ہم جنس پسندی پر مغربی مذہبی اسکالرز کا بدلتا ہوا بیانیہ

چونکہ آج کل ”ہم جنس پسندی“ پر، پاکستان میں بولنا لکھنا اور مذمت کرنا، ایک فیشن بن چکا ہے۔ اور ہم یک طرفہ بغیر دوسرے کا موقف جانے یا سننے کی زحمت کرنے کے اسے نفرت انگیز انداز میں گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ کہ بس! جہاں ہم جنس پسندوں کا نام آیا نہیں اور انہیں گناہوں کا لوتھڑا، بدبودار لوگ، قابل مذمت و قابل مرمت قرار دے کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ اور تو اور ہمیں یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ بچوں سے زیادتی یا بچے بازی یا لواطت اور ہم جنس پسندی میں کیا فرق ہے؟ حتیٰ کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے بڑے مذہبی اسکالرز، اور جغادری قسم کے خود ساختہ علم کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے اینکرز تک کو، ہم جنس پسند، پیدائشی مردانہ یا زنانہ اختلافی خصوصیات والے خواجہ سرا اور ٹرانسجینڈر وغیرہ میں فرق تک معلوم نہیں ہوتا۔ جسے یورپ میں (LGBTQ+) کہا جاتا ہے۔

کاش ہم لوگ، بقول پاکستانی اسکالرز کے اس تعفن زدہ بیماری، نفسیاتی مریضوں کو پہلے تفصیل سے دیکھ، پرکھ تو لیں کہ یہ لوگ ہیں کون ان کا موقف کیا ہے آخر وہ چاہتے کیا ہیں اور ان کا حل کوئی ہے ان کے پاس؟

چونکہ آج کل میں اسی موضوع پر بہت تفصیلی اکیڈمک تحقیق میں مصروف ہوں لہذا جیسے جیسے میں اس ہم جنس پسند کمیونٹی کا تفصیل سے مطالعہ کرتا جا رہا ہوں، میں مزید حیران ہوتا جا رہا ہوں۔ اسی سلسلے میں مجھے کئی مسلمان مذہبی ہم جنس پسند اسکالرز کو پڑھنے سننے اور انٹرویوز کا موقع بھی ملا ہے۔ میں نے سوچا کہ آج کی تحریر پر مختصراً، ان کا موقف بھی لکھا جائے تاکہ اس موضوع پر لپٹی کچھ دبیز تہوں کو ہٹا کر دوسرے زاویے سے نفرت سے ہٹ کر جائزہ لیا جائے اور پھر دیگر موقف رکھنے والوں کو بھی دعوت دی جائے کہ وہ اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔ یہاں میں، علی الاعلان کہتا جاؤں کہ میں خود قطعاً، ہم جنس پسند نہیں ہوں نہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

اس موضوع پر اگر آپ میں سے کوئی خود بھی پڑھنا چاہیں تو ہم جنس پسندی پر مسلمان ہم جنس پسندوں کی کتابیں جیسے سراج الحق کگل (یہ خود مسلمان ہم جنس پسند ہیں ) کی کتاب ”اسلام میں ہم جنس پسندی“ یا ارشاد مانجی (مصنفہ خود مسلمان لیزبین ہیں) کی کتاب ”اسلام کے ساتھ مسائل“ جو کہ ابھی تک انگریزی میں ہی ہیں، پڑھی جا سکتی ہیں کہ یہ لوگ کس طرح ہم جنس پسندی کا اسلام میں جواز ڈھونڈتے ہیں۔

اسی طرح میں نے حال ہی میں درجن سے زائد ان مساجد کے اماموں کے انٹرویو پڑھے ہیں یا کیے ہیں جو کھلے عام ہم جنس پسند بھی ہیں۔ اور دھڑلے سے نماز کی امامت بھی کرواتے ہیں۔ ان تمام افراد کا ہم جنس پسندی کے متعلق، مختصر موقف یہ ہے کہ اسلام کسی دوسرے سے پیار، محبت سے نہیں روکتا۔ اور نہ اسلام نے کہیں یہ کہا ہے کہ صرف جنس مخالف سے ہی محبت کی جائے یا دیگر ذاتی نوعیت کے جائز تعلقات بھی صرف جنس مخالف سے ہی قائم کیے جائیں۔

دوسرے لفظوں میں محبت تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے اور اس کی بنیاد ہی کشش پر منحصر ہے کہ اگر ہمیں جنس مخالف سے کشش نہیں ہوتی تو بجائے اپنا اور اس کا گھر برباد کرنے کی بجائے اس سے محبت یا تعلق استوار کیا جائے جس سے کشش محسوس ہوتی ہو۔ تو خود بتائیںکہ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ لہذا مرد کو اگر مرد میں کشش محسوس ہوتی ہے یا عورت کو عورت کی طرف میلان ہوتا ہے تو اس میں گناہ والی کون سی بات ہو گئی (یہ میرا نہیں، ہم جنس مذہبی اسکالرز کا موقف ہے)۔

ان مذہبی اسکالرز کا مزید کہنا ہے کہ ہاں! بے وفائی، زور زبردستی اور تشدد پر مبنی تعلقات کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ اس سلسلے میں حسب معمول جب قوم لوطؑ کا ذکر کیا جاتا ہے تو زیادہ تر مغرب میں پلے بڑھے مذہبی اسکالرز خواہ وہ ہم جنس پسند ہیں یا نہیں، ان کا کہنا ہے کہ حضرت لوطؑ کی قوم کے واقعے کو گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ قوم لوط پر عذاب ہم جنس پسندی کی وجہ سے نہیں بلکہ بچے بازی (Paedophilic Act) کی وجہ سے آیا اور بچے باز کو تو آج کی مہذب اقوام بھی قبیح اور قابل تعزیر جرم سمجھتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ قوم لوط کا یہ قبیح فعل، ریپ یا زبردستی جنسی تشدد کا حامل تھا۔ جو کہ حدود اللہ سے بغاوت ہے۔ لہذا قوم لوط بچے بازی اور ریپ میں مبتلا تھی نہ کہ ہم جنس پسندی میں، کیونکہ ہم جنس پسند، کسی بھی طرح سے ریپ یا جنسی تشدد کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کا آپسی تعلق ہمیشہ باہمی رضامندی اور پیار و محبت سے ہوتا ہے۔ اور اس میں ریپ کا دور دور شائبہ تک نہیں ہوتا۔ (مفتی عزیز الرحمن صاحب کا واقعہ الگ بحث طلب ہے)۔

حضرت لوط کی قوم کے بارے ہمارے ایک محقق دوست نے اس واقعے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بیان کیا کہ قوم لوط اس بیماری کا شکار اس وجہ سے ہوئی کہ ان کا علاقہ دیگر، ارد گرد کے علاقوں سے، موسمی و معاشی اعتبار سے بے حد خوشحال تھا کہ اردگرد کی آبادی اس علاقے کی طرف کھچی چلی آتی اور مہینوں، مہمان بن کر اس علاقے میں پڑی رہتی۔ جس سے تنگ آ کر مقامی لوگوں نے زبردستی کے بلائے جان مرد مہمانوں پر جنسی تشدد شروع کر دیا تاکہ ان کو بھگایا جاسکے۔ وہ حضرت لوط ؑ کے مہمان فرشتوں سے بھی اسی طرح زور زبردستی کرنا چاہتے تھے۔ کہ ان کو بھی بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ واللہ اعلم

اور یورپ کیا کئی مسلمان ممالک میں بھی اب ہم جنس پسندی پر سمجھوتہ کر لیا گیا ہے جس میں ترکی بھی شامل ہے۔ جہاں آج کل پاکستانی اپنا جدید محمد بن قاسم تلاش کر رہے ہیں۔ اسی طرح عیسائی مذہب کے تمام فرقوں کے چرچ بھی اس ہم جنس کمیونٹی کے آگے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ اسرائیل نے بھی اس کی اجازت دے دی ہے۔ اور تو اور یورپی ممالک نے جہاں ہم جنس پسندوں کو تہ دل سے خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ پرجوش طریقے سے تسلیم بھی کیا ہے وہاں اب ان تمام ممالک میں ہم جنس پسندی کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف، اب ایسے ہی متحد ہوتے جا رہے ہیں جیسے وہ یہودیوں کے خلاف نفرت اگلنے پر اکٹھے ہوئے تھے اور اب تک اکٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میری جب برطانیہ میں اس موضوع پر مقامی مسلمان سیاستدانوں سے بات چیت ہوتی ہے تو وہ بھی اس مسئلے پر یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا پھر یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان ہم جنس پسند ہے مگر وہ گناہ نہیں کرتا تو انہیں ہماری مسلمان آبادی میں رہنے اور جینے کا حق حاصل ہے۔

مغربی ممالک میں مسلمان اس سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟ اس پر آئندہ لکھوں گا البتہ یہ بتانا چاہوں گا کہ ابھی میری ملاقات ایک بہت ہی مذہبی گھرانے کے ایک پڑھے لکھے فرد سے ہوئی ہے جس کی فیملی میں چالیس حافظ قرآن ہیں وہ خود بھی حافظ قرآن ہے۔ اچھی جاب ہے اس نے اپنی تعلیم خاموشی سے اپنی اندرونی خواہش کو دبا کر حاصل کی اور پھر جب اچھی جاب حاصل کی۔ اور اپنے آپ کو ہر طرح سے معاشی طور پر سیٹل کر لیا تو اچانک گھر میں دھماکے دار اعلان کیا کہ وہ ٹرانسجینڈر ہے اور آپریشن کروا کر عورت کا روپ دھار رہا ہے۔

اور مزید یہ کہ اس نے اپنی زندگی کا ساتھی بھی چن لیا ہے۔ بس پھر کیا تھا پہلے تو پورے خاندان میں زلزلہ آ گیا، مگر وہ ڈٹا رہا کہ برطانیہ میں اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ آخر کار جب آفٹر شاکس کچھ گھر میں سکون ہوا تو اس کے والد سمیت سب بہن بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں نے اسے بطور ٹرانسجینڈر بھی قبول کر لیا۔ سوائے ان کی والدہ محترمہ نے کہ انہیں ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ ”اے ساڈھے شینہ جوان پتر نے کیتا کی اے“ نہیں اس کا بیٹا ایسا نہیں ہو سکتا ۔ مگر وہ بھی خاموش رہنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اب خود سوچیں کیا وہ یہ حرکت اگر پاکستان میں کرتا تو اس کا کیا حشر کیا جاتا؟

برطانوی اسکولوں میں ہم جنس پسندی کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کی بے چینی میرا اگلا موضوع ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words