کتاب، سکرین اور رومانس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر! یہ سلسلہ سن دو ہزار چار پانچ میں شروع ہوا۔ کتابیں تو پہلے بھی لیتا رہتا تھا مگر اپنی لائبریری بنانے کا خیال انہی برسوں میں آیا جن کا اوپر ذکر ہوا۔ میرے ذخیرے کی اولین کتاب ”علی پور کا ایلی“ تھی جو الحمرا میں لگے ایک کتاب میلے سے پچاس فیصد رعایت پر خریدی تھی۔ تھوڑی سی تنخواہ ہوتی تھی اور لاہور میں قیام۔ چنانچہ یوں ہوا کہ مال روڈ پر واقع فیروز سنز کے اس وسیع و عریض شوروم میں، جو اب آگ کی نذر ہو چکا، جاتا اور وہاں گھنٹوں گزارتا۔ شیلفوں کے درمیان کھڑے کھڑے کتابوں کی ورق گردانی کرتا۔ جو کتاب پسند آ جاتی، اس کا پبلشر ذہن نشیں کر لیتا۔ فیروزسنز پر امراء آیا کرتے جو رعایت کا تقاضا نہ کرتے ، سو وہاں زیادہ سے زیادہ رعایت دس فیصد تھی۔

اکثر پبلشرز چونکہ لاہور کے ہی ہوا کرتے ، چنانچہ ان کے ہاں جا دھمکتا، وہ بھلے لوگ اپنی شائع کردہ کتابوں پر چالیس سے پچاس فیصد تک رعایت کر دیتے تھے۔ یوں میری لائبریری دھیرے دھیرے ثروت مند ہوتی رہی۔

سنگ میل پبلی کیشنز والے ذرا سخت لوگ تھے، وہ کم رعایت کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ”زاویہ“ کی پہلی اور دوسری جلد بڑی مشکل سے پچاس فیصد رعایت پر وہاں سے لی۔ اس کے لئے مجھے ڈی جی پی آر کے بک سیکشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا فون کروانا پڑا تھا۔ تب تک مجھے گمان تک نہ تھا کہ مستقبل میں میں بھی کتابیں لکھوں گا اور وہ سنگ میل سے چھپا کریں گی۔

خیر! اس لائبریری میں بھائی شاکر حسین شاکر کی مہربانیوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ رؤف کلاسرا کی طرح میں بھی اس ضمن میں شاکر بھائی کا ممنون احساں رہوں گا۔ پھر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کارڈ نے بھی اس ذخیرہ کو فزوں تر کیا۔ اخبارات کے سنڈے میگزینوں میں چھپنے والے کتابوں کے تعارف پڑھ کر بیشتر کتابیں بذریعہ ڈاک منگوائی گئیں۔ اب بھی سوشل میڈیا کے توسط سے ڈاک کے ذریعے منگواتا رہتا ہوں۔ اور ہاں! انارکلی کے فٹ پاتھوں سے وہ لنڈے کی بیشتر کتابیں بھی تو میری لائبریری کا حصہ ہیں۔

میرا ایک رومانس رہا ہے کہ ایک کمرہ ہو جس کی دیواریں شیلفوں کی اوٹ میں چھپی ہوں اور ان شیلفوں میں سطریں باندھ کے کتابیں رکھی ہوں۔ ایک میز کرسی ہو، کسی نکڑ میں آرام کرسی بھی رکھی ہو تو سبحان اللہ۔ لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز سے نظر بچا کے ایک آدھ صوفہ بھی رکھا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ اسباب ہوں اور روزانہ کچھ وقت میں اس کمرے میں گزارا کروں۔ کبھی لکھنے پڑھنے کا من نہ بھی ہو تو کتابوں کی صحبت میں آنکھیں موند کے بیٹھے رہنا کسی یوگی کے مراقبے سے کم لطف انگیز تو نہ ہو گا۔

روزمرہ کے جھمیلے اور ناگزیر ضروریات یوں پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ میں ایسا کوئی کمرہ ابھی تک نہیں بنا سکا۔ اپنی کتابوں کو ان کا گھر نہیں دے سکا اور وہ بے مکاں یہاں وہاں خوار ہوتی ہیں۔ مختلف الماریوں میں، کارٹنوں میں یا پھر میزوں پر ردے باندھے ایستادہ دھول مٹی کھایا کرتی ہیں۔

سچی بات بتاؤں، ان میں سے اکثر میں نے نہیں پڑھیں۔ اپنی حرص پوری کرنے کو خریدیں ضرور مگر پڑھ نہ پایا۔ اگر ان سب کو پڑھ پاتا تو چھوٹا موٹا وجاہت مسعود ضرور بن گیا ہوتا۔ سوچا کرتا ہوں کہ اگر زندگی ہے تو ریٹائرمنٹ کے بعد کا وقت ان کے ساتھ گزرے گا اور ناخواندہ رہ گئی کتابوں کو خواندگی کا ’شرف‘ بخشوں گا۔

اس لائبریری کا ایک مقصد اور بھی تھا جس کا ذکر کرنا بھول گیا۔ سن دو ہزار پانچ سے اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا تو مجھے ریفرنس کے لئے کتابوں کی ضرورت پڑتی رہتی تھی۔ یوں میں اپنے تئیں ذاتی ریفرنس سیکشن بھی تیار کر رہا تھا۔ تاہم یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں اس قوم کا فرد ہوں جو اپنی کوتاہ علمی کی بناء پر مستقبل بینی کی صلاحیت سے عاری ہے۔

لکھنے پڑھنے والے لوگ نہ صرف اپنے عصر کی تاریخ اپنی تحریروں میں ریکارڈ کرتے ہیں بلکہ اپنے علم و دانش کے بل پر مستقبل کی جھلک بھی دکھایا کرتے ہیں۔ تاہم یہ وہ ملک ہے جہاں کے ہردلعزیز مصنف شریف حسین نے پچھلی صدی کی پچاس کی دہائی میں ”سو سال بعد“ نامی کتاب لکھ کر مستقبل کا منظر دکھایا تو ان کا تخیل سو سال بعد کی منظر کشی کیا خاک کرتا، وہ تو سو برس بعد بھی کسی تصویری آلے کا تصور نہ باندھ سکے۔ سو سال بعد یعنی 2050ء میں بھی خبریں ریڈیو سے سنی اور نشر کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ جب مصنف یہ کتاب لکھ رہے تھے تو دینا میں ٹیلی وژن متعارف ہو کر عوامی استعمال میں آ چکا تھا۔

خیر! میں تو اپنی محدود بصیرت کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس لائبریری کو میں اپنی تحریروں کے لئے ریفرنس کے طور پر جمع کر رہا تھا ، اب مجھے خال ہی ان کو دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گوگل نے میری تلاش اور تازہ ترین اطلاعات تک رسائی ایسی سہل کر دی ہے کہ اب کتابوں کی دھول جھاڑنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

پچھلے دنوں فیس بک پر ایک صاحب انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کا پندرہ سال پرانا سیٹ پینتالیس ہزار روپے میں بیچ رہے تھے۔ کمنٹس میں عرض کیا ”حضور! ان پندرہ برسوں میں دنیا نے جن نئی اطلاعات تک رسائی پائی ہے، ان کی خبر دینے سے آپ کا یہ آدھے لاکھ قیمت اور آدھے من وزن کا انسائیکلوپیڈیا معذور و مجبور ہے۔“ بھلے آدمی تھے غصہ نہیں کیا، لکھا ”آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں“

آپ آج کے انسان کے ظرف کی وسعت تو ملاحظہ کریں۔ اٹھائیس سو برس قبل کے ایرانی بادشاہ جمشید نے دنیا کے حالات دکھانے والے اپنے جام جہاں نما کے غرور میں جامے سے باہر ہو کر خدائی کا دعویٰ کر دیا تھا جبکہ آج کا عام انسان، جام جمشید سے کروڑہا درجے فعال آلہ ہاتھ میں لئے پھرتا ہے، جب جی میں آئے دنیا بھر کے علم کو تصرف میں لاتا ہے، کائنات کے کونے کونے کے مناظر دیکھتا ہے مگر اسے کوئی غرور نہیں۔

خیر! یہ تو جملہ معترضہ تھا، گزارش یہ ہے کہ سکرین نے کاغذ کو پچھاڑ دیا ہے۔ تبدیلی آ کے رہا کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سافٹ کاپی کی حکمرانی کی سرحدیں پھیلتی جائیں گی۔ کتابیں کاغذ اور جلد کی کثافت اتار کر سکرین پر جلوہ دکھایا کریں گی۔

مگر یہ سب جانتے بوجھتے بھی میں ہنوز کتابیں خریدا کرتا ہوں۔ آنے والے دنوں میں کیا ہونا ہے، یہ ان کا مسئلہ ہے جو اس زمانے میں زندگی کریں گے۔ میرے پاس جو بچا کھچا وقت ہے، اس میں مجھے اپنے رومانس میں گم رہنا ہے۔ مجھے تو کاغذ والی کتابیں تسکین دیتی ہیں، محبوب کا لمس پانے جیسی تسکین۔

سو مجھے اب بھی اسی کمرے کے خواب آتے ہیں جس کی دیواروں نے شیلفوں کا پیرہن اوڑھا ہو اور ان شیلفوں میں کتابیں صفیں باندھ کے کھڑی ہوں۔ کمرے میں نئی، پرانی اور کچھ بہت پرانی کتابوں کی ملی جلی مہک ہو اور بیچوں بیچ میری میز کرسی۔

اپسراؤں میں گھرے راجہ اندر جیسی نشست۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *