ہمارا ماضی اور ملالہ کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت اور مرد انسانی معاشرے کی دو اہم اکائیاں ہیں۔ تہذیب کے آغاز کے ساتھ ہی ان کے درمیان تعلق کو کسی نہ کسی قانون کا تابع بنا دیا گیا۔ جوں جوں معاشرہ آگے بڑھا نظام زندگی میں اخلاقی حدود کی پابندیاں بھی شامل ہوتی گئیں لیکن پاسبانی، حیا اور پاکیزگی کے نام پر عنان توجہ زیادہ تر عورتوں پر منعطف رہی اور ان پابندیوں کا شکار بھی عورت ہی ہوئی۔ علاقائی اور معاشرتی مجبوریوں کا نفاذ بھی اسی صنف نازک پر ہوتا چلا گیا۔

مرد کو عورت پر قوام بنا دیا گیا۔ اس کو یہ حق اس کی جسمانی مضبوطی اور طاقت کی بنیاد پر تفویض کیا گیا۔ معاشرتی مجبوری، نسب کی حرمت اور خاندان کی عزت کے نام پر مسلط ہونے والے اس اختیار نے اکثر ظلم کی شکل اختیار کر لی۔ عورت کو لونڈی بنا لیا گیا۔ اس کی تذلیل و تحقیر کی گئی۔ عورت کو کمزور قرار دے کر اس کی حفاظت کے نام پر بننے والے اس خاندانی نظام میں اسے کوئی معاشی یا تمدنی حقوق میسر نہ آ سکے۔ وہ باپ سے لے کر اولاد تک، خاندان کے ہر فرد کے لیے ایک ادنیٰ خدمت گار اور خاوند کے لیے صرف شہوت رانی کا آلہ بن کر رہ گئی۔

بعض مذاہب نے اس نظام کو یہاں تک مدد فراہم کی کہ بیواؤں کو رنڈیاں اور کنواریوں کو اچھوتی حوران معبد کا نام دے کر پروہتوں، بادشاہوں اور عوام الناس کے دل بہلانے کو فعل احسن قرار دے دیا۔ اسے علم و تہذیب کے زیورات سے آراستہ بھی کیا گیا تو محل سرا میں رقاصہ و مغنیہ بنانے یا پھر حرم سرا میں لذت نظر اور لذت جسم کے حصول کے لیے تا کہ وہ مردوں کے صنفی مطالبات زیادہ احسن طریقے سے پورے کر سکیں۔ مردوں کی نفس پرستی نے صدیوں تک عورتوں کی تذلیل و توہین کے یہ طریقے اپنائے رکھے۔ کوئی علاقہ، کوئی قوم، کوئی ملک ایسا نہ تھا جس میں عورت پر یہ ظلم نہ روا رکھا گیا ہو۔

پھر زمانے نے کروٹ لی اور عورت نے آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ مردوں سے مساوی حقوق کا تقاضا شروع ہوا۔ اب اس کی خواہش تھی کہ ذمہ داریوں میں مرد بھی برابر کا حصہ دار بنے اور دونوں کے حلقہ عمل میں بھی مسابقت ہو۔ اسے تحصیل علم کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ یاد رہے کہ انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں عورت کو کالج کی ڈگری کے حصول کا حقدار قراردیا گیا اور ابھی تقریباً ایک صدی ہی گزری ہے کہ اسے حکومتی معاملات میں حق رائے دہندگی کے استعمال کے قابل سمجھا گیا ہے۔

عورت چاہتی ہے کہ اسے معاشی آزادی بھی حاصل ہو۔ جائیداد کے حصول اور وراثتی قوانین میں اس کے ساتھ کوئی تفریق روا نہ رکھی جائے۔ اسے کام کرنے کے بھی مساوی مواقع مہیا کیے جائیں۔ معاشرت کا یہ مسابقتی نظریہ ابھی تکمیل کے مراحل سے بہت دور ہے۔ پوری دنیا میں کسی بھی شعبہ میں عورت مرد کے ہم پلہ نہیں اور کہیں بھی کامل مساوات نظر نہیں آتی۔ مرد کی فضیلت اور برتری ابھی بھی ہر جگہ موجود ہے۔

ان حالات میں صرف عورتیں ہی نہیں بچے بھی مرد کی زیادتیوں کا شکار ہیں۔ باپ کے پیار کی بجائے گھروں میں ابھی بھی خوف ہی پنپتا ہے۔ لڑکے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ گھر میں انہیں مکمل آزادی نہیں ملتی۔

ایک کامیاب مرد جو کہ اپنی اکیلی ماں کا بیٹا تھا، جب اس نے سکول سے یونیورسٹی تک اور پھر رشتوں کے سلسلے میں اپنے ساتھی لڑکوں پر باپ کی سختی دیکھی تو اس کا کہنا تھا ”گھر میں مرد کا نہ ہونا بھی ایک نعمت ہے۔ میری کامیابی کی وجہ ہی وہ آزادی ہے جو مجھے بچپن سے جوانی تک فیصلہ کرنے میں حاصل رہی ہے۔“

لڑکیوں پر یہ سختی اور بھی زیادہ ہے۔

صدیوں سے ظلم کا شکار یہ عورت مرد سے بہت خوف زدہ ہے۔ خوف اسے مرد سے دور لے جا رہا ہے۔ اب قانون اس کی حمایت کر رہا ہے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب وہ مجبور نہیں۔ وہ مرد کے ساتھ کسی مجبوری کے بندھن میں نہیں بندھنا چاہتی۔

خالد تھتھال ایک بہت اچھے بلاگر ہیں۔ ہم سب پر بھی لکھتے ہیں۔ آج ان کے فیس بک پیج پر انہی حالات پر ملالہ یوسف زئی کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی ہوئی دیکھی۔

”ملالہ عمر کے اس حصے میں ہے جہاں ہارمونز اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ آپ نوبل انعام یافتہ ہیں یا لوگ آپ سے کسی مخصوص رویے اور سوچ کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ عمر رنگین خواب بننے کی ہوتی ہے، جو یہ نہیں دیکھتی کہ خوابوں کا شہزادہ کیا وہی ہے جسے والدین قبول کر سکتے ہیں یا وہ ایک ایسا شخص ہے جو والدین“ لوگ کیا کہیں گے؟ ”جیسی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ہضم نہیں کر سکتے۔ کیا رنگین خواب بننے والے لوگ اس بات کا دھیان رکھتے ہیں کہ ان خوابوں کی وجہ سے ان کے مخالفین کا ردعمل کیا ہو گا؟

انسان سرکاری تقریبات میں تو ایک مخصوص قسم کا لباس بلکہ یونیفارم پہن کر اپنی سوچیں چھپا سکتا ہے لیکن جب زندگی سامنے کھڑی ہو جاتی ہے تو کبھی کبھار بہت شدت سے اوڑھے ہوئے دوپٹے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ”

عورت کو مرد نے خود دھکے دے کر اس جگہ پر پہنچایا ہے۔ اب دور تبدیل ہو گیا ہے۔ غلامی کسی کو بھی قبول نہیں۔ تقدیس مشرق کا کالا لبادہ مغربی جگمگاہٹ میں اپنے دوغلے پن کا اندھیرا کھو رہا ہے۔

دور بدل گیا ہے۔ پوری دنیا صدیوں پرانی فرسودہ روایات کو توڑ کر انسانی ضروریات اور مجبوریوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے بہت سے معاملات میں، خصوصی طور پر عورتوں سے سلوک میں، مغربی معیارات اور قدریں عقلی طور پر ہم سے زیادہ بہتر ہیں۔ وہ اخلاقی لحاظ سے بھی اعلیٰ پوزیشن پر فائز ہیں۔

ملالہ عرصہ ہوا پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اب وہ صرف نام اور دوپٹے کی حد تک پختون ہے۔ وہ ایک جدید مغربی عورت ہے جو موجودہ نہیں، آنے والے زمانے میں جی رہی ہے۔ زمان و مکاں کی تبدیلی اس کے حواس پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جدید اقوام کے تابناک مظاہر اس کے نظریات کو نکھار رہے ہیں۔ اس نے جو کہا ہے وہ مستقبل کی بات ہے۔ ماضی میں زندہ ہمارا معاشرہ زمانہ حال میں اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے ملالہ کا بیان اس دور کی ایک جھلک دکھا رہا ہے۔ ہم اس کی باتوں سے پوری طرح متفق نہ بھی ہوں ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اب دھوکا، دھونس اور طاقت کی بجائے عورت کو صرف برابری اور پیار و محبت سے ہی ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔

سوچ لیں، وہ اکیلی کامیاب زندگی گزار سکتی ہے۔ اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، مرد تنہا رہ جائے گا اور وہ جب چاہے گی، آپ کو چھوڑ کر چلی جائے گی۔

یاد رہے کہ میرا سیٹھی کے ساتھ طلاق کا ذکر کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے مردوں کی زیادتی کے بارے میں کہا ہے
These girls from your generation are not going to take any more bullshit.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *