طارق عزیز: ہمزاد دا دکھ


زندگی میں آپ جن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں وہ مرتے دم اس زمانے کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو آپ کے ہمراہ گزرا تھا۔ انسان کی زندگی قطرہ قطرہ ختم ہوتی ہے۔ اپنی قبر میں جانے تک وہ اپنے پیاروں کی قبروں میں ٹکڑے ٹکڑے دفن ہوتا ہے۔ طارق عزیز اکیلا نہیں گیا، کروڑوں مداحوں کا زمانہ اس کے ساتھ دفن ہوا ہے۔

وہ صدا کار ایسی صدا دیتا تھا جو دل میں گھر کرتی تھی۔ گلی گلی، نگر نگر ”طارق عزیز شو“ کا چرچا تھا۔ وہ محض پروگرام کا میزبان نہیں بلکہ ایک مبلغ تھا۔ جس کا موضوع ساری زندگی انسانیت اور پاکستانیت رہا۔ اس نے ثابت کیا کہ وہ واقعی میاں عبد العزیز پاکستانی کا بیٹا اور ان کی فکر کا حقیقی وارث تھا۔

دلکش شخصیت، رعب دار آواز اور اردو بولنے کا خداداد لہجہ۔ ریڈیو ہو یا ٹی وی انہوں نے ریکارڈ کامیابیاں سمیٹیں۔ انہیں اردو ادب سے عشق تھا، شعر کی ادائیگی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ جو کلام وہ ایک بار سکرین پر پڑھ دیتے وہ دو آتشہ ہو جاتا۔ بقول مستنصر حسین تارڑ ”طارق عزیز کے سامنے لفظ ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے“ مقابلہ بیت بازی کے ذریعے انہوں نے نئی نسل کے ذہنوں میں اردو ادب سے محبت کا بیج بویا۔

انہیں کامیابی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی۔ ان کی جدوجہد کی کہانی سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔

طارق عزیز جب منٹگمری (موجودہ ساہیوال) سے تلاش روزگار کے سلسلے میں لاہور آئے تو کئی بار فٹ پاتھ پر سوئے۔ اکثر پیسے نہ ہونے کے باعث فاقے رہتے۔ پاک ٹی ہاؤس میں اس لئے بھی جا بیٹھتے کہ شاید کوئی جاننے والا چائے پلا دے۔

لاہور میں ’رائل پارک‘ کے علاقے میں ایک ’شیخ بلڈنگ‘ تھی جس میں فنکار رہائش پذیر تھے۔ اپنے ماموں کے توسط سے انہیں وہاں کام کاج کے عوض روٹی اور رہنے کی جگہ ملی۔ وہیں سے انہیں پہلی بار ریڈیو پاکستان جانے کا موقع ملا اور انہوں نے ڈرامہ انارکلی پڑھا۔ پھر انہیں ریڈیو ڈرامہ میں چھوٹے چھوٹے کردار پڑھنے کو مل جاتے تھے۔ ان کے بقول ریڈیو پاکستان میں مشینیں ٹھیک کرنے کے علاوہ انہوں نے سب کام کیے ۔ وہ انتہائی سادہ اور درویش منش انسان تھے۔

صبر و شکر کے دائرے میں زندگی بسر کی۔ ساغر صدیقی جیسے ملنگ طبیعت لوگوں سے ان کی دوستی رہی۔ پہلی بار پی ٹی وی میں کام کے لئے منتخب ہوئے تو انہیں ”کافی“ پیش کی گئی جو انہوں نے پہلی بار دیکھی۔ پی ٹی وی میں جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے اپنے جیسے کئی باصلاحیت لوگوں کو سڑک پر سے اٹھا کر ٹی وی پر لا بٹھایا اور وہ سٹار ہو گئے۔ وہ ”کنگ“ بھی تھے اور ”کنگ میکر“ بھی۔

جس لاہور کی سڑکوں پر وہ دربدر پھرا کرتے تھے، وہ وقت بھی آیا کہ اسی شہر سے ایم این اے بن گئے۔ انہوں نے اپنے مقابلے میں عمران خان کو الیکشن میں ہرایا۔ بعد ازاں وہ کہا کرتے تھے کہ اگر انہیں کسی سیاستدان سے بھلائی کی امید ہے تو وہ عمران خان ہیں۔ (خان صاحب آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری اس لئے بھی ہے کہ طارق عزیز جیسے لیجنڈ کو بھی آپ سے امیدیں تھیں ) ۔

آپ کی زندگی ترغیب سے بھرپور ہے، مایوسی میں گھرے نوجوانوں کے لئے امید کی کرن۔ کامیابی کی ایسی داستاں جو پڑھنے والے کا زاویہ نگاہ بدل دے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ ”فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک“ کے عنوان سے کتاب لکھتے۔ کاش! وہ لکھ جاتے۔

راقم لاہور میں یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا جب خبر ملی کہ طارق عزیز صاحب کا شو ”بزم طارق عزیز“ کے نام سے دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ریکارڈنگ کے دن اور وقت بارے معلومات لیں۔ بڑی تگ و دو کے بعد ”پاسز“ کا بندوبست ہوا اور لاہور کے الحمرا ہال میں زندگی میں پہلی بار میں نے یہ الفاظ براہ راست سنے ”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“

میری رہائش لاہور میں گارڈن ٹاؤن میں تھی۔ ایک دن گلی سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ طارق عزیز صاحب اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ انہیں سلام کیا۔ خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ہم طارق عزیز صاحب کے ہمسائے تھے۔ ان کے گھر سے چند قدم آگے معروف اداکار قوی خان کا گھر ہے۔ طارق عزیز صاحب اکثر سفید شلوار قمیض زیب تن کیے جمعہ کے لئے جاتے نظر آ جاتے تھے۔ مسکراہٹیں بانٹنے والا محبتیں سمیٹتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ کہا کرتے تھے اللہ کی مرضی جس کو چاہے عطا کرے۔ مرنے سے پہلے وہ اپنی جائیداد حکومت کو وقف کر گئے ہیں۔

وبائی ماحول میں لاہور چھوڑنے کے باعث ان کے جنازے میں شرکت نہ کر سکنے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ عزیز دوست عثمان طارق نے ان کے گھر جا کر میری حاضری لگوا دی۔ جی چاہتا تھا کہ ان کی قبر پر کھڑے ہو کر کوئی ان ہی کے انداز میں کہتا

” طارق عزیز صاحب آپ پاکستان میں اللہ کے مہمان تھے، محبتوں کے گلدستے آپ کے ساتھ جائیں گے“

Facebook Comments HS