بھارت: وبا کے مرکزے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہندوستان اور خاص کر دلی کے جو حالات ہیں، اس نے جہاں پوری دنیا کو فکرمند کر دیا ہے وہیں موت کے اس گرداب میں پھنسے انسانوں کو حیران اور پریشان کر رکھا ہے۔ یوں تو پوری دنیا میں کورونا وبا کی تباہ کاریوں کے قصے ہم لوگ ایک سال سے دیکھتے اور سنتے آرہے ہیں مگر اس کی ہلاکت خیزی سے اب تک پوری طرح واقف نہیں ہو سکے ہیں کہ جب کہیں یہ اپنے پیر پھیلاتی ہے تو صرف موت اور بیماری کی تباہی سامنے نہیں آتی بلکہ انحطاط کی روز نئی نئی شکلیں ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ جس میں انسان کی ساری کمزوریاں، بے بسی اور ناکامی برہنہ ہو کر دنیا کے سامنے آجاتی ہیں۔ اسی لئے وہ سپر پاور سمجھا جانے والا امریکا ہو یا ہندوستان کی نخوت بھری حکومت کا جابر چہرہ۔ خدا کے قرب پر فخر کرنے والا کوئی اسلامک ملک ہویا حلال و حرام کی تفریق نہ کرنے والا چین، اس کورونا نے کسی کو بھی نہیں بخشا ہے اور کورونا کی دوسری اور تیسری لہر نے سب کے انتظامی امور، طبی سہولیات اور غیرانسانی چہرے کی قلعی اتار دی ہے۔ اس وبا نے ہر ملک کے حالات اور ان کے وبا سے نبٹنے کی تیاری کی پول اچھی طرح کھول دی ہے اور اب یہ سارے ممالک کے لئے خود احتسابی کا وقت ہے۔ جہاں چھوٹی سی چھوٹی غلطی بھی ناقابل تلافی نقصان بن کر سامنے آ سکتی ہے۔

اب جبکہ ہندوستان کورونا کی دوسری ہلاکت خیز لہر کی چپیٹ میں آنے سے خود کو نہیں بچا سکا حکمرانوں کا تجاہل عارفانہ بلکہ ظالمانہ رویہ مزید حیران کرتا ہے۔

کورونا ہندوستان میں اتنی خطرناک شکل نہ لیتا اگر یہاں کی انتظامیہ نے اس کی ہلاکت خیزی کا صحیح اندازہ لگا کر بروقت صحیح فیصلہ لیا ہوتا۔ اور اب جبکہ یہ وبا سونامی بن کر یہاں بڑے بڑے میٹرو پولیٹن شہروں کے ساتھ ملک کے ہر قصبے اور گاؤں میں پھیل چکا ہے ایسے وقت میں بھی کرپشن اور کالا بازاری کی دکان چمکنے لگی ہے۔ سیاسی پارٹیاں آپس میں بے شرمی سے لڑ رہی ہیں تاکہ ہر ذمہ داری سے اپنا پلا جھاڑ سکیں اور گلی گلی کوچے کوچے میں انسان کی ہی نہیں، انسانیت کی لاش سسک سسک کر دم توڑتی نظر آتی ہے۔

A man reacts before the cremation of his relative, who died from the COVID-19, on the banks of the river Ganges at Garhmukteshwar. India, May 6, 2021. REUTERS/Danish Siddiqui

مایوسی کے اس اندھیرے میں چند فرشتہ صفت لوگ اپنے بے لوث جذبے کے ساتھ میدان میں اتر آتے ہیں تو زندگی اور دنیا پر سے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو تنکے کا سہارا ملتا ہے۔ مگر مسائل کے پہاڑ کو عبور کرنے کے لئے ان کی تعداد اور ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ جو اتنے بڑے حادثے میں اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے باوجود انسانیت کا بھلا کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

ہم سب نے اپنی زندگی میں تاریخ کے بہت سے سیاہ باب پڑھے اور سنے۔ حال میں بھی بہت سے جنگ و جدل۔ نا انصافی اور جبر کے واقعات کی چشم دید گواہ بنے۔ بہت سے واقعات نے جھنجھوڑ دیا، آسمانی آفات اور وبا کے بارے میں بھی بہت کچھ سنا، مگر جب ایسا کوئی سخت ترین وقت خود پر سے گزر جائے تو کیسا لگتا ہے؟ کیا ہم صرف بیماری اور موت کا مزہ چکھتے ہیں؟ نہیں۔ بلکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں جس میں انسانی معاشرے کی ساری قلعی یکلخت اتر جاتی ہے۔

یہ ایک ایسا عجیب دور ہے جس میں بے بسی سی بے بسی ہے کہ عقل گنگ اور احساسات سن ہو گئے ہیں۔ اس قید میں لگتا ہے کہ اگر کوئی چیز ہم تک آ سکتی ہے تو وہ موت ہے۔ جسے کسی کھلے دروازے اور دریچے کی ضرورت نہیں۔ آج کل تو وہ دستک بھی نہیں دیتی۔ بس آ جاتی ہے۔ روز نیند سے جاگنے کے بعد بہت دیر تک موبائل کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ نہ جانے اس میں کتنی موت کی خبریں ہوں یا آکسیجن اور ڈاکٹر تک رسائی  کی استدعا، کتنے نئے بیمار ہونے والوں کی خبر ہو۔ اور یہ سب اپنے دوست، پڑوسی، رشتے دار جاننے والے ہی تو ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شمشانوں سے اٹھتی ہوئی لپٹوں کی ویڈیو۔ قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے کا بورڈ۔ اسپتال کے باہر ایمبولینس کی لائن اور روتے بلکتے لوگ اور ان سب کے درمیان انسانیت کی لاش۔ جی ہاں صرف انسان کی نہیں، انسانیت کی لاش بھی نظر آتی ہے۔

شاید میری طرح آپ بھی کہتے ہوں کہ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ مگر یہ وہ موت نہیں ہے جو اپنے پیاروں کے کندھے پر سفر کر کے آخری آرامگاہ تک پہنچتی ہو۔ یہ لاشوں کی ڈرانے والی وہ تعداد ہے جنہیں بر وقت طبی سہولیات نہیں مل رہی ہے۔ ہمارے ہاسپیٹل اور ہمارے ڈاکٹر اتنی بڑی تعداد کو، اتنے پریشر کو کیونکر سنبھال سکتے ہیں جب انتظامیہ ان کے ساتھ نہ کھڑی ہو۔ لیکن ساتھ کھڑا ہونا تو دور ان لاشوں کے لئے جن کی جوابدہی بنتی ہے کوئی ایک بار ان کی بے حسی دیکھ لے، ایک بار اس انسانیت کو مرتے ہوئے دیکھ لے پھر کہے کہ اسے موت سے ڈر نہیں لگتا۔

جب ایک کمرے میں ایک مردہ ماں کے پاس دو سال کے بچے کو دو دن سے بھوکا بیٹھے ہوئے دیکھیے، جسے پڑوسیوں نے اس لئے نہیں اٹھایا ہو کہ کہیں اس کی ماں کورونا سے تو نہیں مری ہے۔ یا شمشان میں باپ کی ارتھی چھوڑ کر چپکے سے بھاگ جانے والے بیٹے کو دیکھ لیجیے۔ کسی غریب بوڑھے کو اپنے نوجوان بیٹے کی لاش لے کر بھٹکتے ہوئے دیکھئے جو یہ کہتے ہوئے رو رہا ہو کہ اس کا بابو چلا گیا اور وہ دنیا میں تنہا رہ گیا ہے، لیکن لوگ اس سے ہمدردی نہیں کرتے بلکہ اپنے شمشان میں اس کا انتم سنسکار اس لئے نہیں کرنے دیتے کہ وہ کورونا سے مرا ہے۔ یا کسی ایسے خاندان کو دیکھئے کہ جو سوشل ورکر کو بلا کر دور سے انگلی اٹھا کر اپنے کسی عزیز کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ یہ لاش یہاں سے جلد ہٹا دو ہم سے پیسہ لے لو مگر ہم ساتھ نہیں آنا چاہتے۔ تو انسانیت، دوستی اور محبت جیسے کھوکھلے لفظ پر سے پورا کا پورا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

ایسے میں کسی غم زدہ پریشان حال انسان سے ایمبولنس اور دوائیوں کی چوگنی قیمت وصول کرتے کچھ دلال۔ یا شمشان سے دھو دھو کر کے اٹھتے ہوئے شعلوں کے درمیان گدھ کی طرح انسانی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے والے بے ضمیر انسان ایسی حقیقتیں ہیں یا ایسے منظر ہیں جو آپ کے ذہن سے تا زندگی دھندلے نہیں ہو سکتے۔ آج کل انسان یہاں لاش بن کر صرف گنتی بن جاتے ہیں اور ایسی گنتی جسے دنیا سے چھپایا جائے۔

دوسری طرف کچھ فرشتہ صفت لوگوں کا بے لوث جذبہ بھی نظر آ رہا ہے، انتظامیہ اور حکومت سے مایوس ہو کر لوگ خود اپنی مدد آپ کے تحت مل کر انتظام کر رہے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں ایسے لوگوں کی کاوشیں ڈھارس تو دیتی ہیں مگر ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر عوام کو جڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ ضرورت کے حساب سے یہ مدد بھی بہت کم ہے، اسی لئے ہر قدم پر مایوسی اور نا امیدی ہمیں گھیر لیتی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو، جب فرنٹ لائن ورکر کو یا ڈاکٹرز کو مایوسی کے عالم میں اس لئے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھیے کہ ان کا علم ان کی کاوش اس لیے کام نہیں آ رہی کہ ہر طرف بد انتظامی ہے، لوٹ ہے، خود غرضی اور بے حسی ہے۔

اس لئے جس کی سانس آسانی سے بچائی جا سکتی تھی اسے وہ اپنے سامنے اور اس کے روتے بلکتے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتے عزیزوں کے سامنے تڑپ کر مرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ موت کی سونامی تنکوں کی طرح سارے وجود کو بہائے لئے جا رہی ہے۔ بڑا یا چھوٹا، مذہب و ملت، منصف و مجرم، نیک و بد، مسیحا و بیمار کی تفریق کیے بغیر یہ موت اپنا کام کر رہی ہے۔ دنیا کے کام پھر بھی نہیں رک رہے ہیں۔ ان حالات میں بھی سیاسی پارٹیوں کی بے حسی حیران کن ہے۔ ان حالات میں بھی ان کی ترجیح الیکشن ہے یا وہ سیاسی چپقلش ہے جسے وہ اس مشکل وقت میں بھول کر اور ایک ساتھ مل کر ساری طاقت کورونا سے لڑنے میں نہیں لگا سکتے۔ ایسے مشکل وقت میں بھی وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا اپنی آرام اور آسائش کے خیال اور انتظام میں مصروف ہیں۔

میڈیا میں چند سر پھرے اور جیالے لوگوں کو چھوڑ کر سب کے لب پر رشوت اور دولت کی زنجیر ڈال دی گئی ہے انہیں کچھ دیکھنے اور سننے کے قابل ہی نہیں چھوڑا گیا ہے۔ بلکہ انہیں جھوٹ پھیلانے کی ایک نئی مہم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی والا یہ ملک چند خود غرض اور لالچی اور جاہل حکمرانوں کے سامنے اتنا بے بس اور اتنا کمزور کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنے ملک کا وقار بچانے کے لئے، اپنے عزیزوں کی زندگیاں اور خوشیاں بچانے کے لئے آواز تک نہ اٹھائے۔

Relatives of COVID victims seen at Nigambodh Ghat crematorium in New Delhi. (Photo by Naveen Sharma)

انہیں بے موت مرتا ہوا دیکھ کر بھی اس کی غیرت نہ جاگے۔ بد انتظامی، جھوٹ اور بدحالی کا ہر پہلو اجاگر ہونے کے بعد بھی۔ اس کے خون میں ابال نہ آئے۔ کیا ساری ذمہ داری میڈیا، ڈاکٹر اور عدالت کی ہے؟ میڈیا اور عدالت بک چکی ہے۔ ڈاکٹر بے بس ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ محنت کر رہے ہیں اور وہ عوام جو ابھی زندہ تو ہے مگر اس کا شمار زندوں میں کرنا بے کار ہے۔ ایسے زندہ لوگوں سے بہتر تو اس وبا میں مر جانے والے وہ مردہ ہیں جن کی قبرستان اور شمشان کے باہر لگی لمبی لمبی قطاریں اور شمشان سے اٹھتے ہوئے شعلے یہاں کے ظلم، ناکامی اور بدانتظامی کی کہانیاں پوری دنیا کو چیخ چیخ کر سنا رہے ہیں۔

ندی میں بہ کر کنارے تک آنے والی انگنت لاشیں ان زندہ لوگوں سے زیادہ اپنی داستان سنا رہی ہیں جسے کوئی بھی باضمیر انسان سن کر کانپ جاتا ہے۔ اور اس پر پردہ ڈالنے والے لوگ آج بے بس ہو گئے ہیں۔ موت کے اس کالے سائے میں جہاں انسان کی ایک ایک سانس بلیک میں بک رہی ہے اور لوگ بہت بے بسی کے عالم میں لاشوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

جو زندہ رہ گئے ہیں وہ ان لاشوں سے زیادہ بے جان نظر آرہے ہیں۔ خوف، بے عملی اور بے حسی نے جیسے ان کے جسم سے بھی جان نکال لی ہے، جسم اور روح سے مرے ہوئے ان لوگوں کے درمیان آج میں اس کالی موت کی چشم دید گواہ بننے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ مجھے بھی موت سے ڈر لگتا ہے۔ ایسی موت سے جہاں انسان سے پہلے انسانیت مر جاتی ہے۔

Latest posts by نسترن احسن فتیحی (نئی دہلی) (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نسترن احسن فتیحی (نئی دہلی) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *