جناب ضیا الدین یوسفزئی صاحب! مکالمہ سے گریز نہیں ہونا چاہیے: افغان طالبان کا جواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مضمون کا پہلا حصہ: ضیاء الدین یوسفزئی صاحب کے امارت اسلامیہ سے سوالات اور ہماری معروضات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب ضیاء الدین یوسفزئی صاحب! مکالمہ سے گریز نہیں ہونا چاہیے۔
اکرم تاشفین
معاون مدیر ماہنامہ شریعت،
اردو ترجمان میگزین امارت اسلامیہ افغانستان

جناب ضیاء الدین یوسفزئی صاحب کو موجودہ کابل انتظامیہ کے متعلق جو جمہوریت کا حسن ظن ہے، یہ جمہوریت بھی اس انتظامیہ پر محض الزام ہے۔ افغانستان کی ”جمہوریت“ کو اگر آپ جمہوریت سمجھتے ہیں تو یہ بجائے خود جمہوریت کی معقولیت پر سوالات کھڑے کرے گا۔ جمہوری نظام کی اہلیت اور اس کے آئیڈیل تصور پر خود پہلے سے کئی طرح کے سوالات اور مباحث موجود ہیں۔ یہاں تو جمہوریت کے نام پر قوم کے ساتھ اور قوم کے وسائل کے ساتھ دو عشروں سے مذاق کیا جا رہا ہے۔ معلوم نہیں ضیاء الدین صاحب کو اس نظام سے کیسی توقعات ہیں جہاں بیک وقت اور بیک روز دو صدر صدارتی عہدے کا حلف لیتے ہیں۔ اور کافی عرصے تک چلتے بھی ہیں۔ پھر دونوں میں مذاکرات کرانے امریکا سے زلمی خلیل زاد آتا ہے۔ اس الیکشن میں ووٹ کاسٹنگ کا ریشو شرمناک حد تک گرا تھا وہ بھی قابل ذکر ہے۔ دو ہزار چودہ کے الیکشن میں بھی صورتحال اس سے زیادہ بہتر نہیں تھی۔ سیکیورٹی فورسز کے بے تحاشا دباؤ اور شہریوں کو بزور بازو ووٹ کاسٹ کرنے پر مجبور کرنے کے باوجود پچاس فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے۔ اس وقت بھی یہی ”دو صدری“ نظام شروع ہونے والا تھا کہ جان کیری نے آ کر صلح کرا دی تھی۔

موجودہ ”صدر“ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی نظام میں محدود ہو کر رہ گیا۔ آج بھی اختیارات اس سے زیادہ ڈاکٹر عبداللہ کے پاس اور حکم اسی کا زیادہ چلتا ہے۔ جس نظام سے ضیا صاحب کو توقعات ہیں اس کی حالت تو یہ ہے کہ قندھار میں صدر کا بھیجا ہوا گورنر نمائشی نمونہ بن کر بیٹھا ہوتا ہے جبکہ اختیارات کماندان امنیہ (سیکیورٹی چیف) کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اس صوبے کا بلاشرکت غیرے حکمران ہے۔ فاریاب میں اپنا آدمی گورنر بنا کر بھیجتا ہے تو عبدالرشید دوستم کو وہ نامنظور ہوتا ہے اس لیے وہ دو ہفتے بعد اپنا سوٹ کیس لیے بدو کی طرح واپس لوٹ کے گھر آ جاتا ہے۔ یہی دوستم جسے ڈاکٹر عبداللہ سے مفاہمت اور مذاکرات میں مجبور ہو کر ڈاکٹر اشرف غنی نے فیلڈ مارشل کا خطاب دیا تھا، اس کے متعلق تین سال قبل اشرف غنی کا اعلان تھا کہ وہ اسے جیل میں ڈال کر اپنے ہاتھ سے سزا دے گا۔ کیوں کہ اس نے اشرف غنی کے مقرر کیے ہوئے فاریاب کے گورنر ایشچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر فرار ہو کر ترکی جا بیٹھا۔ جمہوری نظام کا ’حسن‘ ملاحظہ ہو کہ وہی دوستم واپس اپنے ملک آ بھی گیا اور اشرف غنی کی جانب سے فیلڈ مارشل کے معزز خطاب کا مستحق بھی ٹھہرا۔ وار لارڈز کا اپنے اپنے علاقوں میں قبضہ ہے۔ برائے نام جمہوریت کے اثرات ان علاقوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

ضیاء الدین صاحب نے امارت اسلامیہ کے متعلق لکھا کہ ”اب تک دنیا کو صرف یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ بدل چکے ہیں اب ماضی والے طالبان نہیں رہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ طالبان دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ اشرف غنی اور عبداللہ کا موجودہ افغانستان ہی ٹھیک ہے ہم بھی اسی نہج پر اسے چلائیں گے“ ۔

” چہ نسبت خاک را با عالم پاک“ ۔

امارت اسلامیہ کے دور حکومت کی موجودہ کابل انتظامیہ پوری دنیا سے ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد، عسکری تعاون اور عالمی حمایت کے باوجود کچھ مثالیں ہی پیش کرسکے تو یہ اس کے پورے بیس سالہ کیریئر کی معراج ہوگی۔ افغانستان اس وقت عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق کرپشن میں پوری دنیا میں پہلی پوزیشن پر ہے۔ منشیات کی برآمد اور اسمگلنگ میں یہ پوری دنیا میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ امارت اسلامیہ نے کرپشن، منشیات اور بدامنی کا خاتمہ امیرالمؤمنین رحمہ اللہ کے ایک حکم سے کر دیا تھا۔ یہاں تو صدر ارگ (صدارتی محل) کا قیدی ہے۔ جس نظام میں صدر کا اختیار کابل شہر میں بھی نہیں چلتا اس میں کرپشن، منشیات اور بدامنی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔ امارت اسلامیہ مذاکرات کی میز پر ڈیڑھ سال تک لڑ کر امریکا جیسی شاطر طاقت سے اپنا مقدمہ جیت چکی ہے۔ پوری دنیا کے نمائندے قطر دفتر کا طواف کر رہے ہیں۔ امارت اسلامیہ کو کسی کو صفائیاں دینے کی کیا ضرورت؟ امارت اسلامیہ اتنی ہی کمزور ہوتی تو بیس سال قبل امریکا اور ناٹو کے یلغار سے ٹوٹ چکی ہوتی۔ حالانکہ عراق اور لیبیا جیسی افغانستان کی بنسبت مضبوط معاشی اور عسکری طاقتیں بھی امریکی بمباریاں سہ نہ سکیں۔

ہاں! امارت اسلامیہ دنیا کو یہ باور ضرور کر ارہی ہے کہ بیس سال تک آپ کو امارت اسلامیہ کے بارے میں مغرب اور ان کے زیر اثر میڈیا جو کچھ بتاتا رہا وہ حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت کے ادراک کے لیے دنیا کو آ کر امارت اسلامیہ سے بات کرنی چاہیے۔

ایک بات جس نے اس عاجز کو ہمیشہ ورطہ حیرت میں ڈالا ہے، افغانستان اور افغان عوام کے خیرخواہوں کی یہ بات ہے کہ امریکا اور بیرونی قوتوں کے آنے سے یہاں معاشی خوشحالی آئی ہے۔ ترقی ہوئی ہے۔ دولت کی ریل پیل ہے وغیرہ۔ اس میں شبہ نہیں کہ امریکا اور ناٹو نے گزشتہ بیس سال میں پانی کی طرح ڈالر بہائے۔ یہاں سیاسی چہرے متعارف کرائے، کچھ کو بیرونی ملک سے لایا گیا اور کچھ پر یہیں انوسٹمنٹ کر کے ان کی ڈینٹنگ پینٹنگ کی گئی اور انہیں کام میں لایا گیا۔ وہ وار لارڈز جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ پر ہزاروں افراد کا خون ہے انہیں سیاسی لیڈر، رہنما اور مفکر بنا کر پیش کیا گیا۔ کچھ میڈیا اداروں اور شخصیات کو خدمت برآری کے لیے استعمال کیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ بیس سال کی اس انویسٹ منٹ سے امریکا نے افغانستان کو کیا دیا؟ یہاں کی معیشت اب بھی عالمی بھیک کے سہارے کھڑی ہے۔ فوج کے بارے میں ساری دنیا کی توقعات یہ ہیں کہ امریکا اور ناٹو کے نکلتے ہی یہ حوصلہ ہار بیٹھیں گے۔ دیہی علاقوں میں سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پانچ پانچ ماہ تنخواہیں نہیں ملتیں۔

اصل بات یہ ہے کہ یہاں آنے والے ڈالر یہاں کی اشرافیہ کی جیبوں میں گئے۔ عوام کی حالت جس طرح بیس سال پہلے تھی اب بھی ویسی ہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ امریکا نے یہاں جنگ پر ڈالر تو اربوں لگائے ہیں مگر ہزاروں لاکھوں افغان شہری جو امریکا کی بمباری میں ہلاک ہوئے ان کا حساب کون دے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ امریکا یہاں ڈالر اور دولت لے کر آیا ہے ان سے عرض ہے کہ اس کے بدلے آپ ہی کے افغان بھائیوں، بہنوں، شیرخوار بچوں اور بزرگوں کی لاکھوں زندگیاں اپنے ساتھ لے کر گیا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو امریکی ڈالر اور سرمایہ تو نظر آتے ہیں مگر امریکی مظالم اور خون ریزیاں نظر نہیں آتیں۔ بھلا ایسی بھی کوئی قوم ہوگی جو اپنے لاکھوں افراد بارود کی آگ میں بھسم کر کے اس کی راکھ سے ہسپتال اور سکول تعمیر کر کے ترقی اور خوشی کے شادیانے بجائے؟

ایک بات کی وضاحت اور بھی لازمی ہے۔ القاعدہ یا دیگر ایسے گروپ جن کے بارے میں امریکا کو خدشہ ہے کہ وہ اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، ان کے بارے میں امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کسی بھی ایسے گروہ کو اجازت نہیں دی گی کہ وہ افغانستان کی سرزمین امریکا کے خلاف استعمال کرے۔ یہ معاہدے میں بالکل طے نہیں ہوا کہ امارت اسلامیہ کسی گروہ سے تعلق نہیں رکھے گی۔ امارت اسلامیہ اپنے تعلقات میں آزاد ہے۔ ضیاءالدین صاحب کو اپنی اس غلط فہمی کی بھی اصلاح کر لینی چاہیے۔

سوالات کی جانب جانے سے پہلے آپ ضیا ء الدین صاحب کے ایک مسکان انگیز جملے کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، فرماتے ہیں ”خدا نخواستہ اور صد بار خدا نخواستہ اگر طالبان اور ان کے سہولت کار ایک بار پھر۔ ۔ ۔“  جناب من! ہمیں بھی خدا ہی کے چاہنے کا آسرا ہے۔ بیس برس کی جدوجہد اسی کے سہارے جاری ہے۔

ذیل میں ان کے سوالات انہیں کے نمبروں کے مطابق زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔

1۔ ان کا پہلا سوال اس الزام پر مبنی ہے کہ گویا امارت اسلامیہ صرف پشتونوں پر مشتمل ہے اور امارت اسلامیہ اپنی حکومت قائم کر کے افغانستان کی دیگر نسلوں کو ان کے بقول غلام بنا کر رکھے گی۔

امارت اسلامیہ کے حوالے سے ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ امارت اسلامیہ کسی لسانی تفریق پر یقین نہیں رکھتی۔ یہاں فیصلے میرٹ اور قانون پر ہوتے ہیں۔ کسی نسل کو کسی پر برتری نہیں دی جاتی۔ ایسی سطحی سوچ ان لوگوں کی ہوتی ہے جو انسانوں کے درمیان لسانی اور نسلی تفریق کے قائل ہوتے ہیں۔ جو نسلی تعصبات کا شکار اور قوم پرست ہوتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ امارت اسلامیہ کی رہبری شوری (مرکزی سپریم کونسل) جو امارت اسلامیہ کا سب سے طاقتور ادارہ ہے اس کے ایک تہائی اراکین غیر پشتون ازبک، تاجک، بلوچ اور ترکمان ہیں، جو کسی لسانی نمائندگی یا کوٹہ سسٹم پر نہیں امارت اسلامیہ کے اپنے نظام کے تحت یہاں تک پہنچے ہیں۔

جہاں تک بات مستقبل میں امارت اسلامیہ کے نظام حکومت کی ہے تو ابھی نہیں گزشتہ دس سال سے امارت اسلامیہ کا واضح موقف ہے کہ ہم حکومت اور اقتدار کو اپنے آپ میں منحصر نہیں کرنا چاہتے۔ افغانستان تمام افغانوں کا مشترکہ ملک ہے۔ یہاں کے ہر شخص پر اس کی خدمت فرض ہے۔ ہر شخص کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس کی خدمت کرنے کا حق ہے۔ امارت اسلامیہ تمام سیاسی جماعتوں اور لسانی اکائیوں کو ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر ان کا حق دے گی۔

2۔ ان کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ امارت اسلامیہ سے تبدیلی کی کون سی توقع کی جا رہی ہے۔ بیس سال بعد دنیا کی مقتدر قوتوں اور مغربی ممالک کو اگر سمجھ آنے لگا ہے کہ امارت اسلامیہ ہی اس ملک کے عوام کی اصل نمائندہ ہے۔ اس سرزمین کے اصل وارث امارت اسلامیہ کے خاک نشین لوگ ہی ہیں تو ان کی جمہوریت کے مداحوں کو بھی یہ سمجھ لینی چاہیے۔ آپ کی نظر میں جو بھی نظام بہتر ہو ہمیں اس پر اعتراض نہیں۔ آپ کیا سوچتے ہیں اس سے ہمیں کیا سروکار۔ افغانوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار اب مل جانا چاہیے۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے اپنی مرضی سے کرنا ہے کسی بیرونی طاقت کے زیر اثر نہیں۔

3۔ لڑکیوں کی تعلیم اب بھی امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں جاری ہے۔ اور کمال یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں بچیاں جتنی محفوظ ہیں اتنی کابل شہر میں محفوظ نہیں۔ امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں بچیوں کے ریپ کا کوئی واقعہ نہیں ہوتا۔ یہاں بچے بچیاں محفوظ ہیں۔ وہ پورے سکون اور خوشی سے سکول جاتی اور واپس آتی ہیں۔ کسی ہوس کے بھوکے بھیڑیے کی ہمت نہیں ہوتی کہ ان کی جانب ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ سکے۔ جب کہ کابل شہر کی صورتحال یہ ہے کہ کالج جاتی نوجوان لڑکیوں کا اغوا اور ریپ کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

4۔ افغان خواتین کو تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدان میں شریعت اور افغان اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی پوری اجازت ہوگی۔ البتہ ان کی فعالیت کسی بیرونی فکر یا کسی مغربی ایجنڈے کے زیر اثر نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان کے نظام میں یہیں کے اطوار کے مطابق ان کے لیے اپنا کردار ادا کرنا زیادہ آسان ہو گا۔

سوالات کے بعد انہوں نے اختتامیہ میں کچھ خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دائمی امن کی خاطر اپنے افغان بھائیوں سے صلح کریں۔ ضیاء الدین صاحب افغانستان سے باہر کے ایک شہری ہیں اور اس وقت لندن میں مقیم ہیں۔ اگر انہیں افغانوں سے ہمدردی ہے تو ہمیں اپنے ہم وطنوں سے یہ ہمدردی ان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مگر ضیا ء صاحب بہت آسانی سے کابل انتظامیہ کی وہ ساری مکاریاں فراموش کر جاتے ہیں جو مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ 29 فروری 2020 کے دوحہ معاہدے کے مطابق اگلے دس روز بعد یعنی دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات شروع ہونے تھے جو اگلے تین چار ماہ میں نتیجہ خیز ہونے تھے۔ جب کہ یہاں ڈاکٹر اشرف غنی صاحب کی دست کرامت کا اثر ہے کہ اب تک یہ التوا کا شکار ہیں۔

آپ ہمیں قلم اٹھانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم نے اس قوم کے گھر گھر سے اسلحہ اور منشیات کا خاتمہ کر کے دس لاکھ بچوں کو اس وقت ہاتھ میں قلم تھمایا جب ہمیں کھانا بھی پورا میسر نہیں تھا۔ کیوں کہ ہم نے یہی سوچا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ اور باہنر افغان قوم کی تعمیر کے لیے ہمیں اگر پیٹ کاٹنا پڑے تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ جب امریکا نے حملہ کیا تو جناب یوسفزئی صاحب ہی کے ہم فکر لوگ تھے جنہوں نے اس کو جائز اقدام قرار دیا تھا۔ امریکا کا خطے میں استقبال کیا تھا اور اس کے دست و بازو بن گئے تھے۔ سوچیے بیس برس قبل یہ سانحہ نہ ہوتا تو آج افغان قوم اپنے ارتقا کی منزلیں طے کرتے کہاں تک پہنچ چکی ہوتی۔ امریکا نے بیس برس یہاں بارود برسا کر یہاں تباہی تو پھیر دی مگر حاصل کیا، کیا؟

آں جناب کا فتوی بھی عجیب ہے کہ بیرونی قوتوں کے انخلا کے بعد امارت اسلامیہ کے لیے مسلح جد و جہد یا جہاد کا جواز باقی نہیں رہتا۔ بندۂ خدا! اس انخلا سے قبل بیرونی قوتوں کے خلاف جہاد کے آپ قائل تھے؟ آپ نے بیرونی قوتوں کے خلاف امارت اسلامیہ کے جہاد کو جائز اور شرعی جہاد تسلیم کیا تھا؟ اگر کیا تھا تو سو بسم اللہ، ہمیں خوشی ہے کہ آپ گزشتہ بیس سال امارت اسلامیہ کے ہم فکر رہے۔ بیرونی قوتوں کے انخلا کے بعد ان کے ”پسماندگان“ سے جہاد جائز ہے یا نہیں اس پر رائے دینا تو علما کا کام ہے۔

ہاں آپ کی تفہیم کے لیے اتنا عرض کر دیتے ہیں کہ دو ہزار چودہ میں ڈاکٹر اشرف غنی صاحب نے جس دن اقتدار سنبھالا، پہلے ہی روز انہوں نے امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی مدت دس سال ہے۔ اسی معاہدے کی تجدید 29 فروری 2020 کو اس دن دوبارہ کی گئی جب امریکا اور امارت اسلامیہ کے درمیان دوحہ میں معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے تھے۔ معاہدے کی تجدید کی یہ تقریب کابل میں دوحہ کی تقریب سے دو گھنٹے قبل ہی منعقد کی گئی۔ کابل انتظامیہ کے عسکری فورسز کی حیثیت تاحال مستقل آزاد فورسز کی نہیں بنی۔ اشرف غنی اب بھی اپنے کمانڈرز سے خطاب میں انہیں واشنگٹن اور لندن کے محافظ قرار دیتے ہیں۔ پچھلے بیس سالوں میں کوئی ایسا موقع نہیں آیا جہاں اس فوج یا انتظامیہ نے امریکی قبضے سے آزاد ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ یا اپنا کوئی فیصلہ امریکی مداخلت کے بغیر کیا ہو۔ بلکہ جہاں جہاں امارت اسلامیہ نے امریکی اڈوں پر شدید حملے کیے وہاں امریکیوں نے انہیں افغانوں کو ڈھال بنا کر اپنے سامنے رکھا۔ اور کابل انتظامیہ نے بخوشی ان کی ڈھال بننا پسند کیا۔ اس فوج کی انتظامی، عسکری، تربیتی اور مالی اعانت اب بھی امریکا کرتا ہے۔

آپ نے افغانستان کے جن اداروں یا بیرون ملک جن علما اور اداروں کو دعوت دی ہے جہاد کے حرام ہونے کا فتوی دینے کی، ان سے فقط اتنی گزارش بھی کر دیجیے گا کہ فتوی سے پہلے ہمارا موقف بھی ہمارے رہنماؤں سے سن لیں اس کے بعد جو مرضی فتوی دیں۔

جہاں تک گولی اور حکومت چلانے کی فرق کی بات ہے تو حکومت ہم نے بیس سال قبل کر کے دکھا دی ہے جس کی امن کی مثال آج بھی افغانستان میں دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم نے اس حکومت سے قبل بھی افغان عوام کو چوروں، ڈاکووں اور قاتلوں سے نجات دلائی تھی۔ اس حکومت کے بعد بھی افغان عوام کی آزادی و استقلال کے لیے جوانیاں لٹائیں۔

ضیا ء الدین صاحب کی تحریر میں خدشات اور لہجے کی برہمی نمایاں ہے۔ گزارش بس اتنی ہے کہ اگر موقع ملے اور قطر آنا ہو تو امارت اسلامیہ کے رہنماؤں سے مل کر جائیے اور اپنی تمام تر خدشات پر تفصیلی گفتگو کیجیے۔ اگر امریکا اور ناٹو امارت اسلامیہ سے مکالمہ کر سکتے ہیں جو آپ کے خیال میں زیادہ بہتر جمہوری، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ممالک ہیں تو آپ کو بھی ان کی تقلید میں سہی امارت اسلامیہ کے رہنماؤں کے مکالمے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
ختم شد۔

اسی بارے میں: افغانستان میں دائمی قیام امن کے لئے طالبان سے چند گزارشات از ضیا الدین یوسفزئی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اکرم تاشفین، معاون مدیر ماہنامہ شریعت کی دیگر تحریریں

اکرم تاشفین، معاون مدیر ماہنامہ شریعت

اکرم تاشفین صاحب، افغان طالبان کے اردو ترجمان میگزین ماہنامہ شریعت کے معاون مدیر ہیں

akram-tashfin has 2 posts and counting.See all posts by akram-tashfin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *