شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – آخری قسط)‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مرزا فخرو اس زمانے کے شہزادوں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ تھے، نہایت عمدہ اور کئی طرح کے خط پر ان کا ہاتھ سیدھا تھا۔ شہ سواری اور تیر اندازی میں بھی طاق تھے۔ انگریزی اچھی خاصی سیکھ چکے تھے۔ رہی بات شاعری کی تو وہ ذوق کی شاگردی میں رمز تخلص کرتے تھے۔ فارسی میں انھیں امام بخش صہبائی کی چھتری کی پناہ تھی۔

انکے کچھ شعر ملاحظہ کریں جن کی استاد ذوق نے بڑی تعریف کی۔
نہیں اس کا نشاں جہاں جاؤں
میں یہ دل لے کر اب کہاں جاؤں
تھام لے گر نہ مجھ کو تیرا غم
یہ جہاں چھوڑ اس جہاں جاؤں
وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

مرزا فخرو نے حکیم محمد احسن اللہ کے ذریعے جہاں پناہ تک اپنی بات پہنچائی۔ انھیں بادشاہ کی موجودہ ملکہ زینت محل سے ڈر تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ولی عہد دیکھنا چاہتی تھیں اور گمان تھا کہ اس رشتے پر اعتراض کرتیں۔ مگر بادشاہ وقت نے مرزا فخرو کے اشارے کو بصد خوشی قبول کیا۔ یہ معاملہ طے ہو چکا تو امام بخش صہبائی کے ہاتھوں پیغام وزیر خانم کی بڑی بہن انوری بیگم کے یہاں پہنچایا۔ صہبائی جب اپنی بیوی کے ہمراہ، ان کے دلی والے گھر میں پہنچے تو نواب مرزا گھر میں ہی تھے۔ چونکہ دونوں ایک دوسرے سے پہلے ہی سے متعارف تھے سو چھوٹتے ہی شعر و شاعری کی محفل جم گئی۔ اتنے میں ان کے بڑے خالو مولوی نظیر رفاہی بھی آن پہنچے۔ ایسے میں نواب مرزا نے کچھ شعر یوں کہے۔

کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں
پیر مغاں کی دل شکنی کا رہا خیال
داخل ہوا ہوں توبہ سے پہلے ثواب میں
اے داغ کوئی مجھ سا نہ ہوگا گناہ گار
ہے معصیت سے میری جہنم عذاب میں

صہبائی خود استاد تھے۔ فارسی و اردو ادب میں مومن و غالب اور عربی میں علامہ فضل حق خیر آبادی کے سوا صہبائی کا کوئی ثانی نہ تھا۔ معما گوئی میں ان کے مقام کا کوئی دوسرا نہ تھا۔ گو کہ صہبائی باپ کی طرف سے فاروقی اور ماں کی طرف سے غوث پاک سید عبدالقادر جیلانی کی نسل سے تھے۔ مگر چونکہ صاحب ثروت نہ تھے سو غالب جیسے رئیس اور خاندانی لوگ انھیں اپنے برابر کا نہ سمجھتے تھے۔ اردو عروض پر ان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انھوں نے میر شمس الدین کی کتاب ”حدائق البلاغت“ کا اردو ترجمہ کیا۔

امام بخش صہبائی نے جب یہ اشعار سنے تو بے تحاشا تحسین و تعریف کی اور سوچنے لگے۔ اگر وہ منصوبہ جو وہ دل میں لے کر یہاں آئے ہیں پورا ہوا، تو اس ہنر مند لڑکے کو بھی قلعہ اور دربار میں اعلی تربیت اور موافق ماحول میسر آ جائے گا۔ بادشاہ کا تو پہلے ہی بس نہیں چلتا کہ دربار کے شعرا اور حکما کو لعل و گہر سے نہال کر دیں۔

