EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اقبال علی علوی کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گیارہ مئی 2021، رات دس بجے اقبال علی علوی صاحب 90 برس کی بھرپور زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ میں اقبال علوی صاحب کی شخصیت پر کچھ لکھنے کی کوشش کئی روز سے کر رہا ہوں، ذہن میں یادوں کا ایک ہجوم ہے جو امڈا چلا آتا ہے لیکن قلم ساتھ دینے کو تیار نہیں ہو پا رہا تھا۔ میرا ان کا ساتھ کم و بیش تیس برس کا رہا، گو کہ عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے لیکن ان کی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے اس بڑے پن کا فائدہ نہیں اٹھاتے تھے اور یہ ان کا بڑا پن تھا کہ وہ ہم سے ہماری سطح پر اتر کر گفتگو کرتے تھے۔

علوی صاحب انسانی حقوق کے علمبردار، ایک سیاسی کارکن، نظریاتی انسان جو جس نظریہ پر یقین رکھتا تھا، تمام عمر اس نظریے کے ساتھ جڑا بھی رہا، ایک بے لوث سماجی کارکن اور نہ جانے کیا کیا۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت وہ لڑکپن سے جوانی کی حدود میں داخل ہو رہے تھے اور ملک بننے کے ساتھ جیسے ہی یہاں سچ اور جھوٹ، اصلیت اور منافقت کے درمیان کی لکیر کھینچی گئی، وہ فوراً سچ اور اصلیت کے طرف دار بن کر کھڑے ہو گئے اور تادم آخر جھوٹ اور منافقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

اس سلسلے میں انہوں نے اس وقت کے سیاسی اور طالب علم کارکنوں کے ساتھ قید اور بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جن میں ان کے ساتھ ادیب الحسن رضوی اور ادیب آفریدی (جو معراج محمد خان کے بھانجے اور پاکستان کے ایک ائر چیف مارشل جمال خان کے بڑے بھائی تھے ) اور دیگر بہت سے۔ وہ جب اپنی زندگی کے قصے مجھے سناتے تھے تو میں مبہوت سا ہوجاتا تھا۔ اس لیے کہ علوی صاحب کسی کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ نہیں تھے۔ بچپن میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ والدہ نے پرورش اور تربیت کی، جو ان کے مطابق 12 روپے ماہوار والد صاحب مرحوم کی پنشن سے ممکن ہوئی۔ کہتے تھے کہ والدہ محترمہ حافظۂ قرآن تھیں اور کراچی جیل میں اکثر ان سے ملنے آتی تھیں تو گھر سے کچھ دال روٹی بنا کر لاتی تھیں اور ہمیشہ اپنے اصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین فرماتی تھیں۔

iqbal alvi

اس کے بعد علوی صاحب پی آئی اے میں ملازم ہو گئے اور 1960 ء کے اوائل میں ان کی شادی ہوئی اور ڈاکٹر رضیہ ان کی شریک حیات بنیں۔ اب زندگی میں کچھ ٹھہراؤ آ گیا، ایک طرف ان کی ملازمت دوسری طرف شاہ فیصل کالونی میں ڈاکٹر رضیہ کی دھواں دھار پریکٹس اور وہیں رہائش، لیکن یہ دور بہت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکا اور 1980 ء کی دہائی میں جو یہ شہر ایک سیاسی مافیا کے نرغے میں آ کر جس دور ابتلا میں آیا اس سے زندگی اوپر نیچے ہو گئی اور اسی دوران طے ہوا کہ شاہ فیصل کالونی کا خطرناک علاقہ چھوڑ کر نسبتاً کسی محفوظ علاقے کی طرف مراجعت کی جائے۔

اور 1988 ء میں کلفٹن بلاک 2 میں اپنا گھر بنا کر وہ شفٹ ہو گئے۔ پی آئی اے میں ملازمت کا علوی صاحب کا زمانہ، اس ائرلائن کے سنہرے ادوار میں سے ایک ہے جہاں ائرمارشل نور خان جیسا نابغہ اس کا سربراہ ہو، عمر قریشی وغیرہ جیسے بڑے لوگ شامل ہوں اس ٹیم کا حصہ علوی صاحب بھی بنے اور پی آئی اے اس وقت دنیا کی بہترین ائرلائن میں سے ایک تھی، نہ صرف یہ بلکہ پی آئی اے نے گلف کی ائرلائنوں کو بنانے اور چلانے میں ان کو ہر قسم کی مدد حتیٰ کہ اپنے طیارے بھی دیے۔

وہ ائر لائنیں آج کہاں اور پی آئی اے کہاں۔ کیونکہ علوی صاحب جیسے لوگ اس کی مینجمنٹ میں نہیں رہے تھے۔ مجھے کہتے تھے کہ پی آئی اے کی دنیا بھر میں جہاں بڑی میٹنگز ہوتی تھی میں اس کا ضرور حصہ ہوتا تھا۔ 1990 ء کی دہائی میں میرا ان سے ذاتی تعلق قائم ہوا، کہ میں ان دنوں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لیے کام کر رہا تھا اور پاکستان کا صدر تھا، چونکہ علوی صاحب ایک سیاسی سماجی کارکن کے علاوہ انسانی حقوق کے علمبردار تھے اس لیے وہ بھی ہمارے قافلے میں شامل ہو گئے اور گراں قدر خدمات انجام دیں۔

ایک مرتبہ میں اور وہ لاہور ایک میٹنگ میں ساتھ ساتھ گئے، واپسی پر ایرو ایشیا ائرلائن میں میرا ٹکٹ رات 9 بجے کا کنفرم ہو گیا اور ان کو دوسرے دن صبح کی فلائٹ ملی۔ میرا اور ان کا قیام میرے ایک بہت عزیز دوست اور بھائی کے گھر تھا۔ رات جب میں ائرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو کہنے لگے کہ میں بھی آپ کے ساتھ چل رہا ہوں (یہ 2004 ء کی بات ہے ) اگر مجھے بورڈنگ کارڈ مل گیا تو آپ کے ساتھ چلا چلوں گا ورنہ صبح آ جاؤں گا۔

ائرپورٹ پر جیسے ہی ہم لاؤنج میں داخل ہوئے تو ایرو ایشیا کے کاؤنٹر پر جتنے لوگ بیٹھے تھے وہ سب اپنی نشستیں چھوڑ کر علوی صاحب کی طرف دوڑ پڑے اور ان سے آ کر لپٹ گئے۔ میں حیران ہو کر یہ منظر دیکھتا رہا، پھر انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کنفرم ٹکٹ نہیں ہے تو ایک صاحب جو شفٹ انچارج تھے کہنے لگے سر، کیا یہ جہاز اب آپ کے بغیر جا سکتا ہے۔ اور دو منٹ میں ان کو بورڈنگ کارڈ لا کر دے دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک صاحب سیاہ لباس میں ملبوس لاؤنج میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ ہٹو بچو کی آوازیں آئیں، پھر ان صاحب کو پتہ چلا کہ علوی صاحب یہاں موجود ہیں تو انہوں نے علوی صاحب کو اپنے پاس بلا لیا، اور تخلیہ میں پندرہ منٹ گفتگو کی، بعد میں علوی صاحب نے بتایا کہ یہ ائرلائن کے مالک یعقوب تابانی صاحب تھے اور ان سے Request کر رہے تھے کہ آپ دوبارہ ایرو ایشیا جوائن کر لیں اور ہم دوبئی کی سروسز شروع کر رہے ہیں آپ دوبئی میں بیٹھ کر اس ائرلائن کو سنبھالیں، جو کہ انہوں نے معذرت کرلی، پھر بتایا کہ پی آئی اے سے ریٹائر ہو کر ایرو ایشیا کو پاکستان میں قائم کرنے والا میں ہی تھا۔

جو عزت و تکریم ان کو ائرپورٹ پر ملی اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ تمام کے تمام اسٹاف کے لوگ علوی صاحب کے زمانے میں ہی ملازمت پر رکھے گئے تھے اور ایک لحاظ سے علوی صاحب ان کے باس تھے، جو کہ عام طور پر سخت گیر اور متلون المزاج۔ لیکن علوی صاحب نے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کا رویہ اپنایا ہوگا اس لیے وہ سب ان کے سامنے بچھ بچھ جا رہے تھے۔

بہرحال قصہ مختصر یہ کہ علوی صاحب کے تینوں بچے ملک سے باہر چلے گئے، ایک بیٹی اور ایک بیٹا امریکا میں سکونت پذیر ہوئے اور دوسری بیٹی آسٹریلیا کی باسی ہو گئیں۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ بچے جب اپنا مستقبل غیر ممالک میں بنا لیتے ہیں تو ان کے لیے وطن آنا اور مستقل طور پر لوٹنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ اگر آنا بھی چاہیں تو ان کی اپنی اولادیں پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔ یہی کچھ علوی صاحب کے ساتھ بھی ہوا اور اس کے بعد جو زندگی کے مسائل تھے وہ ان کو اکیلے ہی جھیلنا پڑے، چاہے وہ یا ان کی اہلیہ کی بیماری ہو یا پھر اپنی صحت کے مسائل۔

ان کی اہلیہ ڈاکٹر صاحبہ پارکنسز کی موذی بیماری میں مبتلا ہو گئیں، لیکن جس استقامت اور خلوص کے ساتھ اکیلے انہوں نے اپنی اہلیہ کی بیماری کو خود جھیلا اور اپنی تمام سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں ایک بہترین توازن قائم رکھا اور اپنے ذاتی وقار اور رکھ رکھاؤ میں کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ یہ ان کی حیرت انگیز صلاحیت اور ناقابل یقین خوداعتمادی کا مظہر تھا۔ ان کے گھر ایک ملازم علی احمد نام کا تھا جو ان کے گھر کا کرتا دھرتا تھا اور کم و بیش پچاس برس ان کے ساتھ رہا۔

ڈاکٹر صاحبہ ستمبر 2016 ء میں ان کو داغ مفارقت دے گئیں، اسی اثناء میں علی احمد جو کہ ایک بنگالی تھا اس کو حکومت کی طرف سے ملک بدر کر دیا گیا، علوی صاحب بالکل اکیلے رہ گئے، لیکن قوت برداشت کے اس کوہ گراں نے سب کچھ بڑے حوصلے سے برداشت کیا۔ پھر انہی دنوں ان کی بائیں آنکھ کی ہڈی میں ایک کینسر نمودار ہوا، اس کا علاج بڑی ہمت اور حوصلے سے اکیلے آغا خان اسپتال سے کرایا۔ کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی پھر سرجری، آخر کینسر کو شکست دی۔

ہم دوستوں کا تعاون ان کو ہر وقت میسر تھا، یہ ان کی خوش نصیبی اور ان کے ذاتی تعلقات کی دلیل تھی۔ ایک خاص وصف ان کا یہ تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ہر دن کوئی نہ کوئی احباب ان کے گھر آتے رہیں اور وہ ان کی مہمان نوازی میں مشغول رہیں۔ خاص طور پر ہمارا ایک گروپ میں ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر شیرشاہ سید، ڈاکٹر قیصر سجاد، ڈاکٹر شعیب سوبانی وغیرہ اکثر ان کے گھر جاتے اور خاص طور پر علی احمد کے ہاتھ کے پراٹھوں کا ناشتہ کرتے۔

علی احمد پراٹھے بنانے کا جادوگر تھا۔ اس سال جنوری کے مہینے میں ان کو کھانا نگلنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی۔ میں نے ان کو او ایم آئی اسپتال میں داخل کرایا۔ وہاں پر اینڈو سکوپی میں پتہ چلا کہ غذا کی نالی میں کینسر ہے۔ اس بیماری کو بھی انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا اور ہدایت کی کہ میرا صرف ہلکا پھلکا علاج کرایا جائے، سرسری کیموتھراپی وغیرہ سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ حالت زیادہ خراب ہو تو آئی سی یو میں رکھنے اور وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی زحمت نہ کی جائے۔

علوی صاحب اپنی پیشہ ورانہ مصروفیتوں اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوصف ایک سماجی اور سیاسی کارکن بھی رہے اور اس لحاظ سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ تقریباً ہر سماجی تنظیم کے باضابطہ رکن اور فعال کارکن رہے، چاہے آرٹس کونسل ہو یا روٹری کلب، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ہو یا ارتقا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، وہ ہمیشہ ان کی تقریبات میں شریک ہوتے تھے بلکہ ارتقا کے سیکریٹری رہے اور اس کے لیے انتھک کام کیا۔

اس پلیٹ فارم سے بہت اچھے اور معیاری لیکچرز کا انعقاد کراتے تھے اور ان کو شائع کرانے کا بندوبست بھی۔ شروع میں ارتقا کی کوئی اپنی عمارت نہیں تھی تو سارے لیکچر پاکستان میوزیکل ایسوسی ایشن کراچی میں ہوتے تھے اور پی ایم اے کے لیے تو وہ ایک اعزازی ممبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ شہر میں جتنے ادبی پروگرام ہوتے تھے، ان سب میں پابندی سے شرکت اپنی بیماریوں اور پیرانہ سالی کے باوجود کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ آغا خان اسپتال میں داخل تھے، میں ملاقات کے لیے گیا تو بستر بیماری پر روٹری کلب کی جانب سے اپاہج لوگوں میں مصنوعی اعضاء تقسیم کرنے کا کام کرا رہے ہیں اور فون پر ہدایات دے رہے ہیں۔

غرباء و مساکین میں تحفہ تحائف تقیسم کرنا، حتیٰ کہ غریب عورتوں کو کام میں مشغول کرنے کے لیے سلائی مشین تقسیم کرانا اور نہ جانے کیا کیا سماجی کام کہ جن کی تشہیر بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کی ذات کا خاص وصف یہ تھا کہ کسی سے مخاصمت نہیں رکھتے تھے اگر کسی تنظیم پر جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، اور میں اس کا شاہد ہوں، کسی سے کوئی اصولی اختلاف ہو بھی جائے تو بجائے اس اختلاف کو بنیاد بنا کر مزید کسی بدمزگی پیدا ہو، وہ بڑی شائستگی اور وقار کے ساتھ کنارہ کش ہو جاتے تھے۔

ان کی صاحبزادی پہلے ماہ دو ہفتے کے لیے آئیں، اب ان کے صاحبزادے ان کے ساتھ تھے، کہ ان کی عمر کی نقدی 11 مئی کی رات کو ختم ہوئی اور 12 مئی کو ہم نے اس عظیم شخص، ایک بے مثال دانشور، ایک بہترین سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کے علمبردار، ایک نہایت خلیق اور روادار انسان اور ایک بہت پیارے محبت کرنے والے انسان کو اپنے ہاتھوں سے 12 مئی کی دوپہر زمین کا رزق بنا دیا۔

Latest posts by ڈاکٹر مرزا علی اظہر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر مرزا علی اظہر کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے