EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

میرے باؤ جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس زمانے میں انہوں نے زمیندارہ کالج گجرات سے بی اے کیا، اس دور میں کوئی ہزاروں میں سے ایک ہوتا تھا جو بی اے یا ایم اے کرتا تھا۔ میرے والد صاحب بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے معاشی وسائل بہتر نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی بے پناہ محنت اور لگن سے بہترین تعلیم حاصل کی۔ ان دنوں ہمارے گاؤں کے آس پاس جتنے بھی گاؤں تھے ان میں والد صاحب واحد بی اے پاس نوجوان تھے اسی لئے گاؤں کے سارے بزرگ انہیں باؤ جی کہنے لگے اور پھر ساری زندگی وہ باؤ جی ہی رہے۔

عاجزی اور انکساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کبھی کسی مذہب یا فرقے کو انسانیت پر فوقیت نہیں دی، ہماری بھینسیں گاؤں کا ایک عیسائی لڑکا سنبھالتا تھا اور وہی ان کا دودھ دوھتا تھا، سارا گاؤں اعتراض کرتا لیکن باؤ جی یعنی میرے ابا جی نے کبھی لوگوں کی باتوں پہ کان نہیں دھرے، کوئی بات سنتے اور اللہ اکبر کہہ کر ہلکا سا مسکرا دیتے۔ کسی کو کمتر نہ سمجھتے، ہر ایک کے ساتھ عزت اور خوش اخلاقی سے پیش آتے وہ کوئی گاؤں کا چوہدری ہو یا کوئی اور ذات برادری کا فرق رکھے بغیر سب کے ساتھ پیار اور محبت کا رشتہ رکھتے تھے۔ ان کی مقناطیسی شخصیت کا ہر کوئی گرویدہ ہو جاتا تھا۔ گاؤں کا کوئی بھی مسئلہ درپیش ہوتا، تو گاؤں کے بڑے بزرگ بھی مشورہ باؤ جی سے ہی کرتے۔

جب ہم نے ہوش سنبھالا تو وہ مارکیٹ کمیٹی میں سیکریٹری تھے اور اس وقت بھی ان کے پاس بائیسکل تھی۔ مجھے یاد ہے شام ہوتے ہی ہم سب بہن بھائی چھت پر جا کر ابا جی کا انتظار کرتے تھے اور جونہی سائیکل کی لائٹ نظر آتی ہم شور مچا دیتے، ابا جی آ رہے ہیں۔ پھر کافی دیر بعد انہوں نے نیلے رنگ کا ویسپا لیا، وہ دن ہمارے لئے بہت خوشی کا دن تھا پھر انہوں نے ہم سب کو باری باری اس پر بٹھایا۔ علی پور چٹھہ اور اس تحصیل کی ساری منڈیاں ان کے زیر نگرانی تھیں لیکن ہمارے گھر میں کبھی فروٹ یا سبزی کے ٹوکرے نہیں آئے، وہ ہر روز فروٹ لاتے اور خرید کے لاتے تھے۔ حالانکہ ہمارے کئی رشتہ دار ان سے موسمی فروٹ جیسے کہ آم یا کینو وغیرہ بھیجنے کا کہتے، تو ابا جی کبھی بھی کسی کو نہ نہیں کرتے تھے بس خرید کے بھیج دیتے تھے۔

بہت ہی وضع دار اور نفیس انسان تھے، وہ صرف آف وائٹ رنگ کی شلوار قمیض پہنتے تھے، اور ایک جو ان کی خاص پہچان تھی، وہ جناح کیپ تھی۔ جو انہوں نے ساری زندگی پہنی، جب ہم ان کے آفس میں جاتے تو وہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہوتی تھی اور ہم سمجھتے یہ ابا جی کی تصویر ہے، اور پھر جب ہمارے بچے چھوٹے تھے تو ٹی وی پر قائد اعظم کی تصویر دیکھتے ہی شور مچا دیتے وہ دیکھو بابا جان آ گئے۔ اور میرا ایک بھتیجا تو کہتا ہی یہ تھا کہ میں نے وہ پیسے لینے ہیں جس پر بابا جان کی تصویر ہے۔

ہمیشہ سادگی کو ترجیح دی۔ ان کے پاس چار پانچ سے زیادہ سوٹ نہیں ہوتے تھے اور اگر امی زیادہ خرید لاتیں تو وہ ناراض ہو جاتے۔ ایک جوتا دفتر پہن کے جانے کے لئے ہوتا اور ایک گھر کے لئے ہوتا، وہ تو ایک دفعہ کسی فوتگی پر گئے تو جوتا گم ہو گیا، بس پھر ننگے پاؤں گھر آئے اور پھر کافی سوچ بچار کے بعد دو عدد جوتے خریدے گئے۔

مجھے نہیں یاد پڑتا کہ انہوں نے ہم پر کبھی بے جا روک ٹوک کی ہو، ہاں پڑھائی کے معاملے میں ضرور سختی کرتے تھے۔ بچپن میں وہ اپنے پاس بٹھا لیتے، گنتی سنتے، پہاڑے سنتے، نظمیں اور قومی ترانہ ضرور سنتے، میں اور میری بڑی بہن ہم باقاعدہ کھڑے ہو کر قومی ترانہ سناتے وہ بہت خوش ہوتے۔ کاش وہ خوبصورت دن ادھر ہی رک جاتے، لیکن وقت کسی کے لئے کب رکتا ہے۔ گاؤں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے میں اور میری بڑی بہن اپنی نانی اماں کے پاس رہے، اور پھر ہاسٹلز میں رہے۔

ابا جی ہر پندرہ دن بعد ہمیں خط لکھتے، اتنی خوبصورت لکھائی جیسے کسی نے خطاطی کی ہو، اور خط کا مضمون اتنا پیارا کہ ہم بار بار پڑھتے، جواب میں ہم بھی خط لکھتے اور وہ ساری باتیں خوب جی بھر کے کرتے جو ان کے سامنے ہم کبھی بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ بس اس زمانے میں باپ کے گھر داخل ہوتے ہی ماں کا پہلا جملہ ہوتا تھا، خاموش ہو جاؤ ابا جی آ گئے ہیں اور ہم ٹی وی ریڈیو سب بند کر کے یوں بیٹھ جاتے تھے جیسے ہمیں تو سوائے پڑھائی لکھائی کے کچھ آتا ہی نہیں ہے۔

ہماری شامت تو تب آتی جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں، ہر روز ہمیں دو صفحے اردو کے اور دو انگلش کے لکھنے ہوتے تھے۔ اور اگر لکھائی کے اتار چڑھاؤ میں کوئی غلطی ہوتی تو پھر ہم ہوتے اور ابا جی کی ڈانٹ ہوتی، کئی دفعہ تو چھٹیوں میں دیا گیا کام مکمل کر کے ابا جی سے چیک کرواتے اور کوئی سپیلنگ کی غلطی ہوتی یا لکھائی اچھی نہ ہوتی تو پوری کا پی پھاڑ دیتے اور حکم دیا جاتا سارا کام دوبارہ کریں، ہماری لکھائی ان کو کبھی بھی پسند نہ آئی سوائے میری بڑی بہن اور چھوٹے بھائی کے کیونکہ دونوں کی لکھائی بہت اچھی تھی۔

جب سارا کام دوبارہ کرنا پڑتا تو اس وقت شدید بے بسی کا احساس ہوتا، لیکن بعد میں معلوم پڑا کہ یہ سب ہمارے بھلے کے لئے ہی تھا۔ ہر روز ہمیں کہتے کہ رات کو آپ لوگوں نے پانچ اردو لفظوں کی انگلش مجھ سے پوچھنی ہے، اور پھر یاد کرنا ہے، اس طرح دلچسپی بھی برقرار رہتی اور نئی نئی چیزیں سیکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔

ابا جی نے ایک الماری میں ہر قسم کی دوائیاں رکھی ہوئی تھیں، اور اس کو کوئی کھول نہیں سکتا تھا، ہر دوائی بڑی ترتیب سے رکھتے تھے۔ ان دنوں شیشے کی سرنجیں ہوتیں تھیں۔ جو انجکشن لگانے کے لئے استعمال ہوتیں تھیں، انجکشن لگانے سے پہلے انہیں خوب پانی میں ابالتے تھے۔ ان دنوں ملیریا بہت ہوتا تھا، اور ہفتے میں ایک دفعہ ہم سب کو کونین کی گولیاں زبردستی کھلاتے تھے، وہ دن ہمارے لئے بہت مشکل ہوتا تھا۔ خاندان کے سارے بزرگوں کی دوائیاں لانا، ڈاکٹر کو دکھانا، انہی کے ذمے تھا، اور یہ کام وہ بہت خوشی سے کرتے تھے۔

گاؤں میں کسی کو بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ باؤ جی سے ہی کہتے اور پرسکون ہو جاتے کہ اب تو یہ کام ہو ہی جائے گا۔ انہیں باغبانی کا بہت شوق تھا اپنے آفس کا لان بھی بہت خوبصورت رکھا ہوا تھا۔ گھر میں بہت بڑا لان بنوایا اور ہمیشہ اس کی دیکھ بھال خود کرتے، گھر کے صحن میں دیوار کے ساتھ سارے پاپولر لگائے ہوئے تھے، ان کی ایک الگ ہی خوبصورتی تھی۔ گھر میں مرغیوں کا ایک بہت بڑا ڈربہ بنوایا ہوا تھا۔ جس میں سفید رنگ کی پندرہ بیس مرغیاں تھیں۔

ہر اتوار کو اس کی خوب صفائی کرتے، مرغیوں کے ناخن کاٹتے، اور سردی گرمی سے بچاو کا پورا انتظام ہوتا۔ بی بی سی سننا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور گاؤں کے لوگوں۔ کے ساتھ بیٹھ کر تبصرے کرنا، کرکٹ کے میچ شوق سے دیکھتے تھے اور ہم بھی ان کے ساتھ مل کر دیکھتے، کبھی بھی ہم پر بے جا روک ٹوک نہیں کی، اس کے باوجود ہم سمجھتے تھے کہ ان کی سوچ خاص جاٹوں والی ہی ہے۔ جب میں نے بی اے میں فسٹ ڈویژن لی تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ میرا ایڈمیشن یونیورسٹی میں کروا دیں گے لیکن میں حیران ہو گئی کہ وہ میرے لئے یونیورسٹی کے ایڈمیشن فارم لے آئے۔ پہلی دفعہ مجھے خود پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل کار پر چھوڑ کے آئے لیکن پھر مجھے کہا کہ اب آپ نے خود ہی جانا ہے ساری دنیا میں طالب علم اکیلے ہی سفر کرتے ہیں۔ پہلی دفعہ تو بہت ڈر لگا لیکن ابا جی کی حوصلہ افزائی نے بہت اعتماد دیا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے گھر کے پاس ہی ایک اسپیشل ایجوکیشن سنٹر کھلا، چونکہ اپلائیڈ سائیکالوجی میں ماسٹر کیا تھا، مینٹلی چیلنجڈ بچوں کا سنٹر تھا۔ پتہ چلا کہ میری ایک دو کلاس فیلوز پہلے ہی ادھر جاب کر رہی ہیں سو میں نے بھی والنٹیر جانا شروع کر دیا، اب ابا جی مجھے ایک دن چھٹی نہ کرنے دیتے، میں ہزار کہتی میری کون سی حاضری لگنی ہے، لیکن۔ وہ کہتے اس طرح اچھا تاثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران کبھی شاید ہی چھٹی کی ہو، آندھی ہو یا طوفان وہ پورے سات بجے دفتر ہوتے۔ اب ایسے لوگ شاید آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

میرے ملازمت کرنے میں بھی وہ مسلسل میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے، جب بھی میں شکایت کرتی کہ بچے چھوٹے ہیں مشکل کام ہے، گھر کی بھی ذمہ داری ہے، تو وہ مسکراتے اور کہتے بیٹے تمہارا تو وظیفہ لگا ہوا ہے، اپنے شہر میں ملازمت ہے۔ اور سارا دن بیکار بیٹھنے سے بہتر ہے جو پڑھا ہے اس سے فائدہ اٹھاو، اب سمجھ آتی ہے وہ سب کس لئے اور کیوں کہتے تھے۔

والد صاحب کو گاؤں بڑا پسند تھا، جب ہم گاؤں سے شہر گوجرانوالہ میں شفٹ ہو گئے تب بھی وہ ہر ہفتے گاؤں جاتے، پھر انہوں نے گاؤں میں گھر بنوانا شروع کر دیا، سب نے کہا اب کیا فائدہ نہ تو کسی نے گاؤں جا کے رہنا ہے، لیکن وہ کہتے، اپنی مٹی تو نہیں چھوڑنی چاہیے میں اور تم لوگوں کی ماں نے ادھر ہی جا کر رہنا ہے۔ لیکن زندگی نے انہیں گاؤں جا کر رہنے کی مہلت ہی نہ دی۔

ابا جی نے بائیسکل سے لے کر کار تک کا سفر اپنی انتھک محنت کوشش اور لگن سے حاصل کیا۔ اور اللہ پاک نے ان کی نیک نیتی کا صلہ انہیں دیا، بے شک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہی ہوتا ہے۔ اب جب کہ وہ دنیا گھومنا چاہتے تھے، اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہنا چاہتے تھے تو بیماری نے آ لیا، شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ جب صحت ہوتی ہے اس وقت روزی روٹی کی دوڑ پیچھے مڑ کر دیکھنے نہیں دیتی اور جب سب کچھ ہوتا ہے تو صحت دغا دے جاتی ہے۔

اپنے پیاروں سے بچھڑنا آسان نہیں ہوتا، خود کو سمیٹنے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے ابا جی آج بھی ہمارے دلوں میں دھڑکتے ہیں، کوئی دن ایسا نہیں جب ان کی یاد سے دل غافل ہوا ہو۔ بے شک وہ ہر رشتے میں بے مثال تھے۔ وہ محبت اور خلوص سے گندھے ہوئے باؤ جی آج بھی گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، وہ آج بھی ان سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں۔ خیالات کا ایک دھارا ہے لیکن الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ کہ جو زباں سے ادا نہیں ہوتے، وہی لفظ اشک بنتے ہیں۔ رب کائنات ان کے درجات بلند کرے اور اپنے جوار رحمت میں رکھے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے