رحمان صاحب: ہلکی پھلکی یادیں (1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب آئی اے رحمان کے دنیا سے چلے جانے پر سوشل میڈیا پہ جو بے شمار چاہنے والے سپاسِ عقیدت پیش کرتے رہے اُنہیں دو زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک تو ایسے عامل صحافی جنہوں نے پاکستاں ٹائمز، روزنامہ آزاد یا ہفت روزہ ویو پوائنٹ میں اُن کی ہمکاری یا سرپرستی میں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر کام کیا۔ دوسرے انسانی حقوق کے وہ کارکن جنہیں رحمان صاحب کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے طویل وابستگی کے دوران تعلق استوار کرنے کا موقع ملا۔ غور کریں تو اِن احباب کی اکثریت علاقائی تنوع، مختلف لسانی و نسلی حوالوں اور الگ الگ طبقاتی پہچان کی حامل دکھائی دے گی۔ ایک وصف البتہ سب میں مشترک ہے اور وہ ہے یہ بیانیہ کہ پیشہ ورانہ یا ذاتی حیثیت میں رحمان صاحب کا ساتھ خواہ کم وقت کے لئے رہا یا زیادہ، ہر کسی کے ورلڈ ویو پہ اِس کے اثرات نمایاں ہیں اور دیرپا بھی۔

خود مجھے بی بی سی لندن سے پاکستان واپسی پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہنے کی ترغیب اول اول اُنہی سے ملی تھی۔ ہیومن رائٹس کی نئی عمارت میں ایک سیمینار کے خاتمے پہ کہنے لگے: ”آپ کچھ لکھا کریں۔“ عرض کیا: ”خبر لکھنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔“ ”نہیں، اس سے ہٹ کر بھی لکھ سکتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ لکھیں۔۔۔ جن سے ملاقاتیں رہیِں اُن کے بارے میں لکھیں۔“ دل میں سوچا کہ حکم تو مِل گیا، پر بائی لنگوئل نامہ نگار کِس زبان میں قلم چلائے۔ کالج میں تو انگلش پڑھی تھی اور لندن میں ترجمہ نگاری کے علاوہ ریڈیو کے لئے ٹاکس اینڈ فیچرز بھی لکھتا رہا۔ پھر فیض احمد فیض کا خیال آنے لگتا جنہوں نے جیل سے ایلس فیض کے نام تحریرکردہ خطوط کتابی صورت میں شائع کرنے کی مرزا ظفر الحسن کی ابتدائی تجویز یہ کہہ کر جھٹک دی تھی کہ ”یہ خط اگر چھپیں گے تو اردو میں ترجمہ کرکے، اس لئے کہ ہماری انگریزی بہت آرائشی قسم کی ہوتی ہے۔“

ممکن تھا کہ اِسی ادھیڑ بُن میں کچھ اَور وقت گزر جاتا۔ لیکن اچانک مشترکہ دوست اور منفرد کالم نگار خالد حسن مختصر علالت کے بعد امریکہ میں انتقال کر گئے اور مجھے کچھ نہ کچھ لکھنے کی رحمان صاحب کی خواہش پوری کرنا پڑی۔ ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے ایک اسٹوڈیو کا نام خالد حسن سے موسوم کرنے کی تقریب کا اہتمام اُس وقت کے ڈائرکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی کی میزبانی میں ہوا تھا۔ لاہور کے ’مایہ ناز مقررین‘ جن میں فنی طور پر یہ کالم نگار بھی شامل ہے، جناب آئی اے رحمان کی قیادت میں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور دورانِ سفر پھلجھڑیا ں چھوٹتی رہیں۔ جیسے چکلالہ ائر پورٹ کی بس کے اندر رحمان صاحب کا کنڈکٹر کی طرح کھڑے ہو جانا اور یکدم سِیٹ چھوڑ کر میری پیشکش کہ سر، آپ بیٹھ جائیں۔ جواب ملا  Some younger people may deserve it more than I do.

اسلام آباد ریڈیو اسٹیشن سے اِس پُررونق تقریب کا احوال براہِ راست نشر ہوا اور روزنامہ ڈان کے ہفتہ وار کالم میں کامران شفیع نے بھی اِس کا نقشہ کھینچا۔ خالد حسن پہ میرا طویل مضمون سُن کر پی ٹی وی کے تخلیقی دَور کے سربراہ آغا ناصر نے مجھے مجمع لوٹ لینے کا طعنہ دیا اور کہا کہ ”سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اسکرپٹ زیادہ اچھا ہے یا پرفارمنس زیادہ اچھی ہے۔“ اِس پہ رحمان صاحب دیر تک مسکراتے رہے۔ انداز وہی جس کی بابت سعادت حسن منٹو ’میرا صاحب‘ میں قائد اعظم کے ڈرائیور کی زبانی کچھ بتا چکے ہیں۔ منٹو نے آزاد نامی ڈرائیور سے اِس مفہوم کا سوال کیا تھا کہ ”جناح صاحب نوابزادہ لیاقت علی خاں سے کیسا سلوک کیا کرتے؟“ آزاد نے کہا: ”اُسی طرح جیسے کوئی اپنے سب سے ہونہار شاگرد سے پیش آتا ہے۔“ کون کتنا ہونہار تھا اور کون نہیں؟ اِسے چھوڑیں، سچ یہ ہے کہ اُس روز رحمان صاحب کی تائیدی مسکراہٹ سے میری کمزور بیٹری والی تحریر کو جمپ اسٹارٹ مِل گیا اور یہ گاڑی اب تک چل رہی ہے۔

تقریب اِس پہلو سے بے حد دلچسپ رہی کہ وہاں اپنی تقریر میں آئی اے رحمان نے انکم ٹیکس افسری چھوڑ کر کم تنخواہ پہ پاکستان ٹائمز کا رپو رٹر بننے کے لیے چونتیس سالہ خالد حسن کی بیتابی کی کہانی مزے لے لے کر سُنائی۔ کہنے لگے کہ اُن ایام میں فلم اور تھئیٹر ریویو لکھنے کے علاوہ ایڈیٹر کے نام ڈاک چھانٹنے اور اشاعت کے لئے اُس کی تدوین کا کام میرے سُپرد تھا۔ یہ جنرل ایوب کے مارشل کے دوران پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے سرکاری تحویل میں لئے جانے کے سات برس بعد کی بات ہے۔ تب نیشنل پریس ٹرسٹ وجود میں آ چکا تھا اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر خواجہ ایم آصف تھے۔ رحمان صاحب شخصی تعارف کے بغیر خالد حسن کے مراسلوں پہ اِس لئے خاص توجہ دینے لگے کہ ایک تو اسلوب میں تیکھا پن تھا، دوسرے یہ خطوط ترتیب وار نیلے، سبز اور ہلکے گلابی رنگ کے عمدہ کاغذ پہ تحریر کئے جاتے جو باقاعدہ خوشبوؤں میں بسا ہوتا۔

یہ ہے رحمان صاحب اور خالد حسن کی دوستی کا آغاز اور یوں میرے بالواسطہ تعلق کی ابتدا۔ مگر زمانی ترتیب کی خاطر ذرا فلیش بیک میں جاؤں تو بی اے فائنل کے طالب علم نے شعوری سطح پہ آئی اے رحمان کا نام پہلی مرتبہ دو نومبر 1970 ء کو سیالکوٹ میں سُنا تھا۔ وہی تاریخ جب روزنامہ آزاد، لاہورکے اُسی دن اجرا کی خبر انگریزی کے استاد اور رجحان ساز پنجابی شاعر زمرد ملک نے ہماری یومیہ ’کانفرنس‘ میں بریک کی۔ ساتھ یہ بھی کہ ادارہء تحریر اُن کے دوست حمید اختر، عبداللہ ملک اور آئی اے رحمان پر مشتمل ہے جنہیں نیوز ایڈیٹر عباس اطہر کی معاونت حاصل ہے۔ برطانیہ میں مقیم میرے بی بی سی کے ساتھی عارف وقار نے، جن کے ہمہ پہلو صحافتی کیرئیر کا آغاز روزنامہ آزاد کی اشاعت سے ہوا، پرسوں فون پر مذکورہ تاریخ اور مجلسِ ادارت کے ناموں کی تصدیق کی اور بتایا کہ کسی ایک شخص کے ایڈیٹر نہ ہوتے ہوئے بھی بڑے ادارتی فیصلے ہمیشہ رحمان صاحب کے کمرے میں ہوا کرتے۔

اخبار کی اٹھان کا ذکر کرتے ہوئے عارف وقار نے یہ بھی یاد دلایا کہ پہلی ہی اشاعت میں اداریہ کا موضوع اور متن ہماری روایتی صحافت سے بالکل ہٹ کر تھے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ اُس مرحلے پر پاکستان میں یحییٰ خاں کی فوجی حکومت کے زیرِ اہتمام اولین ملک گیر عام انتخابات کوئی مہینے ڈیڑھ مہینے کے اندر ہونے والے تھے۔ پہلے اداریہ کا عنوان ملاحظہ ہو: ’ہم جانبدار ہیں‘۔ اب دیکھئے طرزِ استدلال کے تیور جس کے لئے ایک بار پھر عارف کے حافظے کی تعریف: ”صحافت میں غیر جانبداری کا نعرہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔ جب معاشرے میں ظلم ہو رہا ہو تو غیر جانبداری کا دعوی کرنا اصل میں ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ اِس لئے ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم نادار اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ظالم کا ساتھ نہیں دے رہے۔ ہاں، ہم غیر جانبدار نہیں ہیں۔“

یہ دوٹوک صحافت وطنِ عزیز میں کیوں نہ پنپ سکی؟ میرے سینئر دوست چودھری خاد م حسین نے، جو اُس زمانے میں حنیف رامے کی زیرِ ادارت روزنامہ مساوات میں منو بھائی، ہمراز احسن اور راجہ اورنگ زیب کی ٹیم میں پولیٹیکل رپورٹر تھے، آئی اے رحمان کی رحلت کے بعد آزاد کے عروج و زوال پہ بات کرتے ہوئے ایک عجیب پہلو کی نشاندہی کی ہے۔ کہنے لگے: ”کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اِس نادر اخباری تجربے کی ناکامی کا سب سے زیادہ مالی نقصان رحمان صاحب کو ہوا۔ اس لئے کہ انہوں نے اَور حصہ داروں کے برعکس پاکستان ٹائمز چھوڑنے پر ذاتی معاوضہ کی ساری رقم چُپکے سے اِس منصوبے کی نذر کر دی تھی۔ چودھری خادم حسین سابق مشرقی پاکستان پر ذوالفقار علی بھٹو کے بیان پہ مبنی ’اُدھر تم، اِدھر ہم‘ والی عباس اطہر کی شہ سُرخی کے صحیح پس منظر سے بھی واقف ہیں، جس پہ رحمان صاحب مخالفین کی توپوں کا ہدف بن گئے۔ (جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *