ڈاکٹرلبنیٰ مرزا: میری۔ ہم سب۔ کی پہلی ڈاکٹر دوست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ہفتے جب ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے فون پر بات ہوئی اور میں نے انہیں مبارکباد دی کہ امریکہ کے ڈاکٹروں نے انہیں بطور اینڈوکرونالوجسٹ ایوارڈ دیا ہے تو مجھے کسی کا قول یاد آیا کہ ایک مخلص دوست آپ کے دکھوں کو آدھا اور سکھوں کو دگنا کر دیتا ہے۔ اس کسوٹی پر پرکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا میری مخلص دوست ہیں۔

آج سے چار سال اور چار سو کالم پیشتر جب میں نے ’ہم سب‘ پر لکھنا شروع کیا تھا تو جس ڈاکٹر سے سب سے پہلے میری ملاقات ہوئی تھی وہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا تھیں۔ میں نے جب ان کے کالم پڑھنے شروع کیے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ زندگی کے بہت سے موضوعات اور مسائل پر میری ہم خیال نکلیں۔ میں نے جب جنسیات کی نفسیات پر ایک تفصیلی کالم لکھا اور اس حقیقت کا اظہار کیا کہ بہت سے پاکستانی مرد اور عورتیں hermaphrodite، homosexual، transsexual and transvestite لوگوں کو سائنس ’طب اور نفسیات کی بجائے مذہب اور اخلاقیات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا تفصیلی خط آیا اور میں نے جانا کہ وہ اس موضوع پر تخصص رکھتی ہیں اور اپنے شاگردوں کو یہ موضوعات پڑھاتی رہتی ہیں۔ اس طرح دو طبیبوں اور دو ادیبوں میں مکالمہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔

پھر ایک دن ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا فون آیا کہ وہ ایک ہفتے کے لیے کینیڈا آ کر میرے ساتھ میرے کلینک میں نفسیاتی مریض دیکھنا چاہتی ہیں اور مجھ سے کچھ نفسیات کے راز جاننا چاہتی ہیں۔ میں نے کہا۔ بصد شوق۔ چنانچہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا تشریف لائیں اور میں نے ان کا اپنی کینیڈین دوست بے ٹی ڈیوس ’اپنی منہ بولی بیٹی ایٖڈرئینا‘ اپنی بھانجی وردہ میر اور اپنے فیمیلی آف دی ہارٹ کے دوستوں سے تعارف کروایا۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کے جانے کے بعد میری بیٹی ایڈرئینا نے کہا کہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے ملنے کے بعد ان کا پاکستانی خواتین کے بارے میں تاثر بدل گیا ہے

جب میں نے پوچھا۔ کس طرح؟ تو کہنے لگیں انہوں نے ہمارے ساتھ ڈنر پر ریڈ وائن کا ایک گلاس بھی پیا اور اپنے کتے راجہ کا بھی بڑے پیار سے ذکر کیا۔ میری لیے یہ دونوں باتیں حیران کن تھیں۔

اس کے بعد جب ڈاکٹر لبنیٰ نے مجھے اوکلاہوما بلایا تو میں اور میری دوست زہرا نقوی دونوں امریکہ گئے اور میں نے گرین زون فلسفے پر لیکچر دیا جسے ان کے ہم خیال دوستوں نے بہت سراہا۔ وہاں میری ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کی فیمیلی آف دی ہارٹ سے ملاقاتیں ہوئیں جو مجھ سے بڑی محبت ’شفقت اور عزت سے ملے۔ میرے قیام کے دوران ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ان کی بیٹی مجھے ایک سیلون میں لے گئیں جہاں سب نے MANICURE AND PEDICUREکروایا۔ وہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا کہ ایک دختر خوش گل میرے پاؤں دھو کر میرے ناخن خوبصورت بنا رہی ہے۔ چونکہ مجھے ایسے تجربے کی عادت نہیں تھی اس لیے میں بہت گھبرایا لیکن ڈاکٹر لبنیٰ مرزا میری حیرانی و پریشانی سے بہت محظوظ ہوئیں۔ تجربے کے بعد جب سوال پوچھا گیا؟ REPEAT OR DELETE تو میں نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ڈیلیٹ اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے ہنستے ہوئے کہا ریپیٹ۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ایک طببیب بھی ہیں اور ادیب بھی۔ وہ ایک ایسی حقیقت پسند لکھاری ہیں جو زندگی کو اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور بدصورتیوں کے ساتھ قبول اور پیش بھی کرتی ہیں۔ وہ حقائق پر جذباتیت کا میک اپ یا ملمع کاری نہیں کرتیں۔ وہ زندگی کے مسائل کی ایک مسیحا کی طرح تشخیص کرتی ہیں اور پھر ان کا حقیقت پسندانہ حل پیش کرتی ہیں۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا جہاں ایک ہمدرد ڈاکٹر ہیں وہیں ایک ہمدرد دوست بھی ہیں۔ وہ ان گنت لوگوں کا خیال رکھتی ہیں۔ وہ ہر ہفتے میرا حال چال پوچھنے کے لیے ایسے فون کرتی ہیں جیسے کوئی محبت کرنے والی بیٹی یا بھتیجی اپنے والد یا چچا کو فون کرے۔ ان کی باتیں سن کر مجھے اپنی بھانجی وردہ میر یاد آ جاتی ہے جو بڑی محبت سے میرا خیال رکھتی ہے۔

میری نگاہ میں ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ایک ایسی پاکستانی ڈاکٹر ہیں جو بہت سی مشرقی لڑکیوں اور خواتین کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان کی تحریریں پڑھ کر کئی اور خواتین کو بھی۔ ہم سب۔ پر لکھنے کی تحریک ہوئی۔ ایک مرد ہوتے ہوئے میں اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ ایک پاکستانی ’ایک مشرقی اور ایک مسلمان خاندان کی عورت کو ایک غیر روایتی زندگی گزارنے کے لیے ایک مرد سے تین گنا زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تین گنا زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن لبنیٰ مرزا وہ قربانیاں مسکرا کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور میری دوستی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مشرقی مرد اور عورت کی دوستی ممکن ہے۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ایک طبیب ہی نہیں ایک ہمدرد استاد بھی ہیں۔ وہ اپنے بین الاقوامی طلبا و طالبات کی نہ صرف تعلیمی بلکہ نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ وہ ہر سال ان کے لیے گرین زون سیمینار کا اہتمام کرتی ہیں۔ پچھلے سال وہ سیمینار میں نے اور اس سال وہ سیمینار زہرہ نقوی نے دیا۔

جانے سے پہلے میں آپ کو ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کے چند دلچسپ اور محبت بھرے جملے سناؤں۔ ایک دن کہنے لگیں ’ڈاکٹر سہیل میں جب مذہبی شدت پسندوں کی باتیں سنتی ہوں اور وڈیو دیکھتی ہوں تو مجھے اب بھی غصہ آ جاتا ہے۔ میں آپ کی طرح درویشی کے اس مقام پر نہیں ہوں کہ ایسی باتیں سن کر مسکراتی رہوں۔ ہو سکتا ہے چند برس بعد میں بھی وہاں پہنچ جاؤں۔ پھر انہوں نے بیساختگی سے کہا DR SOHAIL، YOU ARE FUTURE ME

اور ہم دونوں ہنس دیے۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے ملاقات کے بعد میری “ہم سب” پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی، ڈاکٹر غزالہ قاضی، ڈاکٹر مجاہد مرزا اور ڈاکٹر شیر شاہ سے ملاقات ہوئی لیکن ڈاکٹر لبنیٰ مرزا میری “ہم سب” کی پہلی ڈاکٹر دوست تھیں۔

ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ “ہم سب” پر ڈاکٹروں کی ادبی اور سماجی خدمات نہ صرف قابل ذکر ہیں بلکہ قابل فخر بھی ہیں۔

اس کالم کے آخر میں میں ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کو ان کی ایک مزاحیہ شرط یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم میں سے جو۔ ہم سب۔ پر پہلے چار سو کالم لکھے گا وہ دوسرے کو مٹھائی کھلائے گا۔ چنانچہ میں نے وہ شرط جیت لی ہے اب انہیں چاہیے کہ امریکہ سے کچھ لڈو ’کچھ برفی اور کچھ چمچم کے ٹکڑے کینیڈا بھیجیں۔ کرونا کی وجہ سے وہ مٹھائی بھیجیں یا نہ بھیجیں میں انہیں کینیڈا سے ایوارڈ کی مبارکباد بھیج رہا ہوں۔ وہ جانتی ہیں کہ مجھے ان کی دوستی پر بجا طور پر فخر ہے۔

SO PROUD OF YOU DR LUBNA MIRZA. KEEP UP THE GOOD WORK

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 421 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *