شاہ حسین: پنجابی شاعری میں کافی کی صنف کا علمبردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھتیس سال کی عمر تک بہت ہی کٹھن عبادت اور ریاضت کی۔ دن کو روزہ رکھتے، ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ پھر یہ معمول بنایا کہ رات کا پہلا حصہ دریائے راوی کے پانی میں کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے اور تہجد کے وقت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار والی مسجد میں آ جاتے۔ یہاں تہجد اور فجر کی نماز کے بعد دن چڑھے تک وظیفہ کرتے۔ پھر ایک دن یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لہو و لعب کی دنیا میں جا بسیرا کیا اور باقی ساری زندگی اسی میں گزار دی۔ یہ تھے شاہ حسین مادھو لال۔

شاہ حسین 1539ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ تذکرہ کے مصنف کے مطابق ان کے آباء و اجداد ہندو تھے۔ جنہوں نے فیروز شاہ کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔ بابا بدھ سنگھ کا کہنا ہے کہ آپ کے پڑدادہ نے اسلام قبول کیا۔ وہ راجپوتوں کے قبیلہ دھٹا سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کو نومسلم کی حیثیت سے شیخ کہتے تھے۔ یہ مغل شہنشاہ اکبر کا دور تھا۔ اس وقت ان کا خاندان غربت کی لپیٹ میں تھا۔ والد محترم کا نام شیخ عثمان تھا، جو جولاہوں کا کام کرتے تھے۔ شاہ حسین نے ساری زندگی کبھی کوئی کام نہیں کیا لیکن خاندان کے کسب کی نسبت سے وہ اپنے آپ کو حسین جولاہا کہتے تھے۔

یار اس کسبے دے وچ بہت عالم فاضل ہویا
پر شاہ حسین کبیر جولاہا درگاہ جا کھلویا

(اس پیشے میں بہت سے کاریگر تھے لیکن شاہ حسین اللہ کے گھر کی طرف رجحان رکھتا تھا) شاہ حسین کے والدین نے بچپن میں ہی انھیں قرآن مجید حفظ کرنے کے لئے مولانا ابوبکر کے مدرسے میں داخل کرایا۔ شیخ بہلول چنیوٹ ضلع جھنگ کے ایک صوفی درویش ولی اللہ بزرگ تھے، ان کا مولانا ابوبکر کے مدرسے میں آنا جانا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دریائے راوی شاہی قلعہ کے بالکل نزدیک ہی بہتا تھا۔ شیخ بہلول صاحب نے چھوٹے سے حسین کو دریا سے وضو کے لئے پانی کا لوٹا بھر کر لانے کو کہا۔

وہ جھٹ پٹ لے آئے۔ بزرگ نے ان کی بھولی بھالی صورت اور ان میں خدمت کی لگن دیکھی۔ ان کو قرآن مجید حفظ کرنے میں محو پا کرجلد علم کے حصول کی دعا دی اور اپنا شاگرد بنا لیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ لاہور تشریف لائے تو شاہ حسین کو داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دینے کی تلقین کی اور صوفی طریق کا مطالعہ کرنے کو کہا۔ شاہ حسین نے اس کے بعد ریاضت و مجاہدہ کو اپنا معمول بنا لیا۔ ساری رات دریائے راوی کے کنارے قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔

تہجد اور فجر کی نماز داتا گنج بخشؒ کے مزار والی مسجد میں پڑھتے اور پھر دن علم کے حصول میں گزار دیتے۔ چھبیس سال کی عمر میں وہ مزید دینی تعلیم کے لئے لاہور کے مشہور اور عالم فاضل بزرگ استاد شیخ سعد اللہ کے مدرسہ میں داخل ہوئے۔ وہاں انہوں نے تصوف پر بہت سی کتابیں پڑھیں۔ وہ اپنے استاد محترم سے قرآن مجید کی تفسیر پڑھتے تھے۔

انہی دنوں کی ایک روایت ہے کہ وہ اپنے ساتھی طلبا کے ساتھ مدرسے سے گھر واپس جا رہے تھے تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ انہوں نے اللہ کا راز ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کامیابی پر خوش ہو کر انہوں نے اپنی کتابیں کنویں میں پھینک دیں۔ ان کے ساتھی طلبا اس بات پر مشتعل ہو گئے تو انہوں نے کتابوں کو کنویں سے باہر آنے کا حکم دیا۔ کتابیں کنویں سے باہر آ گئیں تو ساتھیوں نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ سب کتابیں بالکل خشک تھیں۔

انہوں نے دس سال اس مدرسہ میں گزارے۔ میاں مولابخش کشتہ اپنی کتاب پنجابی شاعراں دا تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ ایک دن شاہ حسین اپنے استاد محترم شیخ سعد اللہ سے تفسیر مدارک کا سبق لے رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے۔ و ما الحیوٰۃ الدنیا الا لہو و لعب، استاد محترم نے اس کا ترجمہ کیا کہ دنیا ایک کھیل کود کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ سن کر آپ پر ایک مجذوبی کیفیت طاری ہو گئی۔ ناچتے کودتے مکتب سے باہر آ گئے اور تمام قواعد و ضوابط کو ترک کرتے ہوئے ناچنا گانا اور شراب پینا شروع کر دیا۔

آپ کے مرشد شیخ بہلول کو اس بات کا علم ہوا تو وہ لاہور تشریف لائے، آپ کو پاس بٹھا کر سنجیدگی سے زندگی دین اور شریعت کے مطابق گزارنے کی تلقین کی۔ مغرب کی نماز کے وقت آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ آپ نے قرآن مجید کی سورۃ الم نشرح کی تلاوت شروع کی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ الم نشرح لک صدرک ( کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا ) تو وہ کھل کھلا کر ہنس پڑھے، نماز توڑ دی۔ اس کے بعد ان کی زندگی کے ستائیس سال ایسی ہی مجذوبیت اور جذب و سکر کے عالم میں گزر گئے۔

انہوں نے لال رنگ کا لباس پہننا شروع کر دیا اور لال حسین کہلانے لگے۔ سلسلہ قادریہ میں سماع اور قوالی ممنوع نہیں ہے۔ حسین کو بھی ناچنے، گانے اور موسیقی کا شوق پیدا ہو گیا۔ وہ آزادانہ رقاصوں، موسیقاروں کی صحبت میں رہنے لگے۔ قادریہ سلسلہ میں عام طور پر رقص و موسیقی اور سماع کو برا خیال نہیں کیا جاتا تھا لیکن وہ کبھی ایسی انتہا تک نہیں پہنچے تھے جہاں شاہ حسین پہنچ گئے تھے۔ شاہ حسین نے اپنی داڑھی اور مونچھیں صاف کر لی تھیں۔ حسنات العارفین کے ایک مضمون کے مطابق وہ ان افراد کو شاگرد ماننے سے انکار کر دیتے، جو داڑھی منڈوانے سے انکار کرتے۔

شاہ حسین کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے انکار اور نظر انداز کرنے پر کچھ حکومتی اہلکاروں نے انہیں سزا دینے کا سوچا۔ لیکن شاہ حسین کی خوش قسمتی کہ وہ شہنشاہ اکبر کے دور میں زندہ رہے جس کی صوفیوں سے محبت ضرب المثل تھی۔ دارا شکوہ کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حسین کو مانتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ شہزادہ سلیم اور شہنشاہ اکبر کے حرم کی خواتین شاہ حسین کی ما فوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتی تھیں اور ان کا ان کے دل میں بہت احترام تھا۔ شہزادہ سلیم نے ان کے روزمرہ کے کاموں کو ریکارڈ کرنے کے لئے بہار خان نامی ایک افسر کو تعینات کیا تھا۔ بہار خان کی تحریر کردہ ڈائری کو وہ روز چیک کرتا تھا۔ بعد میں ان کے اقوال اور کلام کو مرتب کر کے اس کا نام بہاریہ رکھا گیا۔

صوفی بننے کے بعد شاہ حسین نے عوامی سطح پر تبلیغ شروع کی۔ صوفی ازم کا پرچار شروع کیا۔ ایک دن راوی کے اس پار شاہدرہ کے ایک برہمن لڑکے نے ان کی مجلس میں شرکت کی اور ان کی تعلیمات میں گہری دلچسپی لی۔ یہ دلچسپی شاہ حسین کو بھا گئی اور وہ اس خوبصورت برہمن لڑکے سے منسلک ہو گئے۔ ان کی دوستی جب زیادہ بڑھی تو روز ملنا جلنا شروع ہو گیا۔ جب مادھو لال ان کے پاس آنے میں ناکام ہوتے تو حسین خود ان کو ملنے ان کے گھر چلے جاتے۔

لڑکے کے والدین کو یہ بات پسند نہیں آئی تو انہوں نے لڑکے کو ملنے سے روکنے کی کوشش کی جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اپنے بچے کو صوفی سے الگ کرنے کے خواہاں والدین نے اسے ایک خاص تہوار پر گنگا اشنان کے لئے جانے پر آمادہ کیا۔ جب مادھو نے شاہ حسین کو اپنے گنگا جانے کی اطلاع دی تو وہ بہت پریشان ہوئے اور لڑکے کو والدین کے ساتھ نہ جانے کی التجا کی۔ حسین نے مقررہ دن لڑکے کو گنگا میں اشنان کرانے کا وعدہ کر لیا۔

اس پر مادھو نے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ مادھو کے والدین اکیلے ہی ہردوار چلے گئے۔ اشنان والے دن شاہ حسین نے لڑکے کو آنکھیں بند کرنے کو کہا اور جب اس نے ایسا کیا تو اس نے اپنے آپ کو اپنے والدین کے ساتھ گنگا کنارے پایا۔ اشنان کے بعد اس نے پھر اپنے آپ کو اپنے گھر شاہدرہ میں موجود پایا۔ اس کے والدین نے واپسی پر اپنے بیٹے کے گنگا میں ان کے ساتھ اشنان کرنے کی تصدیق کی کہ وہ مقررہ دن ان کے ساتھ اشنان کرتے وقت ان کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ روایت کے مطابق اس معجزے نے مادھو کو بہت متاثر کیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔

حسین اس لڑکے کے گھر جاتے۔ والدین اکثر اسے روکتے اور کہتے کہ مادھو گھر پر نہیں ہے۔ حسین مایوس ہو کر واپس آ جاتے۔ ایک دن جب والدین نے لڑکے کو دیکھنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ تو وہ دوسری بار پھر اس کے گھر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ رو رہے ہیں۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ مادھو کا انتقال ہو گیا ہے۔ حسین اونچی آواز میں ہنس پڑے اور لاش کی طرف دیکھ کر چیخ کر کہا۔ اٹھو مادھو آپ اس گھڑی کیوں سوتے ہو۔ اٹھو دیکھو میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ یہ سن کر مادھو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ اور پھر کبھی واپس اپنے گھر نہیں گیا۔ وہ مسلمان ہو گیا۔

مذہبی تبدیلی کی یہ دونوں روایات افسانوی لگتی ہیں اور لگتا ہے کہ بعد میں بنائی گئی ہیں۔ کیونکہ مذہبی روایات سے بغاوت کرنے والا شاہ حسین کیسے اپنے دوست کا مذہب تبدیل کر سکتا ہے۔ دوسرا مادھو نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا اس لئے یہ بات دل لگتی ہے کہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا ہو گا۔ بعد میں مادھو کو شیخ مادھو کے نام سے جانا جاتا تھا۔

مادھو کے لئے حسین کی محبت انفرادیت رکھتی تھی۔ شاہ حسین نے مادھو لال کی محبت میں اس کو خوش رکھنے کے لئے سب کچھ کیا۔ شاہ حسین 53 سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی موت 1593 میں شاہدرہ میں ہوئی اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ 31 سال بعد ان کو دریا کے بہاؤ اور کٹاؤ کی وجہ سے یہاں سے نکال کر باغبانپورہ میں دفن کیا گیا۔ مادھو کی وفات کے بعد شاہ حسین کے پاؤں کی طرف انہیں دفن کیا گیا۔ موجودہ مقبرہ باغبانپورہ گاؤں کے شمال میں بنایا گیا تھا۔

اونچے پلیٹ فارم پر دو قبریں ہیں۔ ایک شاہ حسین اور دوسری مادھو لال کی۔ اصل قبریں مقبرے کے زیر زمین ہیں اور ان کے اوپر پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جس پر لال پتھر کا کام ہوا ہے۔ دیوار کے شمال میں ایک مینار ہے اور مغرب میں مسجد واقع ہے۔ اس مسجد کی تعمیر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مسلمان بیوی مورا نے کروائی تھی۔

شاہ حسین اپنے دور کے ایک مشہور صوفی شاعر تھے جنہیں پنجابی شاعری میں کافی کی صنف کا علم بردار سمجھا جاتا ہے۔ کم عمری میں ہی انہوں نے قرآن حدیث، فقہ، فارسی، منطق، ریاضی، طب اور دیگر علوم پر دسترس اور عبور حاصل کر لیا تھا۔ لیکن ان کی شہرت کی وجہ ایک ہندو لڑکے سے ان کی محبت تھی۔ ایک طویل عرصہ تک شاہ حسین اور مادھو لال کی محبت ایک مہما بنی رہی۔ ان کی محبت کی کہانی بہت حیران کن اور بہت سے ذہنوں کو حیرت زدہ کر دینے والی ہے۔

لیکن ان کا مزار ایک قدآور جزیرے کی طرح کھڑا ہے۔ جس میں جہالت، تعصب اور دوہرے معیار کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کی قبریں ازل سے پیار کی علامت اور ممنوع معاشرے کے لئے ایک چیلنج کے طور پر شانہ بشانہ ہیں۔ ان کی محبت سمجھنے کے لئے ہمیں صوفی مسلک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جس کی پیروی شاہ حسین نے کی اور یہ ملامتیہ صوفیانہ مسلک ہے۔ ملامتیہ خود پر الزام کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تقویٰ ایک نجی معاملہ ہونا چاہیے۔

وہ نہیں چاہتے کہ ان کا تقویٰ ان کی شہرت کا باعث بنے۔ شاہ حسین نے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے علم کو چھپایا اور اس بات پر عمل پیرا ہوئے کہ ان کے عیبوں کو دیکھ کر دنیا ان پر مختلف سوال اٹھائے گی۔ مادھو سے ان کے تعلق پر دنیا نے ان پر مختلف سوال اٹھائے لیکن شاہ حسین کے لئے یہ بات بری نہیں تھی۔ دنیا نے انہیں مختلف ناموں سے پکارا لیکن ان کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ان کے نزدیک نیک نامی کبھی عزت اور قیمتی نہیں تھی۔ ایک ملامتی معاشرتی نظم و نسق کو چیلنج کرتا ہے اور معاشرے کے جھوٹ پر بنے اصولوں کو بدلنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ایک باغی ہے۔

مادھو لال، شاہ حسین کا روحانی ساتھی تھا۔ شاہ حسین مادھو کو اپنے ساتھ صوفی مسلک کی طرف لے جانے والے رہنما تھے۔ ہم صوفی روایات میں روحانی محبت اور رفاقت کی متعدد مثالیں دیکھتے ہیں ، ان میں سب سے مشہور مثال مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز کی محبت ہے۔ ایک ایسی ہی محبت کی دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ وہ محبت ہمیں ایک ایسے دائرے میں اکٹھا کر سکتی ہے جہاں ہر وجود کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور اس کو مانا جاتا ہے۔ اسی مساوات کا درس ہمیں اسلام دیتا ہے۔ ایسی مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا میں جہالت اور عدم رواداری کا اختتام صرف تصوف کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں کھلے عام باہمی تضادات اور اختلاف رائے کو قبول کرنے کی کلید ہے جو دنیا کو رہنے کے لئے بہتر جگہ بنانے کا موجب بنتی ہے۔

شاہ حسینؒ کے کلام اور ان کی بولی میں رس، لوچ اور مٹھاس کے ساتھ بڑی روانی ہے۔ ان کے تصوف کے خیال بھی بہت اونچے ہیں۔ وہ روحانیت سے بھرپور ہین اور ان سے عاجزی، انکساری اور محبت کا سبق ملتا ہے۔ ان میں اخلاق کا درس اور فلسفہ ہے۔ اپنی کسی کافی میں شراب، راگ رنگ یا ہنسی مذاق اور ٹھٹھا پیش نہیں کیا ہے۔ صرف یہی کہا کہ دنیا عارضی ہے۔ دنیا کا سب مال متاع، دولت، مکان، زمین سب فانی ہے۔ صرف اپنے رب سے پیار کرو۔ آپ کے کلام میں مٹھاس کے علاوہ پاکیزگی ہے۔

کلام میں انہوں نے زیادہ تر عشق مجازی کے بیان سے کام لیا ہے۔ محاورے، تشبیہات اور استعارے عام بولی جانے والی زبان سے لیے ہیں۔ چرخہ (جسم ) باغ، پونی، گوہڑا، سکھی جیسے الفاظ کا استعمال عام ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ملتانی، لاہوری، پوٹھوہاری، ہندی اور فارسی کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ سارے کلام میں شراب، صراحی یا پیالے کا نام نہیں لیا اور نہ ہی رندی کا ذکر کیا ہے۔ بہت سادہ زبان کے الفاظ دل میں سما جاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور ہماری ڈور اسی اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی عاقبت سوار لیں ورنہ قبر میں جا کر پچھتانا پڑے گا۔

ساجن دے ہتھ ڈور اساڈی میں ساجن دی گڈی
ایس ویلے نوں پچھوتاسیں جد جا پوئیں وچ کھڈی

یوں تو شاہ حسین کی ساری کافیوں میں بہت بہت گہری اور رمز کی باتیں کہی گئی ہیں۔ ان کی کافیاں بہت آسان زبان میں ہیں لیکن یہ ان کی ایک مشکل کافی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں کسی نے سدا بیٹھا نہیں رہنا۔ اس لئے آگے یعنی دوسری دنیا میں چلنے کی کوئی بات کرو۔

ایتھے رہنا ناہیں، کوئی بات چلن دی کروو ٭ وڈے اچے محل اساریو گور نمانی تیرا گھر وو
جس دیہی دا توں مان کرینا ایں، جیوں پرچھاویں ڈھر وو ٭ چھوڑ ترکھائی، پکڑ حلیمی، بھے صاحب تھیں ڈر وو
کہے حسین حیاتی لوڑیں، تاں مرن تھیں اگے مروو

(یہاں کسی نے سدا بیٹھا نہیں رہنا اس لئے جانے کی بات کرو۔ تم نے یہاں بہت محل اور ماڑیاں بنا رکھی ہیں تمہیں پتہ نہیں کہ دو گز کی قبر ہی تمہارا گھر ہے۔ اپنے جس جسم، طاقت اور صحت کا تم کو بہت گھمنڈ ہے وہ تو ایک ڈھل جانے والے پرچھاویں کی مانند ہے۔ اپنی تندی و تیزی کو چھوڑو۔ سادگی اور عاجزی کو اپناؤ، خدا کا خوف کھاؤ۔ حسین تو یہی کہتا ہے کہ اگر تم کو ابدی حیات چاہیے تو زندگی میں ہی اپنے نفس کی دنیاوی خواہشات کو ختم کرو اور اچھے کام کرو تو دنیا میں ہی تمہیں ابدی زندگی ملے گی۔)

عملاں دے اپر ہوگ نبیڑا، کیا صوفی کیا بھنگی ٭ جو رب بھاوے سو ای تھیسی، سائی بات ہے چنگی
آپے ایک، انیک کہاوے، صاحب ہے بہہ رنگی ٭ کہے حسین سہاگن سائی، جو شوہ دے رنگ رنگی

عموماً صوفی شعراء اپنے آپ کو مؤنث کے صیغہ سے مخاطب کرتے ہیں۔ جو اپنے شوہ یعنی مرشد، محبوب، اپنے صاحب کی محبت میں مبتلا ہے۔ اس کافی میں آپ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن عملوں کی بناء پر فیصلے ہوں گے۔ چاہے کوئی اللہ والا ہو یا کوئی مہتر یا خاکروب۔ جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا اور یہی صحیح بات ہے۔ اس کے نزدیک نیک، پرہیزگار اور عاجز ہی سرخرو ہوں گے۔ اپنے آپ نیک کہلانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ وہ ہی وحدہ ہو لاشریک ہے اور اس کے کئی رنگ ہیں۔ وہ سب کو بہتر جانتا ہے کہ کون کیسا ہے۔ حسین فقیر یہی کہتا ہے کہ سہاگن وہی ہے جو پیا کو پسند آئے اور جو اپنے محبوب کے رنگ میں رنگی ہو۔ اگر نجات پانی ہے تو اللہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلو اور اسی راستے پر چلنے میں بھلائی ہے۔

مندی ہاں کہ چنگی ہاں بھی، صاحب تیری بندی ہاں ٭ گہلا لوگ جانیں دیوانی، نی رنگ صاحب دے رنگی ہاں
ساجن میرا اکھیں وچ وسدا، گلئیں پھری نشنگی ہاں ٭ کہے حسین فقیر سائیں دا، میں ور چنگے نال منگی ہاں

شاہ حسین اس خوبصورت کافی میں اپنے رب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ بھلے میں اچھی ہوں یا بری لیکن پھر بھی میں آپ کی بندی ہوں۔ بے وقوف اور جاہل لوگ مجھے دیوانی سمجھتے ہیں لیکن میں تو اپنے صاحب کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوں۔ میرا محبوب تو میری آنکھوں میں بستا ہے لیکن میں اس بات سے بے خبر اور غافل گلیوں میں گھوم رہی ہوں اسے ڈھونڈنے کے لئے۔ سائیں کا فقیر حسین کہتا ہے کہ میری تو نسبت ایک بہت اچھی جگہ بن گئی ہے۔

اس کافی میں یہ پیغام دیا ہے کہ اے خدا میں اچھا ہوں یا پھر برا ہوں لیکن پھر بھی آپ کا بندہ ہوں۔ میں آپ کی محبت میں سب کچھ بھول چکا ہوں لیکن لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں۔ میں ایسے ہی گلیوں میں مارا مارا گھوم رہا ہوں اور مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ آپ تو میری آنکھوں میں، میرے دل میں بستے ہیں۔ لیکن پھر بھی مجھے اطمینان ہے کہ میری آپ سے نسبت ہے۔ یہ ان کی ایک مختصر کافی ہے جس میں انہوں نے بڑی سادہ باتیں کی ہیں۔

ان کی ہر کافی میں کوئی نہ کوئی اچھا پیغام پنہاں ہوتا ہے۔ اس کافی میں بھی کافی گہری بات انھوں نے کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے محبوب کے گھر جانا چاہتی ہوں۔ کوئی اس سفر میں میرا ساتھ دے اور میرے ساتھ چلے۔ میں سب کے پاؤں پڑتی ہوں۔ منتیں کرتی ہوں، لیکن مجھے اکیلے جانا پڑ رہا ہے۔ محبوب کے گھر جانے والے رستے میں پڑنے والی ندی بہت گہری ہے اور میری کشتی بہت پرانی اور بریدہ ہے۔ دریا کے دوسرے کنارے پر شیروں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

ایسے میں اگر کوئی میرے محبوب کی خبر مجھے لا کر دے تو میں اسے اپنے ہاتھ کی انگوٹھیاں اتار کر انعام کے طور پر دیتی ہوں۔ میرے محبوب کے دیے ہوئے زخم ابھی تازہ ہیں جس وجہ سے میری رات درد میں گزرتی ہے ۔ میں بدقسمت اور بے سہارا ہوں۔ میرا طبیب میرا محبوب ہی ہے جس کے پاس میرا علاج ہے۔ میرے جسم کا درد وہی سمجھ سکتا ہے اور صرف وہی اس کا علاج کر سکتا ہے۔ حسین فقیر یہ کہتا ہے۔ کہ مالک نے بلاوہ بھیجا ہے۔ اس کافی میں آپ نے بہت ہی گہری باتیں کی ہیں۔

میں بھی جھوک رانجھن دی جانا، نال میرے کوئی چلے ٭ پیراں پوندی، منتاں کردی، جاناں تا پیا اکلے
نیں بھی ڈونگھی، تلا پرانا، شہیناں تاں پتن ملے ٭ جے کوئی خبر متراں دی لیاوے، ہتھ دے دینی اں چھلے
راتیں درد، دہیناں درماندی، گھاؤ متراں دے آلھے ٭ رانجھن یار طبیب سنیندا میں تن درد اولے
کہے حسین فقیر نمانا، سائیں سنیوڑے گھلے

سولویں صدی میں فارسی اور پنجابی زبانیں پنجاب میں بولی جاتی تھیں۔ یہی شاہ حسین کا دور تھا جس میں کافی مشکل پنجابی بولی اور سمجھی جاتی تھی اس لئے ان کی کافیوں میں بھی بہت سے ایسے الفاظ بھی انہوں نے استعمال کیے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ اب عام بول چال میں متروک ہو چکے ہیں۔ ان کی اس کافی بھی میں بھی بہت سی گہری رمزیں پنہاں ہیں۔

بندی اے گل سجن نال میلا کرئیے
خوار پڑا متر رانجھن، سارے باہلیے نیں ترئیے ٭ بھو ساگر، ، بکھڑات بھاری، سادھاں دے بیڑے چڑھئیے
سائیں کارن جوگن ہواں، کرئیے جو کجھ سرئیے ٭ لکھ ٹکا شرینی دیواں، جے شوہ پیارا ورئیے
ملیا یار ہوئی روشنائی، دم شکرانے دا بھرئیے ٭ ہے حسین حیاتی لوڑیں، تاں جیوندیاں ای مرئیے

یہی بات طے ہوئی ہے کہ محبوب سے ملاقات ہو جائے۔ محبوب خوار ہو رہا ہے۔ کیونکہ بہت سی ندیاں پار کرنی ہیں۔ اپنی ہستی کا سمندر بہت خوفناک اور خراب ہے ، اس کو چھوڑ کر اللہ والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اپنے اندر کے وحشی نفس کو مار کر نیک لوگوں کی راہ پر چلنا ہے۔ اپنے سائیں سے ملنے کی خاطر جوگ اپنانا پڑے تو کوئی بات نہیں، جو کچھ ہو سکتا ہے اپنے محبوب کے لئے کرنا ہے۔ میں ایک لاکھ روپیہ شرینی نیاز دیتی ہوں اگر میرے محبوب سے میرا وصال، ملاپ ہو جائے۔ جب محبوب مل گیا تو میری زندگی میں روشنی اور بہار آ گئی جس کے لئے میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں۔ حسین کہتا ہے کہ اگر ابدی زندگی چاہیے تو اپنے اندر کی خواہشوں کو ختم کر لے۔ دنیاوی خواہشوں کو مار کر ابدی زندگی ملتی ہے۔

دنیا کی بے ثباتی اور اس دنیا کے فانی ہونے کا سب صوفی شعراء اور بزرگان دین نے اپنے کلام اور اپنے نصیحتوں میں ذکر کیا ہے۔ اسی خیال پر ان کی یہ مختصر مگر ایک خوبصورت کافی ہے۔

دنیا جیون چار دیہاڑے، کون کسے نال رسے ٭ جیں ول ونجاں موت تنے ول، جیون کوئی نہ دسے
سر پر لدنا ایس جہانوں، رہنا تا ناہی کسے ٭ کہے حسین فقیر سائیں دا، موت وٹیندڑی رسے

یہ زندگی چار دن کی ہے اس میں کسی سے کیا روٹھنا۔ جس طرف جائیں اسی طرف موت راستہ روک کے کھڑی ہے۔ سب نے اس دنیا سے چلے جانا ہے کیونکہ یہ زندگی تو فانی ہے۔ کسی نے بھی سدا یہاں نہیں رہنا ہے ، سب نے ہی ایک دن چلے جانا ہے۔ سائیں کا فقیر حسین بھی یہی کہتا ہے کہ موت حیاتی کو ختم کرنے کے لئے رسے تیار کر رہی ہے۔

یوں تو آپ کی ساری کافیوں میں بہت سبق آموز درس پوشیدہ ہیں لیکن ان کی اس کافی میں بہت ہی غنایت ہے۔ اس کافی کو سرحد کے دونوں طرف کے گلوکاروں نے بہت ڈوب کر گایا ہے۔

من اٹکیا بے پرواہ نال ٭ او دین دنی دے شاہ نال
قاضی ملا متیں دیندے ٭ کھرے سیانے راہ دسیندے ٭ عشق کی لگے راہ نال
ندیوں پار رانجھن دا ٹھانہ ٭ کیتا کول ضروری جانا، ٭ منتاں کراں ملاح نال
کہے حسین فقیر نمانا ٭ دنیا چھوڑ آخر مر جانا ٭ اوڑک کم اللہ نال

میرا دل اس بے پرواہ سے لگ گیا ہے جو اس پوری کائنات کا رب ہے۔ مجھے قاضی اور ملا دونوں نصیحتیں کرتے ہیں اور بڑے بڑے سیانے لوگ سیدھا رستہ دکھاتے ہیں لیکن میرا اپنے رب سے عشق یہ ساری باتیں کب سنتا ہے۔ ندی سے اس پار محبوب کا گھر ٹھکانا ہے اور قول دیا ہوا ہے اس لئے ضرور جانا ہے۔ میں ملاح کی منتیں کر رہا ہوں۔ غریب حسین فقیر کہتا ہے کہ ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ اس فانی دنیا کا اس سے بہترین تصور اور کہیں بہت کم ملتا ہے۔ یہ دنیا فانی ہے اور سب نے اس دنیا سے ایک دن رخصت ہونا ہے۔ اور ایک دن اللہ کے حضور میں پیش ہو کر حساب کتاب دینا ہے۔

نی سیؤ! اسیں نیناں دے آکھے لگے
جیہناں پاک نگاہاں ہوئیاں سے کہیں نہیں جاندے ٹھگے
کالے پٹ نہ چڑھے سفیدی، کاگ نہ تھیندے بگے
شاہ حسین شہادت پائین، جو مرن متراں دے اگے

میری سہیلیو میں نے اپنی آنکھوں کی بات مان لی۔ جن کی نگاہوں میں پاکیزگی ہوتی ہے ، ان کو کوئی ٹھگ نہیں سکتا اور نہ کوئی ان کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ کالے کپڑے پر سفید رنگ نہیں چڑھ سکتا اور نہ ہی کوا سفید رنگ کا ہو سکتا ہے۔ شاہ حسین کہتا ہے کہ شہادت کا رتبہ وہی پائیں گے جو اپنے محبوب کی راہ میں جان دیتے ہیں۔

محبوب کی جدائی اور اس کا وصال نہ ہونے کی کیفیت کو شاہ حسین سے زیادہ اچھا کون بیان کر سکتا ہے۔ یہ اسی کیفیت کے بارے میں ایک خوبصورت کافی ہے۔

سجن بن راتاں ہوئیاں وڈیاں
رانجھا جوگی، میں جوگیانی، کملی کر کر سڈی آں
ماس جھڑے، جھڑ پنجر ہویا، کڑکن لگیاں ہڈیاں
میں ایانی، نہیوں کی جاناں، برہوں تناواں گڈیاں
کہے حسین فقیر سائیں دا، دامن تیرے میں لگی آں

محبوب کے بغیر راتیں بہت ہی لمبی ہو گئی ہیں۔ میرا رانجھن میرا جوگی ہے اور میں اس کی جوگن ہو گئی ہوں۔ سب مجھے کملی اور جھلی کہتے ہیں۔ میرے جسم کا سارا گوشت سوکھ گیا ہے۔ اور میں سوکھ کر پنجر ہو گئی ہوں حتیٰ کہ میری ہڈیاں ناطاقتی کی وجہ سے کڑکڑ کرنے لگی ہیں۔ میں چھوٹی عمر کی بالڑی ہوں ، میں محبت اور پیار کو کیا جانوں۔ جدائی نے پہلے ہی ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ اس نے میری ڈوریاں کھینچ رکھی ہیں۔ سائیں کا فقیر شاہ حسین کہتا ہے کہ میں تیرے دامن سے لگ گئی ہوں۔ میری نسبت تم سے ٹھہر گئی ہے۔

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ اور وکی پیڈیا کے علاوہ مندرجہ ذیل کتابوں اور مندرجات سے مدد لی گئی ہے۔

پنجابی شاعراں دا تذکرہ۔ مصنفہ میاں مولا بخش کشتہ امرتسری۔ مطبوعہ عزیز پبلشرز اردو بازار لاہور۔

Article of Lajwanti Rama Krishna on Shah Hussain published in Wichaar Web Magzine. Wichaar.com

Article by Najam Ul Hassan Syed on Shah Hussain

Shah Hussain – the pioneer of Punjabi kafi by Tariq Qureshi published in Daily Times


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments