قائد اعظم کا پاکستان واپس چاہیے
1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو وطن عزیز میں 23 فیصد اقلیتیں آباد تھیں جب کہ پہلی کابینہ میں جوگندر ناتھ منڈل بھی شامل تھے اور بعد میں سر ظفراللہ خان نے بطور پہلے وزیر خارجہ عہدہ سنبھالا۔ اس وقت بانی پاکستان قائداعظم (جو بذات خود شیعہ تھے) نے پاکستان کو تمام مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے لیے بلا تفریق ملک قرار دیتے ہوئے بھی واضح کیا :
”آپ آزاد ہیں ؛ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ اس ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یا کسی اور عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا مسلک سے ہو سکتا ہے۔ جس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
تاہم بعد میں ملک میں مختلف مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً مختلف تحریکیں شروع ہوتی ر ہیں اور ان گروہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ عوام کی حمایت کے ذریعے طاقت بھی حاصل کر لی اور مرد مجاہد کی ”اصلاحات“ کے بعد تو ویسے بھی کوئی کسر باقی نہ رہی اور انہوں نے ملک کو مکمل ”اسلامی“ بنانے کا تہیہ کیا اور ملک کو مذہبی انتہا پسندی کی نئی لہر میں جھونک گئے اور اسی کے ثمرات ہیں کہ آج کے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ اور آج تقریباً 3 فیصد اقلیتیں ہی پاکستان میں بچی ہیں۔
نو عمر ہندو اور عیسائی لڑکیوں کے اغوا، مذہب کی جبری تبدیلی اور شادی کے واقعات اکثر سننے کو ملتے ہیں اور بعد میں متعلقہ اغوا کار افراد کی طرف سے اس کی تردید آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان نا بالغ لڑکیوں نے اپنی ”مرضی“ سے اسلام قبول کیا ہے اور اس کے بعد نکاح بھی کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایسے ہی ایک واقعے نے یورپی یونین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جب ایک 13 سالہ نویں جماعت کی طالبہ نایاب گل کے اغوا اور مذہب کی جبری تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا جب کہ اغوا کار پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ ہے۔ خاندان کی طرف سے در خواست اور برتھ سرٹیفیکیٹ دکھانے کے باوجود بچی گھر نہیں پہنچ پائی۔ جب کے اس کی تحویل 31 مئى کو گوجرانوالہ عدالت نے اغوا کار کو دی تھی۔
یورپی یونین کی جانب سے پاکستان پر اس معاملے پر دباؤ بھی ڈالا گیا ہے اور تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کی دھمکی دی گئی ہے۔
جب کہ اس سے بھی ایک اور شدید واقعہ دیکھنے کو ملا جب شیخوپورہ میں ایک احمدی خاتون کے جنازے پر شرپسند عناصر کی طرف سے حملہ کر دیا گیا اور میت کو قبرستان میں دفنانے پر اعتراض کیا گیا۔
ایک حکومتی منسٹر پر انہی کی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی نے احمدی ہونے کا الزام لگایا تو ان منسٹر کی جان کو خطرہ پڑ گیا اور بعد میں انہوں نے واضح کیا کے وہ ایک سچے مسلمان ہیں، اور ان کا جماعت احمد یہ سے کوئی تعلق نہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی سوشل میڈیا پر شایع کیا اور یوں بات رفع دفع ہوئی۔
جب کہ دنیا جہاں میں مسلمانوں پر جہاں کہیں بھی ظلم کی کوئی خبر سامنے آئے تو سب سے پہلے دکھ ہمارے ہاں لوگوں کو ہوتا ہے اور اپنے ہاں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔
کاش ہمیں مرد مومن ضیا الحق کی بجائے قائد اعظم کی 1947 کی تقریر والا پاکستان واپس مل جائے۔


