ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی


کبھی کبھی دوپہر کو ہم گھر کا رخ کرتے۔ میں اور بھٹی صاحب اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پڑوسی تھے۔ وہ اپنے گھر چلے جاتے اور ساجد میرے ساتھ آ جاتا۔ پاپا کے انتقال کے بعد ان کا کمرہ میرے استعمال میں آ گیا تھا۔ اس میں دو پلنگ، ایک میز اور ایک آرام کرسی تھی۔ تین دیواروں میں الماریاں فٹ تھیں جن میں پاپا کی کتابیں، رسالے اور کاغذات تھے۔ کھانے کے بعد مجھے تو نیند آ جاتی لیکن ساجد کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا۔ چنانچہ میں جتنا وقت خواب غفلت میں گنواتا، ساجد طالع بیدار سے کماتا۔ مطالعے کے معاملے میں وہ ہم دوستوں میں ہمیشہ سب سے آگے رہا۔ شام کو ہم پھر مال روڈ کی طرف نکل جاتے اور رات گئے تک گھومتے پھرتے اور مکالمہ کرتے۔

ایبٹ روڈ پر بڑے توے پر بھونے گئے گردے چانپیں اور ان پر رکھ کے سینکے گئے نان ہمارا مرغوب کھانا تھا۔ ایک روز ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو سہیل بٹ مل گیا۔ وہ سکول کے زمانے سے میرا دوست تھا اور اب ساجد کے ساتھ سیکرٹری منتخب ہوا تھا۔ اس نے اصرار کیا کہ فلم دیکھی جائے۔ وہ ہمیں ایک مشترکہ دوست کے سنیما ہاؤس لے گیا اور ایک باکس میں بٹھا دیا۔ فلم کی نمایاں اداکارائیں برجی باردو اور کلاڈیا کارڈینل تھیں۔ ساجد دیوار کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا؛ اس کے ساتھ بھٹی صاحب اور پھر میں۔ اشتہارات کا دور ختم ہونے پر وقفہ ہوا تو میں نے نوٹ کیا کہ باکس کا پردہ ساجد کے آگے اس طرح آیا ہوا تھا کہ اس کے اور سکرین کے درمیان حائل ہو رہا تھا۔ فلم شروع ہوئی تو اس نے پردہ نہ سرکایا۔ میں نے بھٹی صاحب سے کہا کہ ساجد تو فلم دیکھ ہی نہیں رہا۔ ہم نے پردہ سرکانا چاہا تو ساجد نے کہا، ”میں ٹھیک بیٹھا ہوں، تم فلم دیکھو۔“ ہم نے کہا کہ تم نہیں دیکھ رہے تو ہم بھی نہیں دیکھتے۔ ہمیں تو بٹ لے آیا تھا وہاں۔ چنانچہ ہم فلم ادھوری چھوڑ کے باہر آ گئے۔

اپنے الیکشن کے بعد ساجد دوبارہ نیو ہاسٹل میں منتقل ہو گیا کیونکہ جاوید صاحب اور ساتھیوں کو رہائش بدلنی پڑی تھی۔ دوستی کے ابتدائی دور میں میرے ساتھ ہونے والی اپنی بحثوں کے بارے میں ساجد نے ایک جگہ لکھا ہے : ”ان مباحثوں میں تو کوئی بھی دوسرے کے نقطہ نظر کا کبھی قائل نہ ہوا مگر دھیرے دھیرے ہمارے بھیتر میں تبدیلی آتی چلی گئی جس کے نتیجے میں غیر محسوس طور پر ہمارے خیالات اور افکار تبدیل ہوتے گئے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دنوں نے ہی اپنے ماضی کے بہت سے ترکے کو خیر باد کہہ دیا۔“ ایسے مباحثے اس کے خود اپنے ساتھ بھی ہوتے ہوں گے اور دیگر دوستوں کے ساتھ بھی۔

ایک روز ساجد میرے پاس گھر آیا تو معمول سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کہ کچھ بات کرنی ہے۔ ”یا اللہ خیر،“ میں نے دل میں کہا۔ خاموشی کے ایک طویل وقفے کے بعد اس نے کہا کہ اپنے اندر جاری ایک کشمکش کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ مذہب، عقائد وغیرہ کوئی ٹھوس حقیقت نہیں رکھتے۔ پھر وہ کافی دیر اس موضوع پر بولتا رہا۔ میں چپ سادھے سنتا رہا۔ اس دن کے بعد میں نے اس کے بعض رویوں میں تبدیلی آتے دیکھی؛ گفتگو کے موضوعات بڑھتے گئے ؛ فلموں اور موسیقی میں دلچسپی لوٹ آئی ؛ حس مزاح میں ایک نیا رنگ آ گیا۔ البتہ کچھ عرصہ عالم تشکیک میں رہنے کے بعد اس کے کچھ عقائد اور نظریات بحال ہو گئے، لیکن نئی توانائی کے ساتھ، مضبوط بنیادوں پر۔ معاشرے کی اقدار کا احترام تو اس کے دل میں کبھی کم نہیں ہوا۔

فروری 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے ایک روز قبل سربراہان مملکت لاہور پہنچ رہے تھے۔ ان کی آمد پر ہوائی اڈے پر ان کے تاثرات جاننے کے لیے ان سے مختصر انٹرویو کیے جا رہے تھے۔ ساجد نے کہا کہ جاوید صاحب تمہارے ہاں آ کے ٹی وی پر وہ گفتگو سننا چاہتے ہیں۔ وہ دراصل ان مہمانوں کی عربی، بالخصوص لب و لہجے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ چند گفتگوئیں سننے کے بعد جاوید صاحب نے کہا کہ مہمان بہت آسان عربی بول رہے تھے۔ میں نے اس دوران میں خاص طور سے نوٹ کیا کہ جب کوئی خاتون اناؤنسر یا نیوز ریڈر سکرین پر آتی توجاوید صاحب اخبار پڑھنا شروع کر دیتے، اور اس طرح کہ اخبار ان کے اور ٹی وی کے درمیان ایک پردے کا کام کرتا۔

سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش کی شرط مانتے ہوئے حکومت نے بنگلہ دیش کو منظور کر لیا۔ اس پر احتجاج کرنے والے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان میں متعدد طالب علم رہنما بھی شامل تھے۔ ان گرفتاریوں سے قبل، ایک صبح، باجی (ہم اپنی والدہ کو باجی کہتے تھے ) ناشتہ بنا رہی تھیں۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ ساجد علی تھا۔ باجی اسے صبح صبح دیکھ کے تھوڑا سا پریشان ہوئیں۔ ”سب ٹھیک ہے نا؟“ انہوں نے پوچھا۔ مجھے کچھ اندازہ تھا کہ معاملہ کیا ہے۔

”جی، ویسے تو سب خیریت ہے۔ دراصل میں گرفتاری دینے جا رہا تھا، آپ سے ملنے اور دعا لینے آیا ہوں۔“ ساجد نے جواب دیا۔

”گرفتاری؟ کیسی گرفتاری؟“ باجی گھبرا گئیں۔
”بنگلہ دیش منظور کیے جانے کے خلاف احتجاجاً۔“
”تم احتجاج کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے لیکن گرفتاری دینے کی کیا ضرورت ہے؟“

”بس باجی، کچھ دوستوں سے وعدہ کر لیا تھا کہ ان کا ساتھ دوں گا، جہاں تک ممکن ہو گا۔“ ساجد نے کہا اور اس کے بعد اس نے خوش دلی سے ناشتہ کیا اور پھر اجازت لی۔ ہم اس کا اطمینان اور حوصلہ دیکھ کے بہت متاثر ہوئے۔

ساجد، جاوید ہاشمی اور دیگر طالب علم رہنما، جن میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ، نائب صدر مسعود کھوکھر، سیکرٹری عبدالشکور؛ ہیلے کالج کے صدر حافظ عتیق الرحمن، سیکرٹری ندیم انور؛ انجینئرنگ یونیورسٹی کے صدر نعیم سرویا اور ہمارے کالج کی ینگ سٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر حافظ اعجاز شامل تھے، چند روز تھانہ سول لائنز میں رہے۔ میں اور وحید رضا بھٹی روز سوچتے کہ ان سے ملنے جائیں لیکن ارادہ ملتوی کر دیتے۔ ہماری اس ضمن میں ساجد سے تفصیلی گفتگو ہو چکی تھی۔ ہمارا موقف تھا کہ اب بنگلہ دیش منظور کیا جا چکا تھا اور تمام عالم اسلام نے اس کی توثیق بھی کر دی تھی لہذا اب احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ساجد کا کہنا تھا کہ چونکہ جمعیت نے اس کی حمایت کی تھی چنانچہ اس وقت اسے ان کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ ہم نے سوچا کہ چونکہ اس نے سوچ سمجھ کے ایک فیصلہ کیا تھا لہذا اسے اس آزمائش سے گزرنے دیا جائے۔

چند روز بعد، ایک دوپہر، میں مال روڈ پر ٹی ہاؤس کی طرف جا رہا تھا کہ سامنے سے حمایت اسلام لا کالج کا صدر، ضیا اللہ، آتا دکھائی دیا۔ وہ بہت گرم جوشی سے ملا۔

”جاوید ہاشمی اور دیگر ساتھی رہا ہو گئے ہیں۔ اس وقت چائنیز لنچ ہوم میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ جاؤ، ان سے مل لو،“ اس نے اطلاع دی۔

”لیکن وہ تو مجھ سے مل کے خوش نہیں ہوں گے،“ میں نے جواب دیا۔
”کیوں؟“
”میں ان لوگوں کے ساتھ احتجاج میں شریک نہیں ہوا تھا۔“

”نہیں، بلکہ وہ تو تم سے بہت خوش ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے پہلا بیان تم نے دیا تھا۔ انہوں نے حوالات میں دیکھا تھا۔“

ضیا ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ہاشمی بڑے تپاک سے ملا اور اس نے اخباری نمائندوں سے میرا تعارف کرایا۔

پریس کانفرنس کے دوران مجھے خیال آتا رہا کہ ساجد تو سیدھا ہمارے گھر گیا ہو گا۔ سو میں فوراً گھر پہنچا۔ وہ موجود تھا۔ ایسے ملا جیسے کسی سرکاری دورے سے واپس آیا تھا۔ بھٹی صاحب بھی آ گئے۔ ہم نے ساجد سے جیل میں ملاقات کرنے کے لیے نہ آ سکنے کی معذرت کی تو اس نے بتایا کہ وہاں اس کے ساتھی اسے روز طعنہ دیتے تھے کہ تمہارے ’بہترین‘ دوست تمہیں ملنے نہیں آئے۔ آخر اس نے ان سے کہا کہ ”دراصل وہ اس لیے نہیں آتے کہ وہ مجھے حوالات میں نہیں دیکھنا چاہتے۔“

ساجد نے فلسفے میں ایم اے کرنے کے بعد لیکچرر کی اسامی کے لیے درخواست دی۔ لاہور میں اس کا مستقل پتا میرا پتا تھا، سو اس نے فارم پر یہی لکھ دیا۔ توقع کے مطابق کچھ دنوں بعد تھانے سے بلاوا آیا اور ہم گئے۔ ایس ایچ او صاحب نے کہا کہ کسی معزز شخص سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ لے کے آئیں۔ میرے پوچھنے پر کہ آیا پیپلز پارٹی اسلام پورہ کے صدر شیخ فیاض الرحمن کا سرٹیفکیٹ قابل قبول ہو گا، انہوں نے کہا کہ بالکل ہو گا۔ شیخ صاحب ہمارے پڑوسی تھے اور ان کے بیٹے، طلعت اور سہیل، میرے بچپن کے دوست تھے۔ انہوں نے میرے تصدیق کرنے پر کہ ساجد ایک باضمیر، دیانت دار اور فرض شناس شخص ہے، سرٹیفکیٹ دے دیا۔ ساجد کی تعیناتی گورنمنٹ کالج رحیم یار خان میں ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد ایک دن سہیل نے مجھ سے کہا کہ اس کے ڈیڈی نے مجھے بلایا تھا۔ شیخ صاحب بھرے بیٹھے تھے۔

”میں تہاڈے تے اعتبار کرنا واں تے تسی اوہدا نجائز فائدہ چکدے او۔“ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ میں گھبرا گیا۔

”شیخ صاب میں ایسا سوچ وی نہیں سکدا۔ تہانوں پتا اے تسی میرے لئی کڈے محترم او۔“ میں نے جواب دیا۔ شیخ صاحب نے ایک کاغذ میرے سامنے لہراتے ہوئے کہا:

”ایہہ کیہہ اے؟ میں تہاڈے کہن تے ساجد علی نوں سرٹیفکیٹ دتا سی۔ اے لیٹر ملیا اے مینوں۔ او تے جماتیہ اے۔ پکا جماتیہ۔“

”اوہ! شیخ صاحب ساجد بڑا ای نیک تے قابل بندہ اے۔ میری امی میرے تے اعتبار کرن نہ کرن اوہدے تے ضرور کردے نیں۔ اوہنے اینویں تے ساہڈا ایڈریس نہیں سی دتا۔“ میں نے وضاحت کی۔

”او تے جیل جا چکیا اے۔“
”شیخ صاحب، اوس ویلے او سٹوڈنٹ لیڈر سی۔ بھٹو صاحب نہیں جیل گئے سی؟“

”بحث کری جاندے او۔ گل سمجھن دی کوشش نہیں کر دے۔“ شیخ صاحب نے کہا۔ انہیں جو چٹھی موصول ہوئی تھی اس میں استفسار کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو سرکاری ملازمت کے لیے کیسے موزوں قرار دے دیا تھا جو کبھی سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے پر گرفتار بھی ہوا تھا؟ میں نے مزید کچھ نہیں کہا۔ بات میری سمجھ میں آ گئی تھی۔ ساجد کو جب احساس ہونے لگا کہ اسے ملازمت سے برخواست کر دیا جائے گا، اس نے استعفا دے دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3