سیرت ﷺ پڑھانے سے کیا ہو گا؟


معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا ہے، تجویز یہ دی ہے کہ سیرت النبیﷺ کو بطور مضمون نصاب میں طفلان مدرسہ کے لیے داخل کرنا ہو گا۔ جیسے ہی یہ عظیم کاوش اپنے انجام کو پہنچے گی، حسن اخلاق کے پیکر مجسم سکولوں سے نکلیں گے بدولت جن کے انقلاب کی ہوا چل پڑے گی، ملک عظیم سے معاشرتی برائیاں دامن لپیٹ کر مہاجر ہو جائیں گی، رائے آپ بھی کیا یہی رکھتے ہیں کہ سیرت النبی بطور مضمون پڑھانے سے اخلاقی و معاشرتی مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکے گا؟

ذرا دیر کو رکیے، آپ کو مکہ لیے چلتے ہیں، ایک شخص، جس کی صداقت و امانت و دیانت کا ہر سو چرچہ ہے، پہاڑ پر کھڑا ہو کر باسیان مکہ سے خطاب کرنے کو ہے، وہ بے مثل خطیب، جس کے لبوں سے الفاظ نہیں یاقوت و مرجان جھڑتے ہیں، لوگوں سے استفسار کرتا ہے کہ اگر میں تمھیں خبر دوں کہ پہاڑ کے دوسری جانب ایک لشکر جرار کھڑا ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کر لو گے؟ لاریب آپ کی بات کو تسلیم کریں گے کہ آخر آپ نے آج تک کذب بیانی سے کام نہیں لیا (واقعے کی مزید تفصیل کے لیے بخاری و مسلم و سیرت ابن ہشام و سیرت النبی کی مراجعت فرمائیں ) ، تفکر کیجیئے کہ کس چیز نے باسیان مکہ کو یقین کرنے پر آمادہ کیا کہ لشکر ان پر حملہ آور ہونے والا ہے، لوگ اس لیے یقین کیے کہ رسالت مآبﷺ کچھ کہنے سے پہلے خود عمل کرتے تھے، فرقان نے بھی صدا دی کہ ”تم وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں“ ، اگر رسالت مآبﷺ نے لوگوں کو فقط واقعات و قصاصات سنائے ہوتے کہ فلاں شخص نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تم بھی جھوٹی بات کہنے سے باز رہا کرو، فلاں دیانت دار ہے اس لیے تم بھی امانتیں ان کے مالکوں کو پہنچا دیا کرو تو کیا لوگ آپ کی بات کا یقین کر لیتے، مگر پیغمبران ہمیشہ عمل پہلے کرتے ہیں اور لوگوں کو دعوت بعد میں دیتے ہیں، یہاں مگر عجب مسافرت ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ سیرت النبی بچوں کو پڑھانے سے معاملات سدھر جائیں گے۔

ایک بچہ جو سکول سے یہ سیکھ کر گھر پلٹا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، لیکن گھر میں اس کے والدین یا کوئی بہن بھائی جھوٹ بول رہا ہے تو وہ کس کی پیروی کرے گا، اسی بچے کو اگر سکول میں یہ سکھایا جائے کہ رسالت مآبﷺ نے عورتوں پر سختی کرنے سے منع فرمایا ہے، آخری درجے تک عورت کی تکریم کا حکم دیا ہے، لیکن یہی بچہ صبح و شام دیکھتا ہے کہ اس کا باپ اس کی ماں سے بد تمیزی کرتا ہے، کبھی کبھار تھپڑ بھی جڑ دیتا ہے، تو ایسا بچے پر سیرت کا کیا اثر ہو گا، گمان ہے کہ چھ سات سال کے بچے کو اعضائے مخصوصہ کی خبر ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کو دنیا میں کوئی پری نہیں چھوڑ کے گئی بلکہ معاملہ کچھ اور ہے، اسی بچے کو اگر استاد پڑھائے کہ اسلام میں عورتوں کو تاڑنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن وہی استاد صاحب اگر سکول میں عورتوں کو تاڑ رہے ہوں تو بچہ کس کا اثر قبول کرے گا، یہ تو چند تضادات ہیں جو بیان کیے ہیں وگرنہ تو تضادات کی تفصیل بیان کرنے سے پوروں میں سوزش آ جائے، یہ صاحبان قلم جو لٹھ تھام کر قوم کی اخلاقی رہ نمائی فرما رہے ہیں، کیا آپ نے ان کو دیکھا ہے کیسی رعونت ہے ان کے لہجوں میں، سوشل میڈیا پر ایسوں کا لوگوں کے ساتھ رویہ ملاحظہ کیجیئے تو آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ تکبر و غرور کا بت کسے کہتے ہیں، قوم کے بچوں کو سیرت النبی پڑھوانا چاہتے ہیں مگر اپنے بچوں کو انگلش سکولوں میں بھیجتے ہیں کہ ان کا مستقبل محفوظ ہو جائے، جس کو دیکھو نئی تجویز کا پمفلٹ ہاتھ میں لیے کھڑا ہے جس میں نسخہ ہائے کیمیا درج ہے کہ جس پر قوم عمل پیرا ہو کر اوج ثریا کی مکین ہو سکتی ہے، صاحب آپ پہلے خود تو کسی چیز پر عمل پیرا ہوں، سیرت النبی کو بطور مضمون پڑھانے پر تو آپ خوب پھرتی دکھا رہے ہیں مگر کیا آپ خود بھی سیرت پر عمل پیرا ہیں، لوگوں کے اقوال زریں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے، مرض کچھ اور لاحق ہے مگر عطار کے لونڈے دوا کچھ اور تجویز فرما رہے ہیں، ایک نقطہ اٹھائے دیتے ہیں، امید کاملہ ہے کہ دماغ کے بند دریچے وا ہو جائیں گے۔

کیا مفتی عزیزالرحمان نے سیرت النبی ﷺ کو نہ پڑھ رکھا تھا؟
پارلیمنٹ میں گالیوں کی برسات کرنے والوں کو اسوہ نبی ﷺ کی کیا خبر نہ تھی؟
لائیو پروگرام میں مرد کو تھپڑ مارنے والی خاتون کیا سیرت النبی ﷺ سے نا آشنا تھی؟
رشوت کا بازار گرم کرنے والے سیرت ﷺ سے کیا بے خبر ہیں؟
جنسی تلذذ کے لیے عورت کی عزت پامال کرنے والوں کو کیا سیرت ﷺ یاد نہیں ہوتی؟

Facebook Comments HS