امر تو امر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امر کا ہندی زبان میں مطلب ہے جو کبھی فنا نہ ہو یعنی لافانی۔ امر جلیل سندھی زبان کا وہ لکھاری ہے جو برسوں سے نوجوان ہے۔ اس لیے ہی وہ امر ہیں۔

میں امر جلیل کی کتابیں اپنے اسکول کے دنوں سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کی ہر کہانی، افسانہ یا تحریر مجھے اپنی لگتی ہے۔ انہیں پڑھ کر ہی مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔

میری امر جلیل سے کبھی رو بہ رو ملاقات نہیں ہوئی۔ ان سے صرف ادبی پروگرامز میں ملا ہوں۔ ایک ہی شہر میں رہ کر ان سے نہ ملنا میری بدنصیبی ہے۔ ان سے ملنے کی خواہش دل میں برسوں سے ہے۔ اس لئے میں نے ایک بار نہیں کئی بار اپنے دوست امین خاصخیلی سے امر جلیل سے ملنے کا کہا مگر یہ خواہش تاحال خواہش ہی ہے۔

امر جلیل

میں نے ہائی اسکول کی لائبریری سے کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ پہلی کتاب جو پڑھی تھی وہ نکولائی گوگول کی دی انسپیکٹر جنرل کا سندھی ترجمہ ’انکوائری افسر‘ تھی۔ یہ ترجمہ شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ نے کیا تھا۔ کتاب جتنی شاندار تھی اتنا ہی ترجمہ۔

پھر جو کتابیں پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا وہ رکا نہیں، بدستور جاری ہے۔ ابتدا میں جو کتابیں پسند آئیں ان میں گورکی کا ناول ماں، ہاورڈ فاسٹ کا ناول اسپارٹیکس، آسکروائلڈ کا ناول دی پکچر آف ڈورین گرے، خلیل جبران کی کتابیں دی پرافیٹ، بروکن ونگس و دیگر کے ساتھ امر جلیل کی کتاب سندھو منھنجی ساہ میں سرفہرست ہیں۔

میں اپنی ایک تحریر میں اعتراف کر چکا ہوں کہ میرے دل میں سندھو سے محبت کی شمع بھی امر جلیل نے ہی جلائی۔ حالانکہ میرا تعلق سندھو دریا کے بائیں کنارے پر واقع چھوٹے سے شہر جھرک سے ہے۔ سندھو کا پانی پی کر میں بڑا ہوا۔ مگر میرے وجود میں سندھو کا احساس امرجلیل نے ہی جگایا۔ میں اگر ان کی کتاب ”سندھو مھنجی ساھ میں“ میں نہ پڑھتا تو شاید نہ محبت کبھی پیدار ہوتی اور نہ ہی لکھنے کا ہنر آتا۔

‘خبرون‘ اخبار میں ملازمت کے دوران ایک دو بار ان کے کالم ”سب جھوٹ“ کا سندھی زبان میں ترجمہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ مگر جو انہیں پڑھنے میں مزا اور لطف ہے وہ ترجمہ کرنے میں کہاں۔ میں نے اس کے بعد کبھی انہیں ترجمہ کرنے کی خواہش اور کوشش نہیں کی۔

امر جلیل نوجوان بزرگ ہیں اور وہ لکھتے صرف نوجوانوں کے لئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نوجوانوں کا رائٹر کہا جاتا ہے۔ یہ بات مجھ سمیت کئی پیڑھیوں میں بٹے ادب دوست مانتے ہیں۔

سادہ منش امرجلیل کے پبلشرز زیب سندھی، مرحوم طارق اشرف اور محمد علی ماجد بھی ان کی نیازمندی، سادگی اور محبت کے معترف ہیں۔

وہ ٹی وی شو میں ہوں یا کسی پروگرام میں ان کے سامعین میں ہر عمر کے افراد شامل رہتے ہیں۔

امر جلیل ادب کا دیوتا ہے۔ موئن جو دڑو کے کھنڈرات سے ملنے والی کنگ پریسٹ کی مورتی گویا انہیں کی ہے۔ اور پوری دنیا انہیں جانتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *