ہاؤس وائف


ایک گھریلو خاتون خانہ کی طرح ہم 2007 میں اپنے گھرمیں جھاڑو دے کر ڈنڈے والا پوچھا لگانے اور اپنی ٹائیگر فورس کو بستر پرہی ٹک کر بیٹھے رہنے میں حالات جنگ کی کیفیت میں مبتلا تھے اتنے میں ہمارا فون بجا، ہمارا بیٹا فون اٹھانے بستر سے نیچے کی طرف نکلا ہم دور سے چلائے کہ خبردار نیچے نہیں اترنا ابھی ہم نے پوچھا لگایا ہے فرش پر پیر کے دھبے پڑ جائیں گے، آپ وہیں ٹھہریں ہم خود فون اٹھا لیں گے، ہم بڑبڑاتے فون کی طرف آئے کہ ہو نہ ہو یہ ٹائیگر فورس کے باپ کا ہی فون ہوگا مجال ہے جو ہم کو ٹھیک سے کام بھی کرنے دیں۔

ہم تھوڑا سخت لہجے میں بولے ہیلو ہاں کون؟ آگے سے خاتون کی آواز آئی کہ صبا میں تمھاری پڑوسن کرن بول رہی، ہم نے فوراً نرم لہجے میں جواب دیا، ہاں کرن! بھلا تم کو کیسے نہیں پہچانیں گے؟ تم کو تو معلوم ہے ہمیں شاہ رٌخ خان کس قدر پسند ہے اور اس کو دیکھ کر فوراً تم یاد آتی ہو۔ ہم نے آسمان پر جاتی کرن کو واپس زمین پر اتارا اور جلدی سے کہا کہ سنو پاکستانی کرن فون کرنے کا مقصد بیان کرو، کرن نے اپنی ہنسی کو بریک لگا کر ہم سے کہا کہ ’صبا یہ جو وائپر پر نمبر ہے کیا وہ تمھارا ہے؟

کیوں کہ تمھارا نام لکھا ہوا ہے میں نے سوچا کہ تم سے کنفرم کر لوں، یہ سن کر ہم چونکے اور ایک منٹ کی مہلت مانگی، فون سائیڈ پر رکھ کر جلدی کچن کو اور پھر باتھ روم بھاگے، اپنے گھر میں موجود دونوں وائپروں کو ہاتھ میں لے کر دوبارہ فون کی طرف آئے، کرن ڈئیر یہ بتاؤ کہ وائپر کے کس جگہ پر نمبر اور نام لکھا ہوتا ہے؟ کرن کا جواب آیا کہ ارے یہ اسٹور سے انتہائی آسان اور بغیر پیسوں کے مل جاتا۔

لیکن ک ک کرن میرے گھر کے تمام وائپر میرے گھر کے اندر یہیں موجود ہیں تمھارے پاس شاید کسی اور کا وائپر آ گیا ہے، ہم نے اپنی بات مکمل کی اور کرن کے جواب کے منتظر ہو گئے، کچھ دیر خاموش رہ کر کرن کی صرف اتنی آواز آئی کہ ”صبا میں تم سے بعد میں بات کروں گی، اور فون بند، لیکن ہم الجھ گئے۔

زمین پر پوچھا چھوڑ کر دونوں وائپروں کا معائنہ کرنے لگے کہ بچپن سے لے کر ابھی تک ان وائپروں کا استعمال کر رہے لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ پرسنل نام اور نمبر بھی ان پر کہیں لکھا ہوتا ساتھ حیران ہوئے کہ اب یہ وائپر اسٹور سے فری میں بھی ملتے ہیں۔

ہم کئی دنوں تک الجھے رہے کہ کرن کا شوہر ایک ٹھیک ٹھاک بڑی کمپنی میں بڑی پوسٹ پر ہے اور وہ ایک الگ بنگلے میں صرف یہ تین جان رہتے اس کے باوجود یہ خیراتی اسٹور سے اپنے لیے وائپر لیتی، توبہ! انتہا ہے کنجوسی کی۔

دو چار دن بعد ہماری دوسری پڑوسن نازیہ کا ہمارے گھر آنا ہوا، نازیہ کا کرن اور کرن کا اس کے گھر بھی آنا جانا رہتا تھا، باتوں کا سلسلہ نکلا تو ہم نے نازیہ سے پوچھا کہ کبھی تم نے اپنا وائپر کرن کو تو نہیں دیا؟ نازیہ اپنے خاص بھرم والے اسٹائل میں بولی کہ ”صبا تم کو تو معلوم ہے کہ میرے شوہر کو ہر وقت سجی سنوری بیوی پسند ہے اور وہ مجھ سے گھر کے یہ گھٹیا کام نہیں کرواتے اسی لیے ہم نے ماسی اور کھانا پکانے کے لیے شیف رکھی ہوئی ہے، لیکن تم وائپر کا کیوں پوچھ رہی ہو اگر تم کو چاہیے تو میں ماسی کے ہاتھ بھجوا دیتی، ہم جلدی سے بولے کہ کرن تھوڑا پریشان تھی اس کے پاس کسی اور کا وائپر ہے، میں نے اپنا تو بتا دیا کہ میرے وائپر میرے اپنے گھر میں یہیں موجود ہیں، اور کرن بتا رہی تھی کہ یہ وائپر اسٹور سے فری میں ملتا، میں بس اسی لیے تم سے پوچھ رہی کہ کہیں تم نے اپنا وائپر کرن کو تو نہیں دیا؟ نازیہ نے چائے کی پیالی ساتھ والی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اپنی تیوری چڑھاتے ہوئے بولی کہ غضب خدا کا اتنی بڑی سیٹھانی بنتی اور دوسروں کے گھروں میں چوریاں کرتی پھرتی ہے، تب ہی تو میری ماسی دو دن پہلے مجھ سے وائپر مانگ رہی تھی کہ میڈم کام آسان رہتا ہے۔

اور کون کہتا کہ اسٹور سے فری میں ملتا پورے پندرہ ریال کا ملتا، نازیہ ایک دم اپنے لہجے کی سپیڈ کو تھام کر بولی ”میں نے اپنے شوہر سے کہا بھی تھا کہ گھر کے کام کاج کے لیے ایک روبوٹ خرید لیں آپ کے لیے جاپان سے بنوانا اور خریدنا کوئی مشکل بھی نہیں پر میری کہاں سنتے، کہنے لگے کہ چیزیں استعمال کر کے پھینکنا ہوتی اور میں بار بار خرید کر اپنی نازو کی ماسی کو دلاتا رہوں گا کوئی غم نہیں۔

ہم نے نازیہ کی طرف اپنی تیوری چڑھا کر پوچھا کہ یہ جو کچھ خریدتے وہ صرف ماسی کو دلاتے؟ ہمارے کہنے کے بعد نازیہ جھٹ بولی کہ ارے نہیں صبا وہ بات یہ ہے کہ تم کو تو معلوم ہے کہ میرا ملنا ملانا بہت زیادہ ہے، اپنی سینڈل دکھاتی ہوئی بولی کہ ”میں صرف اونچی ایڑی والی سینڈل پہنتی جس سے میرے پیروں میں درد رہتا، اب روبوٹ ہمارے پیر کہاں دبا سکتے ہیں بس اسی لیے وہ ماسی کو نکالتے نہیں، شکر ہے جو اتنا پیار اور خیال رکھنے والا شوہر ملا جو مجھے پھولوں کی طرح اپنی ہتھیلی پر رکھتا اور جو مانگو وہ حاضر کر دیتا آخر اب کہاں ایسے قدر اور نخرے اٹھانے والے شوہر ملتے؟

نازیہ بولتی رہی اور ہم صرف سنتے رہے، اچانک بولی میں اپنے گھر جا رہی اپنا وائپر چیک کرنے، ہم نے روکا بھی کہ کباب نمکو تسلی سے کھا کر جاؤ اور چائے بھی تم نے آدھی پی ہے، وائپر گھر پرنہ ملے تو آج ہی خرید لینا صرف پندرہ ریال کا ہی تو ملتا ہے، لیکن نازیہ کو تو جیسے پیروں میں پہیے لگ گئے تھے بھلا کیسے رکتی۔

تھوڑی دیر بعد کرن اپنی گود والی بیٹی کے ساتھ ہمارے گھر آ گئی کہ یہاں سے گزر رہی تھی سوچا تم سے ملتی جاؤں، ابھی راستے میں نازیہ ملی وہ بتا رہی تھی کہ ”صبا بتا رہی کہ کرن لوگوں کے گھروں سے وائپر چوری کرتی پھرتی ہے؟

یہ سن کر ہم پر سکتا چھا گیا، ہوش آنے پر جواب دیا کہ نازیہ کو ہم نے وائپر کا پوچھا تھا جو تم مجھ سے اس دن فون پر پوچھ رہی تھیں، لیکن کرن گھروں سے وائپر چوری کرتی یہ ہرگز نہیں بولا۔ ہم نے نازیہ کی بات کرن سے چٌھپا لی کہ چوری والی بات تو وہ خود بول رہی تھی اور الزام ہم پر لگا دیا حالاں کہ نازیہ کو ہمارے گھر سے گئے ابھی صرف دس پندرہ منٹ ہی گزرے۔

کرن نے اپنے کندھے سے بیگ اور بیٹی کو اتارتے ہی اپنا موبائل فون نکالا اور ہمیں اپنے پاس بٹھا کر اپنے موبائل کی ایک ایپ دکھاتے بولی کہ ”اس دن فون پر تم سے اس والی اپلیکیشن جس کا نام“ وائیبر ”ہے اس ایپ والے نمبر کے بارے میں پوچھ رہی تھی، کچن میں استعمال والے وائپر کا نہیں۔

مارے شرمندگی اور سوشل میڈیا کی کم علمی کی وجہ سے ب کو پ سمجھ کر ہم محرم سے مجرم بن گئے۔

Facebook Comments HS