آزادی رائے پر قدغن کی خواہش کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک میں ریاست اور سماج کے درمیان بنیادی رشتہ آئین کا ہوتا ہے آئین سے مراد ایک ایسا عمرانی معاہدہ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان نہ صرف تعلق کو بیان کرتا ہے بلکہ ان میں ایک دوسرے پر فرائض و ذمہ داریاں بھی متعین کرتا ہے۔ ریاست سماج کا تحفظ کرے کی اور سماج ریاست کو مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

دنیا کے تمام جمہوری ممالک نے آئین میں اپنے باسیوں کو بنیادی انسانی حقوق دیے ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے بھی اس میں اپنے شہریوں کے لئے بنیادی انسانی حقوق دیے ہیں۔ ویسے تو آئین پاکستان میں بنیادی حقوق آرٹیکل 8 سے لے کر آرٹیکل 28 تک ہیں لیکن یہاں پر میں ان آرٹیکلز کو بیان کروں گا جو ہمارے موضوع یعنی آزادی رائے سے مطابقت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک بل پاس کی ہے جس کا بنیادی متن ”تعزیرات پاکستان 1860 ء کی دفعہ 500 میں ترمیم کر کے اس میں دفعہ 500 الف کا اضافہ کر دیا۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ جو بھی افواج پاکستان کی تمسخر اڑائے گا یا اسے بدنام کرے گا تو اسے 2 سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں

پی ٹی آئی کے رکن امجد علی خان نے یہ بل کمیٹی میں پیش کیا تھا جس پر کمیٹی کے اندر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے اراکین نے شدید مخالفت کی۔ بل کی مخالفت میں 4 اراکین نے ووٹ دیے اور 4 اراکین نے بل کے حق میں ووٹ دیے لیکن جب کمیٹی کے چیئرمین پی ٹی آئی کے راجہ خرم نواز نے بل کے حق میں ووٹ دیا تو اسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مخالفت کے باوجود پاس کیا گیا۔ یہ بل بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کے خلاف ہے کیونکہ آئین پاکستان کا آرٹیکل انیس تمام شہریوں کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل چار کہتا ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ جبکہ موجودہ بل شہریوں سے آزادی اظہار رائے کا حق چھینتا ہے اور انہیں کسی ادارے کی کارگردگی پر بحث کرنے سے روکتا ہے جبکہ دوسری طرف آئین پاکستان کا آرٹیکل آٹھ کہتا ہے کہ اگر کوئی قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جائے گا۔

تعزیرات پاکستان میں پہلے ہی سے دفعہ 500 موجود ہے جو کہ تمام شہریوں کے لئے ہے۔ اس دفعہ میں لکھا ہے کہ کوئی بھی جو کسی کی بد نامی یا رسوائی کرے گا تو اسے دو سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر کسی کی عزت کو بدنامی اور رسوائی سے بچانا مقصود تھا تو بدنامی اور رسوائی کا قانون پہلے ہی سے تعزیرات پاکستان میں موجود ہے۔ اس بل کا بنیادی مقصد ایک ادارے کو ملک کے دوسرے تمام اداروں اور تمام سویلین پر اسے برتر ثابت کرنا ہے۔ پہلے ہی دن سے تمام پاکستانیوں نے ریاستی اداروں کا احترام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہاں! اگر کسر چھوڑی ہے اور عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اترے ہیں تو اسی ادارے کے کئی سپہ سالاروں نے نہ صرف حلف سے غداری کی بلکہ بار بار آئین شکنی کی ہے۔

اس ملک خداداد کے ستر سالہ تاریخ میں نصف حکومت فوجی آمروں نے کی ہے اور آدھی حکومت سیاسی پارٹی کے لیڈروں نے کی ہے اب اگر کوئی معلوم کرنا چاہیے کہ ایوب خان نے اقتدار کیسے حاصل کیا تو اس پر موجودہ بل کے دفعہ 500 الف لگا کر اسے پابند سلاسل کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ جرمانہ بھی کیا جائے گا۔

یحییٰ خان کے دور میں ملک کیسے دو لخت ہوا؟ اس پر بحث نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان سے فوج کی بدنامی اور رسوائی ہو گی، ضیا الحق نے 90 دن کا وعدہ کر کے 11 برس حکومت کی اس پر گفتگو نہیں ہونا چاہیے اور یہ بھی نہیں پوچھنا چاہیے کہ روس اور امریکہ کی لڑائی میں ضیا الحق نے پاکستان کو کیوں اور کیسے اس میں دھکیل دیا؟ اس طرح کے سوالات نہیں کرنے چاہیے کیونکہ ان سے فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اب اگر کوئی ڈکٹیٹر ملک کے مقدس آئین سے کھلواڑ کرے تو کیا ایک ادارہ مقدم ہو گا جو اس آئین کے تحت چلتی ہے یا مقدس آئین جس کے تحت پورا ملک چلتا ہے۔ ؟ مشرف نے کیسے اور کن بنیادوں پر مارشل لا لگایا یہ نہیں پوچھنا چاہیے صاحب کیونکہ ان سے فوج کی بدنامی اور رسوائی ہو گی۔ فوج تو اس وقت تک ایک مقدس ادارہ تھا جو بیرکوں کے اندر تھا اور سرحدوں پر مامور تھا اب اگر فوج سویلین معاملات میں داخل اندازی کرتی ہے۔ پھر تو لوگ ضرور سوال اٹھائیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ”جو بھی اپنے آئینی ادارے سے باہر نکل جاتے ہیں وہ سچے پاکستانی نہیں ہیں اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے“ آئیے ہم چند لمحوں کے لئے سوچتے ہیں کہ ابھی تک کون لوگ اپنے آئینی حدود سے باہر نکلے ہیں؟

کسی بھی ملک میں سوچنے والے لوگ اس کا اثاثہ ہوتے ہیں قوموں کی ترقی اور تعمیر اور ان کے مستقبل کے فیصلے محض توپ و بندوق چلانے والوں یا تاجروں کے حوالے نہیں کیے جا سکتے۔ معاشرے میں اعتماد کے فقدان کی وجہ سے لوگ اور ادارے اپنا اعتماد و اعتبار کھو بیٹھے ہیں۔ بار بار دھوکہ دینے کی وجہ سے اب معاشرے میں کسی کو کسی پر اعتبار نہیں رہا۔

کل ہی کوہاٹ سے 16 مزدوروں کی مسخ شدہ لاشیں ایک اجتماعی قبر سے بر آمد ہوئی ہیں جو 2011 میں اغوا ہوئے تھے اب اگر کوئی اس پر ریا ستی اداروں سے معلوم کرنا چاہیے تو صاحب اقتدار سے سو ال کرنے پر اسے بدنامی اور رسوئی میں شمار کیا جائے گا یوں وہ بیچارہ جیل کے اندر سڑے گا۔

پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔ جن کو بنیاد بنا کر پختون تحفظ موومنٹ وجود میں آئی، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل دس کہتا ہے کہ کوئی بھی بندہ جسے کسی جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہو، گرفتاری سے پہلے اسے بتایا جائے گا کہ اس کو فلاں جرم کر نے پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب اسے گرفتار کیا جائے تو اسے 24 گھنٹے کے اندر اندر قریبی مجسٹریٹ میں پیش کیا جائے لیکن یہاں پر دس دس برس سے کسی کا باپ، کسی کا بھائی، کسی کا شو ہر لا پتہ ہے اب کہتے ہیں کہ فوج کی زیادتیوں کے بارے میں نہ بولا جائے کیونکہ اس سے فوج کی بدنامی اور رسوائی ہو گی۔ آخر میں عظیم مفکر ٹائن بی کے اس قول پر ختم کر تا ہو کہ ”بہتر ین نظام حکومت وہ ہے جس میں اکثریت کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ ان امور پر حق تنسیخ استعمال کر سکے جن سے اکثریت کے اجتماعی مفاد کو خطرہ ہو۔ پاکستان کے فوج کو پہلے ہی سے تمام پاکستانی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ان کو نہیں جو افواج پاکستان میں رہ کر آئین سے کھلواڑ کریں جس سے فوج اور ملک دونوں کی بدنامی ہوتی ہے۔

پاکستان بار کونسل اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اس بل کی مخالفت کی ہے مجھے امید ہے کہ قومی اسمبلی سے یہ بل پاس نہیں ہوگا اور اگر خدانخواستہ یہ بل پاس بھی ہوا تو پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے اسے عدالت میں چلینج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خان میر ناصر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *