پاکستان میں حساب نسواں کے زریں اصول


چونکہ ہمارے ملک میں خواتین کے خلاف جرائم ”معاشرتی“ اور ملی نوعیت کا رخ اختیار کر لیتے ہیں، اس لئے خواتین کے خلاف جرائم پر آپ کو اقدامات تو کیا بات بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ خواتین جو فتنہ در فتنہ اپنے دامن میں چھپائے رکھتی ہیں، اب ملکی وقار اور سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ پہلے پہل یہ روشن اقدار اور شاندار روایات کے لئے ایک عدد عارضہ تھیں، وہیں ملکی وقار کے درپے ہیں۔

جہاں خواتین کے خلاف جرائم کا تذکرہ ہو، اس معاملہ میں ریاضی کے اصول بھی کچھ بدلے بدلے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ خواتین کے لئے یہاں سب کچھ الگ تھلگ ہوا کرتا ہے (کیونکہ ان کے حقوق بہت زیادہ ہیں) ، اس لئے ریاضی بھی جدا ہے۔ عام ریاضی میں دس کو دس کہتے ہیں، مگر شاید حساب نسواں کے اصولوں کے ہم آہنگ یہ کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ حساب میں کچھ بھی ہو مثال دے کر واضح کیا جاتا ہے تو ہم یہاں بھی ایک مثال لے لیتے ہیں۔

جیسے اگر حقوق کم ہوں تو وہ زیادہ ہو جاتے ہیں۔ جیسے حال ہی میں عالیہ صارم کی نظر میں خواتین کو حقوق زیادہ مل گئے تو ان سے وہ ناجائز فوائد اٹھائیں گی۔ طاقت کا غلط اور بھیانک استعمال جو پدر شاہی نظام کرتا ہے، ان کی منطق کے مطابق عورت ان حقوق سے کرے گی۔ پاکستان میں اگر بیس سالوں میں خواتین ( یاد رہے کہ جو کم بخت اور فتنہ ساز ہیں ) کے خلاف دس ہزار تیزاب گردی کے واقعات ہوئے تو حساب نسواں کے زریں اصولوں کے تحت وہ تین ہو جاتے ہیں۔

اگر مجرموں نے دس ہزار بار عورتوں پر تیزاب یا دیگر آتش گیر مادے استعمال کیے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ تین بار ایسا ہوا ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ سراج الحق صاحب فرماتے تھے کہ مغرب نے عورت کو اس قدر حقوق دے دیے ہیں کہ مرد ان حقوق سے پریشان ہو کر شادی نہیں کرتے کہ عورت کو بہت حقوق حاصل ہیں۔ مگر یاد رہے کہ حساب نسواں کے مطابق عورت اگر جنسی ہراسانی کا الزام لگائے تو وہ اس لئے مبالغہ آرائی ہے کہ عورت کے ساتھ جنسی ہراسانی ہو نہیں سکتی جب ہی تقریباً تمام ہی الزامات جھوٹ پر مبنی بھی ہوا کرتے ہیں۔ اب حساب نسواں میں ارضیات نسواں کا ملاپ بھی ہوتا ہے جس کے مطابق ایسی وجوہات سرے سے موجود نہیں کہ عورت کتے ساتھ کچھ ایسا ویسا ہو۔

ہم عورتیں جو ہیں ہم پر بھکا کوئی عاقل بالغ دانش مند کیوں یقین کرے گا؟ ہماری گواہی تو آدھی ہو سکتی ہے مگر ہمارے سچ جھوٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ عورتیں رہی ازل سے جھوٹی مکار، تیزاب بھی جھوٹا پھنکوا کر شہرت حاصل کرتی ہیں۔ جلے چہرے اور جھلسے بدن آئینے میں دیکھ کر بے حد خوش ہوتی ہیں۔ ویسے بھی تین ہی تو بار ایسا ہوا ہے۔ ہمیں تو فکر ہے کہ گوروں کے دیس میں کیا ہوتا ہے، گورے یہاں سے بس گئے ہی ہیں، استعماریت کے خزانے یہیں دبا گئے۔

اب چونکہ ہم ان کا سائنس تعلیم ٹیکنالوجی میں تو مقابلہ کرنے سے رہے، خدا بچائے کہ ہم کبھی ان کا ان میدانوں میں مقابلہ کریں، ہم تو پیمائش کرتے ہیں کہ ہماری کتنی عورتیں ریپ ہوئی اور وہاں پر کتنی ہوئیں؟ اب مقابلے کی نوعیت اور سنگین ہو گئی ہے، اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں کتنی عورتیں تیزاب گردی سے جھلس چکی ہیں۔

یہاں چاہے کتنے ہی غیر مسلم نفرت انگیز جرائم کی بھینٹ چڑھ کر جان سے ہاتھ دھوئیں مگر یہاں کے لوگوں کو درد ہوتا ہے تو مغرب کی مذہبی اقلیتوں کا۔ نفرت اور قومی و نسلی توقیر کے ابہام میں جیسے وہاں دہشت گردی ہوتی ہے وہی ہمارے وطن میں بھی ہوتی ہے۔ مگر بات وہی ہے اس مٹی کی قدر تو اس مٹی کے باسیوں کے لئے بے معنی ہے۔

اس لئے آج آپ کو بتاتے ہیں کہ دس ہزار بولے تو دس ہزار ہوتا ہے۔ یہاں پر ہی غیر مسلم شہری غیر تحفظ کا شکار ہیں۔ بہت ست لوگ اپنا عقیدہ بتانے سے بھی کتراتے ہیں کہ نفرت کا عالم عالم برزخ سا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے جرائم سے انکار کرنا وطن کے کمزوروں سے بے زارگی ہے۔ یہ بحث اب کی نہیں بہت پرانی ہے۔

تیزاب گردی یہاں کے انا پرست حضرات کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا تب ہی پولیس نے 1994 سے لے کر 2018 تک اتنے مقدموں کا اندراج کیا ہے۔ ملکی سلامتی کی حفاظت اور تشخص جرائم کی بیخ کنی سے ہوتا ہے، خدارا عورت کی انسانیت تلفی نہ کریں۔ گریباں پکڑنا ہے تو مجرموں کا پکڑیں جو اس ملک کے باسیوں کی زندگی چھینتے ہیں۔ وطن کی محبت سے مراد وطن کا خود ساختہ عالمی تشخص نہیں وطن کے لوگوں کی آسان اور خوشحال زندگی ہے جس کی خاطر ملک بنائے جاتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت یہ ملک بنایا گیا۔ اس لئے نہیں بنا تھا کہ مجرموں کو تقویت اور عزت ملے اور مظلوموں کو الزام اور دشنام۔ اگر کمزور نے ظلم سہنا تھا تو وہ ہندوستان میں بھی سہ سکتا تھا۔

جس جہنم کی آگ کے حوالہ جات ملتے آئے ہیں، وہی آگ کوئی ظالم کسی معصوم کے بدن اور چہرے پر صرف اس لئے انڈیل دے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں، اس لئے آئین بنتے ہیں کہ غریبوں کو صرف انصاف کا دلاسا تھپکا جاسکے؟ تین نہیں ہزاروں عورتوں کے بدن اور چہروں پر آگ کی بارش صرف اس لئے برسائی جاتی ہے کہ وہ کمزور ہیں، ان کے سچ جھوٹے اور شہادتیں بے معنی ہیں۔ طاقت کا فرعونی استعمال ایسا ہے کہ خدا زمین کے ان انا پرست عناد سے لبریز جھوٹے خداؤں کی فرعونیت پر حیران ہے جو کم سے کم قیمت میں آگے بازار سے خرید لاتے تھے۔ ریاست تھی کہ تماشے دیکھتی آئی، یہی سماج تھا کہ الزام لگاتا آیا۔ مجرم اور فرعون کا ہاتھ روکا نہ اس کی طاقت کو لگام ملی۔ آگ تھی کہ کھلے عام بکتی رہی، ہزاروں عورتیں اپنے مجرم شوہروں کے ساتھ رہتی رہی، ایک ہی چھت تلے، جیسے ہزاروں عورتیں اپنے ہی ریپ کار کے ساتھ بیاہ دی گئیں۔

اگر تین تیزاب گردی کے واقعات ہوتے تو صرف پنجاب میں دو سو ملین کا نئی زندگی منصوبہ شروع نہ ہوتا۔ اگر تین واقعات ہوتے ہیں تو اسمبلیوں میں قانون نہ بنتے، متاثرین کے علاج کے لئے بل منظور نہ ہوا کرتے۔ یہاں بل تب ہی منظور ہوتا ہے جب آسمان پھٹ جائے اور زمین نگلنا شروع ہو جائے۔ جہاں دس سالوں میں فقط دو فیصد تیزاب گرد مجرموں کو سزا ہوتی تھی، وہاں اب انہی قوانین کے باعث اب دس فیصد کو سزا ہوتی ہے، نوے فیصد کے ساتھ ابھی بھی انصاف نہیں ہوتا۔

صرف 1994 سے سنہ 2008 تک سات ہزار آٹھ سو مقدمات میں 156 کو سزا ہوئی۔ ہمارے وطن میں آج بھی مغربی ممالک کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں عورت دشمن جرائم ہر ہم کیوں نہیں بات کرتے۔ جس کو جس کا خیال ہو وہ اسی کی بات کرتا ہے، ہمیں اسی ملک کی کالی سانولی جھوٹی جھلسی جلی ہوئی عورتوں کا خیال ہے ان ہی کی بات کریں گے۔ ظلم کوئی مقابلہ یا دوڑ نہیں کہ ہم دیکھیں کون جیت رہا ہے۔ جا بجا ایک انسان کے ناحق مرنے کو تمام انسانیت کا قتل کہنے والی قوم کو خیال آتا ہے کہ یہاں صرف ہر سال اتنی ہزاروں عورتیں ہی تو تشدد اور جبر سے مرتی ہیں، ان کی آرزو ہے کہ کم از کم ساری عورتیں تو جان سے جائیں تاکہ ظلم کی دوڑ تو جیتی جاسکے۔

دنیا بھر میں عورت کے خلاف جرائم ملی مسئلہ نہیں جبکہ تاریخی اور انتظامی جبر کا شاخسانہ ہے جس میں پاکستان کی ہزاروں عورتیں اور لندن کی عورتیں اور مرد جھلستے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے عالمی تشخص کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا یہ ہے کہ سخت قوانین کی بدولت تیزاب گردی کے واقعات میں پچاس فیصد کمی آئی ہے جو دنیا کے لئے حیران کن ہے جو ہمارے پیارے وطن میں ہوا ہے۔ اگر وطن عزیز میں عورت مخاصمت جرائم نہ ہوتے تو کسی کی جرات بھی نہ ہوتی وہ اس پر سوال بھی کرتا۔

محاورے کی رو سے بات کرنا وہاں مناسب ہوتا ہے جہاں کسی کی جان نہ گئی ہو، کسی کی ہیئت مسخ نہ کی گئی ہو۔ ایسا کیوں ہے کہ جب عورتوں پر تشدد کی بات ہو، وہاں عورت کو ہی ملزم ٹھہرایا جاتا ہے، وہاں اس کے مجرم کو مجرم نہیں سمجھا جاتا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words