حفظ قرآن ، حوروں کا لالچ اور قاری صاحب کی مار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج مجھے بہت پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو قرآن پاک حفظ کے لیے قریبی مدرسہ میں داخل کروا دی گئی۔ یہ اس وقت شہر کا سب سے بڑا لڑکوں کا مدرسہ تھا۔ اس مدرسہ کے زیریں حصہ میں فقہ و تفسیر پڑھائی جاتی۔ عمارت کی دوسری منزل میں سکول تھا، جس میں پہلی سے پانچویں جماعت تک پڑھایا جاتا۔ اور پہلی منزل پر قرآن پاک حفظ کروایا جاتا۔ عمر کی کوئی حد مقرر نہیں تھی ، اس لیے قرآن پاک حفظ کرنے والوں میں مختلف عمروں کے طلبا ہوتے تھے۔

عموماً پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد بچوں کو حفظ کی کلاس میں داخل کروایا جاتا ہے۔ لیکن دنیا کے بیشتر والدین کی طرح میرے والدین کو بھی میرے ذہین ہونے کی خوش فہمی تھی شاید، جو ممکن ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے ٹھیک ہی ہو۔ سو مجھے دوسری جماعت پاس کرنے کے بعد ہی یہاں داخل کروا دیا گیا۔ میری سکول کی تعلیم بھی ساتھ جاری رہی۔ میں مدرسہ میں دوسری شفٹ ( ظہر سے عصر ) ختم ہونے کے بعد ٹیوشن جاتی، جہاں سکول کا کام کرتی۔

ایک پرائیویٹ سکول میں ماہانہ ٹیسٹ دیتی، اور سالانہ امتحان پاس کر کے اگلی جماعت میں پروموٹ ہو جاتی۔ جب میں حفظ کے لیے داخل ہوئی تو اس وقت پورے مدرسہ کی واحد بچی تھی اور سب سے چھوٹی بھی تھی، اس لیے سب طلبا اور قاری صاحب خوب خیال رکھتے۔ پھر بعد میں میرے ساتھ چار اور بچیاں بھی داخل ہو گئیں، وہ چاروں پانچویں جماعت پاس کر کے آئی تھیں۔ حفظ کی کلاس کے مختلف سیکشنز ہوتے تھے، جنھیں فریق کہا جاتا۔ ہر فریق میں پینتیس چالیس بچے ہوتے۔

ہر بچہ چونکہ مختلف ذہنی استعداد کا مالک ہوتا ہے اس لیے یہاں ایک ہی کلاس میں مختلف عمروں کے طلبا ہوتے۔ اس لیے کچھ تو بچے ہوتے اور کچھ اسی کلاس میں رہ کر بچپن کو خیرباد کہہ چکے ہوتے۔ کچھ طلبا ایک ہی سال میں قرآن پاک حفظ کر کے چلے جاتے اور اکثر کئی کئی سال لگا دیتے۔ میرے ساتھ زکوان بٹ نام کا ایک لڑکا پڑھتا تھا۔ سب اس کو بٹ کہتے۔ اس کی زبان میں شدید لکنت تھی۔ اسے ایک لفظ ادا کرنے میں بھی سخت دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔

جیسے ’کیا ہے‘ کہنا ہوتا تو وہ کچھ اس طرح بولتا، ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ ک۔ کی۔ ی۔ ی۔ ی۔ ی۔ ی۔ ی۔ ی۔ ی۔ یا ہے۔ اس کو شدید اعصابی کمزوری تھی۔ حافظہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کو کبھی بھی سبق یاد نہیں ہوتا تھا۔ شدید ہکلاہٹ اور خطرناک حد تک کمزور حافظہ کی بناء پر ہر روز اس کو سخت مار پڑتی۔ مار بھی ایسی کے خدا کی پناہ۔ وہاں کے اساتذہ عجیب تھے جب مارنے پہ آتے تو یہ نہیں دیکھتے تھے کہ بچے کا کچھ بچے گا یا نہیں۔

ایک قاری صاحب تھے، وہ جب جلال میں آتے تو پورا مدرسہ ان کے جلالی شعلے دیکھتا۔ بید کی سوٹی پکڑ کر وہ بچے کے پورے جسم پر اس طرح مارتے کہ مار مار میں پورے مدرسے کا طواف بھی ہو جاتا اور طالب علم کا بدن بھی شاگرد ہونے کا پورا حق ادا کر دیتا۔

بچہ خود کو بچانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہوتا تو قاری صاحب دو قدم آگے بڑھ کر مزید شدت سے مارتے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا، جب تک مرشد مار مار کر تھک نہ جاتے۔ مرشد کی اپنی سانس پھولتی تو تب کہیں جا کر بچے کی جان بخشی ہوتی۔ وہ الگ بات کہ مرشد اتنی جلدی تھکتے نہیں تھے۔ اکثر قاری صاحبان کو وقت بے وقت جلالی دورے پڑتے رہتے تھے۔ ہر ایک استاد کے مارنے کا اپنا ہی انداز ہوتا تھا، ہر کوئی اپنا غصہ اپنے حساب سے انتہائی ظالمانہ طریقے سے نکالتا۔ لیکن جیسا مشہور ہے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، تو وہیں ایک قاری صاحب انتہائی شفیق بھی تھے جو بہت پیار سے پڑھاتے، ڈنڈا تو دور وہ اللہ والے تو جھڑکتے بھی نہ تھے۔

تو بات ہو رہی تھی زکوان بٹ کی۔ اسے سبق نہیں آتا تھا۔ وہ جب بھی سبق سنانے جاتا ایک تو الفاظ کی ادائیگی میں ضرورت سے زیادہ وقت لیتا اور پھر سبق بھی بھول جاتا، جس پر اس کو سخت مار پڑتی۔ ہمارے قاری صاحب کے مارنے کا اپنا ہی جدا گانہ انداز تھا، وہ بچے کی گردن پر ہاتھ رکھ کر اس پہ مکے مارتے جاتے۔ زکوان کو بھی روز ایسے مار پڑتی۔ مجھے آج بھی وہ سفید رنگت اور گلابی گالوں والا زکوان بٹ یاد ہے۔ جو مار کھاتے ہوئے روئے جاتا تھا۔

کتنی دیر تک اس کے گالوں پہ آنسو بہتے رہتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایسے ہی دو مکے ایک ساتھ مجھے بھی پڑے تھے۔ مجھ سے تو برداشت نہ ہوا، گھر آ کر بتایا تو مجھ سے زیادہ دادی تڑپ اٹھیں۔ اگلے ہی دن ابو شکایت لے کر پہنچ گئے کہ ایسے مارتے ہیں بچوں کو؟ ابو نے تو کہہ دیا کہ ہماری بچی کو سبق آئے نہ آئے آپ نے اس کو ہاتھ نہیں لگانا۔ وہ میری زندگی کی پہلی اور قاری صاحب سے پڑنے والی آخری مار تھی۔ لیکن زکوان کے گھر سے کبھی کوئی یہ کہنے نہیں آیا تھا کہ ہمارے بچے کو ایسے مت ماریں۔ مجھے زکوان اور اس جیسے مار کھانے والے دیگر بچے یاد آتے ہیں تو جسم میں سنسناہٹ دوڑ جاتی ہے کہ اگر ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ جاتی تو۔

میں حیران ہوتی ہوں ان ماں باپ اور استادوں پر۔ جنہیں جنت جانے کا اتنا شوق ہے کہ وہ جنت کی چاہت میں معصوم بچوں کے قتل سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بے دردی سے مارنا بھی قتل سے کم نہیں کہ بچے اگر بچ جائیں تو ان کی قسمت، ورنہ اساتذہ اور والدین کی طرف سے کوئی رعایت نہیں۔ میں طالب علموں کو جانوروں کی طرح مارنے پر اساتذہ کے ساتھ اس جرم میں والدین کو بھی برابر کا شریک سمجھتی ہوں۔ میں نے کبھی بھی کسی بچے کے والدین کو مار کی شکایت لے کر آتے نہیں دیکھا تھا۔

وہ آتے تو قاری صاحب کی مٹھی میں نذرانہ دبا کر یہی کہتے، ’’قاری صاحب! اینوں حافظ تساں ای بنانا اے۔ (اسے حافظ آپ نے ہی بنانا ہے)‘‘ کیا حافظ قرآن بننا اتنا ضروری ہے کہ اس دوران یہ بھول جائیں کہ بچہ بھی انسان ہے۔ کیا ضروری ہے کہ بچے کی ہڈیاں توڑ کر انہیں حفظ کروایا جائے۔ ماں باپ کا یہ لالچ کہ اگر بچہ حافظ قرآن بن گیا تو انہیں روز قیامت سونے کا تاج پہنایا جائے گا۔ قاری صاحب کی یہ حرص کہ جتنے بچے ان سے حافظ بنیں گے، جنت میں قاری حضرات کے محل اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔

عموماً اساتذہ اور والدین مل کر بچے کو یہ لالچ دیتے ہیں کہ قرآن حفظ کرو گے تو تمہیں جنت میں حوریں ملیں گی۔ ایسا کہتے ہوئے کبھی کسی نے ایک بار بھی سوچا ہے کہ بچے کے ذہن میں کیا ڈالا جاتا ہے۔ کسی میڈیکل یا انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیتے وقت اگر جوان لڑکا یہ کہے کہ کالج ”حوراں لبھنی آں نے (کالج میں حوریں ملنی  ہیں)“ تو پورا معاشرہ اس کی سوچ پہ ”سلامتی“ بھیجے کہ اتنی چھوٹی سوچ ہے تمہاری، تم نے ادھر تعلیم حاصل کرنے جانا ہے یا۔ تو پھر معصوم بچوں کے دماغوں میں ایسی بات کیوں ڈالی جاتی ہے، کیوں ایسے لالچ دیے جاتے ہیں۔ اگر جنت کی اتنی ہی چاہت ہے تو ماں باپ حفظ خود کر لیں، وہ حوریں جس کا بچے کو لالچ دیا جاتا ہے، انہیں حاصل کرنے کی خود کوشش کریں۔

میرا کہنے کا یہ مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ بچوں کو قرآن پاک حفظ نہ کروائیں، انہیں دینی تعلیم نہ دیں۔ لیکن اس سے پہلے بچے کا ذہن دیکھیں، اس کا رجحان دیکھیں۔ کہ آیا ہمارا بچہ اس ذہن کا مالک ہے کہ اس کتاب کو ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ سکے گا۔ میں یہاں ایک تلخ حقیقت بتاؤں، اب کیا حالات ہیں یہ تو مجھے معلوم نہیں، لیکن اس وقت مدرسے سے جتنے حفاظ بن کر نکلتے تھے، ان حفاظ کرام میں دس فیصد بچوں کو بھی پورا قرآن پاک یاد نہیں ہوتا تھا۔اور ان دس فیصد میں سے بھی بعد میں چار فیصد اسے یاد رکھ پاتے ہیں۔ لیکن آفرین ہے ان اساتذہ پر جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنے رہتے ہیں۔

استاد ایک مقدس ہستی ہے۔ والد کے بعد استاد کو باپ کا درجہ دیا جاتا ہے اور مقام حیرت کہ دو باپ مل کر بھی ایک معصوم بچے کی ذہنی استعداد نہیں جان پاتے۔ استاد کا یہ فرض ہے کہ وہ بچے کا رجحان دیکھے اور پھر اس کو اس شعبے میں پڑھائے۔ دوسرا والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ بچے کو کسی بھی مدرسہ، مکتب میں ڈالتے ہیں تو جا کر دیکھیں کہ کیا بچہ امپروو کر رہا ہے۔ لیکن صرف اپنا جنتی ٹکٹ لینے کے لیے بچوں کو حفظ کروانا دانش مندی نہیں ہے۔ یہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ کہ خود جنت میں جانے کے لیے بچے کو سواری بنایا جائے۔ اور اگر سواری چلنے کے قابل ہی نہ ہو تو۔ وہ بچہ پھر چاہے قرآن بھول جانے کی وجہ سے خود جنت سے محروم ہو جائے۔

اگر بچے کا ذہن اس قابل ہے کہ وہ قرآن جیسی ضخیم کتاب کو یاد رکھ سکتا ہے تو ضرور حافظ قرآن بنائیں اسے۔ لیکن اگر وہ کند ذہن ہے تو پھر اس پر رحم کریں۔ دنیاوی تعلیم میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بچے کا رجحان کس طرف ہے۔ دنیا کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے اگر بچہ کسی مضمون میں دلچسپی نہیں رکھتا تو مضمون بدل دیا جاتا ہے تا کہ بچہ امتحان میں پاس ہو سکے۔ لیکن جانے کیوں اکثر لوگ بچے کو آخرت کے امتحان میں ناکام کرنے کے لیے وہی مضمون پڑھنے پہ مجبور کر دیتے ہیں جس کو اس کا ذہن یاد رکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔

قرآن پاک کو پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا، اصل کام اس کو یاد رکھنا ہوتا ہے، جو کند ذہن بچے نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے اپنے بچے کی ذہنی استعداد دیکھ کر اس کو حفظ کروایا جائے اور پھر مانیٹرنگ بھی کی جائے کہ آیا استاد جنت میں محض اپنی الاٹمنٹ کروانے کے لیے بچے پر زد و کوب تو نہیں کررہا۔

میری دست بستہ گزارش ہے کہ جیسے سکولوں میں ’مار نہیں پیار‘ کے اصول پر تعلیم دی جاتی ہے، مدرسوں میں بھی اس بات کی نگرانی کی جائے کہ بچوں کو جانوروں کی طرح نہ مارا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *