اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
جناب وزیر اعظم کو شاید یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں مرد کو صرف عورت کا سراپا حسین لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ عورت کی ذات پرفیوم کی بوتل ہے جس کی خوشبو مرد کو اپنے اندر انڈیلنی ہے چاہے وہ سات پردوں میں ہی چھپی کیوں نہ ہو۔ چاہے اس بوتل سے بدبو کے ببھوکے اٹھ رہے ہوں لیکن جب ایک دفعہ چڑھ گئی تو اتارنا لازم ہے۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ عورت کا لباس مرد کو اکساتا ہے۔
لیکن کمسن بچیاں کون سا لباس پہنتی ہیں؟ اور جو خواتین حجاب کرتی ہیں یا برقعہ اوڑھتی ہیں ان کے بارے میں بھی کچھ ارشاد ہونا چاہیے۔ کیا وہ بھی اپنے برقعے میں اعلان دعوت کرتی ہیں؟ میں ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو برقعوں میں رہ کے بھی ہیراسمینٹ کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں مردوں کو یہ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے کہ اس پردہ نشیں کا جلوہ کس قدر غضب ناک ہو گا تبھی تو اپنی ذات کی بوتل کو پیک کر رکھا ہے۔ اور پھر وہ بھنورا بن کے اس کے چکر کاٹے گا۔
میڈم آپ کو سبزیاں لانی ہیں تو لا دوں؟ گھر کی صفائی کروانی ہے تو وہ بھی کر دیتا ہوں بس آپ جلوہ افروز ہو جائیں۔ دراصل مرد نے اس بات کو ریالائز کر لیا ہے کہ عورت محبت کی خواہاں ہے تو بس وہ محبت کے جھوٹے کھیل کا کھلاڑی بن چکا ہے۔ اس کو عورت کے جذبوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ بس اس کو عورت کی خوشبو چاہیے اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کرے گا۔
اور بد قسمتی سے عورت خوبصورت ہو تو پھر آپ خوشامدی مردوں کے ٹریکس کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آپ خوبصورت عورت کے دکھ پوچھیں؟ بے چاری کے لیے خوبصورتی وبال جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ سوسائٹی کے کچھ بھوکے بھیڑیے اس کی جان کو آ جاتے ہیں۔ شاید آپ کے علم میں ہوں تیزاب سے جلائے جانے کے واقعات۔ عورت کا حسن جلا دیا گیا کیونکہ اس نے ایک مرد کو انکار کیا۔ یعنی اس نے اس مرد کی ایگو کو ہرٹ کر دیا۔ اب بدلے میں مرد یا تو اس کو ریپ کر کے اپنی ایگو کو سکون پہنچائے گا یا پھر اس کا حسن جلا کہ تا کہ وہ بے چاری پوری زندگی یاد رکھے کہ مرد کو انکار کتنا سنگین جرم ہے۔ اور جب ایسی باتیں کسی بھی سوسائٹی میں اسٹیبلیش ہو جاتی ہیں وہاں غنڈہ راج عام ہو جاتا ہے۔
اصل میں مرد عورت کی عزت کر ہی نہیں سکتا، اس کا حوصلہ ہی نہیں پڑتا۔ بہت تنگ نظر اور چھوٹے دل کا ہوتا ہے۔ وہ عورت کی اندرونی خوبیوں کو نہ تو برداشت کر سکتا ہے اور نہ ہی سراہ سکتا ہے چاہے وہ عورت اس کی ماں، بہن، بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔ ماں، بہن، بیٹی، بیوی کی عزت صرف اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ خوشامدی مرد کو یہ بہانے چاہیے ہوتے ہیں عورت کو گھر کی چا دیواری میں قید کرنے کے لیے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو کیسے ڈیفائن کیا جاتا ہے؟
اچھی عورت وہ ہے جو فرمانبرداری کرے۔ جو اپنے سے منسلک مردوں کے فرمودات کے مطابق زندگی گزارے لیکن اس کی اپنی ذات مسخ ہو جاتی ہے اس سب میں۔ کوئی نہیں سوچتا کہ عورت کو کیا چاہیے؟ عورت کو بھی عزت چاہیے ہوتی ہے۔ آپ مانیں یا نہیں لیکن عورت کو عزت ملتی ہی نہیں۔ مرد اپنی گرہ سے عزت کا سکہ کھول کر عورت کی جھولی میں ڈالتا ہی نہیں۔
ہر انسان کا وجود اس کی ذات میں پنہاں یس کی صفات ہوتی ہیں۔ کیا عورت ان صفات سے مستشنہ ہے؟ کیا اس میں کوئی صفت نہیں؟ صرف اس کو رنگ، روپ، وجود، خوبصورتی اور لباس میں ہی کیوں تولا جاتا ہے؟ اس کو آبجیکٹ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اگر مرد میں اتنی صفات ہیں تو وہ ماں کیوں نہیں بن سکا آج تک؟
آپ سے التجا ہے کی عورت کو اس کی خوبیوں سمیت دیکھیں۔ آبجیکٹ مت سمجھیں اسے۔ اس کی بھی خواہشیں ہیں جن کا احترام لازم ہے۔ اس کو بھی اپنی پسند کے لباس پہننے کا حق ہے۔ تو ایسے مردوں کے لیے بھی کچھ ہونا چاہیے جو اتنے تھوڑے دل کے مالک ہیں کی عورت کو دیکھ کے ورغلائے جاتے ہیں۔ مردوں کے پاس بہت وقت ہوتا ہے عورت کے لباس یا خد و خال پے غور و فکر کے لیے چاہے عورت کو اندازہ بھی نہ ہو کی اس کا لباس سکین ہو رہا ہے۔
عورت کے لباس پہ اس تنقید نے نام نہاد مردوں کو تو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ سب کچھ جائز ہے اور الزام بھی عورت پہ کہ اس کے لباس نے ورغلایا تھا۔ میں تو معصوم بے قصور ٹھرا۔ ہمارے معاشرے کا تو پہلے ہی یہ المیہ ہے کہ یہاں مرد عورت کو کھانے کی طرح ٹیسٹ کرتا ہے۔ کبھی دیسی تو کبھی ولایتی۔ عورت کے لباس پہ تنقید کے ساتھ ایسے تھڑ دلوں کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کریں جناب وزیراعظم۔



Right mam ☺️