مسیحا سلام سسٹرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے معاشرے میں بعض چیزیں کسی روایت کی مانند دماغوں میں ایسے گھسا دی گئی ہیں کہ لگتا ہے کہ اس پر عمل نہ کیا تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے اور شاید کسی کو منہ دکھانے جوگے بھی نہ ہوں گے، اس میں ایک نرسنگ پروفیشن کے بارے میں پھیلایا گیا عجیب و غریب اور ناپسندیدہ تأثر بھی ہے۔ آپ اپنے ارد گرد کسی بھی پڑھی لکھی فیملی سے پوچھیں کہ

تعلیم مکمل کروانے کے بعد بیٹی کو نرس کا پیشہ اختیار کرنے دیں گے؟

تو وہ پہلے تو گھور کر آپ کی طرف دیکھے گا اور پھر ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس کی دو چار الٹی سیدھی باتیں بھی سننی پڑ جائیں۔ خاکسار اکثر سوچتا کہ ایسا کیوں ہے؟ نرسنگ کا پیشہ تو بڑا معتبر ہے اور ایسا معتبر کہ اگر استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے تو اس کے بعد یہ واحد پیشہ ہے جس سے جڑی خواتین کو ”سسٹرز“ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اسی لفظ سے آپ اس اس پیشے سے وابستہ خواتین کا ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں سے احترام، محبت، خلوص اور اپنائیت کا اندازہ کر سکتے ہیں کیونکہ بہن کا رشتہ کسی بھی معاشرے میں لحاظ، مروت، بے غرضی، احساس اور قربانی کے جذبے سے سرشار سمجھا جاتا ہے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اس مقدس پیشے کو نامناسب خیال کیا جانے لگا ہے اور متوسط طبقے کے والدین بھی اپنی بچیوں کو اس پیشے کی طرف لانے سے ہچکچاتے ہیں؟

ظاہر ہے کہ کچھ ناتراشیدہ اذہان نے اپنی کم فہمی، کم علمی، جہالت، تنگ دلی، تنگ نظری اور گھٹیا سوچ کی وجہ سے اس پیشے کو بدنام کرنے کی منظم اور مذموم سازش رچائی اور اب تک وہ اس میں کامیاب بھی جا رہے ہیں کہ اس وقت جب کہ لڑکیاں بڑے شاپنگ پلازوں میں سیلز گرلز بنی ہوئی ہیں، جہاز اڑا رہی ہیں، پولیس پٹرولنگ اسکواڈ کا حصہ ہیں بلکہ ایک مائیک پکڑ کر میڈیا میں طوفان تک برپا کیے ہوئے ہیں۔ ڈلیوری گرلز تک کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

اب ملک کے اکثر تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کا دور دورہ ہے لیکن کچھ انتہا پسندانہ سوچیں ابھی بھی عورت کو نرس کے روپ میں دیکھ کر ذومعنی جملے کسنے سے باز نہیں آتی ہیں تو کیا یہ لوگ ذہنی مریض ہیں؟ یقیناً ایسا ہی ہے ورنہ اس پیشے کی اہمیت ایسی ہے کہ جو اس کے خلاف بولتے ہیں ، جب انہی نرسوں کے سامنے ابتر حالت میں لائے جاتے ہیں تو یہ سسٹرز واقعی سسٹرز ہونے کا حق ادا کرتی ہیں اور جب سارے خون کے رشتے بری حالت، جراثیم، بدبو، خون، زخم، چیخوں اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اپنے اس مریض کے پاس تک نہیں پھٹکتے ہیں تو تب دیکھنی والی آنکھیں سسٹر شمائلہ، خدیجہ، ناصرہ نسیم، صلبیہ، فرزانہ اور طاہرہ بی بی کو ان کے پاس پاتی ہیں۔

انسان حیران ہو کر سوچتا ہے کہ محبت اور خلوص کی ان بے غرض اور بے لوث دیویوں کو اس سے کیا ملتا ہو گا کہ وہ اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر ان مریضوں کی دیکھ بھال پر کمربستہ ہو جاتی ہیں؟ جب بیوی بچے دور بھاگ جاتے ہیں، بہن بھائی منہ موڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور دوست احباب بھی پاس تک نہ پھٹکتے ہیں تو ایسے میں یہ سسٹرز کہلوانے والی کس اپنائیت سے دن رات اس سسکتے، بلکتے اور تڑپتے انسان کا خیال کرتی ہیں۔

پچھلے دنوں سول ہسپتال جھنگ کے ظالم وبا سے نمٹنے کے لیے قائم آئسولیشن وارڈ اور اسپیشل روم میں 12 روز گزارنے کے بعد اس بات کا اچھی طرح سے احساس ہوا کہ اللہ جن پر اپنا کرم کرتا ہے ، انہیں اپنے پریشانیوں اور تکلیفوں میں گھرے بندوں کی خدمت کا فرض سونپ دیتا ہے اور وہ کبھی ایدھی ، کبھی مدر ٹریسا ، کبھی ڈاکٹر امجد ثاقب، ڈاکٹر ادیب رضوی اور کبھی رتھ فاؤ بن کر جگمگاتے ہیں۔

خاکسار فیصل آباد جاتے ہوئے اکثر راستے میں ایک اجڑی جگہ پر ایک ”کوڑھ سنٹر“ دیکھا کرتا تھا اور اس کے مریضوں کی حالت زار دیکھ کر ترس آتا تھا اور وحشت بھی ہوتی تھی لیکن انہی مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور نرسیں ان کا ایسے خیال کر رہی ہوتی ہیں کہ جیسے یہ ان کے بہت ہی کوئی اپنے ہوں اور خاکسار اکثر سوچتا تھا کہ ان نرسوں کو اس سب سے کیا ملتا ہو گا؟ تنخواہ تو سب ملازمین کو ملتی ہے لیکن کیا زندگی کی قیمت پر؟

جن زخموں کو دیکھ کر بڑے بڑے دل گردے والے دیوار کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ان زخموں پر یہ دیویاں مرہم رکھ رہی ہوتی ہیں اور کمال ضبط کا مظاہرہ بھی کہ آخر وہ بھی انسان ہی ہوتی ہیں، دل ان کا بھی تڑپتا ہے لیکن فرض کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے وہ اپنے مشن پر قائم رہتی ہیں اور آج تک نہ سنا گیا کہ کبھی کسی نرس نے کسی مریض سے کسی دشمنی یا مخالفت کی وجہ سے یا کسی بات پر برہم ہو کر اس کے علاج معالجے کی ذمے داری سے پہلو تہی برتی ہو۔

کیا یہ کام عام انسانوں کے ہوتے ہیں؟ خاکسار کا خیال ہے کہ یہ اللہ کی خاص مخلوق اور نوازے ہوئے لوگ ہیں جن کے ساتھ پچھلے 12 روز گزرے اور ایسے گزرے کہ خود پر بھی فخر محسوس ہوتا ہے کہ کن عظیم، مہربان اور انسان دوستوں کے ساتھ وقت گزرا ہے۔ اب لگتا ہے کہ اصل زندگی تو یہی ہے کہ جو کسی کی تکلیف کم کرنے کا باعث بنے۔ جو کسی کے درد کو مٹانے کی سعی کرتے گزرے۔

آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ سول ہسپتال جھنگ کا آئسولیشن پیریڈ شاید اتنے آرام و سکون سے نہ گزرتا اگر وہاں سسٹرز شمائلہ، خدیجہ، ناصرہ نسیم، صلبیہ، فرزانہ اور طاہرہ بی بی جیسے فرشتہ سیرت لوگ نہ ہوتے ۔ سلام ہے ان کو کہ یہ ظالم اور ہولناک وبا کے کارن سامنے آتے دکھ اور قیامت کی گھڑیوں میں بھی حوصلہ نہ ہارے ہیں اور امید و یقین کی شمع جلا کر رکھے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *