سرپیٹ لینے کی تیاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’صحافت‘‘ کو ’’غیر جانب داری‘‘ کا ڈھونگ رچانے کے لئے کئی صورتیں اختیار کرنا ہوتی ہیں۔ٹی وی سکرینوں پر’’رواں تبصرہ‘‘ بھی ایسی ہی ایک قسم ہے۔ کوئی اہم واقعہ ہو تو اسے ’’خاص نگاہ‘‘ سے دیکھنے والے تبصرہ نگار سکرینوں پر ہجوم کی طرح جمع ہوجاتے ہیں۔یوں تمام ’’فریقین‘‘ کی ’’نمائندگی‘‘ ہوجاتی ہے۔ ان کی بدولت ہوا ’’تجزیہ‘‘ ٹھوس حقائق کو تاہم ہمارے سامنے لانے میںہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ ’’تجزیہ‘‘ درحقیقت اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تعصبات سے لدے ’’بیانیوں‘ ‘کی نذرہوجاتا ہے۔ ’’تجزیہ‘‘ کو بیانیوں کی جنگ بناکر دکھانے کی یہ روش امریکہ کے Fox ٹیلی وژن نے ایجاد کی تھی۔ اس جنگ نے  Ratings کے معاملے میں رونق لگانا شروع کردی۔ اس رونق کو سوشل میڈیا مزید وحشیانہ بنادیتا ہے۔

ہفتے کے روز وسطی پنجاب کے ایک اہم شہر -ڈسکہ- میں ضمنی انتخاب ہوا۔ آج سے چند ہفتے قبل بھی ہوا تھا۔ ’’دھند‘‘ نے مگر اس کے نتائج کو متنازعہ بنادیا۔ طویل عدالتی جنگ کے بعد فیصلہ ہوا کہ الیکشن دوبارہ ہو۔ اس حلقے کے عوام کو حق رائے دہی کے اظہار کا مناسب ماحول ہر صورت فراہم کیا جائے۔

1990کی دہائی سے مذکورہ حلقہ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا گڑھ تصور ہوتا ہے۔فقط 2002میں وقتی تبدیلی نظر آئی تھی۔ قومی اسمبلی کی نشست اکثر مسلم لیگ (نون) کے افتخار شاہ ہی جیتتے رہے ۔ وہ جہان فانی سے رخصت ہوئے تو ان کی بیٹی ضمنی انتخاب کے لئے نامزد ہوگئیں۔

وسطی پنجاب کے ثقافتی تناظر میں یہ اپنے تئیں ایک اہم واقعہ تھا۔’’موروثی سیاست‘‘ عموماََ وفات پائے خاندانی سربراہ کے کسی مرد عزیز کے ذریعے آگے بڑھائی جاتی ہے۔ محترمہ نوشین افتخار کی نامزدگی اس تناظر میں حیران کن تھی۔ انتخابی مہم کے دوران وہ بہت گرم جوش بھی نظر آئیں۔ نواز شریف کی دُختر ان کی مدد کے لئے حلقے میں آئیں تو فضا مزید جذباتی ہوگئی۔ اس اہم ترین ثقافتی پہلو کو مگر ہمارے ’’تجزیہ کار‘‘ اجاگر کرنے میں ناکام رہے۔ ’’دھند‘‘ کو چسکہ دار کہانیاں تراشنے کے لئے استعمال کرنا شروع ہوگئے۔ ڈسکہ کے سیاسی حقائق مگر اپنی جگہ برقرار رہے۔ ہفتے کی شام واضح انداز میں نمایاں ہوگئے۔

خواتین کے ذریعے ’’موروثی سیاست‘‘ کو رواں رکھنے والے پہلو کو نظرانداز کردیں تب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کھاریاں سے ملتان تک پھیلے وسطی پنجاب میں فقط جی ٹی روڈ کے دائیں بائیں ہی نہیں اس خطے کے دور دراز قصبات ودیہات میں بھی بنیادی طورپر ’’ووٹ بینک‘‘دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔

بیشتر رائے دہندگان بدستور نواز شریف کے حامی ہیں۔ ان کے ہر نوعیت کے مخالفین کو تحریک انصاف ہی میسر ہے۔ اسی باعث ڈسکہ میں اس جماعت کے نامزد کردہ ملہی صاحب کو 92ہزار کے قریب ووٹ ملے ہیں۔محترمہ نوشین افتخار کی برتری تاہم معمولی فرق سے نہیں بلکہ 20 ہزار ووٹوں کی بدولت ثابت ہوئی۔ تحریک انصاف کا بیانیہ فروغ دینے والوں کو شکست کے باوجود اس پہلو کی بابت اطمینان محسوس کرنا چاہیے۔وسطی پنجاب میں نظر بظاہر رائے دہندگان کی ترجیح فقط دو جماعتیں ہیں-مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف-’’تیسری قوت‘‘ کی فی الوقت وہاں گنجائش موجود نہیں۔

منطقی ذہن سے تجزیہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے باوجود تحریک انصاف کے حامی ’’ذہن سازوں‘‘ کو ٹی وی سکرینوں پر نہ سہی لیکن تنہائی میں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ چند برسوں سے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف مچائی دہائی وسطی پنجاب کے رائے دہندگان کا مزاج بدلنے میں ناکام رہی ہے۔

وہ اسی جماعت کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہیں جسے پانامہ دستاویزات کے منکشف ہوجانے کے بعد اپریل 2016سے مسلسل مطعون کیا جارہا ہے۔ جعلی بینک اکائونٹس کے حوالے سے اچھالی کہانیاں بھی تحریک انصا ف کے کام نہیں آرہیں۔شریف خاندان کو ’’شوباز‘‘ ثابت کرنے والا بیانیہ پٹ چکا ہے۔اس خاندان میں ’’وراثت‘‘ کے حوالے سے حمزہ شہباز اور مریم نواز صاحبہ کے مابین ’’کش مکش‘‘ کی داستانیں بھی کارآمد ثابت نہیں ہورہیں۔ وسطی پنجاب کا دل جیتنے کے لئے تحریک انصاف کو یقینا کچھ ’’نیا‘‘کرنا ہوگا۔

’’ووٹ بینک‘ کے حوالے سے تحریک انصا ف کے لئے ابھرتے مسائل فقط وسطی پنجاب تک ہی محدود نہیں رہے۔چند دن قبل نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی ایک ضمنی انتخاب ہوا تھا۔ پرویز خٹک اس حلقے کے سب سے طاقت ور شخص تصور ہوتے ہیں۔ 2013سے پشاور،چارسدہ،نوشہرہ اور مردان جیسے شہر تحریک انصاف کے ’’گڑھ‘‘ شمار ہورہے تھے۔ حال ہی میں لیکن نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے جو ضمنی انتخاب ہوا وہ نواز شریف سے منسوب مسلم لیگ نے جیت لیا۔

مریم نواز صاحبہ نے اس جیت کو یقینی بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو نواز شریف کی دختر اپنی جماعت کے لئے انتخابی حوالوں سے اہم ترین ’’اثاثہ‘‘ ثابت ہورہی ہیں۔’’مریم صفدر‘‘ یا ’’راج کماری‘‘ پکارنے سے ان کی اس ضمن میں اہمیت کو زک نہیں پہنچائی جاسکتی۔

وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ہمارے ہاں ایک مخصوص نوعیت کی ’’ثقافتی جنگ‘ ‘بھی جاری ہے۔ Gender یا صنف اس جنگ کا کلیدی عنصر ہے۔عورتوں کے بارے میں اس سوچ پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ شادی ہوجانے کے بعد وہ اپنے والد کی ’’وارث‘‘ ہونے کے بجائے اپنے شوہر کی بیوی ہوجاتی ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ ’’گھرداری‘‘ پر توجہ دیں اور سیاست کو مرد حضرات کے لئے مختص رکھیں۔ اس ’’ثقافتی جنگ‘ ‘کو بھی ہمارے ’’تجزیہ کار‘‘ نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔

’’تجزیہ کاری‘‘ کا ذکر چھڑا ہے تو میں ظفر ہلالی صاحب سے منسوب اس بیان کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا جو ہفتے کے دن سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ موصوف کے اجداد آج سے کئی صدیاں قبل آرمینیا یا آذربائیجان سے ہند اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں آباد ہوئے تھے۔ درباری حوالوں سے یہ خاندان ہمیشہ ’’اشرافیہ‘‘ شمار ہوتا رہا ہے۔

ظفر ہلالی صاحب بھی اپنے قریبی بزرگو ں کی طرح ہماری وزارتِ خارجہ کے سینئر ترین افسر رہے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ اقتدار میں وزیر اعظم کے طاقت ور ترین معتمد شمار ہوتے تھے۔ ان کے دوست واحباب انہیں ’’طالبان‘‘ کی مخالف ’’لبرل‘‘ سوچ کا بلند آہنگ ترجمان تصور کرتے تھے۔

ہفتے کے دن ان سے جو تحریر یا تقریر منسوب ہوکر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وہ درحقیقت اس سوچ کا بلادھڑک اظہار تھا کہ ہمارے عوام کی اکثریت ’’جاہلوں‘‘ پر مشتمل ہے۔ ’’قیمے والے نان‘‘ کھاکر ’’نااہل اور بدعنوان‘‘ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج دیتی ہے۔ ووٹ کے ایسے ’’زیاں‘‘ کے بارے میں ہلالی صاحب بہت جزبزسنائی دئیے۔

یوں محسوس ہورہا ہے کہ انکی شدید خواہش ہے کہ جیسے حادثات کے تدارک کے لئے گاڑی چلانے کے لئے لائسنس ضروری ہے ایسے ہی ووٹ ڈالنے کا ’’حق‘‘ بھی کسی نہ کسی امتحان سے گزرے بغیر میسر نہ ہو۔ ایسا نہ ہوا تو پاکستان کے ’’جاہل‘‘ عوام ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا روپ دھارے سیاست دانوں ہی کے محتاج رہیں گے۔ وطنِ عزیز میں حقیقی تبدیلی نمودار نہیں ہوپائے گی۔ان سے منسوب ہوا بیان ’’اشرافیہ‘ کی جبلی رعونت کا واضح اظہار تھا۔ہلالی صاحب کومگر اپنے خیالات کے اظہار کے لئے ٹی وی سکرینیں بآسانی میسر رہیں گی۔Foxٹی وی کی متعارف کردہ روش ہمارے ہاں بھی گج وج کر رائج ہوچکی ہے۔یہ Ratingsکو یقینی بناتی ہے۔’’تجزیہ‘‘ اس روش کو ہرگز مقصود نہیں۔

ہلالی صاحب جیسے ’’دانشوروں‘‘ کو یاد دلانا ہوگا کہ ’’قیمے والے نان‘‘ کھاکر ووٹ دینے والے بدنصیب پاکستانیوں نے ہماری خارجہ اور معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں 1950کے آغاز سے رتی بھر حصہ بھی نہیں ڈالا ہے۔ 2019 سے مثال کے طورپر ہمارے خزانے کے حتمی کلید بردار بوسٹن یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب تھے۔ وہ ’’قیمے والے نان‘‘ کھلاکر کسی منتخب ایوان میں تشریف نہیں لائے تھے۔ اپنے عہدے سے فراغت سے قبل انہوں نے آئی ایم ایف سے 500 ملین ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لئے جن شرائط پر کامل عملدرآمد کا وعدہ کیا ان کی تفصیلات IMFکی ویب سائٹ پر لگادی گئی ہیں۔انہیں غور سے پڑھیں اور 31جولائی 2021 کے اختتام تک اپنے ہاں آئے بجلی کے بلوں کو دیکھنے کے بعد سرپیٹ لینے کی تیاری کریں۔

عمران حکومت کی مشکلات کا اصل سبب ’’قیمے والے نان‘‘ نہیں بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری کی لہر ہے جو IMF کے ساتھ ہوئے معاہدے کی وجہ سے شدید تر ہورہی ہے۔ ہمارے ’’ذہن سازوں‘‘ کو اس معاہدے کی جزئیات اور مضمرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *