لٹے شہر کی دھول


میں تو پاکستانی دوستوں رشتہ داروں سے بہت دور چلا گیا تھا۔ ان کی دنیا اور تھی اور میری دنیا اور۔ ان کی اقدار الگ تھیں، میری اقدار اور۔ وہ انگلستان میں رہتے تھے اور اجنبی تھے، میں انگلستان میں رہتا تھا اور ایسے ہی رہتا تھا جیسے رہنا چاہیے۔ ایسے ہی جیسے انگریز رہتے ہیں۔ یہاں کی زمین، یہاں کی کمائی، یہاں کی شراب اور یہاں کی رسم و روایات۔ میں عملی آدمی ہوں اور عمل کا یہی تقاضا تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں اسے اپنے دوست شمشاد کے گھر لے گیا تھا۔

شمشاد میرے ساتھ ہی پی ایچ ڈی کرنے آیا تھا اور اس نے پی ایچ ڈی کر بھی لیا تھا، مگراس کے بعد لیڈز یونیورسٹی میں یہ ملازمت اختیار کرلی تھی۔ وہ یہاں کا ایک کامیاب سائنس داں تھا۔ میں نے سوچا مرینا کو اس سے مل کر مزا بھی آئے گا۔ شمشاد کی بیوی بھی پاکستانی تھی۔ مجھے وہ لوگ بلاتے رہتے تھے مگر میں جا نہیں سکا تھا۔ لندن سے لیڈز تک ہم لوگ گاڑی پر گئے۔ لمبے سفر کے بعد شمشاد بہت پیار سے ملا تھا۔ شمشاد کو انگلینڈ میں بارہ سال ہو گئے تھے مگر وہ ابھی تک جیسے کراچی میں ہی تھا۔

مجھے اس کے گھر میں بڑی کوفت ہوتی تھی، اس نے مرینا کو بتایا تھا کہ وہ پکا نمازی ہے اور رمضان میں روزے بھی رکھتا ہے۔ گھر میں ہمیشہ ذبیح پکتا ہے۔ بچوں کو ٹیلی ویژن کے پروگرام دیکھنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ پاکستان سے ٹی وی کے پروگرام ٹیپ ہو ہو کر آتے ہیں اور انہیں وہی دکھایا جاتا ہے وغیرہ۔ بہت دنوں کے بعد میں نے پاکستانی طریقے سے پکا ہوا، بہت سا اور بہت اچھا کھانا کھایا، مگر ساتھ ہی شمشاد اور اس کی بیوی نے پاکستانی عادت کے مطابق انگریزوں اور مغرب کے بارے میں بھی بہت ساری باتیں کیں جو اچھی نہیں تھیں۔ نفرتوں سے بھری ہوئی۔ واپسی میں مرینا مجھ سے بار بار پوچھتی رہی کہ اگر یہ جگہ اتنی بری ہے تو یہ لوگ یہاں رہتے کیوں ہیں۔ میرے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ مجھے لگا جیسے اسے کچھ مایوسی ہوئی ہے۔ لندن پہنچ کر مرینا رکی نہیں تھی۔

اس دن کے بعد جب میں ایمسٹرڈم پہنچا تھا تو وہ مجھے بدلی بدلی سی لگی۔ پہلے مجھے شک سا ہوا تھا پھر یقین بھی ہو گیا جب اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتی ہے اور اب وہ تعلقات کو توڑنا چاہتی ہے تو مجھے جیسے دھچکا سا لگا تھا۔ مہینوں کے یہ تعلقات کیسے ٹوٹ سکتے ہیں؟ ہم لوگ اس وقت مرینا کے گھر پر ہی بیٹھے ہوئے تھے، جہاں اس کا خاندان نہ جانے کتنے برسوں سے رہ رہا تھا، جہاں کہانیوں نے جنم لیا تھا، جہاں محبتیں امڈی تھیں اور اب یکایک یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ وہ تعلقات ختم کر رہی ہے، کیوں، مگر کیوں۔ ”مرینا کیا میری محبت دھوکہ تھی؟ کیا تمہاری سپردگی مذاق تھی؟“

نہیں، نہ تمہاری محبت دھوکہ ہے نہ میری محبت مذاق ہے۔ میں اب بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔

”یہ کیسی محبت ہے تمہاری کہ تم بنے بنائے ہوئے پروگرام کو اس طرح سے ختم کر رہی ہو۔ مجھے اتنا تو حق ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ آخر وجہ کیا ہے۔“

وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔ بڑی جانکاہ اور افسردہ مسکراہٹ تھی اس کی۔ ”نہیں، ایسا نہیں ہے۔ میں نے بہت سوچا ہے۔ تمہارا بڑا کاروبار ہے، تم لندن میں رہتے ہو، یہاں نہیں رہ سکتے اور میں شادی کے بعد لندن میں نہیں رہ سکتی۔ میں نے سوچا تھا کہ شادی کے بعد تمہارے پاکستان چلوں گی، وہیں رہوں گی، مجھے تو وہ دنیا اچھی لگتی ہے۔ مگر تم تو اب پاکستانی نہیں ہو اور جو تمہارے دوست پاکستانی ہیں، وہ بھی پاکستانی نہیں ہیں۔ وہ اجنبی ہیں ہر جگہ۔

میں آج کے بعد تمہارے خطے سے صدیوں کا رشتہ توڑ دوں گی، صدیوں کا یہ بوجھ اور نسلوں کا خواب ختم ہو جائے گا۔ ”یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی اپنے ماں کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مرینا کیا کہہ رہی ہے، کس قسم کی باتیں کر رہی ہے۔ یہ برسوں کا خواب کیا ہے، یہ نسلوں کا بوجھ کیا ہے، یہ کیسا معمہ ہے۔ میں اس کو آوازیں دیتا ہوا اس کی ماں کے کمرے میں چلا گیا تھا۔ وہ موہنجوداڑو کی تصویر کے سامنے اپنی بانہوں میں ایک سرخ چادر جو بہت پرانی سی لگ رہی تھی، لے کر کھڑی تھی۔

میں نے دھیرے سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ پھر مسکرائی تھی، دھیمی، افسردہ کرب سے بھری ہوئی مسکراہٹ اور آہستہ سے بولی تھی ”تم یہ کپڑا پہچانتے ہو؟ یہ میری ماں کو میری نانی نے دیا تھا اور شاید میری نانی کی ماں کو اس کی نانی کی ماں نے دیا ہوگا۔ کئی سو سال سے یہ بوسیدہ، ہاتھ سے بنا ہوا کپڑا میرے خاندان میں ہے۔ تمہیں معلوم ہے یہ کیا ہے؟ تم نہیں جانتے ہو؟ میں تم کو بتاتی ہوں۔ میری نانی نے میری ماں کو بتایا تھا کہ یہ اجرک ہے۔

ایک ایسی عورت کی اجرک ہے جس کی نسل مجھ تک پہنچی ہے۔ یہ اس کی نشانی ہے۔ کئی سو سال پہلے وہ عورت یورپ آئی نہیں تھی، لائی گئی تھی۔ پرتگالیوں کی بحری فوج نے تمہارے سندھ کے شہر ٹھٹھے پر حملہ کیا تھا۔ بہت سارے شہریوں کو مارا تھا اور شہر جلا دیا تھا اور جب لوٹ مار کر کے نکلے تھے تو وہاں کی عورتوں کو بھی اٹھا کر لے آئے تھے۔ ان میں سے ایک عورت میری پچھلی نسل سے لے کر مجھ تک ہم سب کی ماں تھی۔ وہ ماں پرتگال میں تھی، لزبن کے شہر میں پرتگالیوں کے درمیان اس نے ٹھٹھہ شہر کی یاد کو سینے سے لگا رکھا تھا، جس نے مرتے دم تک اس شہر کو نہیں بھلایا تھا اور اپنی بیٹی کو یہ اجرک پہنایا تھا ایک غرور کے ساتھ، ایک مان کے ساتھ، یہ اجرک نسل در نسل میری ماں کی نانی تک پہنچی تھی۔

وہ سندھی پرتگالی عورت بیاہ کر ایمسٹرڈم آئی تھی، اس اجرک کے ساتھ۔ اس شہر میں آ کر بھی وہ اپنے نسلوں کا بوجھ لے کر گھومی تھی۔ نسلوں کا قرض بھولی نہیں تھی، جو سینہ بہ سینہ، دست بدست میری ماں تک پہنچا تھا۔ میری نانی اور میری ماں نے کوشش کی تھی، ٹھٹھہ جائیں اور وارثوں کے اس شہر کو دیکھیں گے، اس اجرک کو سر پر ڈال کر گھومیں، اس کی مٹی کو چومیں گے، وہاں کی ہوا کو سونگھیں گے، فضا کو محسوس کریں گے اور ماتم کریں گے ان روحوں کا جو پامال ہو گئیں تو اس روح کو سکون مل جائے گا۔

مگر وہ یہ نہیں کرسکیں اور اب میں بھی نہیں کر سکوں گی۔ میں کہ اپنی ماں کے مرنے کے بعد اس جبر کی امین ہوں۔ تم ہنس رہے ہو گے یہ کیسی لڑکی ہے۔ یہ کہہ رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ تم اچھے ہو، بہت اچھے ہو مگر تمہاری کوئی پہچان نہیں ہے۔ تم مجھ سے پیار کر سکتے ہو، دولت کی بھرمار میں خوشیاں خریدنے کی کوشش کر سکتے ہو مگر مجھے پہچان نہیں دے سکتے ہو، کیوں کہ تمہاری اپنی کوئی پہچان نہیں ہے، تم نہ سندھی ہو نہ پاکستانی نہ انگریز۔

تم اور تمہارے دوست کسی جبر کے قیدی بھی نہیں ہیں۔ تم لوگ چمکتی روشنی پھڑکتی کاروں، پونڈ اور ڈالر کے اسیر ہو جن کا ماضی تو شاید تھا مگر مستقبل کوئی نہیں ہے۔ میں ڈچ ہوں اور اس پرتگالی ماں کی نسل سے ہوں جن کی شناخت یہ اجرک تھی، جو تاریخ کے جبر کے تحت قیدی بنائی گھی تھی۔ اس زمانے کے اصولوں کے تحت، اپنی مرضی کے خلاف لوٹی گئی تھی، مگر وہ کپڑے کے اس ٹکڑے سے رشتہ نہیں توڑ سکتی تھی۔ نسل در نسل اس نے اپنی پہچان برقرار رکھی تھی۔

ڈچ زمین میں دفن ہو کر ڈچ اقدار کو اپنا کر بھی اس نے اپنا رشتہ نہیں چھوڑا تھا۔ میں ان ہی کی بیٹی ہوں۔ میں اپنی محبت کے لیے لندن کی چمکدار زندگی کے لیے اپنی پہچان نہیں مٹا سکتی ہوں۔ میں یہاں خوش رہوں گی، اپنی ماں کے پاس۔ میں تمہارے ساتھ خوش نہیں رہوں گی۔ تم میرے ساتھ خوش نہیں رہو گے۔ مجھے بھول جاؤ۔ مجھے معاف کردو۔ ”یہ کہہ کر وہ موہنجوداڑو کی اس تصویر کے سامنے بے اختیار رو دی تھی۔

مجھے ایسا لگا تھا جیسے میں مکلی کے قبرستان کی پہاڑی پر کھڑا ہوں، سامنے ٹھٹھہ شہر میں گورے گورے داڑھی اور مونچھوں والے جنگجو پرتگالی لانبے لانبے بوٹ پہنے حملہ آور ہیں، لوگ مر رہے ہیں، دکانیں لٹ رہی ہیں، قتل عام کا بازار گرم ہے، لوگ جل رہے ہیں، عمارتیں جل رہی ہیں، بچے بھاگ رہے ہیں، عورتیں بھاگ رہی ہیں، مویشی بھاگ رہے ہیں، ایک آگ ہے کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے، پرتگالی قزاق کے فاتحانہ چہرے، ٹھٹھے کے باسیوں کی شکست خوردہ شکلیں۔ جلے ہوئے کھنڈر، لٹے ہوئے مکان، اور ان میں غول کی صورت میں زنجیروں سے بندھی ہوئی عورتیں جنہیں دیبل کی بندرگاہ پر جہازوں میں لادا جا رہا ہے، ہانکا جا رہا ہے۔ اجرک میں لپٹی ہوئی ٹھٹھہ کی عورتیں بین کر رہی ہیں۔ میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ میری مرینا لزاریا، میری مرینا لزاریا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3