بل کوسبی: ’امیریکاز ڈیڈ‘ کی جنسی حملے کے مقدمے میں سزا معطلی پر امریکہ میں غم و غصہ


بل کوسبی

Reuters

امریکی کامیڈیئن بِل کوسبی کو جنسی حملوں کی سزا کے خاتمے کے بعد رہا کیے جانے پر غصے اور صدمے کے جذبات سامنے آ رہے ہیں۔

سنہ 2018 میں اُنھیں سابق باسکٹ بال کھلاڑی اینڈریا کونسٹینڈ کو نشہ دے کر اُن پر جنسی حملہ کرنے پر سزا سنائی گئی تھی جسے بدھ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

ججز نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے ‘ضوابط کی خلاف ورزی’ کی گئی ہے مگر یہ بھی تسلیم کیا کہ اُن کا فیصلہ غیر معمولی ہے۔

کئی لوگوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس فیصلے سے مستقبل میں اُن خواتین کی حوصلہ شکنی ہو گی جو اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ جنسی سلوک کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہیں۔

اینڈریا کونسٹینڈ اور اُن کے وکلا نے کہا کہ فیصلہ ’نہ صرف مایوس کُن ہے بلکہ تشویشناک بھی ہے کیونکہ اس سے اُن خواتین کی حوصلہ شکنی ہوگی جو نظامِ عدل سے اپنے اوپر ہونے والے جنسی حملوں پر انصاف چاہتی ہیں۔‘

اینڈریا کونسٹینڈ

Getty Images
اینڈریا کونسٹینڈ نے الزام لگایا تھا کہ بل کوسبی نے سنہ 2004 میں اُن پر جنسی حملہ کیا

رہائی پر بل کوسبی نے ٹویٹ کی: ’میں نے کبھی بھی اپنا مؤقف اور اپنی کہانی تبدیل نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی پر اصرار کیا ہے۔‘

کوسبی سنہ 1980 کی دہائی میں دی کوسبی شو میں اپنے کردار کی وجہ سے معروف تھے اور اُنھیں ایک موقع پر ’امیریکاز ڈیڈ‘ بھی کہا جاتا تھا۔

بل کوسبی کو کروڑوں امریکی پسند کرتے تھے تاہم جب اُنھیں جنسی حملے کا مجرم قرار دے کر تین سے 10 سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی تو اُن کی ساکھ بالکل ختم ہو گئی۔

سنہ 1965 میں وہ کسی ڈرامہ سیریز میں کردار ادا کرنے والے پہلے سیاہ فام امریکی بنے۔ اس میں اُنھوں نے الیگزینڈر سکاٹ نامی خفیہ ایجنٹ کا کردار ادا کیا تھا۔

سنہ 1984 میں این بی سی نے دی کوسبی شو لانچ کیا تھا اور یہ آٹھ سیزنز تک جاری رہا۔ یہ اُن کی سب سے بڑی کامیابی تھی اور اس سے وہ گھر گھر جانا پہچانا نام بن گئے۔

درجنوں خواتین نے عوامی طور پر بل کوسبی پر جنسی حملوں کا الزام عائد کیا مگر اُن پر فوجداری مقدمہ صرف اینڈریا کونسٹینڈ کے معاملے میں چلایا گیا۔

سنہ 2018 میں اُنھیں سزا سنائے جانے کو می ٹو تحریک میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

بدھ کو جاری کیے گئے فیصلے میں پینسلوینیا کی عدالتِ عالیہ نے پایا کہ کوسبی کے معاملے میں ’ضوابط کی خلاف ورزی‘ ہوئی ہے کیونکہ کوسبی کے وکلا نے پچھلے ریاستی وکیلِ استغاثہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ اُن پر اس مقدمے میں فردِ جُرم عائد نہیں کی جائے گی۔

سابق اداکار جب جیل سے رہا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اپنے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے آ رہے تھے تو وہ بہت کمزور لگ رہے تھے۔

کوسبی پر الزام لگانے والوں میں سے جس نے اس فیصلے کی مخالفت کی، اُن میں پیٹریشیا لیئری سٹوئیر بھی تھیں۔

اُنھوں نے سی این این کو بتایا: ’آخر میں ہم میں سے 63 سامنے آئے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس 43 سالہ پریشانی اور صدمے کا فائدہ کیا تھا جو میں نے جھیلا اور نتیجتاً میرے خاندان نے بھی جھیلا۔’

بل کوسبی

Reuters

جینیس بیکر کِنی نے بل کوسبی پر الزام لگایا تھا کہ اُنھوں نے 1980 کی دہائی میں اُنھیں نشہ آور دوائیں دے کر اُن کا ریپ کیا۔ اُنھوں نے ڈبلیو پی وی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘میں ہکی بکی رہ گئی ہوں۔ میں حیران ہوں اور میرے لیے یہ ناقابلِ یقین ہے۔ اتنے سارے لوگوں کے سامنے آنے کے باوجود ایک قانونی نقطے سے یہ سب ختم ہو سکتا ہے۔‘

اس دوران سلیبریٹیز نے بھی سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

اداکار اور سماجی کارکن ایمبر ٹیمبلین نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مجھے یہ خبر سن کر بہت غصہ آ رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر اُن خواتین کو جانتی ہوں جنھیں نشہ آور چیزیں دے کر اُن کا ریپ کیا گیا۔ یہ فیصلہ اور عدالت شرمناک ہیں۔‘

کالم نگار ای جین کیرول جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی حملے کا الزام لگانے والی متعدد خواتین میں سے ہیں، اُنھوں نے کہا: ’یہی وجہ ہے کہ خواتین سامنے نہیں آتیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’حملہ آور نے آنکھ میں جھلکتے عکس سے خاتون کو تلاش کیا‘

’میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا‘

ہاروی وائن سٹائن کیس: 7 حقائق جو #MeToo مہم کی وجہ بنے

اداکار ڈیبرا میسنگ نے ٹویٹ کی کہ یہ فیصلہ خوفناک ہے۔

فلم پروڈیوسر ہاروی وینسٹائن پر جنسی حملے کا الزام لگانے والی اولین خواتین میں سے ایک روزینا آرکوئیٹ نے کہا: ’یہ افسوس ناک ہے۔ میں دلی طور پر اپنی متاثرہ بہنوں کے ساتھ ہوں۔ ابھی کام کرنا باقی ہے۔‘

انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والے دی ہالی وڈ کمیشن کی چیئرپرسن انیتا ہِل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کوسبی فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیسے ہمارے نظامِ انصاف کی خامیوں کے باعث جنسی حملوں کا احتساب کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔‘

بل کوسبی

Getty Images

’کام کی جگہوں پر جنسی حملے، ہراسانی اور بدلے کا تقاضہ روزانہ کیا جاتا ہے۔ انٹرٹینمنٹ اور دیگر صنعتوں میں ایسے نظاموں کی فوری ضرورت ہے جو استحصال کرنے والے طاقتور افراد کا احتساب یقینی بنائیں، ملازمین کا تحفظ کریں اور ایسے معاہدوں کو روکیں جن کے تحت استحصال کرنے والے افراد بچ جاتے ہیں۔‘

کچھ لوگوں بشمول مصنف کیتھ بوئکن نے استغاثہ اور پینسلوینیا کی سپریم کورٹ پر یہ سزا معطل کرنے کے خلاف غصے کا بھی اظہار کیا۔

تاہم کچھ لوگوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

اداکار فلیشیا رشاد نے، جنھوں نے کوسبی شو میں اُن کی اہلیہ کا کردار ادا کیا تھا، ٹوئٹر پر لکھا: ’ایک سنگین غلطی کو درست کیا جا رہا ہے۔ انصاف کی غلطی کو ٹھیک کیا جا رہا ہے۔‘

بل کوسبی پر الزام کیا تھا؟

بل کوسبی کو اینڈریا کونسٹینڈ کے خلاف جنسی حملے کے تین الزامات پر مجرم پایا گیا تھا۔

وہ اُن سے کئی دہائی کم عمر تھیں اور اُن سے سنہ 2002 میں ٹیمپل یونیورسٹی میں کام کے دوران ملی تھیں۔

اُنھوں نے بل کوسبی کو ایک رہنما شخصیت کے طور پر قرار دیا تھا۔ بعد میں اُنھوں نے ٹرائل میں گواہی دی کہ جب سنہ 2004 میں کوسبی نے اُن کے گھر پر اُنھیں نشہ آور چیز دے کر اُن پر جنسی حملہ کیا تو وہ ’منجمد‘ ہو گئی تھیں۔

اُنھوں نے سب سے پہلے سنہ 2005 میں پولیس کو یہ شکایت کی تھی مگر سابق ریاستی وکیلِ استغاثہ بروس کیسٹر نے بل کوسبی پر باقاعدہ الزام عائد نہیں کیے۔

اس کے بعد اُنھوں نے کامیڈین پر گمراہ کر کے جنسی حملہ کرنے اور بدنامی کا باعث بننے کا مقدمہ دائر کیا اور 2006 میں اُن کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتہ کر لیا۔

سنہ 2014 اور 2015 میں درجنوں دیگر خواتین نے کوسبی پر نشہ دے کر جنسی حملہ کرنے کے الزامات لگائے۔

مقامی حکام جانتے تھے کہ سٹیچوٹ آف لمیٹیشن یعنی کسی شخص پر کتنے عرصے بعد تک الزام لگایا جا سکتا ہے، کے ضوابط کے تحت وہ ان میں سے زیادہ تر الزامات کی پیروی نہیں کر سکتے تھے مگر اُنھوں نے اینڈریا کونسٹینڈ کا مقدمہ دوبارہ کھولا اور اینڈریا کے الزامات کی 12 سالہ میعاد ختم ہونے سے چند دن قبل ہی بل کوسبی پر فردِ جُرم عائد کر دی۔

جب سنہ 2017 میں پہلے ٹرائل کے دوران جیوری کسی فیصلے پر اتفاق نہ کر سکی تو جج نے اس ٹرائل کو غلط قرار دیا۔

بل کوسبی

Reuters

اس کے بعد الزام عائد کرنے والے دیگر افراد کو دوسرے ٹرائل کے دوران گواہی دینے کا موقع دیا گیا جس نے استغاثہ کو بل کوسبی کے نقصاندہ رویے کا ایک رجحان سمجھنے میں مدد دی۔

بدھ کو جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا: ’کوسبی کو اب معمول کی زندگی فراہم کرنے کے لیے صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ اُنھیں بری کر دیا جائے اور ان الزامات پر اُن کے خلاف مستقبل میں کارروائی پر پابندی لگائی جائے۔‘

فوجداری اپیلوں میں مہارت رکھنے والے وکیل پیٹر گولڈ برگر نے خبر رساں ادارے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ استغاثہ پینسلوینیا کی سپریم کورٹ سے نظرِ ثانی کی اپیل کر سکتا ہے مگر اس کے کامیاب ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words