ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی


اس واقعے کے دو تین برس بعد ساجد نے ایک بار پھر پبلک سروس کمیشن کی لیکچررشپ کی اسامی کے لیے درخواست دی۔ انٹرویو کے لیے اس کا ایک ہم جماعت بھی امیدوار کی حیثیت سے آیا ہوا تھا۔ اس نے ساجد سے کہا کہ آپ نے ملازمت تو کرنی نہیں البتہ ہمارا چانس ضرور خراب کر دیں گے۔ ساجد نے جواب دیا کہ اسے کامیابی کی امید بہت کم ہے کیونکہ اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے پہلے اس پوسٹ سے استعفا کیوں دیا تھا۔ لیکن ساجد سے یہ سوال نہیں کیا گیا اور وہ منتخب ہو گیا۔ اسے گورنمنٹ کالج اٹک میں تعیناتی کا آرڈر بھی مل گیا۔ اسی اثنا میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں بھی ایک اسامی نکل آئی۔ ساجد اس کے لیے بھی سیلیکٹ ہو گیا۔ اس پر اس نے اپنے مذکورہ ہم جماعت کے ساتھ سیکرٹیریٹ جا کے لکھ کر دے دیا کہ وہ کمیشن کی عنایت کردہ پوسٹ سے دستبردار ہو رہا تھا۔ نتیجے کے طور پر وہ پوسٹ اس ہم جماعت کو مل گئی۔

اگلی چار دہائیاں ساجد نے پنجاب یونیورسٹی میں گزاریں ؛ ڈاکٹریٹ کی، پروفیسر بنا اور چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوا۔ اسے دیگر ذمے داریاں بھی ملیں ؛ ایک ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ، پھر وارڈن بھی رہا۔ اس تمام عرصے میں اس کا سب سے زیادہ اختلاف اسلامی جمعیت طلبہ اور ان کے ہم خیال اساتذہ سے رہا۔ اسے کچھ لوگ دہریہ بھی کہتے یا سمجھتے رہے۔ دراصل وہ کسی مخصوص نقطہ نظر کی غیر مشروط اور متعصبانہ حمایت کے خلاف رہا ہے۔ اگر اسے دلیل سے قائل نہ کیا جائے تو وہ متفق نہیں ہوتا۔

اپنے علم و دانش اور منصفانہ رویے کی بنا پر وہ طلبہ میں بہت مقبول رہا۔ اس کے شاگردوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ادبی دنیا سے متعلق اس کے جن شاگردوں سے میرا تعلق خاطر ہے ان میں فرحت عباس شاہ، صغرا صدف، عنبرین صلاح الدین اور شاہد احسان شامل ہیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔ ساجد کا ایک شاگرد وزیر بن گیا۔ اس کے بارے میں ایک ٹی وی چینل نے ایک پروگرام تیار کیا۔ اینکر پرسن نے ساجد کو فون کیا اور درخواست کی کہ اپنے تاثرات ریکارڈ کرا دیں۔ ساجد نے کہا کہ بی بی، میں اصحاب اقتدار کے بارے میں اس طرح کی گفتگو کرنے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ اسے کوئی بھی رنگ دیا جا سکتا ہے۔ میرا معاملہ اس استاد جیسا ہے جس کے ایک شاگرد نے جب وزیر بننے کے بعد اس سے پوچھا کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں تو اس نے جواب دیا کہ بس کہیں یہ نہ بتانا کہ تم میرے شاگرد رہے ہو۔

میں گزشتہ تیس اکتیس برس سے برطانیہ میں مقیم ہوں۔ پاکستان باقاعدگی سے جانا ہوتا ہے۔ جب میں لاہور پہنچتا ہوں تو گردش ایام عمر رفتہ کے اطوار لوٹا دیتی ہے۔ میں، ساجد، بھٹی اور ہمارے دو دیگر گولڈن جوبلی دوست، جاوید اقبال اعوان اور ضمیر حسین نقوی، صبح اکٹھے ہوتے ہیں اور رات گئے دیر تک ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارے دوست پروفیسر محمودالحسن جعفری بھی جب جب جہاں جہاں ہمارے معمولات میں شریک ہو سکتے، ہوتے۔ افسوس صد افسوس، اس سال وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔ میرا قیام اپنے گھر، اسلام پورہ میں، یا جاوید کے یا ساجد کے گھر ہوتا ہے۔ میرا سفری بیگ ہمہ وقت میرے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں رات پڑی، پڑ رہا۔ ہم باہمی گپ شپ کرنے کے علاوہ دوستوں سے ملتے ہیں اور ادبی اور سماجی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ ساجد کا ایک وسیع سماجی حلقہ ہے لیکن ملنے جلنے کے معاملے میں اس کا رویہ آج بھی وہی ہے کہ جو تھا۔ جب اس کے احباب سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ساجد صاحب دوست تو ہمارے ہیں لیکن ان سے ملاقات تب ہوتی ہے جب آپ مانچسٹر سے آتے ہیں۔

’کور کمیٹی‘ کے اجلاسوں میں ہم اپنی تازہ نگارشات بھی پیش کرتے ہیں۔ ان پر بے لحاظ کڑی تنقید ہوتی ہے۔ دوستوں کی آرا اور تجاویز کی روشنی میں صاحب تحریر اپنی تحریر میں ضروری ترامیم کرنے کے بعد نظرثانی شدہ شکل اشاعت کے لیے بھیجتا ہے۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی طور رہا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے کاموں کی خامیاں ہی نہیں دیکھتے بلکہ ان کی خوبیاں بھی اجاگر کرتے ہیں ؛ حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو حوصلہ افزائی بھی۔

زمانۂطالب علمی کے بعد ساجد کی پہلی تحریر معروف نقاد جناب سلیم احمد کی کتاب، ’اقبال ایک شاعر‘ پر اس کا تبصرہ بعنوان ”سلیم احمد کی کتاب، ’اقبال ایک شاعر‘ کا تنقیدی مطالعہ“ ، جنوری 1982 میں ’الاعلام‘ ، لاہور میں شائع ہوئی۔ سلیم احمد نے اس کا جواب روزنامہ ’حریت‘ میں پانچ اقساط میں دیا۔ ہمیں اس جواب کا علم جناب احمد ندیم قاسمی کے توسط سے ہوا۔ قاسمی صاحب کی معاون منصورہ احمد کی چھوٹی بہن، ناصرہ، ساجد کی شاگرد تھی۔ ایک دن انہوں نے اس سے کہا کہ تمہارے استاد تو مشہور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر ناصرہ نے وہ اقساط لا کے ساجد کو دیں۔ سلیم احمد نے کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں معترضین کو جواب دیتے ہوئے ساجد کا تذکرہ بھی کیا، اگرچہ کچھ تلخی کے ساتھ۔

اس کے بعد ساجد نے ایک مضمون ”محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعدالطبیعات“ حلقہ ارباب ذوق میں پڑھا۔ یہ ستمبر 1982 میں ’الاعلام‘ میں شائع ہوا۔ محمد علی صدیقی نے روزنامہ ڈان میں اس پر کالم لکھا۔ سلیم احمد نے ساجد کے مضمون کا جواب بھی ’حریت‘ میں اقساط میں دیا۔ بعد میں یہ ایک مضمون ”محمد حسن عسکری کے بارے میں چند باتیں“ کی صورت میں مجلہ ’روایت‘ میں چھپیں۔ ساجد نے اس کا جواب ”بنام سلیم احمد“ لکھا جو اگست 1983 میں ’الاعلام‘ میں شائع ہوا۔

کارل پوپر ساجد کا انتہائی پسندیدہ فلسفی ہے۔ اس نے 1997 میں پوپر کے مقبول و مشہور مضامین کا ترجمہ کیا جو ’فلسفہ، سائنس اور تہذیب‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اسی سال ناصر کاظمی کی پچیسویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ساجد نے اپنا مضمون ”رات کا بے نوا مسافر“ پڑھا جو بعد میں ’ہجر کی رات کا ستارہ‘ (مرتبہ احمد مشتاق، باصر سلطان کاظمی، 2013 ) میں شائع ہوا۔ اس کے کئی مقالات مختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

ساجد کی نثر میں، جو زمانۂطالب علمی ہی میں بہت مضبوط تھی، وقت گزرنے کے ساتھ نکھار آتا گیا۔ اس کا طرز استدلال بھی منجھتا چلا گیا اور لہجے میں کاٹ مزید موثر ہو گئی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں اس کی بے شمار تحریریں ’ہم سب‘ میں شائع ہوئیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔ اس کی کئی تحریریں کئی کئی روز ”منتخب تحریروں“ میں شامل رہیں۔ فیس بک کے قارئین اس کی دلچسپ اور فکر انگیز پوسٹ کے منتظر رہتے ہیں۔ آج کل ساجد اپنے دادا مرحوم کی خود نوشت سوانح حیات مرتب کر رہا ہے۔ اس کی چند اقساط ’ہم سب ”میں شائع ہو کر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔

نومبر 2018 میں ساجد نے پنجاب یونیورسٹی میں اقبال میموریل لیکچر ’‘ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ”کے عنوان سے دیا۔ یہ ایک کتابچے کی صورت میں بھی حاضرین میں تقسیم کیا گیا۔ میں نے اس کی کاپیاں کراچی میں ڈاکٹر خورشید عبداللہ اور بھائی نصیر ترابی مرحوم کو دیں۔ اگلے ہی روز صبح کو نصیر بھائی کا فون آیا۔ کہنے لگے،“ بھائی آپ یہ کیا چیز دے گئے تھے مجھے، سبحان اللہ، سبحان اللہ! رات یہ لیکچر پڑھا اور بے چینی سے انتظارکرنے لگا کہ صبح ہو اور آپ سے ساجد صاحب کا نمبر لے کے ان سے بات کروں اور داد دوں۔ افسوس کہ ہم ان سے نہیں مل سکے اور بہت کچھ سیکھنے سے محروم رہے۔ ”کچھ دیر بعد ساجد نے فون کر کے بتایا کہ نصیر بھائی نے اسے فون کیا تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ نے بھی ایک جگہ لکھا ہے کہ قبلہ (نصیر بھائی) نے ان سے بھی ساجد صاحب اور اس لیکچر کے بارے میں ایسا ہی کہا تھا۔

ساجد کے قارئین اور مداحوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے بہت سے فکری اور تاریخی مغالطے دور کرنے کی کوشش کی ہے اور تعصبات پر مبنی خیالات و نظریات پر انتہائی جرات مندی سے گرفت کر رہا ہے۔ اب اسے اس عہد کے ایک فلسفی اور رہنما دانشور کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ اللہ اس کی عمر دراز کرے۔ آج اس کی عمر کی اگلی دہائی کا آغاز ہو رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ اس کی تخلیقی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3