امام بخش صہبائی کی بیوی نے نواب مرزا کی خالہ (بڑی بہن) کو مستقبل کے ولی عہد کا پیغام نکاح دیا۔ وہ سوچنے لگیں، وزیر خانم کہتی تھی کہ اگر شہزادہ بھی قسمت میں ہوا تو خود آئے گا۔ میری بہن کی کیسی سنی گئی۔ وزیر خانم تک بات پہنچی، رنج و الم کی ماری، بیوگی میں ہمت نہ پاتی تھیں کی پھر نکاح کی طالب ہوں۔ اب کی بار فیصلہ کرنے میں انھیں بڑی پس و پشت کا سامنا تھا۔ نواب مرزا کی اپنی نکاح کی عمر تھی۔ جگ ہنسائی کی بھی پرواہ تھی۔ بڑی بہن کے ہاں پہنچ کر دل کی ساری باتیں کہ دیں۔ نواب مرزا کو اپنا داماد بنانے میں ان کی بہن کو کوئی تامل نہ تھا اور یہ کہ نواب انھیں کی صاحبزادی کو پسند بھی کرتے تھے۔ یہ بار ٹلا تو وزیر خانم نے اپنی شرائط کے ساتھ نواب فخرو کا رشتہ منظور کر لیا۔

شرائط میں اپنے بچوں کے ساتھ قلعے میں جانا لازمی قرار دیا۔ وزیر خانم نے دل کا بوجھ کم کرنے کے لئے ایک نیک بی بی، بائی جی کے پاس حاضری دی اور اس رشتے کی بابت دریافت کیا، جواب ہاں میں اور تسلی بخش پا کر انھیں کچھ قرار آیا اور ایک بار پھر اچھے دنوں کی امید سے بندھ گئیں۔ گھر پہنچ کر اپنے بیٹے سے باقاعدہ اس پیغام پر بات چیت کی اور اس کی طرف سے تسلی کے کلمات سن کر وہ قدرے مطمئن ہو گئیں۔ رائج تھا کہ بادشاہ وقت کے ہاں سے جو پیغام آتا سے قبول ہی کیا جاتا تھا۔

وزیر خانم کا نکاح 1845 میں، مولانا صہائی نے پڑھایا، صاحب عالم نے نکاح نامے پر دستخط کیے۔ اور مہر ایک لاکھ روپے مہریں شاہی قرار پایا۔ (اس وقت ایک روپیہ، چودہ آنے خالص چاندی کے برابر ہوتا تھا)۔ بچے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی، ذاتی خادمہ کو لانے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ نواب مرزا کی پرورش کا ذمہ مرزا فخرو کا اپنے بیٹے کی طرز پر تھا اور شاہ محمد آغا کو چھوٹے ہونے کی وجہ سے حویلی کے باہر پرورش کا پروانہ ملا، جس کو وزیر خانم نے اس لئے قبول کر لیا تھا کہ اس طرح سے وہ ولی عہد سلطنت کو پوری توجہ دے سکیں گی، اور شاہ محمد آغا اپنی بڑی خالہ کے ہاں پل جائیں گے۔

وزیر خانم کی نالکی جب اپنی بڑی بہن کے ہاں سے روانہ ہو کر قلعے پہنچی تو قلعہ معلیٰ کے اندر شاہی محلات کو جانے والے دروازوں پر سپاہی عورتوں، حرم کی پہرے داروں اور ترکن اور حبشن عورتوں کی ایک فوج استقبال کے لئے کھڑی تھی۔ وہ نالکی کا پردہ اٹھا کر وزیر کو دیکھتی جاتیں اور اس باکمال دلہن کے سراپے کو سراہے بغیر نہ رہ سکتیں۔ زینت محل کی جاسوس عورتیں اس بات کا دھیان رکھتیں کہ کس نے وزیر کی کتنی تعریف کی تاکہ زینت محل کو خبر پہنچائیں، ظاہر ہے وہ ملکہ دوراں تھیں اور وزیر مستقبل کے شہزادے کی دلہن۔

انھیں نالکی سے تب اتارا گیا جب مرزا فخرو آئے۔ ایسے میں انھیں بادشاہ کی خدمت میں پیش ہونے کا پیغام ملا۔ وزیر خانم ایک شان بے نیازی، اعتماد اور نپے تلے قدموں سے خدام کے بتائے ہوئے حاضری کے اصولوں کو مدنظر رکھتی ہوئی۔ مختلف آداب گاہوں سے ہو کر مرزا فخرو کے ہمراہ وہاں پہنچی جہاں عالی جاہ تشریف رکھتے تھے۔

نظریں اٹھائے بغیر وہ گویا ہوئیں۔ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللہ رسول کی امان، دشمن پائمال، بلائیں رد، دلہن صاحب تسلیمات بجا لاتی ہے۔“

بادشاہ نے پورے استقلال، شان و شوکت اور تمکنت سے فرمایا ”سبحان اللہ، ہم مرزا فخرو کی نظر کے قائل ہو گئے۔ اللہ چشم زخم سے محفوظ رکھے“

بادشاہ معظم کی طرف سے جواہرات ان کی نذر ہوئے اور ”شوکت محل“ خطاب عطا ہوا۔ اسی نشست میں انھوں نے مرزا فخرو کو تلقین کی کہ نواب مرزا کو بھی اپنے سائے میں رکھو۔

حاضری کا اختتام ہوا۔ وزیر خانم اپنے شوہر کے ہمراہ اپنی ڈیوڑھی جا پہنچیں۔

شادی کے بعد کا ایک سال وزیر کے لئے بے انتہا، خوشیاں، لگاوٹیں، محبت، انسیت، خیال، توجہ، فکر الغرض وہ سب کچھ لایا جس کے طفیل وہ اپنے تمام دکھ ایک بار پھر بھول گئیں۔ یوں ہی یہ شاداب وقت گزرتا گیا اور انھیں اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا۔ تاریخ پیدائش اور اپنے سرخ و سپید رنگ کے باعث اس کا نام خورشید مرزا رکھا گیا۔ یوں مرزا فخرو کو ایک سال میں دو بیٹے مل گئے۔ وہ خوشی سے نہال تھے۔ نواب مرزا کا باقاعدہ وظیفہ مقر ر ہوا۔

ان کے عربی، فارسی، خوش نویسی، پنجہ کشی یہاں تک کے ان تمام علوم کے اتالیق مقرر ہوئے جو شہزادوں کے شایان شان تھے۔ قلعے میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد انھیں، مرزا فخرو نے خاقانی ہند استاد محمد ابراہیم ذوق کا شاگرد کروا دیا۔ ذوق نے داغ تخلص برقرار رکھا اور اسی طرح شعر کہنے کی تلقین پر ان کے اچھے مستقبل کی پیش گوئی کی۔ چونکہ وہ شہزادوں کی طرح حویلی کی اولاد نہ تھے سو مرزا فخرو سے اجازت طلب کر کے کبھی کبھار قلعے سے باہر جاتے اور اپنا ادبی شوق جگائے رکھتے۔ اسی بہانے وہ اپنی خالہ کے ہاں بھی چکر لگا آتے جہاں ان کا دل اٹکا تھا۔ اب انھیں انتظار تھا کہ جیسا ان کی ماں اور خالہ نے طے کر رکھا ہے وہ دن بھی آ ہی جائے۔

نواب مرزا کو اپنے قلعے کے دوستوں ظہیر دہلوی اور قمرالدین راقم کے طفیل جوں جوں قلعے کے انتظام و انصرام، شاہی آداب و رسوم و روایات کا پتہ چلتا، ان کی حیرت توں توں بڑھتی جاتی۔ انھیں پتہ چلا کہ ظل سبحانی ابو ظفر سراج الدین (المعروف بہادر شاہ ظفر) کے 16 بیٹے تھے جو مختلف انتظامی امور اور معاملات سلطنت و دربار میں سرگرم تھے۔ ان سب کے اپنے اپنے اور الگ دربار بہ طریق شاہی دربار لگتے تھے گو پیمانہ محدود تھا۔

ان کے دوست نے ایک عمومی دربار کا حال کچھ یوں بیان کیا تھا۔ نقار خانے سے سب امرا پیدل دیوان عام تک آتے تھے، جو پہلی آداب گاہ تھی، جس کے آگے دربان، سپاہی چوکس کھڑے رہتے تھے۔ دوسری اور تیسری آداب گاہ کے بعد دیوان خاص آتا تھا۔ جہاں امرائے دربار آداب بجا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے تھے۔ دیوان خاص میں بیچوں بیچ تخت طاؤس ہوتا تھا۔ امرائے دربار اپنے مرتبے اور حیثیت سے تخت کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے تھے۔ ایسے میں بادشاہ کی آمد کا اعلان ہوتا۔ کہار انھیں لئے تخت طاؤس کے برابر کرتے تو وہ دو رکعت نماز تخت کے پیچھے ادا کر کے تخت پر جلوہ افروز ہوتے۔

مہابلی کے براہ راست متوسلین یعنی شہزادوں، شہزادیوں، سلاطین زادوں، سلاطین زادیوں کی تعداد دو ہزار سے زائد تھی۔ ان سب کی خوشی و غمی کی سب رسوم شاہ کے ذمے تھیں۔ اوپر سے پہاڑ جیسا قلعہ تھا جو مرہٹہ گردی، روہیلہ گردی اور پھر جاٹ گردی سے ماند سا پڑ گیا تھا مگر پھر بھی روشن ماضی کی ایک شبیہ تھا اور بجا طور پر قلعہ معلیٰ کہلانے کا مستحق تھا۔ سلطنت کے امور انجام دینے کے لئے لا تعداد امرا، اصحاب، علما، حکما، فضلا تھے جن سب کو دربار سے ہی تنخواہیں دی جاتیں۔

انگریز نے ابو ظفر سراج الدین کا وظیفہ ایک لاکھ ماہانہ مقرر کر رکھا تھا۔ جس کو ان کی بارہا درخواست پر بھی نہ بڑھایا گیا۔ کئی سال کی پس و پشت کے بعد بالآخر یہ اعزازیہ 1844 میں تین لاکھ تک کر دیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق انگریز کو صرف دلی شہر کی چنگی (محصول) سے 1846 میں 47 لاکھ کی آمدن ہوئی تھی۔ مگر اس کا کچھ حصہ ہی قلعہ کی قسمت میں آتا تھا۔

تو اب مرزا بیش تر شعبہ جات و کارخانہ جات کی معلومات لے چکے تو انھوں نے یہ جانا کہ صاحب عالم کے ہاں جو شعبہ جات گرم کار تھے۔ ان میں خاصہ کلاں، خاصہ فرد، آبدار خانہ، دوا خانہ، توشہ خانہ، جواہر خانہ، خانسامانی، فیل خانہ، اصطبل، بگھی خانہ، توپ خانہ، شتر خانہ، رتھ خانہ، کارخانہ جلوس، کتب خانہ، بخشی خانہ فوج، کبوتر خانہ، داروغہ نذرو نثار، داروغہ فراش خانہ، پالکی خانہ، داروغہ کہاراں، داروغہ خاص برداران اور نواب ناظر (افسر خواجہ سرایان) وغیرہ شامل تھے۔

اسی طرح مصاحب اور معززین میں ہر مذہب کے لوگ تھے۔ چند مشہور مصاحبین میں راجہ زور آور چند، رائے بہادر گیندال، تور دبی سنگھ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ معززین دربار عالی کی بھی ایک مقررہ فہرست تھی جن میں شہزادگان، وزرا، استاد، علماء، حکماء، کاملین فن، مہمان کارخانہ جات، عرش بیگیان۔ وغیرہ ہوا کرتے تھے۔ اس فہرست میں نام ہونا بڑی عزت کی بات تھی۔ اسی طرح نااہلی یا رشوت ستانی کے الزام میں برطرف ہونے کے بعد نام فہرست سے خارج کر دیا جاتا اور یہ امر برطرفی سے بھی زیادہ موجب تذلیل ہوتا۔ اتنے وسیع لاؤ لشکر کے ماہانہ تنخواہوں کا موازنہ نواب مرزا نے جب انگریز سے ملنے والے ماہانہ وظیفے سے کیا تو، یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ضرور بادشاہ کے ہاتھ پارس پتھر ہے یا کم سے کم دست غیب تو لازمی ہے جس نے ان کی لاج بنا رکھی ہے۔

نواب مرزا کو مرزا فخرو کی طرف سے خان نام دیا گیا۔ داغ ان کا تخلص تھا۔ بعد میں وہ داغ دہلوی کے نام سے برصغیر کی شاعری کے افق پر چھائے رہے۔ سو وہ قلعے میں اور ہر جگہ نواب مرزا خان داغ کے نام سے جانے جا رہے تھے۔ اپنے اس حال سے نواب مرزا بہت خوش تھے اور اپنی تعلیم و تربیت اور شعری ذوق کی نمو کرتے رہے۔ بادشاہ چونکہ خود بھی صاحب ذوق تھے سو نواب مرزا خان داغ کو کبھی کبھی بلا کر ان سے اشعار تازہ سنتے۔ ذوق اور نواب مصطفی خان شیفتہ کی حویلی کے مشاعروں میں وہ برابر شرکت کرتے۔ ایسے میں یہ محض اتفاق نہ تھا کہ داغ نے جو پہلا باضابطہ مشاعرہ پڑھا وہ قلعے میں ان کی آمد کے بعد منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کا داغ کا پڑھا ہوا ایک مطلع بہت مشہور ہوا، جو یوں تھا۔

شرر و برق نہیں شعلہ و سیماب نہیں
کس لئے پھر یہ ٹھہرتا دل بیتاب نہیں

مرزا فخرو اور ذوق تو خوش ہوئے ہی، مومن اور غالب کو بھی ہند میں ایک نئے شاعر کی آمد کی امید ہو گئی۔ منشی گھنیشام عاصی رنج کرتے رہے کہ کاش داغ میرے شاگرد ہوتے۔ ایک بار شعر کی ایک محفل میں داغ نے ایک اور تحسین طلب غزل پڑھی۔

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا، جان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا
داد و تحسین کے شور میں اور سبحان اللہ کی آوازوں میں داغ نے مقطع کہا۔
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا۔
اس غزل اور محفل میں شعروں کے مضامین پر ہونے والی بحث مدتوں یاد رکھی گئی۔

(یہاں یہ کہنا ہرگز بے محل نہیں ہو گا کہ داغ کے یہ اشعار وہ ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔ ورنہ ان کی غزلوں کی ایک بڑی تعداد، محفوظ ہے اور اردو شاعری کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ جسے یہاں کے مشہور گلوکاروں نے اپنی آواز بخشی۔ مزید یہ کہ داغ کا طرہ امتیاز یہ بھی تھا کہ ان کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے شاگرد بر صغیر میں کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ علامہ محمد اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعروں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہوئے ہیں۔ )

دو سال گزر گئے اس دوران نواب مرزا کی شادی اپنی خالہ زاد فاطمہ سے ہو گئی۔ مرزا فخرو نے دھوم سے شادی کی اور شہزادوں کی طرح بارات کا استقبال خود کیا۔ ان کے اور وزیر خانم کے درمیاں محبت دن دوگنی اور رات چوگنی ہوتی جاتی تھی۔ خورشید مرزا گھٹنوں چلنے لگے تھے۔ وہ اس قدر خوش تھیں کہ کہہ سکتی تھیں کہ جو کچھ زندگی نے ان سے چھینا انہی بیش قیمت دنوں کی خیرات تھی۔

1847 میں بادشاہ کے ایک بیٹے اور پھر دوسرے کے انتقال نے نظام بادشاہی میں کچھ رخنہ سا ڈال دیا تھا۔ بادشاہ کے ایک اور صاحبزادے بطور ولی عہد موجود تھے اور مقبول خاص و عام تھے۔ ادھر زینت محل اپنے بیٹے کے لئے ولی عہدی کے خواب دیکھ رہی تھیں۔ یوں ہی 1849 میں اس تیسرے ولی عہد کی بھی رحلت ہو گئی۔ پورے قلعے میں سوگ کی کیفیت تھی۔ اگر کوئی خوش تھا تو وہ زینت محل جن کے بیٹے کی ولی عہدی کی راہ کے کچھ کانٹے اوپر تلے اور جلدی جلدی ہٹ گئے تھے۔

1849 ہی میں مرزا فخرو اور زینت محل نے انگریز کے ساتھ اگلے ولی عہد کی تقرری کے لئے ساز باز شروع کر دی۔ انگریز نے اس شرط پر کہ اس کے بعد بادشاہی ختم ہو جائے گی اور قلعہ معلیٰ خالی کر دیا جائے گا اور اسے خالی کرنے کے عوض کوئی مطالبہ نہ کیا جائے گا، مرزا فخرو کو مستقبل کا ولی عہد مقرر کرنا قبول کر لیا۔ یہ شرط محض علامتی تھی۔ وہ ایسے کہ 1835 سے ہی سکوں پر بادشاہ کے بجائے ولیم چہارم کا نام اور شبیہ آنے لگی تھی جسے ملکہ وکٹوریہ کے نام اور شبیہ سے 1840 میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ لے دکے کر ملک ہند میں بادشاہی کی علامت جمعہ کے خطبے میں بادشاہ کا نام لینا تھا سو وہ بھی ممنوع قرار پا گیا۔

1852 میں مرزا فخرو صاحب عالم و عالمیان اپنے القاب و خطابات کے ساتھ ولی عہد مقر ر ہوئے۔ لیکن کسی قسم کے مروجہ جشن کا اہتمام نہ ہوا۔ وہ رنجیدہ تھے کہ آل چغتائی کی سلطانی کا چراغ ان کے ہاتھوں کشتہ ہو رہا تھا۔ زینت محل کے ہاں ماتم برپا تھا۔ انھوں نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر انگریزوں، بالخصوص، ٹامس مٹکاف کو بد دعائیں دینی شروع کردیں کہ زہر خوانی سے مریں گے۔ اتفاق سے مٹکاف کی طبیعت چند مہینے کے اندر ہی پیٹ کی تکلیف سے خراب ہو گئی۔ دلی میں افواہ پھیل گئی، ملکہ دوراں نے انھیں زہر دلوایا۔ ان کی طبیعت بہتر نہ ہو سکی اور وہ 1853 میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ انھیں وہاں دفن کیا گیا جہاں ولیم فریزر دفن ہوا تھا۔ کچھ ہی عرصہ میں مٹکاف کی اہلیہ بھی کوچ کر گئیں۔

نیا انگریزی سال 1854 کا تھا۔ اس سال ذوق یہ فانی دنیا چھوڑ گئے۔ دلی میں شاعری کے ماتھے کا جھومر غالب کی شکل میں بچا تھا۔ ذوق کی جگہ دربار میں غالب نے لی۔ مرزا فخرو ان سے اصلاح لیتے تھے۔ نواب مرزا نے ان کی شاگردی اختیار نہ کی۔ نواب مرزا، خورشید مرزا، شاہ محمد آغا اور مرزا ابوبکر چاروں سگے بھائیوں سے رہتے تھے۔ 1855 میں وزیر کے بہنوئی نواب یوسف ولی عہد رامپور مقرر ہو گئے۔

1856 میں سانحہ اودھ ہو گیا جو انگریز کی برصغیر میں بڑھتی ہوئی چیرہ دستیوں کا شاخسانہ تھا۔ اسی سال انگریز فوجیں لکھنؤ میں داخل ہو گئیں۔ مرزا فخرو برابر بڑھتے ہوئے استعمار کو دیکھ رہے تھے اور ہند کی حالت پر دل گرفتہ بھی۔ اسی سال دلی میں پہلے شدید گرمی اور پھر شدید بارشیں ہوئیں۔ نشیبی علاقے سیلاب سے بھر گئے۔ سینکڑوں مکان منہدم ہو گئے۔ پھر ہیضہ کی وبا پھیل گئی ایسے میں انگریز سرکار کے کرتا دھرتا شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے تو شہر میں جا بجا پھیلی گندگی، سڑاند کو کون صاف کرواتا؟

حکیم مایوس ہو گئے۔ جولائی کے مہینے میں اسی سال مرزا فخرو بھی پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ حکیم احسن اللہ اور دوسرے حکما بلائے گئے۔ جنھوں نے اپنے تئیں جان بچانے کی بہت کوشش کیں۔ وزیر خانم ان کی طبیعت کا سن کر کہتی رہیں کہ صاحب عالم ٹھیک ہیں۔ اس پر زینت محل نے ہنس کر کہا۔ وہ مارا، اب میرے بیٹے کو ولی عہد بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مرزا فخرو کی طبیعت کچھ سنبھلی تو انھوں نے وزیر کے لئے تسلی کے کلمات بھجوائے۔ مگر روبہ صحت نہ ہوئے اور پھر اس جہاں سے کوچ کر گئے۔ وزیر نے رو رو کر برا حال کر لیا۔ وزیر کے بیٹے انھیں تسلی دیتے تھے۔ ان کی بہن بھی چلی آئیں۔ بہن نے تسلی کو گلے لگایا تو غش کھا کر گر پڑیں۔

مرزا فخرو کے سوئم اور سوگ کے ختم ہوتے ہی زینت محل نے بادشاہ پر زور ڈالنا شروع کر دیا کہ سرکار کمپنی انگریز بہادر کو ولی عہد کی تقرری کے لئے لکھیں۔ ضعیف بادشاہ سلطنت کا مستقبل جانتے تھے سو اس ضمن میں خاموش رہے۔ مگر بعد میں اپنی اس جواں سال ملکہ زینت محل کے اصرار پر ایک خط لکھ ہی دیا۔

وزیر خانم دن رات روتی تھیں اور اپنی قسمت کو پیٹتی تھیں۔ ان کی آنکھوں پر ورم آ گیا۔ ایسی غمزدہ حالت میں زینت محل نے انھیں بلوایا اور کہا کہ مرزا فخرو نہیں رہے سو تمہیں اب ڈیوڑھی خالی کرنی ہوگی۔

وزیر خانم نے کہا ملکہ شاید بھولتی ہیں کہ میں چھوٹی بیگم کے ساتھ ساتھ شوکت محل بھی ہوں۔
زینت محل نے کہا، ہو نہیں تھیں۔
وزیر بولیں، یہ فیصلہ تو وہی کریں گے، جن کا یہ نام مجھے دیا گیا ہے۔

زینت محل نے کہا فیصلہ ہو چکا۔ اب یہاں تمہاری کوئی نہیں سنے گا۔ تم میرے ولی عہد کے خلاف سازشیں کر رہی ہو۔ سو تمہارا جانا ہی بہتر ہے۔ ظاہر ہے اس سب میں کوئی صداقت نہ تھی۔ مگر وزیر نے پھر بھی کہا ”ملکہ عالیہ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن ایک دن وہ بھی ہوگا جب کسی بادشاہ، کسی حاکم کا حکم نہ چلے گا۔ صرف اللہ ہوگا اور انصاف کی ترازو ہوگی۔

زینت محل نے کہا، وہ سب درست، مگر ظل الہی کی منشا جس قدر جلد ممکن ہو، پوری ہو جائے تو بہتر ہے۔

وزیر خانم ”جی بہتر“ کہ کر اٹھ دیں۔ اور ملکہ دوراں کی طرف پیٹھ کیے بلا اجازت وہاں سے یوں اٹھیں جیسے انھیں قلعہ چھوڑنے کا غم ہو گا اور نہ ہی سر چھپانے کی جگہ کی تلاش میں مسئلے ہوں گے۔ مگر جیسے ہی اپنی ڈیوڑھی میں پہنچیں تو شدت غم سے نڈھال ہو کر اپنے پلنگ پر گر پڑیں۔ ان کے بچے ان کے آس پاس تھے۔ ان میں سے مرزا ابوبکر (مرزا فخرو کی پہلی بیوی کے بیٹے) اپنا حق لینے پر مصر تھے اور وزیر خانم کو بھی یہی کہتے تھے۔

وزیر خانم نے جب یہ سنا تو کہا ”ساری زندگی میں حق کی ہی جویا رہی ہوں، حق پہاڑوں کی کھوہ میں ملتا ہو تو ہو، اس آسمان تلے تو کہیں دیکھا نہیں گیا“ ۔ ان ساری باتوں کے ساتھ مستقبل کا یہ لائحہ عمل طے پایا کہ مرزا ابوبکر یہیں رہیں گے۔ نواب مرزا داغ اور خورشید مرزا وزیر خانم کے ساتھ رامپور منجھلی خالہ کے ہاں چلے جائیں گے۔

اگلے دن مغرب کے بعد ایک پالکی پر وزیر خانم، ایک بہلی پر ان کا اثاثہ البیت، اور پالکی کے دائیں بائیں گھوڑوں پر نواب مرزا اور خورشید مرزا ایک قافلے کی مانند نکلے۔ محافظوں کے پاس پہنچے تو مٹھی بھر اٹھنیاں لوٹائیں۔ پالکی کے اندر 45 سال کی وزیر خانم سر کو جھکائے بیٹھی تھیں۔

میری جوانی کے دن دربدری میں گئے اور فکرو الم میں
نہ تھمنے والے قدموں کے ساتھ کسی، خیر گریز پا، کے تعاقب پر مجبور
وہ اپنی جھلک دکھا دکھا کر میرا منہ چڑھاتا رہا۔
(آلیور گولڈ سمتھ)
(ختم شد)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *