زچگی میں حاملہ ماوؤں کی بپتا: ’میرے شوہر مدد کرنا چاہتے تھے مگر نہیں جانتے تھے کہ کیسے‘

کریم الاسلام - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک میٹرنٹی وارڈ کا منظر ہے۔ ہسپتال کا مخصوص لباس پہنے اور ہاتھ میں کینیولا لگائے ایک نوجوان عورت پُرسکون انداز میں بستر پر لیٹی ہوئی ہے۔

ایک نرس گود میں نومولود بچہ لیے داخل ہوتی ہے اور آ کر خاتون کو تھما دیتی ہے۔ ماں کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے جبکہ اردگرد موجود افراد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں اور بڑے بوڑھے بچے کو گود میں لیے نہال ہوتے جاتے ہیں۔

لیکن اسی اثنا میں ایک زوردار آواز آتی ہے: ’کٹ!‘

ڈرامے کا ڈائریکٹر سین ’او کے‘ کرتا ہے اور تمام کاسٹ اور تکنیکی عملہ اگلے سین کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ڈراموں اور فلموں میں بچے کی پیدائش کے بعد کا منظر کتنا خوبصورت اور رومان پرور دکھایا جاتا ہے؟ حالانکہ زچگی کے دوران ماں بے شمار جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی تبدیلیوں اور مسائل سے گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش ایک انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے جو کسی صورت رومانوی نہیں ہے۔ یہی جاننے کے لیے ہم نے حال ہی میں ماں بننے والے چند نوجوان پاکستانی خواتین سے بات کی اور اُن کے زچگی کے تجربات کے بارے میں پوچھا۔

یہ سب آسان نہیں

عائشہ خان

BBC
عائشہ خان: میں بہت حساس ہو گئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بُری لگنے لگی تھیں

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ عائشہ خان ایک برس قبل ہی پہلی بار ماں بنیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ماں بننے سے پہلے انھوں نے بچے کی پیدائش کا عمل صرف ڈراموں اور فلموں میں دیکھا تھا۔

’اُس میں تو سب بہت آسان اور خوبصورت نظر آتا تھا۔ لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اصل میں کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہو گا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ حمل کے دوران جسم کتنا تبدیل ہوتا ہے اور کیا کیا جسمانی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

عائشہ نے بتایا کہ ’حمل کے دوران مجھ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا۔ مجھے شائیاٹیکا ہو گیا۔ مجھے ٹانگوں میں بھی درد رہتا تھا اور پیر سوج گئے۔ بال گرنے لگے اور میرا وزن بے انتہا بڑھا۔ میں بہت حساس ہو گئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بُری لگنے لگی تھیں۔‘

میں ڈر گئی تھی

سیلز کے شعبے سے وابستہ دو بچوں کی والدہ حفصہ نفیس نے اگرچہ خاندان میں بچوں کی پیدائش کے عمل کو بہت قریب سے دیکھا تھا لیکن جب وہ خود پہلی بار اِس مرحلے سے گزریں تو یہ ایک بالکل مختلف تجربہ تھا۔

’پریگنینسی کے دوران میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ اِس وجہ سے میں کافی عرصہ بیمار بھی رہی۔ مجھے اُلٹیاں آتی تھیں اور چکر بھی۔ مجھے ڈپریشن بھی تھا اور میرا وزن کم ہو گیا۔ مجھے اکثر میٹھا کھانے کا دل کرتا تھا اور اگر نہیں ملتا تھا تو بے چینی ہونے لگتی تھی۔‘

حفصہ نفیس

BBC
حفصہ نفیس: پریگنینسی کے دوران میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ اِس وجہ سے میں کافی عرصہ بیمار بھی رہی

کراچی سے تعلق رکھنے والی اقرا ناز کا تجربہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ ’عام رجحان کے برعکس حمل کے دوران میرا وزن کم ہو گیا۔ اتنا کہ وہ بچے کی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ میرا بلڈ پریشر کم رہتا تھا جبکہ آدھے سر کا درد بھی بہت تکلیف دہ تھا۔‘

اقرا بتاتی ہیں کہ اُنھیں لگتا تھا کہ اُن کے اردگرد موجود لوگ اُن کی تکلیف کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ یہ بہت تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ اِس صورحال میں وہ اکثر زاروقطار روتی رہتی تھیں۔

شوہر کا رویہ

ہم نے جن خواتین سے دورانِ حمل اُن کے شوہروں کے رویے کے بارے میں پوچھا تو تمام کا یہ جواب تھا کہ اُن کے شوہر مدد کرنا چاہتے تھے لیکن نہیں جانتے تھے کہ کیسے۔ وہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر اِس کے لیے تیار نہیں تھے۔

اقرا ناز بتاتی ہیں کہ ’جیسے جیسے حمل کا وقت گزرتا گیا میرے شوہر کو احساس ہوتا گیا کہ یہ کوئی عام چیز نہیں ہے بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ تو پھر انھوں نے مجھ پر زیادہ توجہ دیتی شروع کی۔ وہ سپورٹ کرتے تھے لیکن کبھی کبھی اُنھیں نہیں پتہ ہوتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ اُن کے پاس معلومات کی کمی بھی تھی۔ مثلاً اُنھیں نہیں پتہ تھا کہ حمل کے دوران صرف جسمانی ہی نہیں، نفسیاتی اور جذباتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔‘

پوسٹ پارٹم ڈپریشن

Getty Images
اقرا کے مطابق ان کے خاوند کو معلوم ہی نہیں تھا کہ حمل کے دوران صرف جسمانی ہی نہیں، نفسیاتی اور جذباتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں

عائشہ خان نے بتایا کہ ’جذباتی طور پر میرے شوہر میرے ساتھ تھے بھی اور نہیں بھی تھے۔ مثلاً میں اگر اُنھیں اپنی کوئی تکلیف بتاتی تھی تو وہ کچھ دیر تو فکر کرتے تھے پھر دوبارہ اپنے کاموں میں لگ جاتے تھے۔ اِسی طرح وہ میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جا پاتے تھے کیونکہ وہ بہت مصروف تھے۔‘

شوہر کیا کریں؟

ماہرِ نفسیات عمارہ شاہد کے مطابق شوہروں کو چاہیے کہ دورانِ زچگی وہ بیویوں کے جذبات سمجھنے کی کوشش کریں اور اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔

’زچگی ایک ایسا عمل ہے جس سے صرف عورت ہی گزرتی ہے اور وہ ہی اُس کی تکلیف جان سکتی ہے۔ لیکن شوہر بیوی کی تکلیف بانٹ ضرور سکتے ہیں۔ وہ بیوی سے پوچھ سکتے ہیں وہ کیسا محسوس کر رہی ہے اور اُسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے۔‘

’اِس کے علاوہ مختلف طریقوں سے پیار و محبت کا اظہار بھی عورت کو اِس مشکل مرحلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ شوہر بیویوں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور آنے والے بچے کی لیے کی جانے والی خریداری میں شامل ہوں۔‘

برابر کی ذمہ داری

ہاؤس وائف عائشہ خان اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر شوہروں کو مشورہ دیتی ہیں کہ جب اُنھیں معلوم ہو کہ وہ باپ بننے والے ہیں تو تھوڑا وقت لگا کر ریسرچ کریں۔ عائشہ کے مطابق ’یہ بہت ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ یہ عورت کی زندگی کا کیسا مرحلہ ہوتا ہے۔ کچھ باتیں آپ کی بیویاں بھی شیئر کر سکتی ہیں لیکن آپ خود بھی تحقیق کریں۔‘

پوسٹ پارٹم ڈپریشن

Getty Images
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں حمل سے پہلے بھی ذہنی صحت کے مسائل سے گزر چکے ہیں تو بہتر ہے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کیا جائے

’مثلاً اگر بیوی آرام کرنا چاہتی ہے تو اُسے وقت دیں۔ اُس سے بار بار پوچھیں کہ اُسے کیا چاہیے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے۔ حمل کے دوران رابطہ رکھنا اور پوچھنا بہت ضروری ہے۔ حمل کے آخری مرحلے میں عورت کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے تو اُس کے ذمے گھر کے کام آپ خود کر دیں، مثلاً صفائی، کھانا پکانا یا برتن دھونا۔‘

اقرا ناز کہتی ہیں کہ ’مردوں کو سمجھنا چاہیے کہ حمل کے دوران عورتوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آتا ہے۔ اگر اُن کی بیوی چڑچڑی ہو رہی ہے تو وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہی۔ اُس کے غصے کو تھوڑا برداشت کر لیں نا کہ اُسی انداز میں اُس کا جواب دیں۔‘

مزید پڑھیے

گلی میں زچگی: ’بچوں کے رونے کی آواز پر اتنی خوشی ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتا‘

پاکستان میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کا نظام کتنا مؤثر

ناتجربہ کار ڈاکٹر خواتین میں فسٹیولا کا مرض پھیلانے کی وجہ؟

حفصہ نفیس بتاتی ہیں کہ ’شوہروں کو سمجھنا چاہیے کہ بچے کو دنیا میں لانے میں ماں اور باپ دونوں برابر ذمہ دار ہوتے ہیں لہذا فرائض کی ادائیگی بھی دونوں کی بنتی ہے۔ ہمارے یہاں تو حال یہ ہے کہ شوہر حضرات اکثر بچے کی پیدائش پر ملنے والی چھٹیاں بھی نہیں لیتے اور اگر لیتے ہیں تو یہ چھٹیاں سو کر گزار دیتے ہیں۔‘

’حفصہ کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد بھی کئی مہینے تک ماں کافی کمزور رہتی ہے اور روزمرہ کے کام کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘اِس مرحلے میں بھی بیوی کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ حمل کے دوران تو بچے کی وجہ سے بھی عورت کا خیال رکھ لیا جاتا ہے لیکن بعد کا مرحلہ کافی مشکل ہوتا ہے۔‘

نیا تجربہ

بی بی سی نے جن خواتین سے بات کی اُن سب کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہزاروں سالوں سے عورتیں بچے پیدا کرتی آ رہی ہیں لیکن ہر عورت کے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ بچہ پیدا کرنا کون سی نئی اور انھونی بات ہے غلط رویہ ہے۔ عورت کے چاہے دس بچے بھی ہو جائیں ہر دفعہ یہ تجربہ اُس کے لیے اُتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔

اقرا ناز

BBC
اقرا ناز کا کہنا ہے کہ مردوں کو سمجھنا چاہیے کہ حمل کے دوران عورتوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آتا ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتیں

ماہرِ نفسیات عمارہ شاہد کے مطابق ضروری نہیں کہ بچے کی پیدائش صرف ماں کو ہی متاثر کرے۔ اکثر باپ بھی اِس عمل کے دوران نفسیاتی اور جذباتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اِس عرصے میں اکثر غلط فہمیوں کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے۔ زچگی کے دوران میاں بیوی اپنے وقت کو آپسی تعلق کو مزید مظبوط کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔

’حمل کے دوران پیدا ہونے والے جذباتی اور نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے میاں بیوی کو چاہیے کہ اپنے گائناکالوجسٹ سے مدد لیں۔ وہ اُن کی کاؤنسلنگ کریں گے۔ لیکن اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں حمل سے پہلے بھی ذہنی صحت کے مسائل سے گزر چکے ہیں تو بہتر ہے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کیا جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19404 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp