امریکہ میں مہا بھارت


یہ کہانی، امریکہ میں بسنے اور کام کرنے والے عظیم بھارت نژاد امریکی شہریوں کی ہے جو اپنے، دھرم، ارتھ، کام اور موکش کے اصولوں پر چلتے ہوئے، امریکہ میں مہا بھارت جیسی مہاکاوی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ بھارت کے یہ سپوت، اپنے وطن، اپنی ثقافت اور نظریے کی جنگ تلواروں، نیزوں، برچھی یا بندوق کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے علم، ہنر، محنت اور اخلاق سے جیت رہے ہیں۔ وہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ اب بھی امریکہ میں ان کی شناخت اور پہچان ایک مہاجر قوم کی سی ہے لیکن ان کی ترقی، خوشحالی، ذہانت اور ان کا طرز زندگی باقی سب امریکی مہاجرین کے لیے مشعل راہ ہے۔ پردیس میں رہنے والا ہر بھارتی باشندہ اپنے پورکھوں کے دیس، انڈیا کا سفیر بنا ہوا ہے۔ وہ وہاں روزی روٹی کمانے کے علاوہ ہندوستان کے کلچر اور اقدار کے فروغ کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

امریکہ میں جاری مہابھارت کا منظر نامہ اس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر جاتا ہے جب کبھی دو ازلی حریف پاکستانی اور بھارتی کسی مقابلے میں آمنے سامنے آتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے امریکہ میں کرکٹ کھیلنے کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ورنہ تو ادھر بھی بھارتی اور پاکستانیوں کی رسہ کشی کھیل کے میدان میں بھی دیکھنے کو ملتی۔ تاہم وہاں کی مقامی اور قومی سیاست کے میدان میں دونوں قوموں کے نمائندے آمنے سامنے رہتے ہیں۔ پاکستانیوں کی نسبت امریکہ میں انڈین لابی زیادہ متحرک اور مضبوط ہے۔ کچھ پاکستانی بھائی اور بہنیں امریکہ میں رہ کر اپنے وطن کے مفاد کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن شاید ان کا کلا اتنا مضبوط نہیں۔

بھارتی نژاد امریکیوں کو ایک فخر حاصل ہے کہ امریکہ میں ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ میکسیکو، چائینز اور فلپینیز مہاجرین کے بعد ان کا نمبر آتا ہے بلکہ 2010 ء کے بعد اتنے زیادہ بھارتیوں کو گرین کارڈ اور امریکی شہریت حاصل ہوئی کہ اب ان کی گنتی امریکہ میں ہجرت کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہونے لگی ہے۔ سب سے اہم بات کہ امریکہ میں ہندوستانیوں کی اکثریت کا شمار امیر اور پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کماتے ہیں اس کی کثیر مقدار واپس اپنے وطن بھیج دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اپنی محنت کی کمائی سے ہر سال بھارتی پچاسی ارب ڈالرز زر مبادلہ کی صورت امریکہ سے انڈیا بھیجتے ہیں۔ انڈیا کے زیادہ تر لوگ وہاں اپنا کاروبار کرتے ہیں یا پھر ڈاکٹر، انجنئیر اور سائنسدان ہیں۔

امریکہ میں انڈو امریکنز کی سب بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی تہذیب اور کلچر سے لگاؤ قائم رکھتے ہیں اور اس پر بجا فخر کرتے ہیں۔ وہ گھروں میں اپنی بولی بولتے ہیں، ان میں شادیوں کا رواج عام ہے اور طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر۔ عام امریکی شہری، انڈیا والوں کی اس بات سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے باشندے ہیں۔ امریکہ میں انڈیا والے اپنے آپ کو ایشیاء کے باشندے کہلوانے کی بجائے ہندوستانی لکھنا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ شاید یہ انڈیا کے ان غیر سرکاری سفیروں کا کمال ہے کہ امریکہ میں ہندومت کے رسم و رواج بڑی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں اور وہاں کے نچلے طبقے کی قابل ذکر آبادی ہندو اور بدھ مت کی جانب راغب نظر آتی ہے۔

امریکہ میں مہابھارت کی اس کہانی کے مرکزی کردار، کوئی بھارتی نہیں بلکہ دو پاکستانی نژاد امریکی، فیض خان اور نثار احمد ہیں۔ دونوں حضرات کا تعلق امریکہ کے کاروباری طبقے سے ہے۔ فیض اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرتا لیکن نثار کو جب بھی کسی محفل میں اپنا تعارف کروانا پڑے تو وہ اپنے آپ کو ایشیائی انڈین کہہ کر متعارف کرواتا۔ فیض کو اپنے دوست کی یہ عادت ہرگز پسند نہ تھی بلکہ اس بات کو لے کر دونوں دوستوں میں اکثر توں تکار ہو جاتی۔ فیض اپنے دوست کو لعن طعن کرتا کہ وہ احساس کمتری کا مارا ہوا انسان ہے اور اپنے آپ کو ایک پاکستانی کہلوانے میں شرم محسوس کر تا ہے۔ دونوں دوست جب کبھی کسی پارٹی یا یاروں کی محفل میں جاتے تو اس کے بعد ان دونوں کے درمیان اسی بات پر گرماگرم بحث ہوتی۔

ایک دن فیض اور نثار کو کسی سیاسی پارٹی کے مقامی اجتماع میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ یہ امریکہ کا قومی دن، چار جولائی تھا۔ مجمع میں ہر قسم کے لوگ شامل ہوئے لیکن اکثریت کاروباری حضرات کی تھی جن سے پارٹی کے لیے چندہ بٹورنا مقصود تھا۔ اس سیاسی اکٹھ میں اکثریت گوری رنگت والوں کی تھی، کچھ سیاہ فام امریکی اور ہسپانوی، چند بھارتی نژاد اور فقط دو پاکستانی امریکن تھے۔ اس دن فیض نے اپنے دوست سے وعدہ لیا کہ وہ محفل میں اپنے آپ کو پاکستانی کہہ کر متعارف کروائے گا۔ نثار اپنے دوست کی بات مان گیا اور تقریب کے آغاز سے پہلے غیررسمی گفتگو میں وہ اپنا تعارف ایک پاکستانی بزنس مین کے طور پر کرواتا رہا۔

پارٹی میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں، بزنس کمیونٹی سے چندے کی اپیل کی گئی۔ وہاں انڈین بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں نے سب سے زیادہ پارٹی فنڈ دینے کا اعلان کیا اور شاید اسی وجہ سے وہ سب کا مرکز نگاہ بھی بنے رہے۔ رسمی تقاریر اور اعلانات کے بعد امریکہ کی برتھ ڈے کا کیک کاٹا گیا، جام چھلکے اور بار بی کیو کا وسیع اہتمام تھا۔ تمام شریک محفل ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے لیکن اس دوران سارا وقت فیض اور نثار سب سے الگ تھلگ بیٹھے اپنی خوش گپیوں میں مصروف رہے۔

کچھ نوجوان سیاسی کارکن اور والنٹیرز گھومتے گھماتے ان کے پاس آتے لیکن جب انہیں پتہ چلتا کہ وہ دونوں پاکستانی ہیں تو وہ ایک پیشہ وارانہ مسکراہٹ بکھیر کر انہیں اپنے حال پر چھوڑ کر چلے جاتے۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی نژاد کاروباری شخصیات کے ارد گرد لوگوں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا اور شہر کا مئیر بھی زیادہ وقت انہی کے ساتھ گپ شپ میں لگاتا رہا۔

جب بوریت کا احساس بڑھنے لگا، فیض اور نثار کسی کو خدا حافظ کہے بغیر واپس چلے آئے۔ اس دن واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے فیض کچھ اداس نظر آ رہا تھا۔ یہ اس کے لیے کسی عوامی اجتماع میں ایسے نظر انداز کیے جانے کا پہلا تجربہ تھا جبکہ نثار امریکہ میں گزری اپنی پندرہ سالہ زندگی میں ایسے کئی تجربات سے پہلے بھی گزر چکا تھا۔ فیض غصے میں تھا کہ اس کے وطن پاکستان کا نام سن کر لوگوں کے چہرے کے تاثرات کیوں بدل جاتے ہیں۔

انہوں نے بھی تو پارٹی فنڈ کا اعلان کیا، وہ بھی تو کسی سے کم نہیں لیکن یہ کیا کہ پارٹی لیڈر شپ انڈیا والوں کو بڑا پھنے خان سمجھتی ہے۔ نثار اپنے دوست فیض کے جذبات سمجھ رہا تھا لیکن خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر اپنے دوست کو چھیڑنے کے لیے بولا، کچھ جلنے کی بو آ رہی ہے۔ تم ہندوستانیوں سے اتنا خار کیوں کھاتے ہو۔ دیکھو، پاکستان اور انڈیا کی دشمنی امریکہ میں مت لاؤ یہاں ہم سب کی پہچان ایشین انڈین ہے۔ اس نے فیض کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا اور کہا، امریکہ میں کچھ لوگوں کو تو پاکستان کے محل وقوع کا بھی پتہ نہیں۔

فیض اپنے دوست کی شرارتی طبعیت کو خوب پہچانتا تھا اور اس کی باتوں سے بھنا کر بولا، تم دفع ہو جاؤ، بنو انڈین، میں تو پاکستانی ہوں۔ ہم ہیں پاکستانی، کوئی جلتا ہے تو جلے۔ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر نان سٹاپ بولنے لگا، پاکستان میری پہچان ہے، پاکستان میری پہلی شناخت ہے، میرے بزرگوں کی قبریں وہاں ہیں اور میری میت بھی وہیں جائے گی۔ اپنے دوست کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے نثار بولا، دیکھو بھائی، یہ مسئلہ پاکستان اور انڈیا کا نہیں ہے۔ میں بھی پاکستانی ہوں۔ مجھے بھی پاکستان سے پیار ہے لیکن ہم پاکستانی اپنے وطن، اپنی ثقافت اور اپنی الگ شناخت کے فروغ کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

نثار نے طنز کے چلاتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی اور کہا، تم نے دیکھا نہیں ہمارے کتنے پاکستانی بھائی ہیں جنہیں اپنے ریسٹورنٹ کے نام کے ساتھ ”یہاں پاکستانی انڈین فوڈز دستیاب ہیں“ لکھنا پڑتا ہے۔ پھر اس نے لمبی آہ بھری اور کہا، کتنے ہی امریکی دوستوں نے میرے ساتھ دعا سلام لینا چھوڑ دی جب انہیں میری اصلیت کا پتا چلا کہ میں ایک پاکستانی ہوں۔ وہ گہری سانس لیتے ہوئے گویا ہوا کہ یہ ہمارا نہیں، ہمارے پاکستان کے امیج کا مسئلہ ہے جسے ہم نے خود اور ہمارے دشمنوں نے برباد کر کے چھوڑ رکھا ہے۔

نثار نے اپنے دوست پر تلخ سوالوں کے بم گرانے جاری رکھے اور پوچھنے لگا، تم بڑے پاکستانی بنے پھرتے ہو، جب سے امریکہ آئے ہو، کتنی بار چودہ اگست کی کسی تقریب میں گئے ہو، کیا کبھی تم نے امریکی جھنڈے کے ساتھ، اپنے ملک کا جھنڈا بھی سینے پہ سجا یا ہے۔ کیا تمھیں کبھی اپنے قونصل خانے سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ آؤ مل کر پاکستان ڈے مناتے ہیں۔ اس کے لبوں پر اپنے ملک کے تنخواہ خور سفیروں کے لیے شکوہ تھا اور وہ بولا انہیں تو شاید معلوم بھی نہیں ہو گا اس شہر میں کتنے پاکستانی ہیں اور کہاں کہاں رہتے ہیں۔ فیض حیرانی کے ساتھ نثار کی باتیں سنتا اور اس کے سوالوں پر ہوں ہاں کرتے ہوئے اپنا سر ہلا تا رہا۔

نثار کا پارا اور چڑھنے لگا۔ وہ فیض کی خاموشی پر تلملایا اور بولا اب تمہیں سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ کچھ تو بولو، کیا تم میری بکواس سن رہے ہو یا میں کسی بھوری بھینس کے آگے بین بجا رہا ہوں۔ فیض نے کھسیانی آواز میں جواب دیا، ہاں تم کہتے تو سچ ہو۔ مگر تم بھی تو اپنے گھر میں بچوں کو اردو بولنے سے منع کرتے ہو، تم نے کبھی بھی مسجد میں ایک دھیلے کا چندہ نہیں دیا اور آج پارٹی فنڈ میں ہزاروں ڈالرز کا اعلان کر کے آ رہے ہو۔ فیض نے ناصحانہ انداز میں نثار کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور پھر پاکستانی۔ یہ بات سن کر نثار نے ہارے ہوئے سپاہی کے لہجے میں کہا، فیر تے گل ای مک گئی اور چلو آج کی بحث کو یہیں ختم کرتے ہیں۔

کیا بولا، بحث ختم ہو گئی، بھئی کیوں ختم ہو گئی، تم اسلام کا نام سن کر اتنے چڑھ کیوں جاتے ہو۔ کیا پاکستان اور اسلام الگ ہیں؟ فیض نے نثار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے پیار سے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔ شاید نثار کے پاس اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا یا پھر وہ اس سے کسی لاحاصل بحث میں الجھنے سے اجتناب کر رہا تھا۔ آج پہلی دفعہ نثار بھی مباحثے میں سنجیدہ نظر آ نے لگا۔ آج اسے بھی اپنی بنیادی شناخت کی وجہ کسی نے محفل میں گھاس نہیں ڈالی۔ وہ بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ جلد ہی فیض کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے نثار کو تسلی دیتے ہوئے کہا دیکھو یار یہ سب سیاست کی باتیں ہیں۔ چھوڑو، کوئی اور بات کرتے ہیں۔

نثار بولا نہیں بھائی یہ محض سیاست کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری شناخت کا مسئلہ ہے، یہ ہمارے اچھے برے امیج کا مسئلہ ہے۔ یہ ہماری نسلوں کو درپیش آنے والے ایک خطرے کا معاملہ ہے۔ خطرہ، کیسا خطرہ؟ فیض جھٹ سے بولا۔ نثار نے اب اپنا مخصوص مفکرانہ انداز اختیار کر لیا اور کہا، مجھے خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر ہم نے اپنا اور اپنے ملک کا امیج بہتر نہیں کیا تو ہم مغربی دنیا میں جاری مہابھارت ہا ر جائیں گے۔ اس نے فیض کو توجہ دلاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا، تم نے دیکھا نہیں کس طرح انڈینز ٹیک انڈسٹری میں چھائے ہوئے ہیں۔ بڑی کمپنیوں میں ان کے کتنے سی ای اوز ہیں۔ اب تو ان کے گورنرز اور مئیر بھی بننا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارا کیا؟ ہمارا کون اتنا آگے تک گیا؟ کس نے اتنی ترقی کی۔ اگر یہی حال رہا تو ہماری آنے والی نسلیں بھی میری طرح اپنی اصلی شناخت چھپائیں گی اور ہاں اگر تعارف روگ بن جائے تو اسے چھوڑنا بہتر۔

فیض کو نثار کی باتیں کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گئیں۔ وہ بھی جذبات کے بانس سے اتر کر سنجیدہ گفتگو کرنے لگا اور ذرا بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا۔ یار دیکھو، ہم وہ نہیں کر سکتے جو انڈیا والے کرتے ہیں۔ ہم اپنی اولادوں کو کیسے اجازت دیں کہ وہ ان کی طرح کھلا کھائیں اور ننگا نہائیں۔ ہم مسلمان ہیں یار، ہمارے لیے کچھ حدود و قیود مقرر ہیں۔ ہم اتنا آگے نہیں جا سکتے۔ نثار اپنے دوست کی یہ بات سن کر آپے سے باہر ہو گیا اور چلاتے بولا، فیض یار، تم اپنے دماغ سے یہ خناس نکالو۔ مذہب کب ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ کتنے ہندو ہیں جو اپنا دھرم ساتھ لے کر چلتے ہیں، ماتھے پر تلک لگا کر آفس جاتے ہیں، ہاتھ میں کڑا پہنتے ہیں لیکن انہوں نے ترقی کی ہے۔ ہمیں بھی اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔

ہم اپنے رویے کیسے بدلیں، فیض نے ایک طالب علم کی طرح استفسار کیا۔ تعلیم اور آگہی کے ذریعے ہم اپنے رویے بدل سکتے ہیں، نثار نے اس کے سوال کا مختصر جواب دیا۔ اس کے بعد دونوں دوست کچھ دیر خاموش رہے اور وہ چلتی گاڑی سے باہر کے مناظر دیکھنے لگے۔ نثار خاموشی توڑتے ہوئے پھر سے بولا، تم اسلام کو پہلے اور پاکستان کو بعد میں رکھتے ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان اسلام کا ایک قلعہ ہے اور ہمیں اپنے قلعے کی حفاظت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ یہی فرق ہے میری اور تمہاری سوچ میں۔ میں سب سے پہلے پاکستان کا سوچتا ہوں۔ امریکہ میں مسجدیں بنا لینے سے شاید اسلام کی اشاعت اور ترقی تو ممکن ہو لیکن اگر ہم پاکستان کا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ثقافتی مراکز بنانا ہوں گے۔

فیض اپنے دوست کی یہ بات سن کر پھر سے چونک گیا اور بڑے جابرانہ انداز میں بولا، قوم پرست ہونے کے ساتھ ساتھ تم جاہل بھی ہو۔ ہماری مسجدیں، ہماری ثقافت کے مظاہر ہیں۔ اب کی بار نثار نے اپنے دوست کو عقلی دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی اور کہا، دیکھو بے شک مسجدیں ہماری عظمت کا نشان ہیں لیکن ہر کوئی مسجد میں تو نہیں آ سکتا اور پھر مسجد میں مخصوص ٹولے کی اجارہ داری چلتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی رنگا رنگ ثقافت اور تہذیبی ورثے کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں تو ہمیں کچھ مختلف سوچنا ہو گا۔

نثار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، مسجدیں تمام مسلمانوں کا مشرکہ ورثہ شمار ہوتی ہے، ہر ایک کو وہاں آنے کی اجازت ہے۔ ہم جسم واحد کہلائے جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اگر صومالیہ میں کوئی دہشت گرد کارروائی ہو تو اس کے نتائج پاکستان کے مسلمانوں کو بھی بھگتا پڑتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہندو سری لنکا میں مسلمانوں کا قتل عام کرے تو کوئی انڈیا والوں کو دوش نہیں دیتا۔ یہ اس لیے کہ انڈیا والوں نے دھرم، ارتھ، کام اور موکش کے اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔ ہمیں بھی کوئی ایسی راہ نکالنی ہو گی ورنہ ہم زمانے سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

نثار کی فلسفیانہ باتیں سن کر فیض کے سر میں درد شروع ہو گیا اور وہ بولا چلو کہیں جا کر کڑک سی چائے پیتے ہیں پھر گھر چلیں گے۔ دونوں ہیوسٹن کی ایک دیسی مارکیٹ گئے لیکن وہاں جا کر فیض نے دیکھا کہ کراچی والوں کے ڈھابے پر اس کی کچھ ناپسندیدہ شخصیات اور کاروباری حریف پہلے سے براجمان ہیں۔ انہیں دیکھ کر اس کا موڈ اور آف ہو گیا اور کہا دفع کرو، آؤ گؤ پتروں کے ریسٹورنٹ پر چلتے ہیں وہاں دودھ پتی اچھی ملتی ہے۔ نثار زیر لب مسکرایا اور کہا امید ہے وہاں کی چائے تمہیں کڑوی محسوس نہیں ہو گی۔

انڈین ریسٹورنٹ پر بیٹھے گرما گرم دودھ پتی کی چسکیاں لیتے ہوئے نثار نے پھر سے کوئی سیاسی موضوع چھیڑنا چاہا، لیکن اب کی بار فیض کی نظریں ریسٹورنٹ میں لگی بڑی ٹی وی سکرین پر جمی ہوئی تھیں جہاں یہ خبر چل رہی تھی کہ انڈیا کے پرائم منسٹر، امریکہ کے صدارتی امیدوار کی کمپین چلانے ہیوسٹن آ رہے ہیں۔ یہ خبر فیض کے لیے کافی پریشان کن تھی اور وہ بے خیالی میں اول فول بکنے لگا، یہ سا۔ تو وائٹ ہاؤس بھی پہنچ گئے، اب ہمارا کیا بنے گا؟ اب ان کی تہذیب نے یہاں بھی اپنے انڈے بچے دینا شروع کر دیے۔ ہمیں اسے روکنا ہو گا۔

نثار، فیض کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے بولا میرے دوست، تہذیبیں نہ بنتی ہیں، تہذیبیں نہ مٹتی ہیں، تہذیبیں، تہذیبوں میں جا ملتی ہیں، جیسے ایک دریا۔ فیض نے نثار کی بے وزن شاعری پر کوئی توجہ نہ دی اور اس کے کان کے پاس جاکر میں کھسر پھسر کرنے لگا، لے اب امریکہ میں بھی مہا بھارت شروع ہونے والی ہے۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا۔ ہمارے پرائم منسٹر کو بھی امریکہ آنا چاہیے۔

نثار، اب فیض کی باتوں سے بے زار ہونے لگا اور کہا چلو بھائی گھر کو چلتے ہیں، مجھے تو ابھی وہاں بھی مہا یدھ لڑنی ہے اور اوپر سے میرے پاس نیلے رنگ کے کارتوس بھی ختم ہو چکے ہیں۔ دونوں دوست بھارتی وزیر اعظم کے امریکی دورے کے ممکنہ مضمرات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گھر جا پہنچے اور سکون سے سو گئے مگر خدا جانے پاکستان اور انڈیا کی سرحدوں سے ہزاروں میل دور، دونوں قوموں کے باشندوں کے اذہان میں لڑی جانے والی اس مہا بھارتیہ کا انت نہ جانے کب ہوگا؟

Facebook Comments HS