیں آس اور امید کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیے اور محبت کو اپنے دل میں پنپنے دینا چاہیے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ لاہور اور پاکستان میں نغمہ سرا ہونے کی منتظر لتا منگیشکر سرسوتی دیوی اب 91 برس کی ہو گئی ہیں۔ وہ اب لاہور اور پاکستان میں گائیں گی نہیں اور یقیناً یہ لتا جی کا نہیں ہم سب کا نقصان ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19510 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp