لٹے شہر کی دھول


مجھے تو ایسا لگا تھا کہ مجھے بزنس کرنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔ سائنس وغیرہ میرے بس کی بات نہیں تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ سائنس کے علاوہ بھی اسے بہت کچھ آتا ہے۔ دنیا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں، ماحول کی بربادی کے اثرات، تیسری دنیا کے مسائل، سوشلزم کے مسئلے اور تاریخ۔ خاص طور پر تاریخ کا اس نے گہرا مطالعہ کیا تھا۔ وہ شام میری زندگی کی خوبصورت ترین شام تھی۔ تین ہفتے ایمسٹرڈم میں ایک خواب کی طرح گزر گئے۔ ہم دونوں قریب سے قریب تر آتے چلے گئے تھے۔ مجھے بھی بہت جلد اندازہ ہو گیا تھا۔ اس کے دل میں بھی میری محبت کی قندیل ٹمٹما رہی ہے۔ اس خوشی اور اس فتح کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے محبت کی ہے۔ یہ بھی ایک عجیب جذبہ ہے، کسی کو جیت لینے کی خواہش شاید انسان کے وجود میں خون کے ساتھ دوڑ رہی ہے۔

وہ ایمسٹرڈم کی کلور اسٹریٹ میں رہتی تھی۔ یہ یہاں کا سب سے پرانا علاقہ تھا۔ صدیوں پرانی عمارتیں، پتھر کی بنی ہوئی سڑک، لگتا تھا کہ تاریخ کے کسی گمشدہ جھروکے میں آ گئے ہیں۔ لندن واپسی سے پہلے اس کی ماں سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کا باپ افریقہ میں ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا جب وہ شادی کے چار سال کے بعد گھومنے گئے تھے، اس کی ماں اسکول ٹیچر تھی۔ نہ جانے کیوں اس نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ یورپ میں عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے۔

مرنے والے کی یاد میں زندگی گزار دینے کا رواج صرف ہمارے ملکوں میں ہے۔ وہ ایک مہربان عورت تھی، مجھ سے بڑے پیار سے ملی تھی۔ پوچھا تھا کہ ”یہ تو مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ تم پاکستانی ہو اور کراچی سے آئے ہو تو سندھی ہی ہو گے۔“ میں مسکرا دیا تھا۔ ”سندھی ہوں اور نہیں بھی ہوں۔“ ظاہر ہے یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ عام طور پر لوگ اس طرح کے جواب کے بعد خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، مگر اس کی ماں نے پوچھا تھا ایسا کیوں؟

میں اسے کیا بتاتا کہ میں پیدا تو سندھ میں ہوا ہوں مگر سندھ ہی میں اجنبی ہوں، سندھی نہیں ہوں۔ کیونکہ سندھی ہونے کے لیے سندھ میں پیدا ہونا، سندھ کے لیے جان دینا، سندھی زبان بولنا اور سندھ کے لیے سوچنا ضروری نہیں ہے بلکہ سندھی ہونے کے لیے نفرت کرنا ضروری ہے۔ سندھ کے وڈیروں کا حامی ہونا ضروری ہے۔ اور نا انصافی کرنا ضروری ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے مہاجر ہونے کے لیے نفرت کرنا ضروری ہے، نفرت سندھی سے، پنجابی سے، بلوچی سے، بنگالی سے۔

یہ وہاں کے اصول ہیں۔ میں ان سے بھاگ کر آ گیا ہوں۔ میں خاموش ہو گیا تھا اور بات ختم ہو گئی تھی۔ وہ شام خلوص سے بھری ہوئی شام تھی۔ الفتوں میں ڈوبی ہوئی شام تھی۔ اس کی ماں کا چہرہ بھی اس کے ہی جیسا تھا۔ ملائم، شفاف اور ایک عجیب سے نمک سے بھرا ہوا۔ گھر میں ایک تصویر بھی تھی۔ بلیک اینڈ وہائٹ، جس میں مرینا کی ماں، اپنی ماں اور باپ کے ساتھ کھڑی تھی۔ مرینا کے نانا نانی خوبصورت لوگ تھے۔ خاندانی مکان مرینا کی ماں کو دے کر خود شہر سے باہر رہنے لگے تھے۔

دو سال ہوئے مرینا کی نانی کا انتقال ہو گیا تھا اور اب مرینا کا نانا اپنے بیٹے کے ساتھ فارم ہاؤس میں رہتا تھا۔ بڑا پیار کرنے والا خاندان لگتا تھا۔ بہت دنوں کے بعد مجھے ایسا لگا تھا جیسے اپنے گھر آ گیا ہوں۔ گزشتہ گیارہ سال میں دن رات پیسے کمائے تھے۔ لندن کے مہنگے ترین علاقے میں خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ زیادہ تر انہی پاکستانیوں سے دوستی تھی جو وطن چھوڑ کر وطن کو بھول ہی گئے تھے یا ایسے انگریز جو پیسے کی دوڑ میں آگے نکل رہے تھے، جن سے کاروباری تعلقات تو ہوسکتے تھے مگر خلوص و محبت کی بات نہیں ہو سکتی تھی۔

پاکستان تو میں واپس ہی نہیں گیا تھا۔ تھوڑے دنوں تک اپنے والدین کو خط لکھتا رہا تھا، پیسے بھیجتا رہا تھا پھر ایک دن میرے والد نے لکھ دیا تھا کہ اگر واپس نہیں آنا ہے تو پیسے بھی نہیں بھیجو، مجھے خیرات نہیں چاہیے۔ اور پھر نہ جانے کیسے اس زندگی کے اس لمبے سفر میں، دولت کے ریل پیل میں میں کچھ اتنا کھو گیا کہ والدین کی موت بھی واپس نہیں لے جا سکی تھی۔ بچپن اور لڑکپن کا کراچی، کلفٹن کا کنارا، ہاکس بے کے ساحلی نظارے، ہالے جی جھیل کی پکنک، کینجھر جھیل کا مطالعاتی دورہ، ٹھٹھے کی شاہی مسجد اور مکلی کے مزار سب ایک خواب بن گئے تھے اور کراچی سے رشتہ صرف حامد کی صورت میں رہ گیا تھا جو وہاں کی الٹی سیدھی خبریں پہنچایا کرتا۔

رات گئے جب میں اس گھر سے نکلا تھا تو لگا تھا جیسے دل یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔

واپس لندن آ جاتا تھا۔ روز وقفے وقفے سے کئی بار اسے فون کرتا تھا مگر دل تھا کہ بے چین۔ دوست کہتے تھے ایمسٹرڈم کی کہانی سناؤ۔ دنیا کے سب سے بڑے بازار حسن کا قصہ سناؤ اور میرے پاس کوئی کہانی تھی نہ کوئی قصہ۔ لے دے کر ڈسکو میں ملنے والی ایک لڑکی کا چہرہ تھا، شفاف، نمک سے بھرا ہوا، مسکراتا ہوا اور کچھ یادیں تھیں گلیوں بازاروں اور میوزیم میں گھومنے کی اور ایک اور عورت کی صورت تھی بڑی بڑی آنکھوں والی، تجربے سے بھری آنکھیں جیسے لگتا تھا کہ ان کہی کہانیوں کو چھپائے مجھے دیکھ رہی ہیں۔ میں سوچتا تھا کہ ایمسٹرڈم گیا تھا کچھ عیاشیاں کرنے، وہی کچھ کرنے جو یہاں لندن میں کرتا ہوں مگر دل کے ساتھ جسم و جان بھی لٹا کر آ گیا۔

پھر ہر ہفتے کی چھٹی ایمسٹرڈم میں ہی گزرنے لگی۔ جمعہ کو کام ختم کرتے ہی ایمسٹرڈم جاتا تھا اور پیر کی صبح کو واپس آتا تھا۔ مرینا اور اس کی ماں نے مجھے خاندان کا ایک فرد بنالیا تھا۔ میں سوچتا تھا انسان کی قسمت میں کیا ہوتا ہے، انسان کیا سوچتا ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوجاتا ہے۔ میں جو کراچی، سندھ، پاکستان سے پی ایچ ڈی کرنے نکلا تھا، آج لندن انگلستان میں کاروبار کر رہا تھا اور ایمسٹرڈم، ہالینڈ کی ایک لڑکی کو دل دے بیٹھا تھا۔ قسمت، صرف قسمت ہی ایسے کھیل کھلاتی ہے۔

وہ مجھ سے شادی کرنے پر تیار تھی اس کی ماں کو یہ بات بہت اچھی لگی تھی کہ مرینا کو انگوٹھی پہنانے کے بعد میں نے اس کی ماں سے کہا تھا کہ میں تمہاری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔ وہ مسکرائی تھی دھیرے سے بولی تھی ”تمہیں پتہ ہے، مشرق کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ میں تو تمہارے دیس کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہوں۔ میری ماں کا بھی یہی حال تھا۔ آؤ تمہیں ایک چیز دکھاتی ہوں۔“

مجھے وہ اپنے کمرے میں لے گئی تھی اس کا کمرہ ایک ٹیچر کا ہی کمرہ لگ رہا تھا۔ اس کے کام کرنے کی ڈیسک کے ساتھ کمپیوٹر کے اوپر ایک بہت پرانی سی موہنجوداڑو کی تصویر لگی ہوئی تھی، کسی اخبار سے کاٹی ہوئی تھی۔ ”میری ماں بھی ٹیچر تھی۔ یہ تصویر موہنجوداڑو کے دریافت ہونے کے بعد اخباروں میں چھپی تھی، پورے یورپ میں ایک ہنگامہ ہو گیا تھا۔ اہرام مصر کے بعد انسانی تاریخ میں اتنی بڑی دریافت نہیں ہوئی۔ اخباروں میں ہندوستان اور سندھ کی تاریخ بار بار آ رہی تھی۔ یہ تصویر“ ایمسٹرڈم ڈیلی ”میں چھپی تھی جسے میری ماں نے اس کمرے میں لگایا تھا۔

میری سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس خاندان کو ہندوستان یا سندھ سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ مگر میں نے سوچا کہ تاریخ پڑھنے والے اور پڑھانے والے عجیب طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ تاریخ کے کسی نہ کسی صفحے پر اٹک جاتے ہیں۔ دنیا پتہ نہیں کہاں سے کہاں چلی جاتی ہے مگر وہ تاریخ کے اس لمحے کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے اسکول میں میرے تاریخ کے ٹیچر ہارون رشید کے دربار میں رہا کرتے تھے۔ ہر سبق کے بعد گھوم پھر کے کہیں نہ کہیں ہارون رشید کے دربار کا کوئی واقعہ یا ایک ہی واقعہ بار بار سناتے تھے۔ اسی جذبے کے ساتھ جیسے پہلی دفعہ سنا رہے ہوں۔

ہم لوگ شادی کے پلان بنا ہی رہے تھے کہ یکایک مرینا کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ دل کا ایک خاموش دورہ ان کی جان لے بیٹھا تھا۔ میں اپنے لندن آفس میں بیٹھا ہوا کڑوی کافی کے ساتھ سگریٹ کا دھواں پی رہا تھا کہ مرینا کا فون آیا۔ میں فوراً ٹکٹ کٹا کر ایمسٹرڈم پہنچا تھا۔ مجھے لگا کہ جیسے ایمسٹرڈم بجھا ہوا ہے۔ روشنیاں پھیکی پھیکی سی، چہرے بجھے بجھے سے۔ وہ مجھ سے لپٹ کر رو دی تھی۔

تین دن کے بعد میں واپس چلا آیا تھا۔ اس پورے سال میں کئی دفعہ میں نے پلان بنایا تھا کہ مرینا اور اس کی ماں کو اپنے ساتھ لندن لے کر آؤں مگر کسی نہ کسی وجہ سے پلان، پلان ہی رہے اور دن نکلتے چلے گئے تھے۔ اب چھ ماہ کے بعد ہم نے شادی کا پلان بنالیا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ دو ہفتے بعد جب ایمسٹرڈم جاؤں گا تو مرینا کو ساتھ لے کر لندن آؤں گا تاکہ وہ یہ بھی دیکھ لے میں کیسے رہتا ہوں، کہاں رہتا ہوں کہ شادی کے بعد تو لندن میں ہی رہنا ہے۔

مرینا لندن میں دس دن رہی۔ پروگرام تو پندرہ دن کا تھا مگر نہ جانے کیوں وہ گیارہویں دن چلی گئی تھی۔ ایک ہفتہ تو اسے میں لندن ہی گھماتا رہا تھا۔ بڑی بڑی دکانیں، لسٹر اسکوائر کے سینما، باربی کن سینٹر کا کنسرٹ، رات کے ڈنر اور دوستوں سے ملاقاتیں۔ میرے زیادہ انگلش اور پاکستانی دوست اپنی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ رہ رہے تھے۔ مہنگے علاقوں میں خوبصورت اپارٹمنٹ اور گھر، لندن کی کامیاب زندگی یہی ہوتی ہے۔ مرینا کسی پاکستانی خاندان سے ملنا چاہتی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3