بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس زمانے میں برمنگھم میں رہتا تھا۔ برمنگھم انگلستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور لندن کے بعد برمنگھم کا ہی نمبر آتا ہے مگر فرق ایسا ہے جیسے کراچی اور حیدرآباد۔ آبادی اور صنعتوں کی بھرمار کے باوجود برمنگھم ابھی تک لندن کی بے رحمی، بے کسی، تڑپ اور چبھن اپنے اندر نہیں لا سکا ہے۔ لوگ چلتے چلتے رک جاتے ہیں، جیسے کچھ بھول آئے ہوں اور بھولی ہوئی چیز کے لئے لوٹ بھی جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے ہوئے بات کرتے بھی نظر آتے ہیں، لندن جیسی ہلچل، گہماگہمی، بھاگا دوڑی یہاں نظر نہیں آتی لوگ اکثر بے مطلب اور بے غرض بھی بات کر لیتے ہیں، ہیلو کر دیتے ہیں، حال پوچھ لیتے ہیں۔

اس روز انجم کی طبیعت خراب تھی۔ صبح سے رو رہی تھی، بڑی مشکل سے شام کو اسے نیند آئی تھی اور گھر میں کچھ سکون ہوا تھا۔ نسیم بھی تھک کر سوچکی تھی۔ دونوں ماں بیٹیاں سرد ہواؤں سے بے خبر گرم کمرے میں لحاف میں دبکی ہوئی تھیں اور میں ٹیلی ویژن کے آگے بیٹھے ہوا رات کا سفر کاٹ رہا تھا کہ کسی نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ پہلے تو میں ہوا کے کسی آوارہ جھونکے کو سمجھ کر بیٹھا رہا تھا مگر جب دوسری دفعہ بھی دروازہ ہلا تو میں نے جا کر دروازہ کھولا۔

ایک بوڑھا آدمی سردی سے کپکپا رہا تھا۔ ”میرا نام جان ہے۔ میں رات گزارنا چاہتا ہوں۔“ انگلستان میں اس کا رواج تو نہیں ہے مگر اب کچھ دنوں سے گرتی ہوئی معاشی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے جہاں بھکاری پیدا کیے ہیں ، وہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے تو میرے جی میں یہی آئی کہ سوری کہہ کر دروزہ بند کر دوں مگر بوڑھے کے چہرے پر کچھ ایسی بے کسی تھی، کچھ ایسا اضطراب تھا، کچھ ایسی امید تھی کہ مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔

مجھے ایسا لگا جیسے میں لاہور میں اپنے گھر میں کھڑا ہوں، ٹھنڈی ہواؤں کے جھکڑ چل رہے ہیں اور چچا فضل دین کپکپاتا ہوا جا رہا ہے اور یکایک رک کر کہہ رہا ہے۔ ”مرتضیٰ، رات تیرے پاس سو جاؤں کیا؟“ میں راستے سے ہٹ گیا اور جان کو اندر بلا لیا۔ گرم کمرے میں آتے ہی جیسے اسے آرام ملا ہو، اس کے چہرے پر ایسا ہی اطمینان آ گیا تھا۔

وہ جلتے ہوئے ہیٹر کے پاس والے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ بھوکا ہو۔ میں نے چار سلائس گرم کیے اور دو انڈے تل کر بھرے ہوئے کافی کے مگ کے ساتھ لا کر اس کے سامنے رکھ دیے۔ اس نے تشکر بھری نظروں کے ساتھ مجھے دیکھا تھا اوراس طرح کھانا شروع کر دیا جیسے نہ جانے کب کا بھوکا ہو۔

اوپر ایک چھوٹا کمرہ خالی تھا، میں نے جتنی دیر میں بستر ٹھیک کیا تھا اتنی دیر میں جان کھانا ختم کر چکا تھا اور کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔ بھرے پیٹ کا اطمینان اس کے چہرے پر آہستہ آہستہ آ رہا تھا۔

صبح نسیم نے مجھے جگایا تھا۔ وہ پوچھ رہی تھی کہ چھوٹے کمرے میں کون سورہا ہے۔ جان ابھی تک سورہا تھا اور اس طرح سورہا تھا جیسے کبھی نہ سویا ہو۔ ویسے بھی آج ہفتہ تھا، چھٹی کادن۔ جتنی دیر میں میں تیار ہوا تھا اتنی دیر میں جان بھی جاگ گیا تھا۔ آج بھی مجھے بہت سے کام نمٹانے تھے۔ ڈرائنگ روم کا وال پیپر بدلنا تھا۔ قالین لا کر رکھا ہوا تھا ، اسے بدلنا تھا اور باہر چھوٹے سے باغیچے کو صاف کرنا تھا۔ بہت دنوں سے سوچ رہا تھا مگر وقت کی کمی کی وجہ سے چیزیں مزید خراب سے خراب تر ہو گئی تھیں۔

جیسے ہی میں نے پرانا وال پیپر نکالنا شروع کیا جان بھی میرے ساتھ شامل ہو گیا تھا۔ پورا دن ہم دونوں کام میں لگے رہے تھے اور شام تک ڈرائنگ روم میں نیا قالین بھی لگ گیا تھا اور نیا وال پیپر بھی لگ گیا تھا۔ ہم دونوں بھی بری طرح تھک چکے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر جان رک جائے تو اس کے ساتھ مل کر باغیچے کا کام بھی نمٹا دوں گا۔ کھانا کھانے کے بعد نہ اس نے جانے کا کہا اور نہ میں نے اس سے کچھ کہا۔ رات گئے جب مجھے نیند آنے لگی تو میں نے جان سے کہا کہ کمرے میں جا کر سو جائے۔

آج دن بھر انجم کی طبیعت بھی صحیح رہی تھی۔ وہ ہم لوگوں کے کام کے درمیان آ کر پٹر پٹر بولتی رہی تھی۔ مجھ سے زیادہ اس کی دوستی جان سے ہو گئی تھی۔

دوسرا دن بھی کام میں نکل گیا تھا مگر شام کو باغیچہ اور گھر اس طرح سے لگ رہا تھا جیسے کسی نئے گھر میں آ گئے ہوں۔ ہر چیز صاف ستھری اور سلیقے سے لگی ہوئی تھی۔ جان دن بھر میرے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔

پیر کے دن صبح صبح میں کام پر چلا گیا تھا۔ شام کو واپس آیا تو گھر کے اندر صورت بھی بدلی ہوئی تھی۔ لگتا تھا جیسے کسی نے پورے گھر کا اوور ہال کر دیا ہے۔ نسیم نے بتایا کہ جان نے پورے گھر کی صفائی کی ہے اور اب انجم کو لے کر پارک گیا ہوا ہے۔

جان جب واپس آیا تو انجم کے ہاتھ میں چاکلیٹ کے کئی چھوٹے بڑے پیکٹ تھے، غبارے تھے اور کچھ کھلونے چھوٹی سی بچوں والی ٹوکری میں بھرے ہوئے تھے۔ کھانا کھا کر ہم لوگ کافی دیر تک ٹیلی ویژن دیکھتے رہے۔ منگل کے دن سے نسیم کام شروع کر رہی تھی۔ جان کے ذمے یہ کام لگا دیا گیا کہ وہ انجم کو نرسری چھوڑ کر آئے گا اور شام کو لے کر بھی آئے گا۔

شام کو ہم لوگ جب گھر پہنچے تو دیکھا انجم کے ہاتھ منہ دھلے ہوئے تھے۔ وہ شام کو صاف ستھرا لباس پہنے جان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔

میں نے اور نسیم نے مل کر جلدی جلدی کھانا تیار کیا اور پھر روز کی طرح رات ہو گئی تھی۔ اب جان کا یہ کام ہو گیا کہ صبح کو انجم کو نرسری پہنچاتا، دن بھر گھر کی صفائی کرتا، چھوٹے موٹے کام نمٹاتا، شام کو انجم کو واپس لے کر آتا۔ رات کو اس کو کوئی کہانی سناتا، پھر مجھ سے تھوڑی بات کر کے خود بھی سو جاتا۔

وہ بہت دھیرے سے ہمارے چھوٹے سے خاندان کا حصہ بن گیا تھا۔

اسے انجم سے بہت محبت تھی۔ انجم کے پاس پہلے بھی کئی کھلونے تھے مگر چار پانچ مہینے کے عرصے میں اس کے پاس نہ جانے کیا کیا چیزیں آ گئی تھیں۔ جان اپنی پنشن کا بڑا حصہ انجم پر صرف کر دیتا تھا۔ وہ بڑا مست آدمی تھا۔ اپنی ذات میں مگن۔ آہستہ آہستہ پتہ لگتا گیا تھا اس کے بارے میں۔ اس کا ایک بیٹا امریکہ شفٹ ہو گیا تھا اورایک بیٹی آسٹریلیا میں شادی کر کے آباد ہو گئی تھی اور بیوی پندرہ سال پہلے کسی حادثے کا شکار ہو گئی تھی اور اب اس کا کوئی نہیں تھا۔ ایک بھائی تھا انگلینڈ کے کسی کونے میں۔ نہ اس کو اس کی خبر تھی اور نہ اسے اس کی۔ جان ہمارے یہاں آنے سے پہلے ایک اولڈ ہوم میں رہتا تھا مگر اب ہمارے گھر کا ہی ایک فرد بن گیا تھا جیسے پردیس میں کوئی بزرگ مل گیا ہو اور انجم کو تو جیسے کوئی اس کا ساتھ مل گیا تھا۔ وہ جان کے ساتھ ہر وقت مگن رہتی تھی۔

ایک دن انجم کو بخار ہو گیا۔ ہم دونوں اسے جان کے پاس چھوڑ کر کام پر چلے گئے تھے۔ دوپہر کو جان نے میرے آفس فون کیا کہ اس نے انجم کو ہسپتال میں داخل کرا دیا ہے۔ اس نے ڈاکٹر کو گھر پر بلایا تھا اور ڈاکٹر نے اسے ہسپتال بھجوا دیا تھا۔ میں اور نسیم جب ہسپتال پہنچے تو جان کاریڈور میں ایک دیوار سے لگا کھڑا تھا۔ چھوٹی سی ایک صلیب اس کے ہاتھوں میں دبی ہوئی تھی۔ نہ جانے وہ دل ہی دل میں کیا بڑبڑا رہا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید انجم کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، مگر وہ ٹھیک ٹھاک تھی۔

خسرہ کی وجہ سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا اور آنکھیں سوجی سوجی سی لگ رہی تھیں مگر ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ ہم لوگ گھر آ گئے تھے۔ رات بھر مجھے لگا تھا کہ کوئی جیسے ٹہل رہا ہے۔ جان کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ رات بھر نہیں سویا تھا۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا جذبہ تھا، وہ کون سی کسک تھی، وہ کون سا رشتہ تھا کہ جو جان کو رات بھر جگاتا رہا۔ انجم نہ اس کی بیٹی تھی، نہ نواسی تھی، نہ پوتی۔ وہ ایک اجنبی سماج کا، ایک اجنبی ملک کا، ایک اجنبی شہر کا، ایک اجنبی زبان کا ایک اجنبی آدمی تھا۔ ایک مسافر کی طرح جو کسی سرائے میں چلا آتا ہے۔

دوسرے دن جب میں اور نسیم شام کو ہسپتال میں پہنچے تھے تو ہسپتال میں ایک زبردست تماشا لگا ہوا تھا۔ سسٹر انچارج میرا انتظار کر رہی تھی اور جان استقبالیہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ پتہ لگا کہ صبح جان وہاں پہنچ گیا تھا اور نرسوں سے جھگڑا کر رہا تھا کہ وہ انجم کا خیال نہیں کر رہی ہیں۔ سسٹر نے مجھ سے کہا کہ میں جان کو واپس لے جاؤں اور کل سے اسے ہسپتال میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ سارے مریض، سارا نظام اس کی وجہ سے ڈسٹرب ہو گیا ہے۔

مجھے سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب میں نے جان سے پوچھا کہ کیا ہوا، تو وہ اور ناراض ہو گیا۔ سارے راستے ہم لوگ خاموش رہے تھے۔ میں نے گاڑی کے آئینے میں دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دھیرے دھیرے رو رہا تھا۔ گاڑی سے اتر کر میں نے اس سے دھیرے سے کہا ”جان کیا برا مان گئے؟“

اس نے بڑے کرب سے کہا تھا ”نہیں چارلی، نہیں۔ مجھے برا ماننے کا کیا حق ہے۔ جب میرے بچے میرے پاس نہیں رہے تو میں تم پہ اپنا حق کیسے جتا سکتا ہوں؟ میں تو دشمن ہوں انجم کا۔ یہ حرام خور نرسیں یہ مجھ سے زیادہ چاہتی ہیں اسے۔ میرا کیا حق ہے؟“ اس پر وہ جذباتی ہو گیا تھا۔ اس کے جھریوں والے چہرے پر آنسو ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرف بھڑک رہے تھے۔ میں نے اس سے معافی مانگ لی۔ ”نہیں، جان۔ یہ مطلب نہیں ہے میرا۔ میں بھی تو تمہارے بیٹے کی طرح ہوں۔ تم جو کچھ کہہ رہے ہو، درست ہے۔“

انجم جلد ہی ہسپتال سے لوٹ آئی تھی اور زندگی کے روز و شب اسی طرح سے شروع ہو گئے۔ سال ایسے گزر گیا جیسے شروع ہی نہ ہوا ہو۔ کرسمس پر جان نے انجم کے لئے ایک قیمتی کھلونا خریدا۔ وہ جان سے اتنی زیادہ مانوس ہو گئی تھی کہ نسیم کو پریشانی شروع ہو گئی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ ایک دن ہم لوگ واپس چلے جائیں گے تو اس دن کیا ہو گا۔

جان بڑے دھیرے سے ہم لوگوں کی زندگی میں داخل ہوا تھا اور آہستہ آہستہ ہمارے خاندان کا فرد بن گیا تھا۔ بوڑھے جان کی زندگی بھی عجیب تھی۔ اپنے بیٹے کو دیکھے ہوئے اسے سالہاسال گزر چکے تھے۔ شروع میں تو کرسمس کارڈ وغیرہ آتے تھے پھر آہستہ آہستہ ان کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا۔ فون کا ایک تعلق رہ گیا تھا مگر وہ بھی اس طرح سے ختم ہوا کہ جان کے بیٹے پیٹر نے شادی کر لی اور کسی نئے شہر میں آباد ہو گیا تھا۔ اس شہر سے اس نے فون ہی نہیں کیا اور جان کو پچھلے گھر سے کسی نے نیا نمبر بھی دیا۔ جان کو اس بات کا بڑا دکھ تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا ”نہ جانے پیٹر کے بچے ہیں کہ نہیں۔ نہ جانے کیسے ہوں گے، کاش میں ان سے مل سکتا۔“ وہ مجھے چارلی کہتا تھا اور شاید مجھ سے بھی اسی شدت سے محبت کرنے لگا تھا، جس شدت سے اسے انجم پیاری تھی۔

اس نے کبھی بھی اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا تھا جو آسٹریلیا میں آباد ہو گئی تھی ، سلویا اس کا نام تھا۔ ایک مرتبہ جمعے کی رات کو جب نسیم اور انجم دونوں سوئے ہوئے تھے تو میں نے پوچھا تھا جان کبھی آسٹریلیا نہیں گئے؟ یہ بھی ایک اتفاق تھا۔ ٹی وی پر آسٹریلیا کے ابو رجنیز کے بارے میں پروگرام ختم ہوا تھا، تو میں نے اس سے پوچھ لیا تھا۔ ابو رجنیز آسٹریلیا میں رہنے والے اصلی لوگ تھے جنہیں انگریزوں نے مار مار کر ختم کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ اس وسیع و عریض زمین پر قبضہ کر لیں۔ قبضہ تو ان کا ہو گیا تھا مگر وہ ابو رجنیز کو ختم نہیں کرسکے تھے اوراب تو ابو رجنیزکی بقاء کے لئے مہم شروع ہو چکی تھی۔ وہ سفید فام لوگ جو پکے رنگ کے گندمی ابو رجنیز کے سروں کے کاٹنے پر دس ڈالر کمایا کرتے تھے اب ان کی ثقافت تہذیب کو بچانے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔

وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔ ایک تلخ سی مسکراہٹ۔ ”ہاں چارلی، میں گیا تھا، میری تو وہاں بیٹی ہے۔ اس کے بچے ہیں مگر وہاں دل نہ لگا۔ میں تو اس لئے گیا تھا کہ ہمیشہ ہی وہاں رہ جاؤں گا۔ نواسوں اور نواسیوں کو کھلاتے ہوئے زندگی گزار دوں گا، مگر یہ نہ ہو سکا۔ انہوں نے میرے ساتھ وہی کیا جو ابورجنیز کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ایک ماہ کے بعد ہی میری بیٹی نے کہا کہ پاپا واپس چلے جاؤ۔ مجھے لگا تھا جیسے بچوں کا مجھ سے قریب آنا انہیں اچھا نہیں لگا تھا۔

ہوا یہ تھا کہ ان کا چھوٹا بیٹا اینڈریو میرے بہت قریب آ گیا تھا جیسے انجم میرے قریب آ گئی ہے۔ ایک شام ہم سب باہر بیٹھے ہوئے تھے اور شام کا مزا لے رہے تھے، میں تھا، میری بیٹی سلویا تھی، اس کا شوہر ڈیسمنڈ تھا۔ ٹھنڈی بیئر دن بھر کی تھکن مٹا رہی تھی اور بچے دوڑ بھاگ رہے تھے اور اپنے بچوں والے کھیلوں میں لگے ہوئے تھے کہ یکایک اینڈریو ایک چھوٹی سی دیوار سے نیچے گر گیا تھا اور اپنے سر پر ایک چوٹ لگا بیٹھا تھا۔ چوٹ کوئی خاص نہیں تھی مگر وہ جیسے ہی سنبھلا، روتا ہوا، ہچکیاں لیتا ہوا اور دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا تھا۔

ڈیسمنڈ اور سلویا دونوں اس کی طرف دوڑے تھے مگر معصوم بچہ میری طرف آیا تھا کیونکہ اس تھوڑے سے عرصے میں میں نے اسے وقت دیا تھا اور اس کے معصوم ذہن میں میں ہی تھا جو اس کے درد میں اس کے ساتھ تھا، مگر یہی بات ان دونوں کو اچھی نہیں لگی تھی۔ مجھے آج تک ان کا چہرہ یاد ہے، نامہربان، سخت اور حیران چہرہ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ میں نے اینڈریو کو ان سے چھین لیا ہے۔ وہ میرے پاس دوڑتا ہوا اپنے زخم نہیں دکھانے آیا تھا بلکہ ان سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا تھا۔

آج کل کے رشتوں میں تحفظ کا احساس نہیں ہے، بے لوث محبت نہیں ہے، محبت، چاہ، الفت سب کی قیمت ہے۔ ہر ایک کچھ واپس مانگتا ہے اور فوراً ہی واپس مانگتا ہے۔ اینڈریو تو ان کا بچہ تھا، ان کا بچہ ہے، ان کا اپنا ہے۔ وہ تو میری طرف اس لئے آیا تھا کہ چند دنوں کے لئے میری بھرپور توجہ اس کی طرف تھی۔ درد کے اس لمحے میں اس معصوم کے ذہن میں صرف میری ہی گرم گود تھی کیونکہ وہ یہ سمجھا تھا کہ میں ہی اسے بھرپور اور مکمل توجہ دے سکوں گا۔ اتنی سی بات سے رشتے تھوڑی بدل جاتے ہیں۔ دھاگے تھوڑی ٹوٹ جاتے ہیں مگر دونوں یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔“

”مجھے وہ گھر اجنبی لگا تھا۔ میں روتے ہوئے اینڈریو کو چھوڑ کر واپس انگلینڈ آ گیا تھا۔ مجھے ابھی تک وہ چہرہ یاد ہے، معصوم اور آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے۔ اب تو اینڈریو بڑا بھی ہو گیا ہو گا اور مجھے بھول بھی گیا ہو گا، شاید کبھی ملاقات ہو تو پہچانے بھی نہیں۔ لیکن مجھے وہ سب پیارے ہیں اور مجھے ابھی بھی ان سے پیار ہے، بے انتہا، بے شمار بے غرض اور غیرمشروط۔“ میں بوڑھے جان سے نہیں کہہ سکا تھا کہ وقت بدل گیا ہے، اقدار بدل گئی ہیں، یہ جدید دنیا ہے، اس جدید دنیا کے اپنے اصول ہیں، تازہ اور نئے۔ تم ایک پرانی دنیا کے پرانے اقدار کے بے لوث، بے غرض انسان ہو، تم مر جاؤ اس سے پہلے کہ تمہیں اور دکھ ہوں اور غم ہوں۔

پھر وہ دن آ گیا جب میرا کام برطانیہ میں ختم ہو گیا تھا اور ہم لوگوں کے واپس آنے کا وقت آ گیا۔ میری اور نسیم کی توقعات کے خلاف، جان نے بھرے حوصلے سے ہم لوگوں کو انجم سمیت رخصت کیا تھا۔

اس نے ہمارا سامان باندھا تھا، میرے لئے نسیم کے لئے اور انجم کے لئے تحفے لایا تھا اور ہم لوگوں کو ہیتھرو ایئرپورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ اس کا پروگرام تھا کہ ہمیں چھوڑ کر وہ واپس نیوکاسل جائے گا جہاں اس کا گھر تھا، جس میں کوئی کرایہ دار رہ رہا تھا۔ بجھے ہوئے دل کے ساتھ میں نے اس سے رخصت لی۔ اس نے بڑے پیار سے انجم کو رخصت کیا، مجھے پتہ تھا کہ بڑی ہمت سے اس نے اپنے آنسو روکے تھے۔ پھر ہم لوگ اس سے رخصت ہو گئے تھے۔ میں نے مڑ کر ایک آخری نظر ڈالی۔ میں نے دیکھا تھا ضبط کے بند ٹوٹ چکے تھے، جان جالیوں سے چپکا ہوا تھا، آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا تھا۔ بغیر کسی روک ٹوک کے میرے قدم بھاری ہو گئے تھے۔ میں تیز ہو گیا تھا کہ کہیں انجم بھی مڑ کر نہ دیکھے۔

دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں اور مہینہ سال میں بدل گئے۔ نہ مجھے فرصت تھی اور نہ ہی جان کا کوئی خط آیا تھا۔ انجم نئے لوگوں، نئے اسکول میں آ کر جلد ہی برمنگھم کو بھول گئی تھی۔ وہ سب کچھ ایک خواب سا لگتا تھا۔

ایک دن لندن سے رجسٹرڈ لفافہ آیا تھا، فرینک اینڈ فرینک وکیلوں کی کمپنی کی طرف سے جس میں جان کی موت کی خبر تھی۔ وہ سڑک پر ایک حادثے میں زخمی ہوا تھا پھر دس دن ہسپتال میں رہ کر چل بسا تھا۔ لفافے میں وصیت کی ایک کاپی تھی جس کے مطابق جان کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ فروخت کر کے آدھے کا بینک آرڈر انجم کے نام تھا اور بقیہ آدھا اینڈریو کے لئے آسٹریلیا بھیج دیا گیا تھا۔

یہ جو خوبصورت مکان ہے، قیمتی اور بڑا، یہ میرا نہیں ہے۔ یہ انجم کا ہے، جہاں ہم سب رہتے ہیں اور اس مکان کا نام انجم منزل نہیں ہے اس کا نام جان لاج ہے اور اس کتبے کے نیچے لکھا ہوا ہے ”بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت۔“ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے ہم اس کو یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ اپنے اس اجنبی دوست کو، جس نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ محبت کی صرف ایک ہی شرط ہوتی ہے اور وہ یہ کہ محبت بے لوث، بے غرض اور غیر مشروط ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *