ہمارے پیارے لافانی انکل سرگم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروگرام کا نام ہے کلیاں اور 80 ء کی دہائی ہے۔ انکل سرگم، ماسی مصیبتے، رولا، ڈڈو اور دیگر فنکار سیٹ پر موجود ہیں اور ہلکی پھلکی طنز و مزاح جاری ہے۔ 1985 ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد نتائج کے اعلان کرنے کا سیٹ لگا ہوا ہے اور انکل سرگم کا امیدوار ہار گیا ہے جس پر وہ جذباتی ہیں اور رولے کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہے ہیں۔ اس میں لوگوں کے خطوط پڑھنے کا سیگمنٹ ہے اور اکوال کے علاقے سے ماسی صاحب نور کا خط ہے جس میں وہ اپنے گھر اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں کا بتا رہی کہ آدھا خاندان ایک امیدوار کا حامی تھا اور آدھا اس کے مخالف کا۔ اب جو امیدوار جیتا ہے اس کے حامی خوش ہیں اور ہارنے والوں نے گھر میں جیتنے والوں کا حقہ پانی بند کیا ہوا ہے۔ ماسی نور مشورہ مانگ رہی ہے۔ اور مشورے میں انکل سرگم اپنے ماتحت رولے کا ایک گیت چلوا دیتا ہے۔ جو نازیہ اور زوہیب حسن گاتے ہیں۔ گانے کے بول ہیں :

آئٹم (بم) بنا کے پتلی آئٹم سے کر رہے ہیں
کیا کام تھا ہمارا کیا کام کر رہے ہیں
( ایک لطیف طنز تھا ضیا کے نوے دن کے الیکشن کے وعدے اور پھر 5 سال بعد غیر جماعتی الیکشن پر)

کلیاں کی ایک قسط ہے۔ انکل سرگم نے بشریٰ انصاری کے پپٹ کو بلایا ہوا ہے بشریٰ ایک بکری کی پتلی میں ہیں۔ انکل سرگم: بھئی یہ بتاؤ تم کہاں غائب تھیں۔ بشریٰ: انکل سرگم میں امریکہ گئی تھی، ہالی وڈ گانے گانے کے لئے۔ انکل سرگم: واہ یہ تو کمال ہے۔ تو پھر واپس کیوں آ گئیں۔ بشریٰ: وہ میں نے گانا گانا چھوڑ دیا اور بے روزگار ہو گئی تو واپس آ گئی۔ انکل سرگم: تم نے گانا کیوں چھوڑا۔ بشریٰ: دراصل انکل سرگم میں ان کے گن گانے گئی تھی۔ ان کے گن ختم ہو گئے تو میں واپس آ گئی۔ انکل سرگم: ہوں۔ ہوں۔ ہوں۔ بڑی چالاک ہو امداد کو گن کہہ رہی ہو۔

انکل سرگم اپنے پروگرام کلیاں میں ایک سیگمنٹ مزاحیہ شاعری کا کرتے تھے جن کا عنوان ہوتا تھا ”ادبی محفل“ مگر پوسٹر پر ادبی محفل (ا۔ دبی محفل) لکھا ہوا ہوتا تھا۔ ان محفلوں سے دو شعر ملاحظہ فرمائیں :

ریت پر پانی برستا ہے اس دیس میں
کھیت پانی کو ترستا ہے اس دیس میں
افسروں لیڈروں اور پاگلوں کو چھوڑ کر
کون کھل کر ہنستا ہے اس دیس میں
اور پھر شہرہ آفاق نظم ”میرے پیارے اللہ میاں“ کے کچھ بند:
میرے پیارے اللہ میاں، دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے، اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں، اور وہ بھی پاکستان ہے
میرے پیارے اللہ میاں، سوچ کے دل گھبراتا ہے
بند ڈبوں میں خالص کھانا، ان کا کتا کھاتا ہے
میرا بچہ روتے روتے، بھوکا ہی سو جاتا ہے
میرے پیارے اللہ میاں، بارش میں راز یہ کھل جاتا ہے
میرا گھر بہہ جاتا ہے، اس کا گھر دھل جاتا ہے

ایسے بے شمار اور لازوال پروگرام، زندگی کی امید دلاتی تحریریں، گیت، سکرپٹ، اور ڈرامے اور یادگار پرفارمنسز تعارف تھیں ہم سب کے پیارے اور لافانی انکل سرگم کا۔ بہت کم فنکار ایسے ہوتے ہیں جن کا نام اور کام بہت پیچھے رہ جاتا اور ان کا نبھایا کردار بہت آگے چلا جاتا اور لافانی ہو جاتا ہے۔ فاروق قیصر ایسے ہی فنکار، صدا کار، پتلی تماشے کے ماہر، نغمہ نگار، ڈرامہ رائٹر اور شو ہوسٹ تھے جن کا نام پیچھے رہ گیا اور انکل سرگم آگے نکل گیا۔

فاروق قیصر بنام انکل سرگم شاید بہترین تشریح ہیں ”گور پیا کوئی ہور“ کی۔ انہوں نے زندگی گزاری اور شاندار گزاری۔ اپنی زیست میں بہت کچھ کیا اور بہت کچھ کرنے کی حسرت رکھتے تھے۔ انہوں آمروں کو کلیاں ماریں اور کہنہ نظام کے ساتھ اکڑ بکڑ بمبے بو کھیلتے رہے۔ ان کے گیت اور شعر طالع آزماؤں پر ”حرف حق سنگ زن“ ہوتے رہے۔

انکل سرگم ایک ایسی تخلیق تھی جس نے 60 ء اور 70 ء کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچوں کے بچپن پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ مجھ سمیت پاکستان کے لاکھوں لوگوں کے بچپن کی شاندار اور طنز و مزاح سے بھرپور یاد انکل سرگم کے ادا کیے جملے ہیں۔ راقم الحروف کو پی ٹی وی نے بہت کچھ دکھایا مگر الف نون، کلیاں، عینک والا جن، پنک پینتھر کارٹون ایسے پروگرام تھے جن کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ اور کلیاں بالخصوص ایسا پروگرام تھا جس میں بچوں کے لئے طنز و مزاح اور بڑوں کے لئے سنجیدہ پیغام ہوتے تھے۔

کیا بھلا وقت تھا جب پاکستان کے ذی شعور حلقے بچوں کے پروگراموں کے ذریعے اور مزاحیہ خاکوں اور ڈراموں کے ذریعے سیاسی اور سماجی بیداری کو پیغام دیتے تھے۔ ایک وقت اب ہے جب ”ذی شعور“ بڑے کسی ننھے پروفیسر، کسی سکول کے بچے، کسی ٹک ٹاکر بچی کے ذریعے قناعت پسندی اور ”اچھا شہری“ بن کر رہنے کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔

بہرحال ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں کے مصداق ذی شعور پاکستانی ہر دور میں اور ہر کڑے وقت میں کسی انکل سرگم کے ذریعے، ماسی مصیبتے، رولے، کھڑپینچ، بونگا بخیل، ڈڈو اور کسی ہیگے کے ذریعے پاکستان کے باشعور عوام کو سیاسی اور سماجی بیداری کا پیغام دیتے رہیں گے۔ فاروق قیصر اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہے۔ مگر میرا ایسا ماننا ہے کہ لوگوں کی یادوں اور خیالات کو جنت بنانے والا فاروق قیصر یقیناً جنت میں جائے گا۔ مگر مجھے مسکراہٹ یہ سوچ کر آئی کہ جنت میں ان کی آمد کا اعلان شاندار اور ہنسی بھرپور ہو گا جب ایک کریم فرشتہ کہے گا: اے اہل جنت اب تشریف لاتے ہیں بزرگ عالم مع کلام برہم، آدھے زخمن آدھے مرہم، آدھے جھوٹم آدھے سچم، آدھے کھانسم آدھے بلغم، آدھے ٹوٹم آدھے سالم، آدھے گنجم آدھے بالم۔ جناب سرگم!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *