EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بالوں والے جن پہ نشے کی حالت میں شیطان کی حاضری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہائے انکل مفتی، دیکھا آپ کی طاقت کتنی ہے۔ دیکھا بالوں والے جن کا خوف یہاں کتنا ہے کہ کوئی بات کرتے ہوئے بھی ڈر رہا ہے۔ دیکھا آپ جیسوں کا نام لے کر مائیں کیوں بچوں کو ڈراتی ہیں۔ دیکھا آپ کی بات کرنے سے ہمیں کتنی حیا آ رہی ہے

کاش یہ حیا آپ کو آ جاتی تو ہمارا سر شرم سے نہ جھکتا۔ ابھی ہمارے ہاتھوں کی انگلیاں آپ کا افسانہ الفت لکھنے کو مچل ہی رہیں تھیں کہ معلوم ہوا افسانہ تو ایک طویل داستان الفت مع ویڈیوز رکھتا ہے۔ ہائے کتنے رنگین مزاج لوگ ہیں آپ۔ اپنے کارنامے بھی ریکارڈ پہ۔ ہمارے ثواب بھی گناہ کے فتوے کی زد میں۔

ویسے انکل یک نا شد دو شد کہ جام بھی تھا اور شباب بھی، محفل بھی جوبن پہ تھی۔ اور علم کے کمال رسیا، کتاب تک ہاتھ میں تھیں۔ واللہ، کس کس ادا پہ بندہ فدا ہو۔ ویسے انکل آپس کی بات ہے عورت کا تو بولا لفظ بھی پکڑا جاتا ہے۔ کیسا پدر شاہی سماج ہے آپ کی ویڈیو بھی حلال ہے۔ جس کو اچھے سے وائرل بھی نہیں کیا گیا۔ کتنے معصوم اس میدان محبت کی جمناسٹک سے محروم رہ گئے۔ خیر مخیر خواتین و حضرات تک ضرورت کا سامان پہنچ ہی گیا ہے۔

انکل کاش آپ اس حکیم صاحب کا پتا بھی بتا دیتے جس نے یہ نشہ فراہم کیا ہوا ہے۔ کتنے کملوں کا بھلا ہو جاتا۔ ویسے سنا ہے نشہ بھی ممنوع ہے، نشے میں جو کچھ ہوا، وہ تو خیر شیطان کی کارروائی ہے۔ ہم بھی جانتے ہیں۔ یہ شیطان بھی بہت ظالم اور کمینہ ہے ہمیشہ پارس کے پاس جاتا ہے تا کہ معافی نامہ مل جائے۔ کیونکہ پارس سے گناہ سر زد نہیں ہو سکتا۔ بس وہ شیطان کا بہکاوا ہوتا ہے۔ اور شیطان حاوی ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ کی کارروائیوں کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے۔ شیطان سے کافی یارانہ ہے۔ آوت جاوت لگی رہتی ہے۔

اجی انکل وہ آپ کے کسی فین شین نے ایک بہت ہمدردانہ پوسٹ لگائی ہے۔ لکھتے ہیں یہ ساحلوں پہ مہکے جسم، یہ ہوٹلوں میں چہکتی دنیاوی حوریں، یہ حسین و مغرور، جوان لڑکیاں جب آپ جیسے عظیم لوگوں کو منہ نہیں لگائیں گی۔ لبرلز کے پاس جائیں گی تو مجبوراً آپ اور آپ کے قبیل کے لوگوں کو یہی کرنا پڑتا ہے۔ تو پیارے عظیم لکھاری دوست انکلز کے سب فتوے بھی تو ان حسین لڑکیوں کو منہ نہیں لگاتے۔ ویسے بھی دیسی عطر سے ان لڑکیوں کو الٹی ہو جاتی ہے۔ ان کو یو اے ای اور پیرس کے پرفیوم اور یو کے کے شاور جیلز کی عادت ہوتی ہے۔

ڈئیر انکل مفتی ان ہمدردیوں کو چیک کریں۔ مطلب عقیدتی عشق سچی مچی ”انا تے کانا” ہو تا ہے۔ ملالہ کا جملہ بھی اچک لیا۔ آپ کا عضو بھی قابل احترام ہے۔

ہائے او میریا ربا کیا زمانہ آ گیا ہے

مفتی انکل میری سہیلیوں کا کرش دو مرد ہیں۔ ایک کینیڈا کا ولی عہد دوسرا سعودیہ کا ولی عہد، یہ کینیڈا والا تو میرے سے برداشت ہو جاتا تھا۔ سعودیہ والا میری سمجھ میں نہیں آ تا تھا اور میں سوچتی تھی کہ میری سہیلیاں کافی ”کملی یار دی” ہیں۔ شاید شہزادہ ہے تو ان کو یہ بالوں والا جن اچھا لگ رہا ہے۔ مگر کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ شہزادے کے دل میں میری بات اتر گئی۔

اور ٹھک سے اس نے ایک ہفتے میں دو قانون بدل کر لڑکیوں کے دلوں میں اپنی جگہ کو مزید مستحکم کر لیا۔ مجھے اب اپنی سہیلیوں کی فکر فردا سمجھ آئی کہ یار وہ ماڈرن شہزادہ ہے۔ جیو اور جینے دو پہ یقین رکھتا ہے۔ اس نے اپنے ملک کی عورت کو جینے کا پورا اختیار دیا ہے۔ قانون پہلے بھی ان کا ہم سے زیادہ سنگی ساتھی تھا۔ وہاں آج بھی عربی عورت کو عجمی پہ فوقیت ہے۔

تو انکل مفتی یار پلیز ایسے دو چار فتوے ہمارے لئے بھی ہو جائیں۔ دیکھیں لگتا یوں ہے جیسے مرد کے گناہ کی تو معافی ہے۔ عورت کا شیطان سے کوئی یارانہ نہیں ہے۔ ذرا ہمارے لئے بھی کوئی ایسی آ سانی ہو جائے کہ بھئی شیطان کی کارروائی ہے۔ بلوچستان میں جرگے کے فیصلے کے مطابق سینکڑوں مردوں کے سامنے الٹا لٹا کر جو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ اس نگاہ یار سے کیا معافی مل سکتی ہے؟ کسی کو کاری ہونے سے معافی مل سکتی ہے؟ کسی کو ”ونی” ہو نے سے معافی مل سکتی ہے؟ کہیں عشق کی معراج پہ محبوب کے قدموں میں گر جانے سے معافی مل سکتی ہے؟ کہیں جوانی کے دیوانی ہو نے سے معافی مل سکتی ہے؟

مفتی انکل آپ کو مزے کی بات بتاتی ہوں۔ جب ہم کافروں کی طرح مخلوط نظام تعلیم میں یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔ تب کی بات ہے۔ جوانی دیوانی والا دور تھا۔ ہر کتاب پڑھ کے لگتا تھا ہائے کیا مصنف ہو گا۔ ہر اچھی کتاب کے اچھے مصنف کے ہم دیوانے ہو جاتے تھے۔ جہاں بیٹھتے ان کتابوں کا ذکر لے بیٹھتے۔ تب ہم نے نوٹ کیا ہم ایک شہرہ آفاق مصنف کی کتاب کا جب بھی ذکر کرتے ہمارے ایک بیج فیلو کا رنگ اڑ جاتا۔ ہم سمجھتے رہے کہ اف عقیدت کا یہ عالم ہے کہ مصفف کے نام پہ رنگ ہی اڑ جاتے ہیں۔ واہ واہ واہ

وہ بے چارہ ہمیشہ کوئی بہانہ کر کے اٹھ کے چلا جاتا۔ مجھ سمیت سب کو یقین تھا۔ عقیدتوں اور محبتوں کا کوئی خاص ہی سلسلہ ہے۔ اور انکل ایسا ہی ہوا۔ برسوں بعد جب راوینز کے الیکشن کے دوران ہماری بات ہوئی۔ تو معلوم ہوا کہ زندگی جہاں بہت آ گے جا چکی ہے۔ وہاں ہم سب با شعور بھی ہو چکے ہیں۔ اور باشعور افراد کی طرح بات کر سکتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ ہمارا لکھا پڑھتا رہا۔ مگر رابطہ نہیں ہو پایا کبھی۔ اس نے ایک چونکا دینے والا سوال کر لیا۔

” تمہیں آج بھی مولانا صاحب اور ان کی وہ کتاب پسند ہے؟”

ہم گویا ہوئے۔ ٹھیک ہے مگر اب وقت کے ساتھ لغت کے معانی تک تجربات اور مطالعہ نے بدل کر رکھ دیے ہیں۔

تو اس نے بتایا کہ ”میں بھی تمہاری طرح ان کے فین تھا۔ لاہور ہمارے جیسیوں کے لئے ایک الگ دنیا ہو تا ہے۔ اور پھر اتنے بڑے نام سے جوانی میں مل لینا، الگ خمار ہو تا ہے۔ سو میں ایک کانفرنس میں ان سے ملنے چلا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پہ ان سے بات ہوئی تو کہنے لگے“ چلو لڑکے ساتھ ہی چلو، راستے میں بات ہوتی ہے۔” میں خوشی کے مارے پھولے نہ سما رہا تھا۔ اپنی شلوار قمیض درست کرتے ہوئے فخر سے ساتھ چل دیا۔ اتنی بڑی گاڑی میں انہوں نے میرے لئے پیچھے کا دروازہ کھولا۔ اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سب کچھ خواب کی طرح ہو رہا تھا۔ دوسری طرف خود بیٹھے۔ ڈرائیور نے گاڑی چلانی شروع کی۔ اور ہم لاہور مال روڈ پہ چلنے لگے۔ باہر آگ برساتی گرمی اندر اے سی کی ٹھنڈک کے ساتھ جذبات کی حدت۔ میں نے پھولی پھولی سانس میں کتاب کی تعریف کرنا شروع کی۔ تو دھیرے دھیرے ان کے قلمی ہاتھ میری قمیض سے اندر جا چکے تھے۔ میں کتنا بے بس تھا۔ مجھے نہیں پتا کہ چلتی گاڑی سے میں نے کیسے دروازہ کھولا اور باہر چھلانگ لگا دی۔ میری شادی ہو گئی ہے آج میں دو بچوں کا باپ بن گیا۔ مگر اس دن کا خوف میرے اندر سے تا حال نہیں جاتا۔”
جی انکل کیسا لگا واقعہ؟

اس دن کے بعد وہ کتاب میں نے اپنی کتابوں میں اس جگہ رکھ دی۔ جہاں نگاہ و ہاتھ دونوں نہیں جاتے۔ انکل جب ہم عورتوں کے حقوق پہ لکھتے ہیں تو یقین کریں ہمیں سسکتے ہوئے کم عمر لڑکوں کی آہیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اس کے ذمہ دار آپ لوگ بھی ہیں اور ان کے والدین بھی۔ ان بچوں نے تو مکمل لباس پہنا ہوتا ہے۔ ان میں تو ابھی کوئی کشش نہیں ہوتی جو آپ کو بے چین کر رہی ہوتی ہے۔ تو آپ خدارا بے چین کرنے والی دوائیاں نہ کھایا کریں۔ جو حکیم آپ کو کمزوری کی دوا کہہ کر دیتا ہے۔ آپ کمزور ہی ٹھیک ہیں۔

ویسے انکل آپ کے فسانہ دلبری سے پتا لگا کہ آج ہماری لغت میں نشہ کے معانی بدل گئے ہیں
” جوانی بھی ایک نشہ ہے۔ جو کسی پر بھی، کہیں بھی، کبھی طاری ہو سکتا ہے، جس کا سبب یقیناً شیطان ہو گا۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے