منیر نیازی: شہر کی فصیلوں میں جڑا ہوا ایک پراسرار داخلی دروازہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں منیر نیازی صاحب کالج کے کسی طالب علم سے ملنے پر آمادہ نہیں تھے، چاہے وہ طالب علم گورنمنٹ کالج، لاہور کا ہی کیوں نہ ہو۔ بہ طور مدیر ’راوی‘ مجھے ان سے ملنا تھا اور ان کی کوئی غزل یا نظم لے کر چھاپنی تھی۔ میں انھیں نیو ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر رکھے کالے رنگ کے پرانے، گھما گھما کر نمبر ڈائل کرنے والے سیٹ سے فون کرتا تو وہ ہر بار طرح دے جاتے ”میری طبیعت ٹھیک نہیں۔“ ایک دن میں نے ان سے پہلا سوال ہی یہی کیا کہ طبیعت دا کیہ حال اے۔ کہنے لگے ”ادھی ٹھیک اے تے ادھی خراب اے۔“ میں نے ان سے کہا کہ تسی تے آئیڈیل صورت حال چ او۔ ( آپ تو آئیڈیل صورت حال میں ہیں ) آگے سے گمبھیر آواز میں گویا ہوئے ”اوہ کس طراں“ ( وہ کس طرح) میں روہانسا سا ہو کر بولا ”ایتھے پوری خراب اے۔“

شاید وہ اس دن بات کرنے کے موڈ میں تھے۔ کہنے لگے ”کاکا، توں لاہور دا نہیں لگدا۔“ (کاکا، تم لاہور کے نہیں لگتے) میں نے بتایا کہ تونسہ شریف سے ہوں۔ ایک لمبی ہوں کی، بیسویں بار پوچھ چکنے کے بعد پھر سے میرا نام پوچھا اور کہنے لگے ”شاہ سلیمان ؒتونسوی کے مزار تے کدی گیا ایں؟ ( شاہ سلیمان ؒتونسوی کے مزار پر کبھی گئے ہو) میں سوال کی نوعیت کو بھانپ نہ سکا اور صرف ’جی‘ کہنے پر اکتفا کیا۔ پوچھنے لگے“ مزار شریف دے بالکل سامنے محل وانگوں اک اچی ماڑی اے ”میں درمیان میں جی، ہوں، ہاں، بالکل وغیرہ ایسے لفظ بول رہا تھا لیکن وہ سب لفظ بے معنی تھے۔ وہ نہ جانے کس سے ہم کلام تھے۔“ مزار تے اس اچی ماڑی نوں ویکھ کے تینوں کی محسوس ہویا؟ ”(مزار اور اس اونچی ماڑی کو دیکھ کر تمھیں کیا محسوس ہوا)

اب میں کدھر جاؤں۔ راوی، نظم، غزل، مدیر، لاہور سب بھول گیا۔ کیا جواب دوں اور کیا کہوں۔ بس اتنا کہہ سکا کہ کوئی گہری بات ہوتی رہتی ہو گی ان کے مابین جو میری سماعت سے ماورا سی ہے۔ پھر فرمانے لگے۔ ”مزار دے نال جڑی ہوئی اک پرانی مسیت اے، اوس مسیت دے سجے تے کھبے پاسے دو حوض نیں وضو کرن لئی۔“ ( مزار سے جڑی ہوئی ایک پرانی مسجد ہے، اس مسجد کے دائیں اور بائیں سمت میں وضو کرنے کے لیے دو حوض ہیں) میں پھر سے جی، ہوں، ہاں، بالکل۔ ”توں کدی اوس ویلے حوض نوں تکیا اے جد اودے پانی اتے مزار دا گنبد تے مسیت دا عکس اک دوجے نال گل بات کر دے نیں“ ( تم نے کبھی اس خاص وقت میں حوض کو دیکھا ہے کہ جب اس کے پانی پر مزار کا گنبد اور مسجد کا عکس ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں)

منیر اس طرح کی پراسراریت اپنے ساتھ لے گئے۔ لاہور کے کئی دروازے ہیں۔ ایک دروازہ پراسراریت کا تھا جو منیر نیازی کے جانے کے بعد بند ہوا۔ اب ہم اس شہر میں گھومتے ہیں لیکن اس کی رمز کی گرہ کھولنے والا رخصت ہوا۔ ہم پہلے ہی بہت ناآسودہ تھے، اب تو جیسے ختم ہو گئے۔ اگلی ملاقات پر انھوں نے جو غزل دی، اس کے کچھ اشعار حافظے میں ہیں جو پیش کرتا ہوں۔

وہ اپنا یار تھا دیر کا، کسی اور شہر میں جا بسا
کوئی شخص اس کے مکان میں کسی اور شہر کا آ بسا
کوئی خواب ایسا بھی ہے یہاں جسے دیکھ سکتے ہوں دیر تک
کسی دائمی شب وصل کا، کسی مستقل غم یار کا
وہ جو اس جہاں سے گزر گئے کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انہی دوستوں سے بھرا ہوا

اگلے دن منیر نیازی سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی جس کے المیہ آغاز کا تذکرہ بعد میں کروں گا۔ میں ان سے پوچھا کہ جس منظر کی کل آپ سے بات ہوئی تھی، لگتا ہے کہ آپ نے خود اس منظر کو دیکھ رکھا ہے۔ کہنے لگے ”ہاں، میں اک واری اوس درگاہ تے گیا سی۔ ویلا کج ایس طراں دا سی کہ حوض دے پانی اتے مزار تے مسیت دوہاں دا عکس جھلملاندا سی۔ پچھے بوہڑ دا پرانا رکھ تے اس دے تھلے پانی نال بھرے ہوئے وڈے وڈے مٹ پئے سن۔ لوکی وضو سازی لئی حوض دے آلے دوالے رکھیاں چوکیاں اتے بیٹھے سن۔ میں اگے ہو کے پانی دی اک ہتھل بک بھری تے ہتھ چ مزار دا گنبد سی۔ دوجے ہتھ مسیت آئی۔ ایہہ منظر مینوں پوری تفصیل تے شدت نال یاد اے تے کسے ویلے نظم بن کے لشکے گا“ (ہاں، میں ایک بار اس درگاہ پر گیا تھا۔ وقت کچھ اس طرح کا تھا کہ حوض کے پانی کی سطح پر مزار اور مسجد دونوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ پیچھے ذرا ہٹ کربرگد کا پرانا درخت تھا جس کے نیچے پانی کے بڑے بڑے مٹکے رکھے ہوئے تھے۔ لوگ وضو کرنے کے لیے حوض کے اطراف میں رکھی ہوئی چوکیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر ایک ہاتھ کی اوک سے پانی بھرا تو اس میں مزار کا گنبد تھا۔ دوسرے ہاتھ مسجد آئی۔ یہ منظر مجھے پوری تفصیل اور شدت کے ساتھ یاد ہے اور کسی وقت نظم بن کر چمکے گا)

سوچتا ہوں کہ شاعرانہ عمل بھی کتنی گہرائی سے پھوٹتا ہے۔ ہمارے لیے تو محض ایک نظم ہوتی ہے، ایک شعر ہوتا ہے لیکن اس کے نہاں خانوں میں کئی گرہ بستہ اسرار ہوتے ہیں جو خود شاعر کے بیان کی گرفت میں بھی اس طور نہیں آتے جس طور وہ انھیں محسوس کرتا ہے۔ مجید امجد نے اسی لیے تو کہہ رکھا ہے کہ وادی فکر کے صحراؤں سے جھومتے محمل سامنے نہ آ سکے، ویرانۂ حیرت طے نہ ہو سکا، دل میں رہی سب دل کی حکایت، بیس برس کی کاوش پیہم کا حاصل اظہار کی حسرت ہی ٹھہرا۔ ڈیرک والکوٹ کو نوبل انعام ملا تو وہاں بھی اس نے یہی کہا کہ جس طور میں محسوس کرتا ہوں، اگر اسے اتنی ہی شدت سے بیان کر پاتا تو آج سے دس گنا زیادہ بڑا شاعر ہوتا۔ یہ تو تخلیق کار کا احساس ہے، ہم پڑھنے والوں پر تو بیان کی گرفت میں آنے والا تجربہ بھی مکمل طور پر آشکار نہیں ہونے پاتا۔ خود منیر نے کہا ہے کہ ہاتھوں کا ربط حرف خفی سے عجیب ہوتا ہے۔

ہم شہروں میں، گلیوں میں، بازاروں میں، چوراہوں پر، سڑکوں پر گھومتے پھرتے رہتے ہیں، آتے جاتے مناظر ہم سے مکالمہ کیوں نہیں کر پاتے، ہماری سماعتیں کہاں رہن رکھ دی گئیں۔ ہر کوئی بھاگ رہا ہے، وقت میں وسعت سمٹ گئی۔ ہمارے کان کس انٹینا سے جڑ چکے۔ ہماری نظروں کا زاویہ کس سمت مڑ چکا۔ شہر ہم سے نالاں کیوں ہوئے۔ گلیارے اور باغیچے ہمیں صدائیں دیتے ہیں۔

منیر ان کی سنتا تھا۔ ہمیں ان سنی دائمی راگنی کی تان سناتا تھا۔ بتاتا تھا کہ ادھر حوض میں سطح آب پر شریعت اور طریقت ہم کلام ہیں۔ ژونگ نے کہا تھا کہ شاعر اور ادیب اجتماعی انسان ہوتا ہے جو اجتماعی شعور کو سر کرتا ہے۔ منیر نے ہمارے اجتماعی شعور کی اس سمت کو سر کیا جو خود شعور کا مخفی حصہ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب بھی اس منظر پر نظم لکھی جائے تو مجھے ضرور آگاہ کیجیے گا تاکہ اپنے شہر زاد کو بتا سکوں کہ شہر کو اس طور بھی دیکھو۔ اس کا انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ جو منظر آپ نے اس درگاہ میں سطح آب پر دیکھا، اگر اسے منصور حلاج دیکھ لیتا تو۔ میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بولے ”اوہدی بک چ درگاہ دا عکس جھلارہ پیا، مسیت اوس دے حوض چ نہیں چمکی۔ کدی کدی ہندا اے ایس طراں جو طریقت تے شریعت حوض دے پانی اتے اک مک ہوون تے آپس چ گل بات کرن۔” (اس کی اوک میں درگاہ کا عکس جھلملایا، مسجد اس کے حوض میں نہیں چمکی۔ کبھی کبھار اس طرح ہوتا ہے کہ شریعت اور طریقت ایک ہو کر آپس میں بات کر سکیں)

اس جملے کے بعد وہ بہت دیر تک خاموش رہے۔ لگتا تھا کہ میں ایسے منیر نیازی کو دیکھ رہا ہوں جس کی کسی کوئی انجانی جہت سے ہم واقف نہیں۔ شکیل احمد طاہری کا ان سے بہت ربط ضبط رہا۔ شکیل کہتا رہتا ہے کہ منیر کو اہم نے ایک خاص زاویے نہیں پہچانا، ان کی کاوش بھی یہی تھی کہ کوئی انھیں اس سمت میں نہ دیکھے۔ میں دیکھ تو رہا تھا لیکن سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ بہت دیر خاموش رہنے کے بعد بولے ”اچھا، ہن کاغذ پنسل کڈھ لے تے غزل، نظم جو وی لکھنا ای، لکھ لے تے بوہتیاں گلاں نہ کر۔“

میں ان سے پوچھ نہ سکا کہ کیا مولانا رومی نے اس یک جائی کو پا لیا تھا، شمس تبریز کے آنے سے رومی کا حوض دونوں عکس کی یک جائی کو پا لینے میں کامیاب ٹھہرا، یہ کاوش تھی، کرم تھا، اتفاق تھا، مشیت تھی، کیا تھا؟ حلاج کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا لازم ہے کہ زندگی کے اس حوض پر درگاہ اور مسجد دونوں کا عکس جھلملائے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خالد محمود سنجرانی کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *