EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لیہ سے رکن قومی اسمبلی عبدالمجید نیازی کا شرمناک لب و لہجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں منعقدہ سالانہ بجٹ اجلاس کا ایک منظر ہے جس میں ایک جز وقتی وزیر خزانہ، ایک جز وقتی ہائبرڈ رجیم کی نمائندگی کرتے ہوئے، مختلف اعداد و شمار پر ترتیب دی گئی بجٹ تقریر کر رہا ہے اور اپنی پیش کردہ دستاویز کو ایک مناسب عوامی اور فلاحی بجٹ قرار دے رہا ہے۔ جبکہ اپوزیشن اپنے حق احتجاج کو استعمال کر کے اسمبلی کے فلور پر یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ جو بجٹ پیش کیا جا رہا ہے وہ عوام دشمن اور پاکستان تاریخ کا سب سے خسارے والا بجٹ ہے۔

اور حکومت کو ایسے عوام دشمن بجٹ کے پیش کیے جانے سے باز رہنا چاہیے۔ اس منظر میں دیکھا جاتا ہے کہ وزیراعظم بھی ایوان میں موجود ہیں اور اپوزیشن کے شور شرابے سے بے نیاز بجٹ تقریر سن رہے ہیں۔ منتخب نمائندگان سے قومی اسمبلی بھری ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے پاس اور پیچھے والی نشستوں پر اہم وفاقی وزراء اور ممبران اسمبلی تشریف رکھتے ہیں اور دونوں اطراف سے شور برپا ہے۔ اس سارے شوروغوغا میں ایک حکومتی ایم این اے بلند آواز میں بلو رانی، بلو رانی پکار رہا ہے اور آواز کو زنانہ انداز دے کر مختلف ٹونز کے ساتھ بار بار یہی صدا لگا رہا ہے۔

حکومتی وزراء اور وزیر اعظم ان رکن کے آوازے کسنے پر مسکرا رہے ہیں اور ہنسی کی آواز سے ممبر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ منظر اختتام پذیر ہوا۔ اس حکومتی ممبر کے سامنے سبز ربن میں لپٹی ہوئی بجٹ کی کاپیاں رکھی ہوئی ہیں جنہیں اس رکن اور ان کے ساتھ بیٹھے ایک وفاقی وزیر نے کھول کر دیکھنے کا تردد بھی نہیں کیا۔

آوازے کسنے والے، حکومتی ممبر عبدالمجید نیازی ہیں اور ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن سے ہے۔ وہ گزشتہ عام انتخابات میں حلقہ این اے 187 سے 93 ہزار سے زائد ووٹ لے کر پہلی دفعہ ایم این اے منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ممبر صوبائی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے حلقہ انتخاب میں ان کے ووٹر انہیں تبدیلی کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ ان کے سیاسی مخالفین انہیں جنسی کج روی کا طعنہ بھی دیتے ہیں۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال میں ایم این اے صاحب نے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور نہ ہی دیرینہ مسائل کے حل کے لئے وہ کوئی کام شروع کر سکے ہیں۔ جبکہ ان کے ووٹرز کہتے ہیں کہ کئی ایک ترقیاتی کام پائپ لائن میں ہیں اور ایم این اے مسائل سے آگاہ ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے گھٹیا مخالفین پی پی چیئرمین کو بلو رانی کے نام سے طنز و تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔ بلاول لفظ کو بگاڑ کر بلو اور بلاول بھٹو کی نرم خو طبیعت کی وجہ سے انہیں زنانہ اوصاف کا حامل کہا جاتا ہے اور اس لئے بلو رانی کا نام استعمال کر کے تحقیر کی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ابھی پاکستانی معاشرے میں رہنے والے ایک وسیع طبقے کو زنانہ و مردانہ اوصاف، صنفی احترام، تہذیب و شائستگی چھو کر بھی نہیں گزری۔ اس طبقے کی زبان کو آئمہ علیہ السلام کے فرامین کی تفہیم کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔

عمومی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سیاست میں غلیظ زبان کے استعمال اور تحقیر آمیز جملوں کو متعارف کرایا اور اس کلچر کو اس طرح پروان چڑھایا کہ اپنے سیاسی مخالفین کے لئے جو جتنی غلیظ زبان استعمال کرے گا اسے پارٹی قیادت اتنا ہی سراہے گی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایچی سن کالج کے ہوسٹل میں بگڑے امیر زادے جو زبان استعمال کرتے ہیں عمران خان اس زبان اور گفتگو کے انداز سے کبھی بھی باہر نہیں نکل سکے وہ گالم گلوچ اور تحقیر آمیز زبان ان کی زندگی کا حصہ اور اسی وجہ سے اب طعنے، تحقیر، گالم گلوچ ہی تحریک انصاف کی زبان قرار پا چکی ہے۔

راقم لوگوں کے ایسے خیالات سے نہ اتفاق کرتا ہے اور نہ اختلاف۔ بلکہ اتنا جانتا ہے کہ اگر گالی اور تحقیر آمیز گفتگو کسی پارٹی کا وتیرہ ہے تو اس کے نتائج بہت گندے ہوں گے اور پارٹی کے اندر اختلافات اور تنازعات کو مزید گہرا اور سفلی بنا رہے ہوں گے۔ ابھی پارٹی اقتدار میں ہے تو ایسی معلومات کم باہر آ رہی ہیں لیکن جب اقتدار کا سورج غروب ہو گا تو معلوم ہو گا کہ کون کس کے بارے میں کیا زبان استعمال کرتا رہا ہے۔ مثالیں دینے کی یہاں چنداں ضرورت نہیں ہے۔ علی زیدی اور عظمیٰ کاردار کی آڈیوز اس بارے میں سند ہیں۔

ایک جمہوری کلچر میں، کسی بھی منتخب نمائندے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل ہو گا اور اس کی گفتگو شائستہ اور دلیل سے مزین ہوگی۔ اور اگر بات کی جائے پاکستان ایسے ملک کی تو آسانی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ممبر قومی اسمبلی ہونا بذات خود ایک اچھے رتبے اور اختیار کا مالک ہونا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ممبران قومی اسمبلی اپنے حلقہ کے مسائل کے حل کے لئے ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور اپنے ووٹرز کے لئے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ان کے لئے سب سے اہم ہوتا ہے وگرنہ اگلے الیکشن میں لوگ ووٹ دینے سے انکاری ہوتے ہیں۔

مگر عبدالمجید نیازی صاحب کا معاملہ سرے سے ہی حیران کن اور شرمناک ہے۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود ممبران کی حاضری فہرستوں کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 5 جون 2020 ء سے لے کر 15 جون 2021 ء تک قومی اسمبلی میں 90 دن سیشن/ کارروائی ہوئی ہے۔ جن میں ممبر حلقہ NA 187 لیہ۔ I، کی حاضری صرف 9 دن اور غیر حاضری 81 دن ہے۔ جبکہ گزشتہ تین سالوں میں ہونے والے پارلیمنٹ کے 8 مشترکہ اجلاسوں میں سے کسی ایک میں عبدالمجید نیازی ایم این اے نے شرکت نہیں اس طرح سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں میں ان کی حاضری زیرو ہے۔

اس شرمناک صورتحال کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی قابل احترام پارلیمان کے لئے عبدالمجید نیازی ایک اجنبی ہیں جنہیں پارلیمان کی اقدار اور وہاں کام کرنے کا نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ اس سلسلے میں ان کی کوئی دلچسپی ہے۔ پاکستان کے قومی اسمبلی کے حلقہ 187، کروڑ لعل عیسن، کی ایوان میں نمائندگی صفر ہے۔

پاکستان کے سیاسی اداروں اور سیاستدانوں کے لئے تحقیر آمیز طعنے اور دشنام طرازی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، جونیجو، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف مولانا فضل الرحمن اور تمام قومی رہنماؤں نے ان تحقیر آمیز رویوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے مقدمے کو عوام کی عدالت میں لا کر ووٹ اور سپورٹ سے گالی اور طنز کو جواب دیا۔ اب پاکستان کے محترم سیاستدانوں کی ایک نئی پیڑھی اپنے قدم جما رہی ہے اور ایسے ہی طعنے سن رہی ہے۔ محترمہ مریم نواز کے لئے یا بلاول بھٹو کے لئے چاہے جتنے گھٹیا الفاظ استعمال کیے جائیں ان کی باوقار شخصیت پر ان کا کچھ اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان کے سیاسی ادارے اسی طرح باوقار رہیں گے۔ اور لیہ اور دیگر مقامات سے اٹھائی گئی ابن الوقت نیازی بلو رانیاں اسی طرح اندھیروں میں غائب ہو جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے